HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ماضی کا احتساب اور آئندہ کا پروگرام

اب چند دنوں میں ۲۰۲۵ کا آغاز ہونے والا ہے، ۳۱ دسمبر کو آنے والی رات کو جوں ہی کانٹا بارہ بجے کو پہنچے گا، تو یہ صرف AM اور PM ہی کی تبدیلی نہیں ہوگی؛ بلکہ یہ ایک سال کی تبدیلی ہوگی اور ایک نئے کیلنڈر کو وجود میں لائے گی، نیا سال در اصل ہمیں دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، ماضی کا احتساب اور آئندہ کا پروگرام، انسان کے لئے اپنے آپ کا محاسبہ ضروری ہے، یہ محاسبہ ہمہ پہلو ہونا چاہئے، محاسبہ دنیوی امور میں بھی ضروری ہے، اگر آپ تاجر ہیں تو آپ اپنی تجارت کا جائزہ لیں کہ اس میں آپ نے کیا کچھ ترقی کی ہے؟ اگر نہیں کی ہے یا آپ پیچھے ہٹے ہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ کہیں اس میں آپ کی کوتاہی کو تو دخل نہیں ہے؟ اگر آپ کسی سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں ملازم ہیں تو غور کریں کہ اس میں آپ جو بہتر پوزیشن حاصل کر سکتے تھے یا اپنی ایمانداری اور بہتر کارکردگی کے ذریعے جو اعتماد آپ کا پیدا ہو سکتا تھا، آپ نے کس حد تک اسے حاصل کیا ہے؟ اسی طرح ہر شعبہ زندگی میں اپنی کامیابی و ناکامی اور پیش قدمی و پست رفتاری کا جائزہ لینا چاہئے۔انسان کا کسی چیز میں پیچھے ہو جانا بری بات نہیں، بری بات یہ ہے کہ انسان بے حسی میں مبتلا ہو جائے، وہ ناکام ہو اور اپنی ناکامی کے اسباب پر غور نہ کریں، اس کے قدم پیچھے ہٹیں اور فکر مندی کی کوئی چنگاری اس کے دل و دماغ میں سلگنے نہ پائے، وہ ٹھوکر کھائے؛ لیکن ٹھوکر اس کے لئے مہمیز نہ بنے، جو شخص اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہے، اپنی کتاب زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو محسوس کرتا ہے، وہی گر کر اٹھتا اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے، جس میں اپنے احتساب اور اپنی کمزوریوں کے اعتراف کی صلاحیت ہی نہ ہو، وہ کبھی اپنی منزل کو نہیں پا سکتا۔ اقتباس از راہ…

Read more

ڈاکٹر منموہن سنگھ: ترقی یافتہ ہندوستان کے اصل معمار

۔✍️ مرزا ریحان بیگ ندوی (سابق سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) ڈاکٹر منموہن سنگھ، بھارت کے چودھویں وزیرِاعظم، ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی سمت کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے اقتصادی میدان میں زبردست ترقی کی، اور عالمی سطح پر ایک اہم اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا۔ ڈاکٹر سنگھ کا دورِ حکومت (2004-2014) بھارت کی تاریخ کا ایک سنہری دور ثابت ہوا، جس میں معیشت کی اوسط شرح نمو 7.7% رہی اور ملک کی معیشت دو کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جو اسے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بناتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا وژن صرف تیز رفتار اقتصادی ترقی تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس ترقی سے ہر طبقہ اور ہر فرد فائدہ اٹھائے، اور ملک کے تمام حصے ایک ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ ان کی حکومتی پالیسیوں نے ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے بنیادی حقوق کو بھی مستحکم کیا۔ ان کے دور میں جو اہم قوانین نافذ کیے گئے، وہ بھارت کی عوام کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیوں کا سبب بنے، جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں: حقِ تعلیم قانون (Right to Education Act): اس قانون کے ذریعے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس سے لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوئے اور بھارت کی تعلیمی شرح میں اضافہ ہوا۔ حقِ خوراک قانون (Right to Food Act): اس قانون کے تحت حکومت نے غریب طبقے کو سستا اور معیاری کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری لی، جس سے ملک کے لاکھوں افراد کی خوراک کی ضروریات پوری ہوئیں اور غریبی کی سطح میں کمی آئی۔ منریگا (MGNREGA): یہ منصوبہ دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت فراہم کرنے والا تھا، جس کا مقصد دیہی عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا اور انہیں بنیادی ضروریات کے لیے روزگار مہیا کرنا تھا۔ حقِ معلومات قانون (Right to Information Act): اس قانون کے ذریعے عوام کو حکومتی اداروں سے…

