اُس بازار میں : شورش کاشمیری
از : معاویہ محب اللہ
اس کتاب میں جابجا خوبصورت جملے اور اقتباسات بکھرے پڑے ہیں کہ جن میں غربت، بے وفائی، معاشرتی خرابی، عصمت فروشی، آزادہ روی اور شوقِ تفریح ہے، معاشرے کی اکھڑی ہوئی چولیں بھی ہیں، رقص و سُرود، غنا و موسیقی، تال و سُر اور حسنِ ادب کا دلنشین انداز بھی ہے، دردِ زیست، لُچّوں کا قہقہہ، سگریٹ کا دھواں اور تھرکتے جسم کی داستان المناک بھی ہے جن سے آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔
دوسری طرف نفسیات کی گتھیاں سطر سطر پہ سلجھ رہی ہیں، معلومات کا دریا ہے، آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل الفاظ ہی نہیں گویا نگینے ہیں، زندگی کے سبق ہیں، میں ہرگز کسی کو آمادہ نہیں کرتا کہ وہ یہ کتاب مطالعہ کریں، لیکن چند اقتباسات ضرور پڑھتے جائیں، ہر اقتباس محض چند الفاظ و معانی کا سنگھم نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، سوچنے کا ایک زاویہ ہے ؛
ٹھہر چشمِ تماشا! دیکھ اس حوّا کی بیٹی کو!
کہ اس کے حال پر بے درد راہی مسکراتے ہیں
لرزتے آنسوؤں کا سُرمئی آنکھوں میں پانی ہے
گھنی پلکوں میں ناگفتہ فسانے تلملاتے ہیں
(دلنشین اقتباسات)
‘‘عام خیال یہ ہے کہ گناہ افلاس کی کُوکھ سے پیدا ہوتا ہے، میرا معاملہ اس کے برعکس تھا، خالی جیب نے گمراہ ہونے سے بچا لیا’’ (صفحہ ۳۰)
"کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہو جاتے ہیں” (صفحہ ۷۰)
"سورج جاگتا ہے قحبہ سو جاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایتِ شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے”(صفحہ ۹۹)
‘‘ آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربہ سے فایدہ نہیں اٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ’’ (صفحہ ۱۸۱)
’’ عورتیں تصویر ہوتی ہیں اور مرد معمّہ، اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ عورت کا واقعی کیا مطلب ہے، تو اس کی طرف دیکھو، اس کی سنو نہیں: آسکروائلڈ ‘‘ (صفحہ ۲۱۲)
’’ ان رازوں ہی کی ٹوہ میں رہئے جو زندگی میں رہنما ہوسکتے ہیں ان باتوں کی کھوج سے فایدہ؟ جو آپ کو تو نفع نہیں دے سکتیں لیکن دوسروں کو محض اس لئے نقصان پہنچتا ہو کہ آپ کے کان اس ذائقہ کے عادی ہوچکے ہیں” ( صفحہ ۲۱۴)
سچ پوچھیں تو یہ کتاب راقم نے صرف ادبی لطف اندوزی اور شورش کی نثر سے محظوظ ہونے کے لئے اٹھائی تھی، لیکن اس میں معلومات کا دریا ہے، ابتدا میں قحبہ گری اور جسم فروشی کی تاریخ بیان کی گئی ہے، خاص بات یہ کہ کب سے بنت حوّا کی عصمت کی خرید و فروخت کا آغاز ہوا ہے؟ شورش کی کچھ باتوں سے اختلاف ضرور کیا جاسکتا ہے لیکن بعض حقائق واقعی ہوش رُبا ہیں، جن عورتوں کو یونان میں ہَتائرہ، روم میں کنواری، بابل میں کاوشتو، ہندوستان میں دیوداسی اور بغداد میں جَواری ؛ انھیں عورتوں کے نام میں تحریف ہوکر یہاں "طوائف” بن گیا ہے۔
یہ حرکتیں خوش حال لوگوں کے چونچلے ہیں جو بے مایہ اور زندگی سے تہی دست عصمتوں کو تار تار کررہے ہیں، ہندوستان کے راجہ، مہاراجہ اور نوابوں کی تاریخ میں یہ باب خاصا رنگین ملے گا، لکھنؤ کے نواب شجاع الدولہ اور واجد علی شاہ نے طوائفوں پر مشتمل پوری فوج مرتب کر ڈالی، تمام کی تمام ریاست زنانہ پرستی اور حُسن پرستی کی طلبگار رہتی تھی، الناس علی دین مُلوکھم کے اصول پر جہاں جی چاہتا خیمے لگا دیے جاتے محفل جمتی اور آناً فاناً رقص و نغمہ کا چمن آراستہ ہو جاتا حتی کہ واجد علی شاہ اور لہو و لعب دونوں ہم معنی ہوگئے تھے۔
