Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

  1. Home
  2. مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 12, 2025
  • 0 Comments

محمد قمر الزماں ندوی۔

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ

9506600725

ماضی میں مدارس کا کردار یقیناً انتہائی شان دار، روشن اور تابناک، ایثار و قربانی، ورع و تقویٰ اور زہد و قناعت کے تمام عناصر سے پر ہے۔ارباب مدارسِ اسلامیہ رخصت نہیں عزیمت اور فتویٰ نہیں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تھے۔ معاملات اور حساب و کتاب کی شفافیت اور مدارس کی چیزوں کے استعمال سے اجتناب، ان کا نمایاں وصف ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں حضرت مولانا منیر احمد نانوتوی رح سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کا واقعہ ہم مدارس سے تعلق رکھنے والوں کے ایک مثال ،آیڈیل اور نمونہ ہے۔

ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد منیر صاحب رح مہتمم دار العلوم دیوبند ڈھائی سو روپے لے کر مدرسہ کی روئداد وغیرہ طبع کرانے دہلی تشریف لے گئے، اتفاق سے روپے چوری ہوگئے،آپ نے اس چوری کی کسی کو اطلاع نہیں کی اور اپنے وطن واپس آکر زمین فروخت کی اور ڈھائی سو روپے لے کر دہلی پہنچے اور کیفیت مدرسہ چھپوا کر لے آئے ،کچھ دنوں کے بعد اس کی اطلاع اہل مدرسہ کو ہو گئی، انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی رح کو واقعہ لکھ کر حکم شرعی دریافت کیا، وہاں سے جواب آیا کہ مولوی صاحب امین تھے اور روپیہ بلا تعدی کے ضائع ہوا ہے، اس لیے ان پر ضمان نہیں ہے۔

اہل مدرسہ نے مولانا منیر صاحب سے درخواست کی کہ آپ روپیہ لے لیجئے اور مولانا گنگوہی کا فتویٰ دکھایا۔ مولانا محمد منیر صاحب نے فتویٰ دیکھ کر فرمایا کہ :میاں رشید احمد نے فقہ میرے لئے ہی پڑھا تھا اور کیا یہ مسائل میرے لیے ہی ہیں۔ ذرا اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر تو دیکھیں، اگر ان کو ایسا واقعہ پیش آتا تو کیا وہ بھی روپیہ لے لیتے؟ لے جاؤ اس فتویٰ کو، میں ہرگز دو پیسے بھی نہ لوں گا۔( نقوش علمائے دیوبند ص٢٩) مولانا محمد علی لاھوری رح کے بارے میں مولانا علی میاں ندوی رح نے لکھا ہے کہ میں ان کے گھر میں مہمان تھا، شام کے کھانے میں صرف روٹی اور ماش کی دال تھی میرے خاطر دو پیسہ کا دہی منگوا لیا تھا۔ (جب کہ مولانا کے مدرسہ میں بچوں کے لیے ہر وقت عمدہ اور اعلی کھانا ہوتا تھا۔ لیکن مولانا کے گھر والے اور بچے ہمیشہ سادہ کھانے ہی پر اکتفا کرتے تھے) اور فرمایا کہ اس وقت جیب اس کے علاوہ کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ماضی میں مدارس کے ذمہ داروں میں استغنا ،خوداری اور زہد و توکل کا وصف اور جوہر کمال درجہ میں ہوتا تھا، وہ بادشاہوں اور ارباب اقتدار اور اصحاب ثروت سے کبھی مرعوب و متاثر نہیں ہوتے، اور جہاں مناسب سمجھتے ان کی امداد اور عطیہ کو لینے سے صاف انکار کردیتے تھے یا حکمت سے ٹال دیتے تھے۔ والی افغانستان سلطان حبیب اللہ خاں نے ایک مرتبہ اپنے سفیر کے ذریعہ پانچ ہزار روپے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں بھیجے( پانچ ہزار کی حیثیت آج سے ایک صدی قبل کتنی تھی ؟ ذرا اندازہ لگائیے) اور ساتھ ہی یہ پیغام دیا کہ یہ مقدار ہرسال خدمت میں پہنچتی رہے گی اور معاوضہ صرف دعا ہے۔ مگر حضرت نے قبول نہیں فرمایا اور نہ صرف اس وقت کے پانچ ہزار روپے بلکہ ہر سال کی ایک مستقل آمدنی کو پائے استغنا سے ٹھکرا دیا۔ سفیر نے عرض کیا کہ حضرت! کم از کم میری حاضری کا تو لکھ دیں، والی کو شبہ ہوگا کہ میں آپ کے پاس پہنچا ہی نہیں۔ اور ویسے ہی بات بنا دی۔ اس پر مولانا گنگوہی رح نے فارسی زبان میں ایک خط سلطان حبیب اللہ خاں کے نام لکھوایا، جس کا مضمون یہ تھا ۔

