HIRA ONLINE / حرا آن لائن
نفسیاتی جنگ حرب سے بڑا حربہ از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

نفسیاتی جنگ Psychological warfare کو ایک آزمودہ اور کارآمد ہتھیار کے طور پر دنیا کے اکثر ممالک اپنے دشمنوں کو زیر کرنے لیے استعمال کرتے آئے ہیں، کیونکہ کامیاب سیاستدانوں اور نفسیاتی ماہرین کو یہ علم ہے کہ نفسیاتی جنگ کے ذریعہ ایک بہادر سپاہی کو بزدل اور ایک شریف شہری کو ملک دشمن دہشت گرد اور قاتل بنایا جا سکتا ہے، نفسیاتی جنگ کا مقصد جھوٹے پروپیگنڈے تیار کرنا، بے جا الزامات لگانا، ذہنی دباؤ بنانا، ذلیل کرنا، اور بین الاقوامی سطح پر کسی قوم کی معیشت اور امن وعافیت کو متاثر کرنا، اس کے جذبات سے کھلواڑ کرنا، مختلف سازشیں رچنا، صبر کا امتحان لینا، اور مختلف فریب کاریوں میں اسے الجھا کر رکھنا ہے۔ زمانۂ قدیم سے ہی یہ طریقہ بہت کار گر رہا ہے، اسے سرد جنگ ، اعصاب کی جنگ یا معنوی جنگ بھی کہہ سکتے ہیں، اس کا مقصد مد مقابل کی ترجیحات ومعتقدات کے بارے میں شک پیدا کرنا اور خود اس کو اپنی ہی نظر میں کمزور کردینا ہوتا ہے، اور یہ کام قلب ونظر کے شکار سے ہی ہوجاتا ہے، جسم وجان پر وار کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، دوسرے لفظوں میں یہ نظروں سے پرے نظریہ کی جنگ بنادی جاتی ہے، مد مقابل opponent کی معنویات morales پر حملہ کردیا جاتا ہے، گویا یہ حرب(جنگ) نہیں حربہ ہے، قدیم دور میں آشوریوں کے یہاں نفسیاتی جنگ کے مختلف حربوں کا بہت زیادہ استعمال تھا، دوسری جنگ عظیم میں بھی اس کو ایک کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کے کامیاب ہتھیار کے طور پر زبان و قلم، کارٹونز، فوٹوز اور ویڈیوز وغیرہ کو استعمال کرنا عام ہے، ملک کی جاسوسی اور غداری Fifth column کا ۱۹۳۶۔۱۹۳۹ءکے دوران ہونے والی اسپین کی خانہ جنگی میں بہت خطرناک کردار رہا تھا، جس میں زر خرید جاسوسوں نے اپنی صفوں میں انتشار پیدا کرکے داخلی ٹکراؤ میں گھناؤنا کھیل کھیلا اور پھر اپنی ہی قوم کو شکست سے دوچار کیا۔ آج کی دنیا میں وڈیوز وائرل کرنا ،کسی کو ٹرول کرنا، منفی ٹرینڈ چلانا، فوٹو شاپ…

Read more

قرآن کا تقدس اور اس پر زہر افشانی کرنے والوں کا انجام

از : قاضی محمد حسن ندوی اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم آسمانی کتابوں میں ایک واحد کتاب ہے، جو ہر طرح کی تحریفات و تغیرات سے پاک ہے ، قرآن پاک اللہ کا مقدس کلام جس میں نہ کبھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے ، اور نہ آئندہ کبھی ہوگی اور نہ اس پر کسی کو انگشت نمائی کا حق ہے ، قرآن مجید وہ کتاب ہے جس میں پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے( شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس) رمضان المبارک کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید اتارا گیا ہے، لوگوں کے لئے یہ ہدایت کی کتاب ہے ( سورہ بقرہ۔ ) یہ امتیاز وخصوصیات صرف قرآن کریم کو حاصل ہے ، اس لئے کہ یہ کلام اللہ کا کلام ہے ، یہ الہامی اور آسمانی کتاب ہے ، اس لئے ہرطرح کے عیوب اور تحریف و تبدیلی سے بے داغ ہونے پر خود سورہ بقرہ کی پہلی آیت "ذلک الکتاب لاریب فیہ” ( یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں) دال ہے ، اور کلام الٰہی کو تمام مخلوق کے کلام پر فضیلت حاصل ہے ،”کلام الملوک ملوک الکلام” ( بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہ ہوتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بجا ارشاد فرمایا ہے "من اصدق من اللہ قیلا” ( اس سے زیادہ سچی بات بھلا کس کی ہوسکتی ہے؟) دوسری جگہ پر فرمایا ہے،”قل صدق اللہ” ( آپ کہ دیجئے اللہ نے سچ کہاہے) لیکن افسوس صد افسوس کہ چند دنوں قبل وسیم رضوی نے اعداء اسلام کا آلہ کار بن کر قرآن مجید کی 26 آیات کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کیا ہے ، اور یہ کہا ہے کہ ان آیات میں امن وامان کے خلاف پیغام ہے ، یہ آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء ثلاثہ کی پیداوار ہے، یہ وہ باتیں جو بے بنیاد ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس خبیس شخص نے اپنے جرائم اور برے حرکات پر پردہ ڈالنے…

Read more

اسلام کی بالادستی اور مہذب دنیا کی معاندانہ پالیسی از: محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

