HIRA ONLINE / حرا آن لائن
نوجوانوں کے لیے نصیحت

. اپنے standards بلند رکھیں اور کسی چیز پر* صرف اس لیے سمجھوتہ نہ کریں کہ وہ دستیاب ہے۔*. اگر کوئی آپ سے زیادہ ذہین ہو تو اس کے ساتھ کام کریں، مقابلہ نہ کریں آپ کے مسائل حل کرنے کوئی نہیں آئے گا۔ آپ کی زندگی کی 100% responsibility آپ کی ہے۔ 4 .ان لوگوں سے مشورہ نہ لیں جو وہاں نہیں ہیں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں5 پیسہ کمانے کے نئے طریقے تلاش کریں اور مذاق اڑانے والوں کو ignore کریں۔ .سو کتابوں کی ضرورت نہیں، action اور self-discipline سب کچھ ہے۔7 .منشیات سے دور رہیں۔8 . یوٹیوب سے ہنر سیکھیں اور نیٹ فلکس پر وقت ضائع نہ کریں۔9 .کوئی آپ کی پرواہ نہیں کرتا، شرم چھوڑیں اور اپنے مواقع خود بنائیں۔ 10.آرام سب سے بری عادت اور depression کا آسان راستہ ہے۔11 .اپنے خاندان کو ترجیح دیں، ان کی حفاظت کریں، چاہے وہ غلط ہوں یا ٹھیک۔ 12.نئے مواقع تلاش کریں اور اپنے سے آگے کے لوگوں سے سیکھیں۔13 .کسی پر بھروسہ نہ کریں، سوائے اپنے۔14 .معجزات کا انتظار نہ کریں، خود ممکن بنائیں۔ 15.محنت اور determination سے سب کچھ ممکن ہے۔ Humility سے کامیابی ملتی ہے۔ 16.اپنے آپ کو دریافت کرنے کا انتظار نہ کریں، خود کو create کریں۔ 17 .کوئی آپ پر قرضدار نہیں۔ 18.زندگی ایک "single-player game” ہے، آپ اکیلے پیدا ہوتے ہیں اور اکیلے مرتے ہیں۔ 19.آپ کی زندگی آپ کو کمزور اور مایوس رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن صرف آپ ہی خود کو اور اپنے پیاروں کو بچا سکتے ہیں۔ 20.ہر کوئی آپ کی طرح ایماندار نہیں ہوتا، لوگ اپنا فائدہ اٹھا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ Stay woke.21. 25 سال کی عمر تک آپ کو سمجھدار ہونا چاہیے کہ:→ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں۔→ حسد اور جلن سے بچیں۔→ کھلے ذہن کے ساتھ رہیں۔→ اندازے لگانے سے پرہیز کریں۔→ نیت کے ساتھ عمل کریں۔→ شکر گزار رہیں۔→ ایمانداری سے بات کریں۔→ روزانہ ورزش کریں۔→ غیبت سے بچیں۔→ صاف ستھرا کھائیں۔→ معاف کریں۔→ سنیں۔→ سیکھیں۔→ محبت کریں۔

Read more

*اگر دورانِ عدّت حیض بند ہو جائے …

از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سوال : ہمارے یہاں ایک صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ تین مہینے گزر گئے تب انھوں نے بیوی سے کہا کہ تمھاری عدّت پوری ہو گئی ہے ، اب تم میرے گھر سے نکلو ۔ بیوی نے کہا کہ طلاق کے بعد مجھے اب تک ایک بار بھی حیض نہیں آیا ہے ۔ اس معاملے نے تنازع کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ شوہر بیوی کو زبردستی گھر سے نکال رہا ہے ۔ جب کہ بیوی کا کہنا ہے کہ عدّت پوری ہونے سے پہلے میں گھر سے نہیں نکلوں گی ۔ بہ راہِ کرم شرعی طور پر رہ نمائی فرمائیں کہ ایسی عورت کی عدّت کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟ جواب : قرآن مجید میں عدّت کے احکام صراحت سے بیان کیے گئے ہیں ۔ جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کی عدّت تین حیض ہیں ۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ [سورة البقرة : 228](جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں) اور جن لڑکیوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ہو ان کی عدّت تین مہینے ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:وَاللَّائِی یئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِی لَمْ یحِضْنَ [سورة الطلاق: 4](اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملے میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو – ) جس عورت کو مستقل طور پر حیض آنا بند ہو گیا ہو اسے ‘آئسہ’ کہتے ہیں ۔ فقہ حنفی میں آئسہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں : اوّل یہ کہ اس کی عمر پچپن (55)برس ہو چکی ہو ، کیوں کہ اس عمر تک کسی بھی وقت حیض آسکتا ہے ۔ دوم یہ کہ ماہ واری بند ہوئے…

Read more

"فقہ معاصر”: فقہ مقاصد، فقہ واقع، فقہ مآلات، فقہ نوازل اور فقہ مقارن”: ایک تحقیقی مطالعہ:

ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی (قسط: 3) اس مرکب اضافی کا دوسرا لفظ "مقاصد” ہے-مقاصد کی لغوی تعریف:”مقاصد” "مقصد” کی جمع ہے- "مقصد” اسم ظرف مکان ہے، اس کے معنی ہیں: جائے قصد، قصد کی جگہ- جبکہ "مقصد” صاد کے فتحہ کے ساتھ مصدر میمی ہے- "قصد” باب ضرب سے آتا ہے، اس کے اصلی معنی ہیں: کسی چیز کی طرف بالارادہ توجہ اور رخ کرنا- مشہور لغت نویس علامہ ابن منظور محمد بن مکرم انصاری افریقی مصری – رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ-(و: 711ھ/1311ء) لفظ "قصد”کے اصل مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:”أصل "ق ص د” و مواقعها في كلام العرب: الاعتزام والتوجه والنهود والنهوض نحو الشيء، على اعتدال كان ذلك أو جور، هذا أصله في الحقيقة”. (ابن منظور، لسان العرب 3/353، ط:1، بیروت، دار صادر)- ( کسی چیز کا پختہ ارادہ کرنا، تہیہ کرنا، کسی چیز کی طرف رخ کرنا اور کسی چیز کی طرف اٹھ کھڑا ہونا، خواہ اعتدال و درستگی کے ساتھ ہو، یا انحراف کے ساتھ ہو- کلام عرب کے مواقع استعمال سے "ق ص د” کے یہی اصلی معنی نکلتے ہیں)-اس اصلی معنی کے علاوہ پانچ دیگر معانی میں بھی "قصد” کا استعمال ہوتا ہے:1 – کسی کام میں میانہ روی اختیار کرنا- عرب بولتے ہیں: "قصد في الأمر” (اس نے معاملہ میں درمیانی راہ اختیار کی)-2 – کسی چیز کو بالارادہ کاٹنا، یا ٹکڑے ٹکڑے کرنا- بولا جاتا ہے: "قصد العود” (اس نے لکڑی کو توڑدیا، یا لکڑی کے ٹکڑے کر دیئے)-3 – راستہ کا سیدھا ہونا- عربی زبان میں بولا جاتا ہے: "قصد الطريق” (راستہ سیدھا ہوگیا)-4 – پر ہونا اور گودے دار ہونا، چنانچہ گودے دار اور پر گوشت اونٹنی کو "ناقة قصيد” کہتے ہیں-5 – قریب اور آسان ہونا- عرب بولتے ہیں: "بيننا و بين الماء ليلة قاصدة” (ہمارے اور پانی کے درمیان ایک رات کا آسان اور بے مشقت سفر ہے)-لغوی اور اصطلاحی معنی میں ہم آہنگی:مقاصد کے تعین میں بھی شریعت کی نصوص اور دلائل کے استقراء کی طرف توجہ ہوتی ہے، اس لیے ان کو مقاصد سے تعبیر کیا جاتا ہے-مقاصد کی…

Read more

"فقہ معاصر”: "فقہ مقاصد، فقہ واقع، فقہ مآلات، فقہ نوازل اور فقہ مقارن”: ایک تحقیقی مطالعہ:

ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی(قسط: 2) "فقہ مقاصد” کی لغوی و اصطلاحی تعریف: "فقہ مقاصد” مرکب اضافی ہے، یہ دو لفظوں سے مرکب ہے: 1- فقہ 2- مقاصد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دونوں لفظوں کی لغوی تعریف کر دی جائے-"فقہ” کی لغوی تعریف:کسی چیز کے علم و فہم کو "فقہ” کہتے ہیں-"معجم مقاییس اللغہ” میں ہے: "الفاء والقاف والهاء أصل واحد صحيح، يدل على إدراك الشيء والعلم به. تقول: فقهت الحديث أفقهه. و كل علم بشيء فهو فقه. يقولون: لا يفقه ولا ينقه. ثم اختص بذلك علم الشريعة، فقيل: لكل عالم بالحلال والحرام: فقيه. و أفقهتك الشيء، إذا بينته لك”. (ابن فارس، معجم مقاییس اللغہ 4/442، بیروت، دار الفکر، 1399ھ/1979ء، تحقیق: عبد السلام محمد ہارون، ع.أ.:6)- ( فاء، قاف اور ہاء ایک صحیح مادہ ہے جو کسی چیز کے سمجھنے اور اس سے واقف ہونے کو بتاتا ہے- تم بولتے ہو: "فقهت الحديث أفقهه” (میں نے بات سمجھ لی اور میں بات سمجھتا ہوں)- کسی چیز کے علم کو بھی "فقہ” سے تعبیر کرتے ہیں- عرب بولتے ہیں: "لا يفقه ولا ينقه” ( اسے مطلق فہم حاصل نہیں ہے)- بعد میں شریعت کے علم کے ساتھ فقہ مخصوص ہوگئی- چنانچہ حلال وحرام کے ہر عالم کو فقیہ کہا جانے لگا- "أفقهتك الشيء” کا مطلب ہے کہ میں نے تمہیں فلاں چیز سمجھادی اور تمہارے لیے اسے واضح کردیا)-البتہ "فقہ” کسی چیز کا مطلق فہم نہیں ہے- لہٰذا "فقهت أن الأرض تحتي” ( میں نے سمجھ لیا کہ زمین میرے نیچے ہے) نہیں بولیں گے-لفظ "فقہ” کسی چیز کے دقیق فہم کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی چیز کے اسرار و رموز، حکمت، مواقع اور باطن وتہ میں چھپے ہوئے امور کے ادراک کا نام "فقہ” ہے- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (قالوا: يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول). (11/ ہود: 91)- ( شعیب -علیہ السلام- کی قوم کے لوگوں نے کہا: اے شعیب! ہم تمہاری کہی ہوئی بہت سی باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں)- یہ امر ظاہر ہے کہ وہ ان کی دعوت کے مفہوم سے واقف تھے، لہٰذا ان کی مراد…

