Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

  1. Home
  2. ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • فروری 18, 2026
  • 0 Comments

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :
ڈاکٹر زیاد الریسی


​ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ


​اے مسلمانو!


دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔


​اللہ کے بندو!
تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔
​پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔


​اے (رمضان کے) مشتاقو!
تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا اور کتنے ہی ٹوٹے ہوئے دلوں کی تسلی کا سامان کیا۔
​امت کے کتنے ہی شکستہ دل اس سے شاداب ہوئے، کتنے ہی غم کے آنسو اس نے پونچھے، کتنے ہی تاسف کے لمحات کو اس نے ختم کیا اور کتنی ہی سختیوں کو ٹال دیا! اس نے کتنی ہی تکلیفوں کو خوشی میں بدلا، کتنے ہی فقیروں کو غنی کیا، کتنی ہی تنگیوں کو آسانی میں بدلا اور کتنی ہی دشوار گزار گھاٹیوں کو پار کرایا۔
​تمہارا مہمان!
اس نے کتنے ہی مظلوموں کی مدد کی، کتنے ہی قیدیوں کو رہائی دلائی، کتنے ہی مغلوب لوگوں کے لیے فتح کے دروازے کھولے اور کتنے ہی جکڑے ہوئے ہاتھوں کو آزاد کیا!
​رمضان!
اس نے کتنے ہی غافلوں کو بیدار کیا، کتنے ہی ٹیڑھے لوگوں کو سیدھا کیا، کتنے ہی توبہ کرنے والوں کو قبول کیا اور کتنے ہی بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت دی! کتنی ہی لغزشوں کو معاف کیا، کتنے ہی عیبوں کی پردہ پوشی کی اور کتنے ہی گناہوں کو بخش دیا!


​اللہ کے بندو!
رمضان وہ سرسبز نخلستان ہے جس کی طرف تھکے ماندے لوگ پناہ لیتے ہیں، وہ لہلہاتا باغ ہے جس کے سائے میں تلاوت کرنے والے سستاتے ہیں اور تہجد گزار اس کی خوشبو سے معطر ہوتے ہیں۔ یہ وہ گلستان ہے جہاں سے بہترین پھل چنے جاتے ہیں اور وہ میٹھا چشمہ ہے جو روحوں کو نتھرے ہوئے پاکیزہ پانی سے سیراب کرتا ہے۔
​ہمارا یہ مہمان مقابلے کا میدان ہے؛ اس میں نیکیوں کی طرف دوڑو، اس کے دسترخوانوں سے فائدہ اٹھاؤ، اس کے قرب کی منزلوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اس کے فضائل پر مسابقت کرو۔ "{اور اسی میں مقابلہ کرنے والوں کو مقابلہ کرنا چاہیے}” [المطففین: 26]۔ اور خبردار اسے ضائع نہ کرنا، کیونکہ اس میں کوتاہی کرنے والا خسارے میں ہے اور اس کے دوران غافل رہنے والا محروم ہے۔ (ایسے شخص کے لیے) اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ ناکام و نامراد ہو اور اس کی ماں اس پر ماتم کرے۔


​اللہ کے بندو!
رمضان تمہارے سامنے ہے؛ اس میں اپنے دلوں کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے، اللہ کی بڑائی اور اس کے نبی ﷺ کی توقیر سے آباد کرو۔ اپنے تمام معاملات اپنے رب کے سپرد کر دو اور خبردار کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر اپنی خواہشِ نفس یا کسی بندے کی رائے کو مقدم نہ کرنا۔
​اپنے رب کی طرف توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ، اور (گناہوں سے) رک جاؤ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اس سے پہلے کہ وہ سفر درپیش ہو جس سے واپسی نہیں اور وہ کوچ ہو جس کے بعد پلٹنا نہیں، جہاں انسان کہے گا: "{اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں نیک عمل کر سکوں۔ ہرگز نہیں!}” [المؤمنون: 99-100]۔ اپنے رب کی شریعت کو تھامے رکھو، اپنے درمیان عدل قائم کرو، حق کی وصیت کرو، صبر کو لازم پکڑو اور آپس کے تعلقات کو درست کرو۔

