Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

  1. Home
  2. اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 14, 2025
  • 0 Comments

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

بعض لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنے ساتھ روشنی لے کر آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ خلوص سے بھری ہوتی ہے، ان کے الفاظ دلوں میں اترتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جیسے کسی خزاں رسیدہ چمن میں بہار یا خشک سالی میں آبشار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے دوسروں کو زندگی کا احساس دلاتے ہیں، جو خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں، جو دوسروں کے لیے باعثِ راحت ہوتے ہیں، جن کے قریب بیٹھنے سے انسان کو اپنے دکھ ہلکے محسوس ہوتے ہیں، اور جن کی صحبت میں رہ کر زندگی کی خوبصورتی اور اس کے بانکپن کا احساس ہوتا ہے، ایک پُر بہار شخصیت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ ہر جگہ اور ہر حال میں اپنی خوشبو بکھیرتی ہے، لوگوں کے لیے باعثِ محبت بنتی ہے، اور دنیا میں خیر کا استعارہ بن جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ” (سنن ابن ماجہ: 238).(یہ خیر خزانے کی مانند ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو)۔

متاثر کن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں نرمی اور سختی، ہنسی اور سنجیدگی، مروت اور خود داری، وقار اور انکسار سب اعتدال کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا شخص نہ تو ایسا پھول ہوتا ہے جو چھونے سے بکھر جائے اور نہ ایسا کانٹا جو ہر ایک کو زخمی کر دے، "شدة من غير عنف ولين من غير ضعف” (سختی ہو تشدد نہ ہو، نرمی ہو کمزوری نہ ہو)، اس میں وہ ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کو وقار عطا کرتا ہے، وہ گہرائی ہوتی ہے جو سمندر کی وسعت کو معنی عطا کرتی ہے، اور وہ خوشبو ہوتی ہے جو دور تک اپنا اثر چھوڑتی ہے، اور کہنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں:آپ کا ساتھ ساتھ پھولوں کاآپ کی بات بات پھولوں کیایسی شخصیت میں سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کا اسیر نہیں بنتی بلکہ ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے، وہ مایوسی میں امید کی کرن بن جاتی ہے، اور پژمردگی میں زندگی کی رمق جگا جاتی ہے، یہ شخصیت اپنی مجلس میں موجود ہر فرد کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ قیمتی ہے، اس کی موجودگی کا کوئی مقصد ہے، اس کے احساسات بے معنی نہیں، اور اس کے جذبات کی کوئی قدر ہے، وہ لوگوں کی طرف دیکھتی ہے تو ان کے اندر کے درد کو پڑھ لیتی ہے، وہ کسی کو سنتی ہے تو محض جواب دینے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے سنتی ہے۔ایسا شخص اگر کوئی بات کرتا ہے تو وہ براہ راست دل پر اثر انداز ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس کے الفاظ محض زبان سے نہیں نکلتے، وہ اس کے خلوص کا عکس ہوتے ہیں، اس کی شخصیت کی سچائی کا ثبوت ہوتے ہیں، وہ کبھی کسی سے بناوٹ میں نہیں ملتا، اور نہ ہی اس کی ہنسی محض دکھاوا ہوتی ہے، اس کا مزاج ایسا ہوتا ہے کہ وہ نہ تو ہر وقت قہقہے لگا کر خود کو مذاق بناتا ہے اور نہ ہر وقت فکر وغم میں ڈوب کر ماحول کو بے کیف کردیتا ہے، وہ جانتا ہے کہ زندگی سنجیدگی اور لطافت دونوں کے امتزاج کا نام ہے، اور

ہر کیفیت کو اس کے وقت پر اپنانا ہی دانش مندی ہے۔

اس کی طبیعت میں توازن ہوتا ہے، نہ تو وہ اتنا خشک ہوتا ہے کہ لوگ اس کے قریب آتے ہوئے گھبرائیں اور نہ اتنا نرم کہ لوگ اس کا احترام کرنا چھوڑ دیں، وہ ایسا درخت ہوتا ہے جو سایہ بھی دیتا ہے اور اپنی جڑوں میں مضبوط بھی ہوتا ہے، وہ لوگوں کی باتوں میں الجھ کر اپنا راستہ نہیں بدلتا، وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کا بھی شعور رکھتا ہے، نہ وہ اپنی تعریفوں میں گم ہو جاتا ہے اور نہ تنقیدوں سے بکھر جاتا ہے، وہ زندگی کو سمجھ کر جیتا ہے، اس کا رویہ ہمیشہ مثبت اور امید سے بھرا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ انسان اس کی محفل سے یہ کہتا ہوئے اٹھے:بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلایہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی باتوں میں چھپی تکلیف کو محسوس کر لیتے ہیں، جو مسکرانے والوں کی آنکھوں میں جھانک کر ان کے اندر کے چھپے غم کو جان لیتے ہیں، جو لفظوں کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچان لیتے ہیں، ان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی پر بوجھ نہیں بنتے، وہ دوسروں سے کم توقع رکھتے ہیں اور خود دوسروں کو زیادہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ صبر اور شکر کے درمیان جیتے ہیں، اپنی محرومیوں کو دوسروں کے لیے غصے کا بہانہ نہیں بناتے، اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے لیے طنز کا ذریعہ اور اپنی تکلیفوں کو دوسروں کے لیے اذیت کا سبب نہیں بناتے۔