Read more

فضل الخلفاء الراشدین ( عربی )

فضل الخلفاء الراشدین(عربی) مصنف:شیخ الاسلام ابن تیمیہ 50 : صفحات 50 تعارف:معاویہ محب اللہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ نے پوری زندگی لسان و قلم دونوں اعتبار سے مناظرہ کا فریضہ انجام دیا ہے، روافض و نواصب دونوں کے خلاف بھرپور قلمی مظاہرہ کیا ہے، منھاج السنة النبوية اس کا منھ بولتا ثبوت ہے، نیز فتاویٰ شیخ الاسلام میں اسی سے ملتے جلتے سوال و جواب کی روشنی میں مضامین موجود ہیں، موجودہ رسالہ ” فضل الخلفاء الراشدين "بھی سوال و جواب پر مشتمل ہے۔شیخ سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ ایک شخص تدیّن اور نیکی میں تو متبعِ سنت ہے، لیکن بسا اوقات تفضیل صحابہ کے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہو جاتا ہے، بعض روایات کی بنیاد پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ کی سیدنا ابوبکر صدیق پر فضیلت کا غالب گمان ہوتا ہے، ایسا کیوں؟ اس پر شیخ نے جواب دینے سے قبل ایک فطری اصول بیان کیا ہے کہ دو افراد اسبابِ فضل میں اگر یکساں ہو تو دونوں فضیلت میں برابر ہیں، لیکن اسبابِ فضل میں دونوں میں کوئی ایک کسی منفرد خصوصیت کا حامل ہے جو دیگر میں نہیں ہے تو وہ افضل ہوگا، اور دوسرا اس سے مفضول۔ اسی اصول کی روشنی میں سیدنا ابو بکر صدیق ک متعلق فضائل و مناقب پر مشتمل ایک ایک روایت کا جائزہ لیا ہے کہ وہ محض سیدنا ابو بکر کی منفرد خصوصیت ہے، پھر اس کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ کے متعلق مروی فضائل و مناقب کا جائزہ لیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ جن الفاظ میں سیدنا علی المرتضیٰ کے فضائل مروی ہیں، وہ دیگر صحابہ یا ابوبکر صدیق کے حق میں بھی ہیں، لہذا سیدنا علی المرتضیٰ اس فضیلت و منقبت میں منفرد نہیں رہے، اسی روشنی میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے افضل ہوں گے۔ بہر حال کتاب نہایت عمدہ اور مفید ہے، استدلال میں قوت ہے، اسلوب میں متانت ہے اور صحابہ کی عظمت سے لبریز تحریر ہے، ہر استدلال پر سر دھنتے…