​اپنے دلوں کو کینہ و حسد سے اور اپنے افکار کو گندگی سے پاک کرو، تاکہ تم رحمن کی رحمتوں اور عطاؤں کے قابل بن سکو اور اس کے مہینے میں اس کی نعمتوں کے اہل ٹھہرو۔ یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)۔
​اللہ کے بندو!
رمضان ان لوگوں کے لیے ایک موقع ہے جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں یا جماعت سے غافل رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنی نمازوں سے سہو کرتے ہیں؛ نہ انہوں نے اس کے ارکان قائم کیے اور نہ اس کی ہیئت کا خیال رکھا۔ ڈرو کہ قیامت کے دن نماز تمہیں یہ بددعا نہ دے کہ: "اللہ تجھے ضائع کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا” (معجم طبرانی)۔


​اللہ کے بندو!
قرآن کو لازم پکڑو کیونکہ یہ اسی کا مہینہ ہے۔ اس کی آیات پڑھو، اس کے معانی میں تدبر کرو، اس کے احکام نافذ کرو اور اس کی ہدایات پر عمل کرو۔ اسے اپنی روح، اپنی فکر اور اپنے سلوک کا حصہ بناؤ تاکہ تم ایسی روحانیت حاصل کر سکو جو اس مبارک مہینے کے لمحات کے ساتھ تازہ ہوتی رہے۔ "{رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا}” [البقرہ: 185]۔
​تمہاری تجارتیں تمہیں مشغول نہ کر دیں، تمہارے دسترخوان تمہیں روک نہ دیں، تمہاری مارکیٹیں تمہیں غافل نہ کر دیں اور ٹی وی پروگرام تمہیں تراویح اور قیام اللیل سے نہ روک دیں، کیونکہ یہ ان کا مبارک وقت ہے۔ اللہ کے لیے عاجزی سے کھڑے ہو، اس کے سامنے خشوع اختیار کرو اور محرابوں میں اپنے اماموں کے ساتھ تہجد پڑھتے ہوئے اپنے مہینے کی روحانیت کو محسوس کرو۔


​اے مسلمانو!
بھلائی کی راہیں کھولو کہ یہ اس کا وقت ہے، اور سخاوت کا لباس پہنو کہ یہ اس کا مقام ہے۔ تمہارے نبی ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوا کرتے تھے (صحیح بخاری)۔ اپنے ہاتھوں کو عطا کے لیے کھول دو، انہیں سخاوت کا عادی بناؤ، کیونکہ صدقہ تمہارے لیے نجات ہے، تنگدستوں کے لیے خیر ہے، تمہارے مالوں کا بدل ہے اور اللہ کی طرف سے اجر ہے۔ "{اور تیرے رب کا رزق سب سے بہتر اور پائیدار ہے}” [طہ: 131]۔
​کیا تم نہیں جانتے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ چھپا کر دیا گیا صدقہ مصیبتوں کو ٹالتا ہے، بیماری کو دور کرتا ہے اور نیک اعمال بری موت اور ہولناکیوں سے بچاتے ہیں؟ پس اپنی عطاؤں سے اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کی خبر گیری کرو، احسان کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے صلہ رحمی کرو، اور اپنے مظلوم و پریشان حال بھائیوں کی طرف دیکھو۔ انہیں احساس دلاؤ کہ وہ تم سے ہیں اور تم ان سے ہو۔ انہیں دکھاؤ کہ مسلمان ایک جسدِ واحد کی طرح ہیں اور مومن بھائی بھائی ہیں۔ اور خبردار ہمارے معاشرے کے قیمتی طبقے سے غافل نہ ہونا: یعنی بزرگ اور مریض۔ ان کی زیارت کرو اور سچی ہمدردی کرو، کیونکہ نبی ﷺ مریضوں کی عیادت فرماتے، ان سے ہمدردی کرتے، ان کے پاس بیٹھتے اور ان کا دکھ بانٹتے تھے۔
​یاد رکھو کہ جو آج آزمائش میں ہے، وہ کل نعمتوں میں تھا؛ دن بدلتے رہتے ہیں اور حالات پلٹتے رہتے ہیں۔ خوش نصیب وہ ہے جو عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ پس حالات کی تبدیلی کا مقابلہ زبان کے شکر اور مال کی سخاوت سے کرو۔ اپنے نفس کے بخل سے بچو کہ یہ ہلاک کرنے والا ہے اور انانیت (خود غرضی) سے بچو کہ یہ برباد کرنے والی ہے۔ "{اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں}” [الحشر: 9]۔
​