ایسے لوگ کسی کے ساتھ وقتی تعلق نہیں بناتے، وہ رشتوں میں گہرائی کو پسند کرتے ہیں، وہ دوستی کرتے ہیں تو نبھانے کے لیے، وہ کسی کو قریب کرتے ہیں تو عزت دینے کے لیے، وہ کسی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو صلہ لینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے دل کی خوشی اور اجر وثواب کے لیے، ان کے تعلقات وقتی نہیں ہوتے، ان کی محبتوں میں خلوص ہوتا ہے، اور ان کی دعائیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، وہ دل سے نکلی ہوئی تمنائیں ہوتی ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اخلاق سے دوسروں کے دل جیتتے ہیں، جنہیں طاقت کے زور پر نہیں بلکہ محبت کے سحر سے عزت ملتی ہے، جن کی خوشبو ان کی موجودگی میں بھی محسوس کی جاتی ہے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی، وہ جہاں ہوتے ہیں، وہاں روشنی ہوتی ہے، جہاں جاتے ہیں، وہاں چراغ جلتے ہیں، جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں محبت کی ایک دنیا آباد ہو جاتی ہے، وہ اپنے نام کو محفلوں کی زینت بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتے، لیکن لوگ انہیں خود بھول نہیں پاتے۔

ایسی شخصیت بننا ہو تو کسی مصنوعی طریقہ کی ضرورت نہیں، یہ کوئی اداکاری نہیں، بلکہ ایک فطری رویہ ہے جو اس وقت پروان چڑھتا ہے جب انسان اپنے اندر وسعت، صبر، حلم اور محبت پیدا کر لیتا ہے، جب وہ دوسروں کو بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کے غم کو بانٹنا اپنا فرض سمجھتا ہے، جب وہ دوسروں کی مسکراہٹ کو اپنی خوشی سمجھتا ہے، اور جب وہ دوسروں کی راحت میں اپنی کامیابی دیکھتا ہے۔

ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں، مگر جو ہوتے ہیں وہ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، وہ خزاں میں بہار بن جاتے ہیں، وہ اندھیروں میں چراغ بن جاتے ہیں، اور وہ زندگی کے سمندر میں وہ جزیرے بن جاتے ہیں جہاں سکون اور راحت میسر آتی ہے، وہ خود کے لیے نہیں جیتے، وہ سب کے لیے جیتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

ان کی شخصیت ایک کتاب کی طرح ہوتی ہے، جسے جتنا پڑھو، اسی قدر اس سے نئے اسباق ملتے ہیں، جو جتنا قریب جائے، اتنا سیکھتا ہے، جو جتنا ساتھ چلے، اتنا فائدہ پاتا ہے، اور ان کے گرد لوگوں کا ہجوم شمع اور پروانوں کی کہانی پیش کرتا ہے:ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میںفقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیقاگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایسی شخصیت کے مالک بنیں، تو ہمیں اپنے رویہ میں نرمی، اپنی سوچ میں وسعت، اپنے دل میں محبت، اور اپنی طبیعت میں اعتدال پیدا کرنا ہوگا، ہمیں وقت کی طرح قیمتی بننا ہوگا، درخت کی طرح سایہ دار بننا ہوگا، خوشبو کی طرح مستقل ہونا ہوگا، اور چراغ کی طرح فروزاں بننا ہوگا، یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں دوسروں کے لیے باعثِ راحت بنائے گا بلکہ ہمارے اپنے دل کو بھی ایک دائمی سکون عطا کرے گا۔