Read more

نیت وعمل میں اخلاص–دین کا جوہر اور کامیابی کی شاہ کلید

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی یہ دنیا، جسے ہم بڑے شوق سے اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں اور آنکھوں میں سجاتے ہیں، اصل میں ایک دھندلا آئینہ ہے، اس آئینہ میں چمکتی ہوئی چیزوں کا عکس تو نظر آجاتا ہے، مگر وہ شے گم ہو جاتی ہے جو بہ ظاہر مدھم ہوتی ہے لیکن اندر سے اتنی ہی روشن، وہ شے جو انسان کے قلب کو جلا بخشتی تھی، روح کو سکون دیتی تھی، اور اعمال کو وہ مقبولیت عطا کرتی تھی جو زمین کے کناروں سے آسمانوں تک کا سفر طے کرتی تھی، وہ شے خلوص ہے، جو آج کے تیز رفتار دور کی بھیڑ میں کہیں کھو گئی ہے، ایک زمانہ تھا جب خلوص ایک خوشبو کی مانند ہر عمل میں رچا بسا ہوا تھا، نیتیں بارش کے قطروں کی طرح شفاف اور بے رنگ تھیں، عمل کا مقصد اللہ کی رضا تھا، نہ کہ صرف لوگوں کی داد و تحسین، عبادتوں میں وہ سچائی تھی جو زمین پر قرار پاتی تھی اور آسمانوں کی طرف اڑان بھرتی تھی، مگر آج، اسی خلوص کی راکھ کو شہرت اور نام و نمود کا طوفان اڑائے لئے پھرتا ہے، اور انسان کو مقصد سے کہیں دور لے جارہا ہے، دنیا کی ہر شے سے اگر اس کے اصل جوہر Essence کو نکال دیا جائے تو وہ ڈھانچہ اور تلچھٹ کی صورت اختیار کرلیتی ہے، جیسے شہد سے مٹھاس اور پھول سے خوشبو، یہی حال خلوص کا ہے، یہ اعمال کی روح ہے، جو انہیں معنی اور مقصد عطا کرتی ہے، لیکن آج یہ روح غائب ہے، اور اس کی جگہ ریاکاری اور خود نمائی Ostentation نے لے لی ہے:بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میںیہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میںکسی تہذیب کے زوال کی پہلی علامت یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کے ساتھ دھوکہ کرنے لگے، کچھ ایسا ہی آج ہو رہا ہے، دینی کوششیں، جو کبھی تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، اب اسٹیج کی مصنوعی روشنی سے چمک پانے کو بے تاب رہتی ہیں،…

Read more

کتاب ۔مسئلہ غلامی اور اسلام” تعارف اور تجزیہ

نام کتاب ۔مسئلہ غلامی اور اسلام۔ تعدادصفحات ۔ 60 مصنف۔ مفتی شمائل احمد عبداللہ ندویناشر ۔۔۔۔ و حیین فاؤنڈیشن درگاہ روڈ کولکاتا۔ مبصر ۔ ۔ امجد صدیقی الحاد جدید غلط فہمی بھی ہے اور عقل کا بے جا استعمال بھی، اب ترسیل وابلاغ کے ذرائع مستحکم ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں قلوب و اذہان کے ساتھ گھروں تک دستک دے چکی ہیں،یہی الحاد ماقبل میں بھی تھا لیکن اب مشکل یہ ہےکہ اسلام کے آفاقی نظامہائے حیات کی تشریح و ترسیل جدید انداز و اسلوب اور موثر ذرائع کے ساتھ نہیں ہوپارہی ہے ۔ اسلام کو سائنسی اور آزادانہ ثقافت سے تقابل کرنا کسی طور پہ بھی صحت مند رویہ نہیں ہے،البتہ فطرت انسانی کے مطابق اسلامی احکامات کی تعبیر و تشریح وقت کی ضرورت ہے،اسلامی قوانین صالح اور پر امن سماج کی تشکیل میں نہ صرف معاون ہیں بلکہ قوانین الہی کےبغیر عالمی امن وانصاف کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔سائنسی و انسانی ضابطے تغیروتبدل کا متقاضی ہے،بلکہ ہردس سال میں سائنسی تصورات،اور انسان کا فکری جغرافیہ تبدیلی کے مراحل سے ضرور گزرتاہے، مگرخداوحدہ لاشریک کا ضابطہ کل بھی تغیر و تبدل سے بے نیاز تھا اور آج بھی انسانی عقل کی رسائی سے دورہے۔اسلامی قوانین واحکام کے خلاف پروپیگنڈے اور افترا پردازی نئی نہیں ہے بلکہ نسلاً بعد نسلٍ یہی روایت قائم ہے اب نئے اندازواسلوب اور نئے ذرائع سے ہماری نسلوں کے ایمان وعقائد پر حملہ ور ہے،ترسیل وابلاغ کی فراوانی اور سہولیات نے اعتراضات و اشکالات کو پہلے سے زیادہ مستحکم کردیا ہے۔چنانچہ ہمیں اسی اندازو لہجہ اورذرائع کو اختیار کرنا ہوگا جن کا وقت متقاضی ہے۔ رفیق کار اور مصنف کتاب مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ کے ممتاز فاضل،جواں سال مفتی،تحقیقی دماغ مصنف اور بصیرت مند مدرس ہیں،علم وتحقیق کے رسیا،مطالعہ و مراجعہ کا صاف ذوق کے حامل ذہین قلم کار ہیں۔ مفتی صاحب نے باضابطہ طور پہ مطالعہ الحاد جدید کو وحیین فاؤنڈیشن کے تعلیمی شعبے کا ایک حصہ بنایا ہے،جس سے یہ بالکل صاف ہو جاتا ہےکہ صاحب کتاب "الحاد جدید…