اسلام کی بالادستی اور مہذب دنیا کی معاندانہ پالیسی محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد نام نہاد عالمی طاقتوں نے اسلام اور اسلام سے منسوب ہر اس شے کی مخالفت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے جو اسلام کی قوت وشوکت کا اعلان کرتی ہو،اور جس کے ذریعہ اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہو،حرکت و نمو سے لبریز متحرک اور فعال اسلام کسی کو پسند نہیں،ٹھہرا ہوا،جامد وساکت،تھکا ہوا اور اونگھتا ہوا اسلام جو فکرو عمل سے خالی ہو،اور جو آسانی سے کسی تہذیب میں ضم یا گم ہوجانا گوارا کرلیتا ہو،یا اپنے مظلوموں کا سودا کر لینے پر راضی ہو، سب کو پسند ہے،اسلام اپنی امتیازی خصوصیات، جماعتی قوت،تحریکی مزاج،قیادت اور مرکزیت کے ساتھ آنکھوں میں چبھتا ہے،مسلم ممالک کے نمائندوں کو عالمی اسٹیج پر خالص اسلام کی بات کرنے کی اجازت نہیں،گھلا ملا اسلام،صلح کل والا اسلام،مصلحت پرست اسلام،ڈرا سہما ہوا اسلام ،جو حقیقت میں اسلام ہے ہی نہیں کچھ اور ہے،پیش کیا جائے تو کہیں کوئی رکاوٹ نہیں،ورنہ گرفت ہی گرفت ہے۔ جب کہ غور کریں تو ہر ایک کو اپبے امتیازات عزیز ہیں،کیتھولک عیسائیوں کی ایک مخصوص اور آزاد ریاست ہے جس کو ”واٹثیکن سٹی” کہا جاتا ہے،جو اٹلی کے شہر روم میں واقع ایک خود مختار ریاست ہے، اس کے سفارت خانے ہیں ،اسے مختلف ممالک میں سفارتی نمائندگی حاصل ہے، اور اس کا ایک ایسا صدر ہے جسے ملکی صدارت کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک اور براعظموں میں روحانی قیادت بھی حاصل ہے،امریکہ کے سربراہان عیسائیت کو اپنی گفتگو سے خارج نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کے اقدامات میں ہمیشہ واضح طور پر تحریف شدہ عیسائی مذہب کی تعلیمات کا عکس نظر آتاہے،ان کی جنگیں بھی اس سے مستثنی نہیں،آٹھ سے زیادہ چھوٹی بڑی صلیبی جنگیں اسی نام سے لڑی گئیں،ابھی بھی گاہے گاہے اس کا حوالہ آہی جاتا ہے،اور اسی جذبہ سے اسرائیل نوازی جاری ہے، بھارت پر ایک برہمن طاقت کا راج ہے جو اپنے تمام تر پروگراموں میں-غلط یا صحیح- مذہبی وابستگی کا اظہار کرتی ہے، صہیونیوں نے واضح الفاظ میں اور اعلانیہ طور…

Read more

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کامیابی کا ایجنڈا مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں،از : اسجد حسن بن محمد حسن ندوی

ہندوستانی مسلمانوں کی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے احوال سے مشابہت رکھتی ہے مکی زندگی میں مسلمان اقلیت میں تھے ہندوستانی مسلمان بھی اقلیت میں ہے،مکی زندگی کے مسلمانوں کو مشرکین کی مخالفت کا سامنا تھا ہندوستانی مسلمانوں کو بھی مشرکین کا سامنا ہے ،مکی زندگی میں مسلمان اسباب و وسائل کے لحاظ سے کمزور تھے ہندوستانی مسلمان بھی آج کمزور ہیں، لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ مخالفت مکی دور کے مقابلے میں بہت معمولی ہے ، چوں کہ مجموعی طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات مکی دور کے مماثل ہیں اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ مکی کے دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایجنڈا کیا تھا مخالفت ظلم اور اقلیت کی صورتحال میں آپ نے جس ایجنڈے پر عمل کیا تھا مسلمانوں کو بھی وہی ایجنڈا کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے سیرت رسول کے مکی دور کا جائزہ لے تو پتہ چلے گا ان کی زندگی میں آپ نے درج ذیل یہ نکاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنایا تھا تھا، (1) وحدت (2) دعوت (3) خدمت اس کے بعد جب حضرت مفکر اسلام کی تحریر اور زندگی پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ حضرت مولانا کا بھی یہی تینوں ایجنڈا تھا ،حضرت نے ان تمام تحریکوں کا ساتھ دیا جو ان ایجنڈے کو لیکر آگے بڑھا، *وحدت* اتحاد امت مسلمہ کی اصلاح کی اولین اساس ہے، مکی زندگی میں مسلمان کمزور اور اسباب و وسائل سے محروم ضرور تھے لیکن ان میں آپسی اتحاد اور اجتماعیت ایسی تھی کہ ظالموں کے ہزار ظلم کے باوجود ان کا شیرازہ منتشر نہ ہوا ، مکی زندگی کے تعلق سے کبھی نا سنا گیا ہوگا کہ صحابہ میں اسلام اور دین کے تعلق سے بے اعتمادی یا نظریات میں انتشار پیدا ہوا ہو ، جبکہ اختلاف و انتشار موجودہ دور میں ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت بن گیا ہے یہ اختلاف عقائد کی بنیاد پر بھی ہیں اور رسم و رواج کی بنیاد پر بھی مختلف فقہی مسالک سے ان کی وابستگی…

Read more