​

اللہ کے بندو! جان لو کہ اپنے بندوں کے بارے میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو صلہ رحمی کرتا ہے (رشتوں کو جوڑتا ہے) اللہ اس پر رحم فرماتا ہے، اور جو رشتہ کاٹتا ہے اللہ اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دیتا ہے۔ اللہ بندے کی مدد میں تب تک رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ جس نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کی، اللہ اس کے لیے (دنیا و آخرت میں) آسانی پیدا فرمائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کی، اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور فرمائے گا۔
​اللہ کے بندے! رمضان تمہارے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ تم اپنی شہوتوں کو حرام کاموں سے اور اپنے اعضاء کو گناہوں سے روک سکو۔ یہ تمہارے نفس کو صبر و بردباری پر ڈھالنے کا موقع ہے، تاکہ اسے غصے، سرکشی اور ظلم سے باز رکھا جا سکے۔ روزہ ایک ڈھال ہے، پس "جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ جہالت کی باتیں کرے، اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو وہ (صرف) یہ کہہ دے کہ: میں روزے سے ہوں” (صحیح بخاری)۔
​رمضان اطاعت کی درسگاہ، استقامت کا میدان اور (نفس کے) تزکیے کا محراب ہے۔ یہ تمہارے لیے اپنے رویوں کو ضبط کرنے اور (زندگی میں) توازن پیدا کرنے کا مدرسہ ہے۔ یہ تمہارے پاس اپنے نفس کی ایسی تربیت کا موقع ہے کہ تم کمال اور احسان کے درجے کو پا سکو اور اس بڑے احسان کرنے والے رب کی "مراقبہ” (ہر وقت اللہ کے سامنے ہونے کا احساس) کی صفت حاصل کر سکو۔ یہ تمہارے لیے اپنے گھر والوں اور معاشرے کے لیے ایک نیک نمونہ بننے کا موقع ہے؛ پس ان کے قریب ہو جاؤ تاکہ انہیں تمہاری پیروی کرنے کا موقع ملے، تم نیکی کے کاموں میں ان کی مدد کر سکو، ان کے اندر خیر کے بیج بو سکو اور فضیلت کے پودے لگا سکو، کیونکہ "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت (زیرِ کفالت افراد) کے بارے میں سوال ہوگا…” (صحیح بخاری)۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

