HIRA ONLINE / حرا آن لائن
🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی موجودہ حکومت ہمیشہ ایسے موض کی تلاش میں رہتی ہے، جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے میں معاون ومددگار ہو، اور زیادہ تر اس میں جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، ایک ایسا ہی جھوٹ ہے، جس کو ’’ لَو جہاد‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، یعنی مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں سے محبت وپیار کے نام سے تعلق استوار کرتے ہیں، اور بالآخر اس لڑکی کو مسلمان بنا لیتے ہیں، اس جھوٹ کو اتنی شدت اور تکرار کے ساتھ بار بار پیش کیا جاتا ہے کہ ایک بڑا طبقہ اس سے متاثر ہو رہا ہے؛ کیوں کہ اکثر لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، تحقیق کی زحمت نہیںاُٹھاتے؛ چنانچہ اس وقت مہاراشٹرا کی بھاجپا حکومت نے لَو جہاد کے خلاف قانون سازی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا صاف مقصد سیاسی فائدہ اُٹھانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کچھ ایسی رکھی ہے کہ وہ محبت کا بھوکا ہے؛ اسی لئے اسے خوشی کے ماحول میں ایسے لوگوں کی جستجو ہوتی ہے جو اس کی مسرت میں شریک ہوسکیں ، یہ شرکت اس کی خوشی کو دو بالا کردیتی ہے ، اسی طرح کسی انیس و غمخوار کی موجودگی اس کے غم کو ہلکا کرنے کا باعث بنتی ہے ، یہ محبت اسے اکثر ایسے رشتوں سے حاصل ہوتی ہے جو فطری ہیں اورجس میں اس کے اختیار کو کوئی دخل نہیں؛ مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہے جس کو انسان اپنی پسند اوراختیار سے وجود میں لاتا ہے ، یہ ہے رشتۂ نکاح، نکاح کے بندھن میں بندھنے والے مرد وعورت کا ایک خاندان ایک علاقہ اور ایک زبان سے وابستہ ہونا ضروری نہیں ، بہت سی دفعہ بالکل اجنبی لوگوں کے درمیان رشتہ طے پاتا ہے ؛ لیکن یہ رشتہ ایسی محبت و اُلفت کو جنم دیتا ہے جس کی گہرائی اکثر اوقات دوسرے تمام رشتوں سے بڑھ جاتی ہے ، پرانے رشتے اس نئے رشتہ کے مقابلہ میں ہیچ ہوجاتے ہیں ، یہ رشتہ یوں بھی اہم ہوتا…

Read more

  فكر اسلامى كا مطالعه كس طرح كريں؟

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ سوال:  ايكـ محترم عالم ومدرس (جو كسى وجه سے اپنا نام بتانا نہيں چاہتے) نے سوال كيا: مولانا! آپ فكر اسلامى كے مطالعه پر زور ديتے ہيں، برائے مہربانى بتائيں كه فكر اسلامى كيا ہے؟ اور اس كا مطالعه كس طرح كريں؟ جواب:  يه  سوال آپ كى سلامت طبع اور پختگى عقل كى دليل ہے، سارے نافع علوم كا مقصد مثبت ہوتا ہے، يعنى ايكـ طالب ان علوم كى تحصيل كرتا ہے، تاكه حق تكـ رسائى كرے، اس سے خود فائده اٹهائے اور دوسروں كو بهى فائده پہنچائے، اس كے برعكس علوم ضاره كا بنيادى مقصد منفى ہوتا ہے، انہيں دوسروں كو نقصان پہچانے كے لئے حاصل كيا جاتا ہے، جيسے جادو اور عمليات، اسى قسم ميں مناظره، جدل اور ترديد داخل ہيں۔ تعريف:  فكر ايكـ عقلى عمل ہے، فكر كو عقل سے جدا نہيں كيا جا سكتا، كوئى بات اسى وقت فكر كہلائے گى جب اس كى تشريح عقلى بنيادوں پر كى گئى ہو، فكر اسلامى كا مطلب ہے عقلى اصولوں كى روشنى ميں ايمان، اسلام، عبادات، معاشرت، معاملات، تہذيب، اخلاق اور تاريخ وغيره كى تشريح كرنا، عقلى اصول جس قدر پخته ہوں گے اسى قدر فكر مستحكم ہوگى، اسلام كى ہر وه تشريح جو عقل سے مستغنى ہو وه نا پائيدار ہوگى، اور اسے ہرگز فكر نہيں كہا جا سكتا۔اسلامی فکر کا مطالعہ صرف متون یا تاریخ کو سمجھنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک جامع عمل ہے جس ميں خیالات، تصورات اور ثقافت کو ان کے زمانی اور اجتماعی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش شامل ہے، تاریخی فہم، متنی تجزیے، اور معاصر مسائل کے ساتھ تعامل کے ذریعے، ایک محقق اسلامی فکر کی تجدید اور نئى دنیا میں اس کى افاديت کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اساس:اسلامى فكر كے بنيادى مقومات صرف دو ہيں: كتاب الہى اور سنت نبوى، يه دونوں مقدس ہيں، فكر اسلامى كى كوئى تشريح خواه كسى عالم وفقيه يا فلسفى ودانشور نے كى ہو، نصوص كا درجه نہيں حاصل كرسكتى، بلكه ہر تشريح كے جانچنے كا معيار يہى…

