ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی
ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ
اے مسلمانو!
دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔
اللہ کے بندو!
تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔
پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔
اے (رمضان کے) مشتاقو!
تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا اور کتنے ہی ٹوٹے ہوئے دلوں کی تسلی کا سامان کیا۔
امت کے کتنے ہی شکستہ دل اس سے شاداب ہوئے، کتنے ہی غم کے آنسو اس نے پونچھے، کتنے ہی تاسف کے لمحات کو اس نے ختم کیا اور کتنی ہی سختیوں کو ٹال دیا! اس نے کتنی ہی تکلیفوں کو خوشی میں بدلا، کتنے ہی فقیروں کو غنی کیا، کتنی ہی تنگیوں کو آسانی میں بدلا اور کتنی ہی دشوار گزار گھاٹیوں کو پار کرایا۔
تمہارا مہمان!
اس نے کتنے ہی مظلوموں کی مدد کی، کتنے ہی قیدیوں کو رہائی دلائی، کتنے ہی مغلوب لوگوں کے لیے فتح کے دروازے کھولے اور کتنے ہی جکڑے ہوئے ہاتھوں کو آزاد کیا!
رمضان!
اس نے کتنے ہی غافلوں کو بیدار کیا، کتنے ہی ٹیڑھے لوگوں کو سیدھا کیا، کتنے ہی توبہ کرنے والوں کو قبول کیا اور کتنے ہی بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت دی! کتنی ہی لغزشوں کو معاف کیا، کتنے ہی عیبوں کی پردہ پوشی کی اور کتنے ہی گناہوں کو بخش دیا!
اللہ کے بندو!
رمضان وہ سرسبز نخلستان ہے جس کی طرف تھکے ماندے لوگ پناہ لیتے ہیں، وہ لہلہاتا باغ ہے جس کے سائے میں تلاوت کرنے والے سستاتے ہیں اور تہجد گزار اس کی خوشبو سے معطر ہوتے ہیں۔ یہ وہ گلستان ہے جہاں سے بہترین پھل چنے جاتے ہیں اور وہ میٹھا چشمہ ہے جو روحوں کو نتھرے ہوئے پاکیزہ پانی سے سیراب کرتا ہے۔
ہمارا یہ مہمان مقابلے کا میدان ہے؛ اس میں نیکیوں کی طرف دوڑو، اس کے دسترخوانوں سے فائدہ اٹھاؤ، اس کے قرب کی منزلوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اس کے فضائل پر مسابقت کرو۔ "{اور اسی میں مقابلہ کرنے والوں کو مقابلہ کرنا چاہیے}” [المطففین: 26]۔ اور خبردار اسے ضائع نہ کرنا، کیونکہ اس میں کوتاہی کرنے والا خسارے میں ہے اور اس کے دوران غافل رہنے والا محروم ہے۔ (ایسے شخص کے لیے) اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ ناکام و نامراد ہو اور اس کی ماں اس پر ماتم کرے۔
اللہ کے بندو!
رمضان تمہارے سامنے ہے؛ اس میں اپنے دلوں کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے، اللہ کی بڑائی اور اس کے نبی ﷺ کی توقیر سے آباد کرو۔ اپنے تمام معاملات اپنے رب کے سپرد کر دو اور خبردار کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر اپنی خواہشِ نفس یا کسی بندے کی رائے کو مقدم نہ کرنا۔
اپنے رب کی طرف توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ، اور (گناہوں سے) رک جاؤ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اس سے پہلے کہ وہ سفر درپیش ہو جس سے واپسی نہیں اور وہ کوچ ہو جس کے بعد پلٹنا نہیں، جہاں انسان کہے گا: "{اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں نیک عمل کر سکوں۔ ہرگز نہیں!}” [المؤمنون: 99-100]۔ اپنے رب کی شریعت کو تھامے رکھو، اپنے درمیان عدل قائم کرو، حق کی وصیت کرو، صبر کو لازم پکڑو اور آپس کے تعلقات کو درست کرو۔
اپنے دلوں کو کینہ و حسد سے اور اپنے افکار کو گندگی سے پاک کرو، تاکہ تم رحمن کی رحمتوں اور عطاؤں کے قابل بن سکو اور اس کے مہینے میں اس کی نعمتوں کے اہل ٹھہرو۔ یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)۔
کیا تم نہیں جانتے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ چھپا کر دیا گیا صدقہ مصیبتوں کو ٹالتا ہے، بیماری کو دور کرتا ہے اور نیک اعمال بری موت اور ہولناکیوں سے بچاتے ہیں؟ پس اپنی عطاؤں سے اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کی خبر گیری کرو، احسان کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے صلہ رحمی کرو، اور اپنے مظلوم و پریشان حال بھائیوں کی طرف دیکھو۔ انہیں احساس دلاؤ کہ وہ تم سے ہیں اور تم ان سے ہو۔ انہیں دکھاؤ کہ مسلمان ایک جسدِ واحد کی طرح ہیں اور مومن بھائی بھائی ہیں۔ اور خبردار ہمارے معاشرے کے قیمتی طبقے سے غافل نہ ہونا: یعنی بزرگ اور مریض۔ ان کی زیارت کرو اور سچی ہمدردی کرو، کیونکہ نبی ﷺ مریضوں کی عیادت فرماتے، ان سے ہمدردی کرتے، ان کے پاس بیٹھتے اور ان کا دکھ بانٹتے تھے۔
یاد رکھو کہ جو آج آزمائش میں ہے، وہ کل نعمتوں میں تھا؛ دن بدلتے رہتے ہیں اور حالات پلٹتے رہتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے جو عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ پس حالات کی تبدیلی کا مقابلہ زبان کے شکر اور مال کی سخاوت سے کرو۔ اپنے نفس کے بخل سے بچو کہ یہ ہلاک کرنے والا ہے اور انانیت (خود غرضی) سے بچو کہ یہ برباد کرنے والی ہے۔ "{اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں}” [الحشر: 9]۔
اللہ کے بندو! جان لو کہ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو صلہ رحمی کرتا ہے (رشتوں کو جوڑتا ہے) اللہ اس پر رحم فرماتا ہے، اور جو رشتہ کاٹتا ہے اللہ اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دیتا ہے۔ اللہ بندے کی مدد میں تب تک رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ جس نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کی، اللہ اس کے لیے (دنیا و آخرت میں) آسانی پیدا فرمائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کی، اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور فرمائے گا۔