بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ
Related Posts
نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)
نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار) نماز اسلام کا دوسرا بنیادی رکن اور ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض عبادت ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں نماز کی پابندی کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز کو درست طریقے سے ادا کرے تاکہ اس کی عبادت اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو۔ اس مضمون میں سنت کے مطابق نماز پڑھنے کا مکمل طریقہ آسان اور مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے۔ نماز سے پہلے ضروری شرائط نماز شروع کرنے سے پہلے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ باوضو ہونا۔ بدن، کپڑے اور نماز کی جگہ کا پاک ہونا۔ ستر کا چھپا ہونا۔ قبلہ رخ ہونا۔ نماز کا وقت داخل ہونا۔ نماز کی نیت کرنا۔ نماز کی نیت کا طریقہ نماز کی نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں۔ دل میں یہ ارادہ کافی ہے کہ کون سی نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کر رہا ہوں۔ تکبیرِ تحریمہ نماز کی ابتدا "اللہ اکبر” کہہ کر کریں۔ دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں۔ انگلیاں سیدھی اور قبلہ رخ ہوں۔ ہاتھ نہ بہت کھلے ہوں اور نہ بالکل ملے ہوئے۔ سر سیدھا رہے۔ نظر سجدے کی جگہ پر ہو۔ ہاتھ باندھنے کا طریقہ تکبیر کے بعد: مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں۔ دائیں ہاتھ سے بائیں کلائی کو پکڑیں۔ تین انگلیاں کلائی پر سیدھی رکھیں۔ پھر ثناء پڑھیں: سبحانك اللهم وبحمدك… اس کے بعد: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم اور بسم الله الرحمن الرحيم پڑھیں۔ سورۂ فاتحہ اور قراءت سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین آہستہ کہیں، پھر قرآنِ کریم کی کوئی سورت یا کم از کم تین مختصر آیات کے برابر قراءت کریں۔ اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو ثناء پڑھنے کے بعد خاموش رہیں اور امام کی قراءت غور سے سنیں۔ امام کے "ولا الضالین” کہنے کے بعد آہستہ سے "آمین” کہیں۔ رکوع کا صحیح طریقہ "اللہ اکبر” کہتے ہوئے رکوع میں جائیں۔ کمر…
Read moreمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل مولانا ابو الجیش ندوی پس منظراسلامی فقہ محض چند صدیوں پرانے فتاویٰ یا خشک قوانین کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک نظامِ حیات ہے جو ہر دور کے انسانی مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں نے مسلم امہ کے سامنے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان حالات میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ "ہم فقہ کو اپنے معاصر واقعاتی حقائق کے ساتھ کیسے جوڑیں؟”اس سلسلے میں فقہ کی تجدید اور اسے جدید زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 6 بنیادی راستوں پر مشتمل ایک جامع روڈ میپ درج ذیل ہے: 1. اسلوبِ بیان کی تجدید: جدید اور واضح زبان فقہ کو عصرِ حاضر میں نافذ کرنے کا پہلا مرحلہ اس کے ابلاغ (Communication) کو درست کرنا ہے۔ صدیوں پہلے لکھی گئی فقہی کتب کی زبان اور اصطلاحات اپنی جگہ نہایت قیمتی ہیں، لیکن آج کا عام انسان اور یہاں تک کہ جدید جامعات کے طلبہ بھی اس زبان سے مانوس نہیں ہیں۔ تجدید کا تقاضا یہ ہے کہ فقہی احکام کو آسان، عام فہم اور جدید عربی یا مقامی زبانوں کے اسلوب میں پیش کیا جائے۔ جب تک شریعت کے قوانین کی زبان واضح اور عصرِ حاضر کے مزاج کے مطابق نہیں ہوگی، تب تک عام معاشرہ اس سے رہنمائی حاصل نہیں کر سکے گا۔ 2. دلائل کی مرکزیت: قرآن و سنت سے براہِ راست تعلقبعض اوقات طویل عرصے تک ایک ہی مکتبِ فکر کی پیروی کے نتیجے میں لوگ فقہی آراء اور فتاویٰ کو تو یاد رکھتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے موجود اصل ماخذ کو بھول جاتے ہیں۔ تجدید کا دوسرا اہم راستہ یہ ہے کہ ہر فقہی جزئیے اور حکم کو براہِ راست قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کے نصوص (متون) کے ساتھ جوڑا جائے۔ جب عوام اور خواص کو کسی فیصلے کے پیچھے موجود الٰہی وحی کی دلیل نظر آتی ہے،…
Read more