Read more

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی بعض لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی لے کر آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ خلوص سے بھری ہوتی ہے، ان کے الفاظ دلوں میں اترتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جیسے کسی خزاں رسیدہ چمن میں بہار یا خشک سالی میں آبشار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے دوسروں کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں، جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں، جو دوسروں کے لیے باعثِ راحت ہوتے ہیں، جن کے قریب بیٹھنے سے انسان کو اپنے دکھ ہلکے محسوس ہوتے ہیں، اور جن کی صحبت میں رہ کر زندگی کی خوبصورتی اور اس کے بانکپن کا احساس ہوتا ہے، ایک پُر بہار شخصیت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی خوشبو بکھیرتی ہے، لوگوں کے لیے باعثِ محبت بنتی ہے، اور دنیا میں خیر کا استعارہ بن جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ” (سنن ابن ماجہ: 238).(یہ خیر خزانے کی مانند ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو)۔ متاثر کن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں نرمی اور سختی، ہنسی اور سنجیدگی، مروت اور خود داری، وقار اور انکسار سب اعتدال کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا شخص نہ تو ایسا پھول ہوتا ہے جو چھونے سے بکھر جائے اور نہ ایسا کانٹا جو ہر ایک کو زخمی کر دے، "شدة من غير عنف ولين من غير ضعف” (سختی ہو تشدد نہ ہو، نرمی ہو کمزوری نہ ہو)، اس میں وہ ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو وقار عطا کرتا ہے، وہ گہرائی ہوتی ہے جو سمندر…

Read more

کیا جلسوں کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں ؟؟ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی (مصنف و کالم نگار)

یوں تو پوری سال دینی جلسوں اور پروگراموں کاسلسلہ رہتا ہے ۔ البتہ رجب اور شعبان کا مہینہ آتے ہی جلسوں کا سیلاب سا امڈ پڑتا ہے ۔ ہر چھوٹا بڑا مدرسہ اور مکتب اہنے یہاں جلسہ کرانے کو فخر سمجھتا ہے ۔ پیشہ ور مقرروں کو بلایا جاتا ہے۔ جن کا آمد و رفت کا خرچ ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض مقرر تو باقاعدہ طے کر لیتے ہیں کہ اتنا روپیہ چاہیے ۔ دینی جلسوں میں بلانے کے لیے روپیہ لینا چاہیے یا نہیں یہ ایک الگ اور قابل غور مسئلہ ہے؟ ہاں! ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے خطیب عموماً اپنی خطابت کی زور آزمائی دکھانے اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ان کا سماج و معاشرے کی اصلاح و تربیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر حساس اور باشعور شخص کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مروجہ دین کے نام پر منعقد ہونے والے جلسوں کے زمینی سطح پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ جلسوں کا معاشرتی اصلاح اور دین کی درست تعبیر و تشریح میں کیا کردار ہے؟ عہد حاضر کا یہ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ اس پر سنجیدہ تدبر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے سماج میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے جو ذرائع اور وسائل ہیں ان میں جلسہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے ۔ جلسہ گاہ کو اتنا خوبصورت اور دلکش بنانے کی سعی کی جاتی ہے کہ اچھی خاصی رقم تو پنڈال کو آراستہ کرنے میں لگ جاتی ہے ۔ اس کے بعد کھانے کا نظم ، مقررین کا آمد و رفت کا خرچہ وغیرہ وغیرہ۔ ان سب چیزوں اور لوازمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کل جلسوں میں اسراف کیا جارہاہے اور ان کا نتیجہ صفر ہے ۔ عوام اپنی اصلاح اور دین سیکھنے کی غرض سے کم بلکہ یہ دیکھنے آتے ہیں کہ کس نے جوشیلی اور جذباتی بیان کیا ۔ وہیں مقررین بھی…

