صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
ڈیجیٹل کنٹنٹ کریئٹرس میں ایوارڈکی تقسیم،مولاناخالدرشیدفرنگی محلی،حافظ عثمان،معراج الدین،پروفیسرشافع ،طارق خان کااظہارخیال
کسی بھی معاشرے اور سماج میں اپنی بات عوام اور سماج کے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی ذریعے اور پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے، میڈیا بھی اسی کا ایک اہم حصہ ہے، دور حاضر میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا یا موبائل جرنلزم بہت زیادہ اہمیت حاصل کر چکا ہے۔اپنی بات رکھنا اور مسائل کو اٹھانا، لوگوں کی رہنمائی کرنا، انہیں سچائی بتانا اور غلط باتوں کی توثیق اور تصدیق کر کے صحیح باتیں پیش کرنا سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ٓاج کے دور میں جو ذرائع رائج ہیں ان کا استعمال کیا جائے، چونکہ یہ ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے اس ٹیکنالوجی اور اس نظام کو سیکھ کر قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے صفا انسٹیٹیوٹ فارمیڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم کے تحت عیش باغ میں واقع رشید بارہ دری میں ہوئے ایک پینل ڈسکشن میں کیا،اس میں ہندوستان ٹائمز گروپ کے سینیئر رپورٹر جناب طارق خان ،اتر پردیش کے سابق انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان، آل انڈیا ریڈیو کی نیوز سروس کے یو پی اور نارتھیسٹ کےسابق ہیڈسبکدوش انڈین انفارمیشن سروس افسر معراج الدین خان اور انٹیگرل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستہ پروفیسر شافع انوار الحق شریک ہوئے، ان تمام ماہرین نے میڈیا کی اہمیت اور اپنے عملی تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو ٹیکنالوجی اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھ کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا، ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ اپنی جگہ بنانے کے لیے انہیں دوسرے سے زیادہ محنت اور دوسرے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈسکشن اور ایوارڈ تقریب کا آغاز محمد یمان مصطفی اور معراج ندوی کی تلات سے ہوا،صالحہ خاتون نے حمدباری اور جمشید قادری نے نعت پیش کی، مفتی منور سلطان ندوی نے افتتاحی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیاآنے کے بعد مواقع بڑھ گئے ہیں،اس سے فائدہ اٹھاناچاہئے،انہوں نے ہندوستان میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق متعددرپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ ملک کے ہرباشندہ دوڈھائی گھنٹہ سوشل میڈیا پرضرور گزارتاہے،انہوں نے شوشل میڈیاکے استعمال کی کثرت کے نتیجہ موبائل ایڈیکشن کے خطرہ کابھی ذکرکیا،پروگرام کے اس پہلے مرحلے کی نظامت مولانامحمد سلمان صدیقی ندوی نے کی،جبکہ دوسرے مرحلہ جوپینل ڈسکشن اور ایوارڈ کی تقسیم پرمشتمل تھا،اس حصہ کی نظامت محمد غفران نسیم نے کی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی چیئرمین و بانی اسلامک سینٹر اف انڈیا لکھنو کی صدارت میں ڈیجیٹل کنٹینٹ ایکسیلنس ایوارڈ 2025 کے ایوارڈ یافتگان اور شرکا کو انعامات تقسیم کیے گئے ایوارڈکے لئے، واضح رہے کہ صفا انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے یوٹیوب،فیس بک پیج اور انسٹاگرام پرسرگرام صحافیوں کے لئے کرنٹ ایفیر،سوشل ایشوز،مسلم ایشوز،انسانی حقوق،خواتین اور بچوں کے مسائل،آن لائن تعلیم ،ٹک میدیا،لکھنوی تہذیب جیسے گیٹگری پر آن لائن نامزدگی طلب کی گئی تھی،جس میں صرف لکھنو 35 سے زائدڈیجیٹل صحافی شامل ہوئے،ایوارڈ کی جیوری میں ڈاکٹر نصیب احمد اسسٹنٹ پروفیسر خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ،ڈاکٹر شافع انوار الحق اسسٹنٹ پروفیسر انٹیگرل یونیورسٹی، ڈاکٹر اشفاق احمد اور محمد شباب کے علاوہ ٹیکنیکل ماہر کے طور پر شہزی خان ندوی نے خدمات انجام دیں،جیوری نے ہر کیٹگری میں سے بہترکام کرنے والوں کومنتخب کیا،اور اس پروگرام میں انہیں سینئرصحافیوں اور ملی قائدین وعلماء کی موجودگی میں ایوارڈ سے نوازاگیا،اس موقع پرڈاکٹرعالمین ،محمد خالد،مولاناجہانگیرعالم قاسمی،قمرالزمان ندوی ،مولاناسیدمحمد حصین ہاشمی،عبدالنصیرناصر،نجم الحسن،قاری شمس الہدی رحمانی،ایڈوکیٹ اسامہ ،ایڈوکیٹ عبدالحفیظ ،پروفیسر ثمامہ فیصل ،شاہین اسلام،عذراجیلانی،ایازخان،خالدحلیم ،سعودالحسن ،ڈاکٹراسدمونس ،ڈاکٹرتبسم خان وغیرہ خاص طورپرشریک ہوئے،اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی مولانامصطفی مدنی کے شکریہ پر پروگرام کااختتام ہوا۔