بحیثیت اسلام مجھے آپ سے تعلق ہے اور میرا دل ہمیشہ آپ کو دعا دیتا ہے۔ خصوصاً موجودہ حالات میں محبت اسلام اور قدر و منزلت علم کی خبریں سن کر بہت خوش ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے۔ آپ کی نذر پہنچی، مگر چونکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ اور حق تعالیٰ نے مجھے بہتیرا کچھ دے رکھا ہے ،جمع کرکے کیا کروں گا ؟۔ اس لیے واپس کرتا ہوں کسی دوسرے مصرف میں خرچ کردیا جائے اور مجھے بہر حال دعا گو سمجھئیے۔ ( تذکرہ رشید)

آج بعض مدارس والے سرکاری ایڈ اور گرانٹ حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کیا کیا حربے اختیار کرتے ہیں اور حکومت کی نظر میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور گرانٹ قبول کرنے کے نتیجے میں سرکار کے کن کن خلاف شرع حکموں کا ان کو پالن کرنا پڑتا ہے، یہ بات باکل عیاں اور بیاں ہے۔ لیکن ماضی میں مدارس کے ذمہ داران اور ارباب اہتمام نے ان کے پیشکش کو ہمیشہ ٹکھرا دیا اور اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

آزادی کے بعد جب وزارت قائم ہوئی اور مولانا ابو الکلام آزاد رح وزیر تعلیم و ثقافت بنے تو انہوں نے ایک موقع پر ندوہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ گورنمنٹ آف انڈیا ہندوستان میں ایک نمونہ کی عربی درسگاہ قائم کرنا چاہتی ہے، جو جدید اصولوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ہو اگر ندوہ اس پیشکش کو قبول کرلے تو یہ سب سے بہتر ہوگا، حکومت عمارتوں کی تکمیل کرادے گی۔ یہ تجویز آئی تو ذمہ داران ندوہ بڑی کشمکش میں پڑ گئے۔ موت و حیات کا مسئلہ تھا، دوسری طرف مولانا آزاد کی تجویز کو یکسر رد کر دینا بھی مشکل تھا کیونکہ وہ خاندان کے بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ندوہ اور فکر ندوہ کے زبردست حامی و موئد تھے اور مستقل رکن انتظامی تھے۔ اس کے لیے ارباب ندوہ کی نظر مولانا مسعود علی ندوی پر پڑی جو مولانا سے بے تکلف تھے، وہ دہلی گئے مولانا ازاد نے پوچھا مولانائے مسعود کیسے آئے۔