دہلی کے زوال پزیر مغل شاہ زادوں نے جو جو کرتب دکھائے ہیں الامان و الحفیظ ! تاریخ رہی ہے کہ جب جب سلطنت کی گرہ ڈھیلی پڑتی جاتی ہے عیش، تعیش، لذت، خود فراموشی اور آوارہ گردی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، یہاں ہند میں انگریز سِیم و زر تلاش کررہے تھے اور اِنھیں حسن کی ہوس نے عورتوں اور طوائفوں کی تجسس میں ڈالے رکھا تھا، ۱۸۵۷ء میں جو قیامت ٹوٹی، پورا ہندوستان بارہ باٹ ہوگیا، جن کی زندگیاں رات دن انھیں تعیشات سے لبریز تھی آج بنیادی ضرورتوں تک کے لئے ترس رہے تھے، شورش کی قلم میں لکھوں تو تیمور و بابر کی بیٹیاں تن ڈھانپنے کے لئے چیتھڑے ڈھونڈتی پھرتی تھیں، جنھوں نے کبھی کسی کا ہاتھ نہ تَکا تھا ان کے دامن کشکول ہوگئے اور اب جامع مسجد کی سیڑھیوں پر پیٹ کی دہائی دے رہے تھے۔
یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ اس وقت ہندوستان میں ۵۶۲ ریاستیں تھیں، اکثر ریاستوں کے حضور عالی شان کے رگ و ریشے میں طوائف کا خون دوڑتا تھا، مہاراجہ پٹیالہ نے اپنے والد کی تین سو سے زائد بیویوں کو ۳۵ روپے فی نفر کے حساب سے بیچ کھایا، ہے نا تعجب؟ مہاراجہ اِندور کو تو اسی جرم میں گدی تک چھوڑنی پڑی، خیر یہ تو غیر مسلم راجے تھے مسلمان راجاؤں کی کہانی کیا لکھنا، ایسے ایسے حقائق اس کتاب میں ہیں کہ کلیجہ باہر کو آنے لگے گا۔
موسیقی کے عنوان سے تو عجیب و غریب باتیں لکھی ہوئی ہیں، آنے والی چند سطور جگر تھام کر پڑھئے ! مامون الرشید کی بہن عُلیہ کو موسیقی میں مجتہدانہ کمال حاصل تھا، اس کے متعلق عربوں کا دعویٰ تھا کہ ساری دنیا میں اس پایہ کی مغنیہ موجود نہیں ہے۔
ابو نصر فارابی نے قانونِ موسیقی پر مستقل کتابچہ تصنیف کیا ہے، ابن سینا اس فن میں کمال رکھتا تھا، شہنائی انھیں کی ایجاد ہے۔
’’منتخب التواریخ‘‘ والے ملا عبد القادر بدایونی، تفسیر بیضاوی کے حاشیہ نگار ملا عبد السلام لاہوری موسیقی کے فاضلوں میں سے تھے، صوفیاء میں مرزا مظہر جانِ جاناں تو بڑے مشّاق آدمی تھے، حضرت اقبال جوانی میں ایک طوائف "امیر” کی آواز کے مداح تھے، مولانا شبلی بھی آواز کا شوق فرماتے، عبد الحلیم شرر بھی لکھنؤ ہی میں ہوتے تھے، مولانا ابو الکلام آزاد غبار خاطر میں اپنی آشفتہ سری کا خود اقرار کر چکے ہیں، مولانا محمد علی جوہر بھی کچھ کچھ فیض اٹھا لیتے تھے، اکبر الہ آبادی مرحوم نے تو گھر میں ہی بوٹا بیگم کو بسا لیا تھا۔
ادب، نثر اور شاعری تلاش کرتے کرتے میرا دل بنتِ حوّا کی اس عصمت دری اور جسم فروشی پر واقعی دکھا، لسانیاتی کتابیں صرف نرے الفاظ نہیں سیکھاتی بلکہ زندگی کے دُکھ، درد، احساسات، جذبات اور اَنگنت زندگیوں کی کہانیاں ہمارے سامنے بکھیر دیتی ہیں، ہر کتاب کی مخصوص خوشبو ہے اس کتاب میں بس ہے تو انسانی گوشت کو نوچنے کی بُو اور کچھ نہیں! گندے معاشرے کی سچی تصویر جسے بیان کرنے سے سب کتراتے ہیں لیکن ٹہلنے سے نہیں ڈرتے، انھیں لکھتے ہوئے حجاب آتا ہے لیکن خاص طور سے سوشیل میڈیا کے زمانہ میں ماڈرن طوائفوں کے وجود سے کسی کو گھن نہیں آتی، یہ کتاب انسانیت کی عظمت سیکھاتی ہے، جنسِ لطیف کے لئے نرمی و رحم کا مادہ پیدا کرتی ہے، اس میں وہ وہ جنسی باتیں بالکل نہیں جو عام طور سے دو لفظی تبصروں میں بیان کردیا جاتا ہے، بلکہ مرحوم معاشرے کی زندہ تصویر ہے۔