Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
05.03.2026
Trending News: جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآن
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
05.03.2026
Trending News: جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآن
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  1. Home
  2. خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 8, 2025
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اسلام نے خدا شناسی کے ساتھ خود شناسی کو بھی کافی اہمیت دی ہے، بلکہ یہاں تک منقول ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا تو اس کی رسائی خدا تک ہوجاتی ہے، حضرت یحیٰ بن معاذ رازیؒ کے قول کے طورپر اسے نقل کیا گیا ہے کہ ”مَنْ عرفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عرفَ رَبَّہ“ یقیناً یہ حدیث نہیں ہے اور جو لوگ اسے حدیث کے طورپر نقل کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں، لیکن اس میں ”عرفان رب“ کے لیے ”عرفان ذات“ پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کہی گئی ہے، قرآن کریم میں بھی اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ“ عرفان ذات کی منزل سے گذرکر بندہ اس پوزیشن میں آجاتا ہے کہ وہ اعلان کرسکے کہ ”من آنم کہ من دانم“ یعنی میں جو ہوں اپنے کو خوب جانتا ہوں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے سامنے ان کے ایک مرید نے یہ جملہ کہا تو حضرت نے فرمایا: بڑا دعویٰ کر رہے ہو، کیا تم نے اپنی ذات کو پہچان لیا ہے؟ اگر پہچان لیا ہے تو معرفت رب بھی اس کے نتیجے میں آجائے گا۔

قلب صاف ہو تو خیالات بھی صاف ہوتے ہیں اور دل کے فیصلے کا رخ احکام وہدایات ربانی کی طرف آسانی سے ہوجاتا ہے اور دل غلط فیصلے کر ہی نہیں سکتا، اسی لئے ”اِسْتَفْتَ قَلْبَکَ“ کا حکم دیا گیا کہ فتویٰ اپنے دل سے لو، کیوں کہ وہ غلط نہیں بتائے گا، ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ”لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَق“ تمہارے اوپر تمہارا اپنا بھی حق ہے

۔معاملہ اپنی معرفت کا ہو یاحقوق کا، اس کے لیے خود سے جڑن پڑتا ہے، دل کی آواز کو سننا پڑتا ہے، اگر نہ سنیں تو مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس خود سے جڑنے سے اپنے وجود کا احساس ہوتا ہے، ہماری پسند اور چاہت کیا ہے اس کا ادراک ہوتا ہے، پھر اس چاہت کے اہم ہونے کی حقیقت سامنے آتی ہے، ان امور کی ان دیکھی سے خارجی حالات سے آدمی پریشان ہوجاتا ہے، باہری شور کا غلبہ ہوتا ہے، لوگوں کے غیرضروری مشورے اور جھوٹی خبریں انسان کے دل ودماغ کو اس قدر متاثر کرتی ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ہے، اس تاثر کا وقتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے کو کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں، قوت ارادی ہمارا ساتھ چھوڑنے لگتی ہے، ان حالات سے نبرد آزما اور مقابل ہونے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ آپ اپنی ذات سے جڑییے، اقبال کے تصور خودی کا مرکز ومحور یہی ہے۔