(وہ ان سے بے تکلفی میں اسی طرح مخاطب ہوتے تھے)مولانا مسعود نے کہا کہ کچھ بزرگوں کے لوح مزار کی عبارت کے بارے میں غور و خوض ہورہا ہے، مولانا محمد علی مونگیری رح کے لوح مزار پر بانی ندوة العلماء لکھنا تجویز ہوا ہے، اسی طرح مولانا شبلی کے لوح مزار کی کوئی عبارت بتائی جس سے ان کی ندوہ کی تحریک کو ترقی دینے کا اظہار ہوتا تھا، کہنے لگے کہ اندیشہ ہے کہ ہمارے اور آپ کے مزار پر قاتل ندوة العلماء لکھا جائے گا،مولانا آزاد نے بڑے استعجاب سے پوچھا کہ کیوں❓ معاملہ کیا ہے ؟ مولانا مسعود علی ندوی نے کہا آپ نے جو تجویز پیش کی ہے، اس کا مآل تو یہی ہے کہ ندوة العلماء ختم ہوجائے اور ہم آپ اس کے قاتل ٹھریں، آج تو آپ منصب وزارت پر ہیں اور آپ کی موجودگی میں اس کا خطرہ نہیں، لیکن پھر کون آتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی شہرئہ آفاق ذہانت کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا، وہ دور تک بات کو سمجھ گئے اور فرمایا کہ آپ لوگوں کا فیصلہ صحیح ہے اور اس تجویز پر کوئی اصرار نہیں۔ ( مستفاد پرانے چراغ جلد دوم) ماضی میں مدارس کا یہ کردار رہا ہے ، لیکن کیا آج مدارس اسلامیہ میں اس کردار کا عشر عشیر بھی پایا جارہا ہے؟ کیا مدارس کے مالیات کے نظام میں وہ احتیاط اور شفافیت ہے؟ کیا ہمارے مالی فراہمی کے نظام میں استغنا اور خوداری ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے سفراء اصحاب ثروت کے سامنے ذلیل و خوار ہوتے ہیں؟ کیا چندہ کی وصولی کا جو صحیح نظام ہونا چاہیے وہ نظام مدارس میں ہے؟ یہ سب وہ سوالات ہیں، جن پر ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آج مدارس اسلامیہ دھیرے دھیرے اپنی افادیت اور معنویت و مرکزیت کھوتے جا رہے ہیں، اور انکے شاندار اور تابناک ماضی کو خلف باقی رکھنے کامیاب نہیں ہو پا رے ہیں۔ جس کا شکوہ بہت پہلے علامہ اقبال مرحوم نے بھی کیا تھا کہ اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک نہ محبت نہ مروت نہ حقیقت نہ نگاہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جہاں زندگی کے تمام شعبہ میں زبردست تنزلی، پستی انحطاط اور زوال و تنزل آیا ہے، وہیں مدارس اسلامیہ بھی شدید تنزلی، زوال و انحطاط اور زبوں حالی کا شکار ہوئے ہیں۔ علمی و اخلاقی معیار کی پستی اور زوال کا شکوہ سب کی زبان پر ہے، اور سب اس کا رونا رو رہے ہیں۔