Read more

رجم اور دلائلِ رجم ایک مطالعہ ( قسط :1 )

رجم کی سزا قرآن مجید سے ثابت ہے ؟ یا احادیث متواترہ سے ،یا یہ تورات کا حکم ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا ہے ؟ از : محمد حسن ندوی مدھوبنی استاذ حدیث وفقہ دار العلوم ماٹلی والا بھروچ چند ہفتے قبل ترمذی شریف کتاب الحدود کے سبق کے دوران رجم کی سزا سے متعلق دو تین احادیث گزریں ،یکایک دل میں ایک سوال پیدا ہوا کہ رجم کی سزا قرآن مجید سے ثابت ہے یا احادیث نبویہ سے ؟ اس کی تحقیق کیجائے ،عام طور پر اہل علم کے مابین یہ بات مشہور ہے کہ ( الشیخ والشیخۃ اذ ا زنیا فارجموھما البتۃ) یہ آیت رجم ہے ،جو پہلے قرآن کا حصہ تھی ،پھر بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی ،اس لئے عاجز نے اس مسئلہ کو قرآن کریم ،تفاسیر،احادیث، محدثین اور فقہاء کے اقوال و توجیہات کی روشنی میں سمجھنے اور تنقیح کرنے کی کوشش کی ،اور اس پہلو سے کتابیں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ رجم کی سزا کے سلسلہ میں دراصل صحابہ کرام ،محدثین اور فقہاء کا اختلاف ہے،اور مجموعی اعتبار سے اس باب میں تین اقوال ہیں( 1) ایک قول یہ ہے کہ رجم کی سزا قرآن کریم سے ثابت ہے ،اور پہلے ایک آیت قرآن مجید میں نازل ہوئی تھی ،اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی ،البتہ اس کا حکم اب بھی باقی ہے( 2) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ تورات کا حکم ہے یا بنی اسرائیل کی کسی کتاب کا حصہ ہے ،جسے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا ہے ،(3) اور تیسرا قول یہ ہے کہ رجم کی سزا احادیث نبویہ اور اجماع سے ثابت ہے ، بہرحال یہاں تینوں اقوال کے سلسلہ میں دلائل پیش کرنے سے قبل کچھ ضروری باتیں زیب قرطاس کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ اہل علم پر مخفی نہیں کہ شریعت مطہرہ میں جرم کی سزا اس کی سنگینی کے اعتبار سے متعین ہے،مثلا زنا،چوری ،قذف،اور شرب خمر یہ سب نہ صرف سنگین اور…

Read more