آدمی جب خود شناسی کی منزل سے گذرتا ہے تو خوف کی دنیا سے وہ باہر آجاتا ہے اور صحیح سمت میں آگے بڑھتے رہنے کا راستہ کھلتا ہے، اس کے اوپر باہری شور وغل کا اثر نہیں ہوتا، بلکہ اطمینان قلب کی دولت اسے ملتی ہے، خود کو سمجھنے کی صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوش حال اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکیں، اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ساری تگ ودو، معاشی مشاغل، الجھنوں اور پریشانیوں سے دور رہ کر تھوڑا وقت خود کو دیجیے، صوفیاء کرام کے یہاں مراقبہ کا جو تصور ہے، اس کی بنیاد یہی ہے کہ انسان تھوڑی دیر جلوت سے نکل کر خلوت اختیار کرے، تاکہ وہ اپنے بارے میں سوچے، اپنی آخرت کے بارے میں سوچے، مراقبہ مابعد الموت اس باب میں بہت مفید ہے، اس احساس کے ساتھ کہ ہمیں اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا میں جانا ہے، جس میں سارا حساب وکتاب ہوگا اور میں وہاں تنہا ہوں گا، اس دن بھائی بھائی سے، شوہر بیوی اور بیوی شوہر سے، والدین اپنے بچوں سے بھاگتے نظر آئیں گے، حساب وکتاب کا یہ تصور اور فکر آخرت آدمی کو اپنی ذات سے جڑنے کے لیے انتہائی مفید ہے زندگی کی بھاگ دوڑ سے تھوڑا وقت اپنے لیے نکالنا بہت مشکل کام نہیں ہے، آپ اس وقت کا استعمال کائنات کی خاموش آواز سننے میں بھی کر سکتے ہیں، آپ چاہیں تو ہوا اور سناٹوں تک کی سرگوشیاں سن سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی بولتے ہیں، شجر وحجر کی گفتگو بھی آپ کو سنائی دے گی کہ وہ کس طرح خالق کائنات کی حمد وثنا میں مشغول ہیں، آپ اس کا بھی ادراک کر سکیں گے کہ کائنات کی ہر چیز عبادت کے مختلف طریقوں کو اپنائے ہوئے ہے، کوئی قیام میں ہے، کوئی قعود میں، کوئی رکوع اور کوئی سجود میں، معرفت کے اس مقام پر پہونچ کر آپ خدا کو بھی پہچاننے لگیں گے اور خدا کی مخلوقات سے بھی آپ کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہوگا، پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ شکریہ کے الفاظ کس قدر طاقت ور ہیں، یہ اللہ کی شکرگذاری تک ہمیں لے جاتے ہیں اور ہمیں ذہنی تناؤ سے نجات حاصل ہوتا ہے، شکریہ صرف ایک رسم نہیں ہے، یہ آپ کے دل کی آواز ہوتی ہے جو جذبات تشکر سے لبریز ہوکر نکلتی ہے اور آپ کو دل کی آواز سننے کے لائق بناتی ہے، اس وقت آپ اپنے دل سے اس کی خواہش پوچھ سکتے ہیں، اپنے جسم کی آواز سن سکتے ہیں، عمل اور رد عمل کی یہ آواز آپ کی خواہش کو شریعت کے مطابق صحیح سمت دینے میں بہت کارگر ہوتی ہے اور اگر اس آواز پر آپ چلنے لگیں تو آپ کی دنیا وآخرت دونوں سنور جاتی ہے۔

اگر آپ اپنے ضمیر کی آواز سننے کو تیار ہوں تو کم از کم ایک ماہ مراقبہ کے ذریعہ اس کی مشق کریں، اپنے اندر واقع ہونے والی تبدیلیوں پر دھیان مرکوز کریں، آپ محسوس کریں گے کہ زندگی کے ایک نئے تجربہ سے آپ گذر رہے ہیں اور یہ تجربہ آپ کو دلی سکون اور اطمینان قلب سے سرشار کر رہا ہے۔