Read more

"فقہ معاصر”: "فقہ مقاصد، فقہ واقع، فقہ مآلات، فقہ نوازل اور فقہ مقارن”: ایک تحقیقی مطالعہ:

ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی(قسط:1)تمہید:موجودہ دور برق رفتار ترقی کا دور ہے- یہ جدید ٹکنالوجی کا دور ہے- جس کی بدولت پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے، یعنی ہم گلوبل ویلیج (global village) میں سانسیں لے رہے ہیں- اس وقت جو رائے سامنے آتی ہے، اس سے پوری دنیا یا دنیا کے ایک بڑے حصے کے با ذوق لوگوں کی اکثریت واقف ہوجاتی ہے- نیز مختلف پہلوؤں سے اس پر تنقیدی نگاہ ڈالی جاتی ہے- اس وقت ہمیں اسلامی شریعت کی نمائندگی اس طرح کرنی ہوگی جو عقل سلیم اور نقل صحیح کی کسوٹی پر درست ثابت ہو- جس سے دنیا کے سامنے اس کی جامعیت، عدل و انصاف، جسم و روح کے مطالبات، سماجی انصاف کے تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی اور انسانی فطرت کی رعایت سامنے آئے-اسلام کے اس ہمہ گیر تصور کو پیش کرنے کی خاطر جدید مسائل کو حل کرتے وقت ہمیں ” فقہ مقاصد”، "فقہ واقع”، "فقہ مآلات” اور "فقہ نوازل” کے تقاضوں کی رعایت کرنی ہوگی- ان حقائق کے مد نظر ان موضوعات کی گہری واقفیت ضروری ہے- تو آئیے ایک نظر ان موضوعات پر ڈال لیتے ہیں-

Read more

*جمی کارٹر کی خارجہ پالیسی؛ تین اہم اور متنازع فیصلے: ایک تنقیدی جائزہ*

از : ✍️ ریحان بیگ ندوی امریکی صدر جمی کارٹر، (جو حال ہی میں 100 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے) اپنی صدارت کے دور میں کیے گئے چند اہم خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی وجہ سے امریکی صدارتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کو نہ صرف ان کے وژن اور انسانی حقوق کے لیے ان کی کوششوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، بلکہ ان پر تنقید بھی کی گئی، خاص طور پر ان کے دور رس اثرات کی وجہ سے۔ ان کی پالیسیوں نے جہاں کچھ اہم کامیابیاں حاصل کیں، وہیں ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات نے امریکہ کے عالمی کردار پر مزید سوالیہ نشان کھڑے کئے۔ ذیل میں ان کے دور صدارت کے تین اہم خارجہ پالیسی کے فیصلے مختصراً پیش کئے جارہے ہیں:1- *کیمپ ڈیوڈ معاہدے: عرب دنیا کی تقسیم یا مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش؟* کیمپ ڈیوڈ معاہدے Camp David Accords جمی کارٹر کی صدارت کے دوران ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدہ کروایا، جس کے تحت اسرائیل نے "سینا” مصر کو واپس کیا اور اس کے نتیجے میں مصر پہلا عرب ملک بنا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔لیکن فلسطینی مسئلے پر کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے نہ ہو سکے۔ فلسطینی خودمختاری کی ضمانت محض کاغذی ثابت ہوئی، اور اسرائیل نے اپنے قبضے کو مزید مضبوط کیا۔ اس معاہدے نے جہاں مصر کو اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے میں مدد دی، وہیں عرب دنیا میں مصر کو تنہائی کا شکار کر دیا۔یہ معاہدے اگرچہ وقتی طور پر ایک اہم پیش رفت تھے، لیکن ان کے طویل المدتی اثرات نے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچایا۔ کارٹر نے اپنی صدارت کے بعد بھی فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی، لیکن ان کی کوششوں کو کبھی وہ کامیابی نہ مل سکی جس کی وہ خواہش رکھتے تھے2- *افغانستان میں مداخلت: سرد جنگ کی فتح یا علاقائی عدم استحکام کی بنیاد؟* کارٹر نے افغانستان میں سوویت مداخلت کو…

Read more