Related Posts

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • فروری 16, 2026
  • 0 Comments
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ ڈیجیٹل کنٹنٹ کریئٹرس میں ایوارڈکی تقسیم،مولاناخالدرشیدفرنگی محلی،حافظ عثمان،معراج الدین،پروفیسرشافع ،طارق خان کااظہارخیال کسی بھی معاشرے اور سماج میں اپنی بات عوام اور سماج کے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی ذریعے اور پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے، میڈیا بھی اسی کا ایک اہم حصہ ہے، دور حاضر میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا یا موبائل جرنلزم بہت زیادہ اہمیت حاصل کر چکا ہے۔اپنی بات رکھنا اور مسائل کو اٹھانا، لوگوں کی رہنمائی کرنا، انہیں سچائی بتانا اور غلط باتوں کی توثیق اور تصدیق کر کے صحیح باتیں پیش کرنا سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ٓاج کے دور میں جو ذرائع رائج ہیں ان کا استعمال کیا جائے، چونکہ یہ ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے اس ٹیکنالوجی اور اس نظام کو سیکھ کر قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے صفا انسٹیٹیوٹ فارمیڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم کے تحت عیش باغ میں واقع رشید بارہ دری میں ہوئے ایک پینل ڈسکشن میں کیا،اس میں ہندوستان ٹائمز گروپ کے سینیئر رپورٹر جناب طارق خان ،اتر پردیش کے سابق انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان، آل انڈیا ریڈیو کی نیوز سروس کے یو پی اور نارتھیسٹ کےسابق ہیڈسبکدوش انڈین انفارمیشن سروس افسر معراج الدین خان اور انٹیگرل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستہ پروفیسر شافع انوار الحق شریک ہوئے، ان تمام ماہرین نے میڈیا کی اہمیت اور اپنے عملی تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو ٹیکنالوجی اور میڈیا کی اہمیت کو سمجھ کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا، ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ اپنی جگہ بنانے کے لیے انہیں دوسرے سے زیادہ محنت اور دوسرے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ڈسکشن اور ایوارڈ تقریب کا آغاز محمد یمان مصطفی اور معراج ندوی کی تلات سے ہوا،صالحہ خاتون نے حمدباری اور جمشید قادری نے نعت پیش کی، مفتی منور سلطان ندوی نے افتتاحی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیاآنے کے بعد مواقع بڑھ گئے ہیں،اس سے…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • "روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق"
  • روزہ کی شرعی حیثیت
  • فروری 15, 2026
  • 0 Comments
"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”

"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 ماہ رمضان شروع ہوچکا ہے اور ہم سب ماہ رمضان المبارک کا روزہ اور تراویح شروع کرچکے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور انعام ہوا کہ پھر ہم سب کو یہ مہینہ پھر نصیب ہوا، ورنہ کتنے لوگ جو پچھلے رمضان میں تھے اور آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔۔ اس لیے ہم سب، سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کریں۔ دوستو، بزرگو اور بھائیو!!! روزہ اسلام کا ایک اہم اور بنیادی رکن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا ان میں ایک روزہ بھی ہے ۔قرآن مجید سے اس کی فرضیت اور اہمیت ثابت ہے ۔ روزے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اسلام کی طرح دوسرے ادیان و مذاہب کا بھی لازمی جز رہا ہے حتی کہ ان اقوام میں بھی جن کا اہل کتاب ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہے روزہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں روزہ کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ صیام ہے جو *صوم* کی جمع ہے *صوم* کے لغوی معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت انسانی خواہشات، بہیمی جذبات اور سفلی میلانات سے بچنے اور رکنے کا نام ہے ۔ *اللہ تعالٰی* نے انسان کے اندر دو طرح کی قوتیں ودیعت کی ہیں ۔ *حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح* نے انہیں *قوت بہیمی* اور *قوت ملکی* سے تعبیر فرمایا ہے ۔ پہلی قوت معائب و مفاسد کا مجموعہ اور سر چشمہ ہے ،جب کے دوسری قوت خیر و خوبی اور نیکیوں کا مجموعہ ہے ۔ انسان کی بیہمی و شہوانی قوت کی شدت و جوش عام طور پر کھانے پینے کی کثرت اور جنسی لذتوں میں مشغولیت و انہماک سے پیدا ہوتی ہے ،اس لئے مذہب اسلام نے اس جوش و شدت کو کم کرنے…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی 18.02.2026
  • صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ 16.02.2026
  • "روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق” 15.02.2026
  • دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات 14.02.2026
  • قرآن کے پانچ اساسی علوم 14.02.2026
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری 06.02.2026
  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی 05.02.2026
  • ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر 02.02.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 18, 2026
مضامین و مقالات

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

  • hira-online.com
  • فروری 16, 2026
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
مضامین و مقالات

"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”

  • hira-online.com
  • فروری 15, 2026
مضامین و مقالات

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
قرآن و علوم القرآن

قرآن کے پانچ اساسی علوم

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
فکر و نظر

اُس بازار میں : شورش کاشمیری

  • hira-online.com
  • فروری 6, 2026
اُس بازار میں : شورش کاشمیری
اسلامیات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 5, 2026
فکر و نظر

ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر

  • hira-online.com
  • فروری 2, 2026
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top