اگر آج کے دینی مدارس کا مقابلہ چالیس پچاس سال پہلے کے مدارس سے کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اب عام مسلمانوں کی زندگی پر ان مدارس کی تاثیر میں دن بدن کمی آرہی ہے۔ اگر ارباب مدارس اس جانب توجہ نہیں دیں گے، تو یہ مدارس اپنی معنویت اور اہمیت مزید کھو دیں گے اور عوام کا رشتہ اور تعلق علماء اور مدارس سے کٹ جائے گا اور ان کے درمیان مزید دوریاں پیدا ہوجائیں گی۔ اس وقت مدارس اسلامیہ میں جو بے اعتدالی اور افراط و تفریط ہے ، اور جو کمیاں اور خامیاں ہیں، جن کی طرف بہت سے صاحب بصیرت متوجہ کر رہے ہیں اور ارباب مدارس کے ذھن کو اس جانب مبذول کررہے ہیں، ہم بھی اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس وقت دینی مدارس نے عصری اسکولوں اور کالجوں کی طرح تعمیرات، ظاہری و مادی وسائل اور نظم و نسق کے شعبوں میں یقینا ترقی کی ہے۔ لیکن مدارس کی اصل روح جن پر ان کی حقیقی زندگی موقوف ہے، اس میں زبردست زوال اور انحطاط واقع ہوا ہے۔ دھیرے دھیرے مدارس کا تعلیمی نظام اور تعلیم و تعلم ایک رسمی شکل اختیار کر چکا ہے اور مدارس کے قیام کا اصل مقصد اور مشن نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے۔ پہلے کے فارغین اور اب کے فارغین کی صلاحیتوں اور خدمات میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ زیادہ تر مدارس اسلامیہ میں ظاہری چیزوں اور تعمیرات کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ باصلاحیت اساتذہ اگر ان کے اندر مالی فراہمی کی صلاحیت نہیں ہے، تو اس کی حیثیت مدرسہ میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔ اراکین مدارس اور ارباب اہتمام کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح مدرسہ کی شہرت میں اضافہ ہو۔ طلبہ کی تعداد کمیت کے اعتبار سے بڑھے کیفیت کچھ بھی ہو۔ لیکن طلبہ کی تعلیمی اخلاقی اور دینی حالت کیا اور کیسی ہے؟ مدارس سے کس قسم کے افراد تیار ہو رہے ہیں اور ان سے دین و ملت کو کتنا فایدہ ہو رہا ہے، اس پر توجہ دینے والے اور اس جانب فکر کرنے والے مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ مدارس میں پہلے اساتذہ اور طلبہ کا گہرا علمی تعلق اور مضبوط اخلاقی و روحانی رشتہ ہوتا تھا، وہ طلبہ اپنے اساتذہ کی نیک نامی اور شہرت و مقبولیت کا ذریعہ بنتے تھے۔ اساتذہ اپنے طلبہ کو بیٹے کا درجہ دیتے تھے، بلکہ بعض جگہ تو نسبی اولاد سے زیادہ روحانی اولاد کو ترجیح حاصل ہوجاتی تھی ، سید سلیمان ندوی رح اور علامہ شبلی رح کے تعلق کو دنیا جانتی ہے، کہ کس طرح سید صاحب نے اپنے استاد کے تشنہ کاموں کو مکمل کیا۔ لیکن علامہ شبلی کی صلبی اولاد کو وہ شہرت حاصل نہیں ہوسکی اور نہ لوگوں میں ان کا کوئی چرچا ہوسکا، جو شہرت و مقبولیت سید صاحب کو حاصل ہوئی ۔ اس وقت مدارس میں اساتذہ اور طلبہ کا رشتہ محض ایک رسمی رشتہ بن کر رہ گیا ہے۔ جو صرف درسگاہ کی حد تک محدود ہے۔ جبکہ ماضی میں استاد اپنے طلبہ کے لیے ایک شفیق باپ، روحانی مربی، اور علم و عمل کے میدان میں ایک شفیق نگران اور مخلص اتالیق کی حیثیت رکھتا تھا۔ جو طلبہ کے نجی معاملات تک میں دخیل ہوا کرتا تھا۔