انسانی شخصیت کبھی جامد نہیں ہوتی، بلکہ وہ حالات، تجربات، اور سیکھنے کے عمل کے ذریعہ مسلسل ارتقا پذیر رہتی ہے، کچھ لوگ اپنی زندگی ایک منظم اور مرتب انداز میں جینے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ کچھ افراد اسے فطری بہاؤ کے ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں، شخصیت کی دو بڑی اقسام ہیں: اصول پسند شخصیت (Judging Personality) اور لچک دار شخصیت (Perceiving Personality)، اول الذکر وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں نظم وضبط کو اولین ترجیح دیتے ہیں، ان کے نزدیک ہر چیز کا ایک مقررہ وقت اور اس کی ایک ترتیب ہونی چاہیے، اور وہ اپنی زندگی کی کامیابی کو ایک خاص فریم میں دیکھتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ وہ فیصلہ کن (Decisive) ہوتے ہیں اور تذبذب میں نہیں رہتے، ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، منصوبہ بندی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اور غیر متوقع تبدیلیاں انہیں پریشان کر دیتی ہیں، وقت کے سختی سے پابند ہوتے ہیں اور آخری وقت کے پابند deadline-oriented ہوتے ہیں، زندگی کو ایک واضح چیک لسٹ checklist کے مطابق جیتے ہیں، جہاں ہر چیز ترتیب سے مکمل ہوتی ہے۔دوسری طرف، کچھ لوگ زندگی کو ایک متحرک سفر dynamic journey سمجھتے ہیں، جہاں ہر چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے، اور اسے جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ان کے نزدیک سخت اصول وضوابط بوجھ کی مانند ہیں، جو زندگی کے حسن کو متاثر کر دیتے ہیں، ان کی نمایاں خصوصیات یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ لچک دار اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے flexible and adaptable ہوتے ہیں، اور کسی بھی صورت حال میں خود کو آسانی سے ڈھال سکتے ہیں، وہ منصوبہ بندی سے زیادہ spontaneity یعنی برجستگی کو پسند کرتے ہیں، اور لمحات کی قدر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسلام ہمیں کسی ایک انتہا کی طرف جھکنے کے بجائے اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے، نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھیں تو ہمیں اس میں ایک واضح اور منظم انداز structured approach نظر آتا ہے، ہر عمل ایک حکمت کے تحت کیا جاتا تھا، تاہم، اسلامی تعلیمات ہمیں سختی اور جمود کی قید میں بھی نہیں رکھتیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ” (صحیح بخاری: 6256) (اللہ ہر معاملہ میں نرمی کو پسند کرتا ہے”۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں نظم وضبط ضروری ہے، وہیں موقع کی مناسبت سے نرمی برتنا اور حالات کے مطابق ڈھل جانا بھی ایک خوبصورت صفت ہے جب کہ اس میں شرعی قباحت نہ ہو۔مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ محبت بانٹتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اس کے وجود سے راحت، اس کے اخلاق سے نرمی، اور اس کے عمل سے خیر جھلکتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ”(مسند أحمد: 9198) (مومن الفت رکھنے والا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ خود محبت کرے اور نہ لوگ اس سے محبت کریں۔

یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رشتوں میں گرہ نہیں ڈالتے بلکہ انہیں مضبوط کرتے ہیں، جو دوسروں کو خود سے قریب رکھتے ہیں، جن کی مجلسوں میں سکون ملتا ہے، اور جن کے اخلاق میں نرمی و شفقت کی روشنی ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ، أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ ". (جامع ترمذی: 2488)(کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو قریب، نرم خو اور آسانی پیدا کرنے والا ہو۔)

یہی وہ صفات ہیں جو ایک شخصیت کو باغ وبہار بناتی ہیں، جو انسان کو محبوب اور اس کی زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہیں، ورنہ حال یہ ہے کہ:کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بد گماں حرم سےکہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

صحبتِ اہلِ صفا، نور وحضور وسرور(جامعۃ العلوم، گجرات کی ایک وجد آفریں محفل قراءت-روداد اور مبارک باد)
  فكر اسلامى كا مطالعه كس طرح كريں؟

Related Posts

Quranic Arabic Grammar Course
  • hira-online.comhira-online.com
  • Quranic Arabic Grammar Course
  • فروری 1, 2026
  • 0 Comments
Quranic Arabic Grammar Course

Quranic Arabic Grammar Course (Ramadan Special – Level 1)📘 Duration: 1st Ramadan se 25th Ramadan⏰ Class Time: Rozana 1 Ghanta📚 Total Classes: 25Is Course mein aap kya seekhenge?1️⃣ Arabic Word Roots▪️ Quranic Arabic ka root system samajhna▪️ Lafzon ke meanings kaise bante hain2️⃣ Quranic Arabic Grammar▪️ Basic Nahw aur Sarf▪️ Qur’an ke jumlon ki structure3️⃣ Common Quranic Words▪️ Baar baar aane wale Qur’ani alfaaz▪️ Aasan yaad karne ke tareeqe4️⃣ Tafseer of Selected Verses▪️ Simple aur authentic tashreeh▪️ Qur’an ke paighaam ko samajhna5️⃣ Scientific Miracles of the Qur’an▪️ Qur’an aur modern science ki roshni mein6️⃣ Basic Arabic Conversation▪️ Rozmarra istemal ki Arabic▪️ Confidence ke saath bolna💰 Course Fee: Sirf ₹299/-⚠️ Limited seats available – Jaldi register karein!🌐 hira-online.com📸 Instagram: @al_hira_academy_1📱 Join us on WhatsApp📞 Contact: 8235826323✨ Is Ramadan Qur’an ki zaban seekhiye! ✨

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top