اس مقام کو پانے میں جو رکاوٹ عام طور سے کھڑی ہوتی ہے، وہ ہربات کو اپنے اوپر لے لینا ہے، ہم سب کی کوئی نہ کوئی دکھتی رگ ہوتی ہے، جو دانستہ یانادانستہ طورپر دب جاتی ہے، بات ہماری نہ بھی ہو اور ہدف ہمیں نہ بنایا گیا ہو، تب بھی ہم اسے اپنے اوپر لے لیتے ہیں، ہمارے سامنے کوئی کانا پھسکی کررہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمارے بارے میں ہی کچھ کہہ رہا ہے، اگر کوئی ہنس رہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہم پر ہنس رہا ہے، اس سے دل ودماغ میں انفعالی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کا خیال صحیح ہو اور جان بوجھ کر لوگ آپ ہی کے بارے میں بات کر رہے ہوں، ایسے موقع سے خود پر قابو رکھنا ایک بڑا کام ہے، قابو بھی رکھیے اور اپنی بات سلیقہ سے موقع محل کی رعایت کرتے ہوئے کہہ بھی جایئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ کہا سنی میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، سوچ سمجھ کر اپنی بات رکھیں، بَک بَک اور محض گفتگو برائے گفتگو سے پرہیز کریں، بعض لوگ اپنی حاضری درج کرانے کی نفسیات اور نمایاں ہونے کی غرض سے بولنا شروع کرتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں، مشورہ کے آداب کے خلاف ایک دوسرے کی باتوں کو کاٹنے لگتے ہیں، جس سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، اس حالت میں بھی خود پر قابو رکھیے، اس لیے کہ بُرائی کا جواب بُرائی سے دینا شریفوں کا کام نہیں ہے، کتے نے کاٹ لیا تو آپ بھی اس کو کاٹ لیں، یہ عقل وشعور سے دور کی بات ہے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں برداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔بہت موقعوں سے آپ کے خیالات کو منتشر کرنے آپ کو نفسیاتی طورپر کمزور کرنے کے لیے خلط مبحث کیا جاتا ہے، بحث کے دوران کبھی غیرشریفانہ الفاظ کا استعمال سامنے والا کرتا ہے، نوبت گالی گلوج تک پہونچ جاتی ہے، لیکن آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ قرآنی حکم ”اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن“ کو نہ چھوڑیں، بہتر طورپر دفاعی پوزیشن اختیار کیجئے ایک موقع سے راحت اندوری کے کسی شعر پر کسی نے ہوٹنگ کی تو راحت نے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہا کہ میں جس مقام پر آج ہوں، یہاں پہونچنے میں مجھے تیس سال لگے، تو کیا میں اپنی تیس سالہ محنت کو ایک غیرشریفانہ عمل کا جواب دینے کی وجہ سے ضائع کردوں، ظاہر ہے کہ ایسا میں نہیں کرسکتا، خود بھی حدوں کو پار نہ کیجیے اور دوسروں کو بھی حد میں رکھنے کی کوشش کیجیے، سامنے والے کی منشا کو سمجھئے، بہت سا کام دوسرے ناسمجھی اور بے شعوری کی وجہ سے کرتے ہیں، ایسا ہے تو عفو ودرگذر سے کام لیجیے، ہرچھوٹی بات پر اپنے رد عمل کا اظہار آپ کی فکر کو منفی رخ دیتا ہے، جس سے آپ کا ہی نقصان ہے، ہر بات کو اپنے اوپر لینے کی ہماری عادت ہے، جسم وجان ہی متأثر نہیں ہوتا؛ بلکہ ہمارے مستقبل پر بھی یہ بڑا اثر ڈالتا ہے، آپ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سے بچ نہیں سکتے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر اس کا کچھ عنصر پایا جاتا ہے، اگر پایا جارہا ہے تو اسے دور کرنا چاہیے، اگر نہیں ہے تو اسے پاگل کی بَڑ سمجھ کر نظرانداز کردینا چاہیے، اگر اس کا جواب دینا غور وفکر کے بعد ضروری معلوم ہو تو بھی اس کا انداز منطقی اور سنجیدہ ہونا چاہیے، اگر یہ صفت ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو یقینی طورپر ہم بہت سارے دکھ اور شرمندگی سے نجات پاسکتے ہیں، اس سے ہماری خود شناسی کو تقویت ملے گی اور ہم معرفت رب تک پہونچیں گے، جو ہماری زندگی کا مطلوب ومقصود ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

"عید مبارک”
مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • رمضان المبارک
  • روزہ
  • فروری 20, 2026
  • 0 Comments
روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت

روزہ، ایک جامع نظامِ تربیت مولانا عبدالماجد دریابادی رحمۃ اللّٰه علیہ نے لکھا ہے: صوم یا روزہ، اصطلاحِ شریعت میں اُسے کہتے ہیں کہ انسان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اپنے کو کھانے پینے اور عملِ زوجیت سے روکے رہے، جو روزے فرض ہیں، وہ ماہِ رمضان کے ہیں، غیبت، بد زبانی وغیرہ زبان کے تمام گناہوں سے روزے میں بچے رہنے کی سخت تاکیدیں، حدیث میں آئی ہیں۔ جدید و قدیم سب طبیں اس پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج اور جسمِ انسانی کے لیے ایک بہترین مصلح ہے، پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبطِ نفس کی روح، جو ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے، اس کے لحاظ سے بھی مہینہ بھر کی یہ سالانہ مشق، ایک بہترین نسخہ ہے۔ (تفسیرِ ماجدیؒ، جلد اول، صفحہ: ۳۲۹/

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 18, 2026
  • 0 Comments
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی ​ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ ​اے مسلمانو! دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔ ​اللہ کے بندو!تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔​پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔ ​اے (رمضان کے) مشتاقو!تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ 05.03.2026
  • بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ 05.03.2026
  • روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں 01.03.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 01.03.2026
  • رمضان المبارک اور برادران وطن 25.02.2026
  • اسقاط حمل کا مسئلہ 25.02.2026
  • سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ 25.02.2026
  • جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد 22.02.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃ

  • hira-online.com
  • مارچ 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

  • hira-online.com
  • مارچ 5, 2026
Blog

روزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • مارچ 1, 2026
Blog

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • مارچ 1, 2026
Blog

رمضان المبارک اور برادران وطن

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
فقہ و اصول فقہ

اسقاط حمل کا مسئلہ

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
فقہ و اصول فقہ

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟

  • hira-online.com
  • فروری 25, 2026
قرآن و علوم القرآن

جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد

  • hira-online.com
  • فروری 22, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top