انتظامی امور کے اعتبار سے بھی سینکڑوں خامیاں ہیں۔ مدارس جو روحانیت اور صداقت وراست بازی کے اعتبار سے لوگوں کے لیے ایک زمانہ میں مرکز ہوا کرتے تھے، آج بعض ادارے خود جھوٹ اور فراڈ کرتے ہیں، طلبہ اور اساتذہ کی تعداد بڑھا کر بتاتے ہیں ، جو سراسر دیانت و امانت کے خلاف ہے۔ بہت سے ادارے جو ثانویہ کے لائق ہیں زبردستی وہاں عالیہ کی پڑھائی کی جاتی ہے، جب کہ نہ وہاں ڈھنگ کے اساتذہ ہوتے ہیں اور نہ طلبہ اور نہ ہی اسباب و وسائل۔ ہر ضلع میں سینکڑوں مدارس ہیں، جب ایک ضلع میں ایک دو ہی مرکزی اور بڑے مدرسے ہونے چاہئیں اور گاؤں گاؤں میں مکتب کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ پتہ چلا کہ ایک ایک ضلع سے سو سو سفراء زکوۃ کی وصولی کے لیے نکلتے ہیں، لوگوں کو تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی ضلع میں آخر کتنے مدارس ہیں۔ رمضان میں ایسے ایسے لوگ مدارس کے چندے کے لیے کمیشن پر نکلتے ہیں، جن کو صحیح نام لکھنا تک نہیں آتا اور ان کو دین کی باتیں تک یاد نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ مدرسے کی شبیہ لوگوں کی نظر میں خراب ہو رہی ہے۔ بعض جگہ مدرسہ کا وجود نہیں ہوتا جیبی مدرسے ہوتے ہیں، کمال عیاری سے تصدیق نامہ حاصل کرلیتے ہیں اور سال بھر چندہ کے پیسے سے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے افسوس کہ اس پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے۔

اب جو مدارس قائم ہو رہے ہیں زیادہ تر مدارس شخصی ہوتے جارہے ہیں۔ مزید یہ کہ مدرسہ کی املاک اور پراپرٹیز بھی شخصی ناموں پر بنتی جارہی ہیں۔ جس کی وجہ سے فتنے اور فساد پیدا ہو رہے ہیں اور بدگمانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ بعض جگہ اگر چہ ایسا کرنا مجبوری میں ہوتا ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

مدارس کے نظام میں مالی شفافیت کی بھی کمی ہے۔ بہت سے طلبہ جو مالی اعتبار سے خود کفیل ہوتے ہیں وہ بھی زکوۃ کی رقم سے استفادہ کرتے ہیں اور اس بارے میں نہ کوئی تحقیق کی جاتی ہےاور نہ ان کے والدین اور سرپرستوں سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا ذھن بن گیا ہے کہ مدارس میں فیس طعام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اچھے اچھے صاحب حیثیت لوگ اپنی اولاد کو زکوۃ کھلاتے ہیں۔ اسی طرح مدوں کا فرق نہیں کیا جاتا ہے اساتذہ کی تنخواہیں بھی زکوۃ سے ادا کی جاتی ہے۔ مجبوری میں تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے،لیکن عام حالت میں اس کا جواز نہیں ہے۔ مدارس کے نصاب تعلیم کا قدیم ہونا اور حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے اس میں تبدیلی نہ کرنا اور اس کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانا بھی مدارس میں علمی گراوٹ اور اس کے زوال و انحطاط کا ایک سبب ہے۔ اس بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ الگ مضمون میں ان شاءاللہ اظہار خیال کریں گے۔ مدراس کے جو طلبہ اب فارغ ہوکر نکلتے ہیں اپنی اصلاح و تربیت کے لیے ان کا کسی استاد اور شیخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، بلکہ اس راہ تصوف و سلوک کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کو فعل عبث سمجھتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی اور تعلیم و تربیت سے دوسروں کا بھلا نہیں ہوتا اور نہ خود کا بھلا ہوتا ہے۔ بہت سے مدارس کے مالی نظام کے مرتب اور منظم نہ ہونے کی وجہ سے اور حساب نہ آڈٹ کرانے کی وجہ سے حکومت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ اس جانب بھی توجہ کی سخت ضرورت ہے۔ ان حالات میں ہمیں مدارس کے مستقبل کے تئیں کیا کرنا ہے اور کیا نظام بنانا ہے چند باتیں پیش کی جاتی ہیں۔ (جاری)نوٹ / مضمون کا آخری حصہ کسی اور دن ملاحظہ فرمائیں ۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے
🔰بچوں كی دینی تعلیم كا سنہرا موقع