Read more

شعبان المعظم میں روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

شعبان المعظم میں مطلق روزہ رکھنا جائز ہے ، درست ہے ، اور سنت نبوی سے ثابت ہے ، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں دوسرے مہینوں کے بنسبت زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے ۔ ارشاد نبوی ہے : "قلتُ يا رسولَ اللهِ لم أرَك تصومُ من شهرٍ من الشُّهورِ ما تصومُ شعبانَ قال ذاك شهرٌ يغفَلُ النَّاسُ عنه بين رجبَ ورمضانَ وهو شهرٌ تُرفعُ فيه الأعمالُ إلى ربِّ العالمين وأُحِبُّ أن يُرفعَ عملي وأنا صائمٌالراوي : أسامة بن زيد | المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب | الصفحة أو الرقم : 2/130 | خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] | التخريج : أخرجه النسائي (2357) باختلاف يسير، وأحمد (21753) مطولاً البتہ کسی دن کو خاص کر لینا اور ہر سال اسی دن روزہ رکھنا اس کی اجازت قرآن و حدیث سے نہیں ملتی ہے ، اگر روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو مطلق کسی دن بھی روزہ رکھا جائے خواہ وہ ایک دن ہو یا ایک سے زیادہ ۔

Read more

كيا تشبيه/تمثيل دليل ہے؟

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ كسى چيز كو دوسرى چيز كے مثل قرار دينے كو تشبيه كہتے ہيں، جيسے كہا جائے "مولانا آزاد كى نثر شيرينى ميں شہد كے مانند ہے”، تشبيه كے چار اركان ہوتے ہيں: 1- مشبه، 2- مشبه به، 3- اداة تشبيه، 4- وجه شبه، يہاں دى گئى مثال ميں "مولانا آزاد كى نثر” مشبه، "شہد” مشبه به، "مانند” اداة تشبيه، "شيرينى ميں” وجه شبه ہے۔ اگر كسى صورت حال كو دوسرى صورت حال كے مماثل قرار ديا جائے تو اسے تمثيل كہتے ہيں، جيسے نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كى زندگى كا تقابل يوسف عليه السلام يا موسى عليه السلام كے قصه سے كيا جائے۔واعظين ومصلحين كے كلام ميں تمثيلات كثرت سے پائى جاتى ہيں، مولانا روم كى مثنوى، اور شيخ سعدى كى گلستان وبوستان كى بنياد تمثيلى قصوں اور كہانيوں پر ہے۔ تشبيه وتمثيل كا مقصد بات كو واضح كرنا ہوتا ہے، يعنى آپ ايكـ بات كہتے ہيں، اس كى دليل پيش كرتے ہيں، مگر پهر بهى مخاطب كے ذہن ميں وه بات اچهى طرح نہيں بيٹهتى تو آپ اسے ان مثالوں يا قصوں سے واضح كرتے ہيں جنہيں وه جانتا ہے يا جنہيں وه اچهى طرح سمجهتا ہے، مثلا ٹرمپ كا يه بيان كه "وه غزه كى پٹى كو وہاں كے باشندوں سے خالى كركے اسے امريكه كى ايكـ سياحت گاه بنائے گا”، ہر شخص جانتا ہے كه يه ظلم ہے، اور يه جرم عظيم اور اثم مبين ہے، آپ اس كے انجام كى مثال فرعون وغيره ظالمين سے ديتے ہيں، اس سے سامع كے دل ميں بات اتر جاتى ہے، ٹرمپ آپ كى مثال سے ظالم نہيں بنا، بلكه وه ظالم پہلے سے ہے، آپ كى مثال نے اس كا ظلم واضح كرديا۔تشبيه وتمثيل بذات كوئى دليل نہيں، جب آپ كہتے ہيں كه خالد بہادرى ميں شير كى طرح ہے، تو آپ اچهى طرح جانتے ہيں كه اس كى بہادرى پہلے سے ثابت ہے، تشبيه ديكر اسے واضح كر رہے ہيں، كوئى بهى يه نہيں كہے گا كه شير كى تشبيه كى وجه سے وه بہادر ہو…

Read more