Related Posts

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
  • hira-online.comhira-online.com
  • ہجرت ایک عبادت ہے
  • ہجرت کا پیغام
  • جون 19, 2026
  • 0 Comments
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون تحریر: شیخ ونیس مبروکترجمانی: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نئے ہجری سال 1448 کے استقبال کے موقع پر مناسب نہیں کہ ہجرت نبوی ہمارے ذہنوں میں محض ایک تاریخی یادگار یا ماضی کا ایک عظیم واقعہ بن کر رہ جائے، جس کے اوراق ہم الٹتے پلٹتے رہیں یا جس کی تفصیلات سن کر متاثر ہوتے رہیں؛ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہجرت کو ایک زندہ فکر، ایک مشروع عبادت، ایک عظیم تربیتی درسگاہ، قوموں اور معاشروں کی زندگی میں جاری اللہ تعالیٰ کے اٹل قوانین میں سے ایک قانون کے طور پر سمجھیں۔ ہجرت ایک زندہ فکر ہے، محض ایک تاریخی سفر نہیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ ختم ہوگیا ہو، یہ ایسی فکر ہے جو ہر اس وقت نئی زندگی کے ساتھ سامنے آتی ہے جب اہل ایمان پر حالات تنگ کر دیے جائیں، جب حق کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی جائے، یا جب انسان کو اپنے دین، عزت اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے سے روک دیا جائے، جو شخص اصول، پیغام اور اقدار سے وابستہ ہو، اسے ہر دور میں ظالموں، ارباب جبر واستبداد اور فساد پھیلانے والوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے وقت میں یا تو وہ ایسی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اپنے دین پر عمل کرسکے، اپنی عزت محفوظ رکھ سکے اور قرآن کے الفاظ میں: ﴿وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً﴾ (النساء:100) (جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سی پناہ گاہیں اور وسعت پائے گا)؛ یا پھر وہ اپنی اقدار سے دستبردار ہوکر ذلت ورسوائی کو قبول کرلے اور ظلم، جبر اور ناانصافی کو خاموشی سے دیکھتا رہے۔ اس اعتبار سے ہجرت ذمہ داری سے فرار کا نام نہیں، بلکہ بے بسی کے ماحول سے نکل کر صلاحیت اور عمل کے میدان میں قدم رکھنے کا نام ہے؛ جبر کی فضا سے تعمیر کی فضا کی طرف سفر کا نام ہے؛ اور محض حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے ایسا…

Read more

Continue reading
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 16, 2026
  • 0 Comments
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وقت ہے۔ انسان کی پوری زندگی وقت ہی کے مختلف حصوں کا مجموعہ ہے۔ جب ایک ہجری سال اختتام پذیر ہوتا ہے اور نیا سال شروع ہوتا ہے تو درحقیقت یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری عمر کا ایک حصہ کم ہو گیا اور ہم اپنی آخرت کے سفر میں ایک منزل مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے نئے اسلامی سال کا آغاز ہر مسلمان کے لیے غور و فکر، اصلاحِ احوال اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ہجری سال کی بنیاد اور اس کا پیغام اسلامی کیلنڈر کی بنیاد ہجرتِ نبوی ﷺ پر رکھی گئی ہے۔ یہ وہ عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ مکہ مکرمہ میں ظلم و ستم کے باوجود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام پر ثابت قدمی اختیار کی اور اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین، عقیدے اور اصولوں پر ثابت قدم رہے، خواہ اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں برائیوں، گناہوں اور غلط عادات کو چھوڑ کر نیکی، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی طرف ہجرت کرے۔ وقت کی اہمیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ انسان مال و دولت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن ضائع شدہ وقت واپس نہیں لا سکتا۔ نئے سال کا آغاز ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال اپنے وقت کو کس حد تک اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیا؟ کیا ہمارا وقت عبادت، علم، خدمتِ خلق اور نیک اعمال میں صرف ہوا یا فضول مشاغل اور غفلت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top