اسلام کا فلسفۂ نصرت و آزمائش از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی
آج کل ملت اسلامیہ سخت آزمائشوں میں مبتلا ہے، بالخصوص اہلِ غزہ کی آزمائش خون کے آنسو رُلاتی ہے، لیکن دوسری جانب ان کا صبر و ثبات بہت حوصلہ بخش ہے، چوں کہ ان کا نظامِ تربیت بہت مثالی اور زبردست ہے، اس لیے وہ قرآن کے فلسفۂ نصرت و آزمائش سے بخوبی واقف ہیں، اور اسی لیے ثابت قدم ہیں، ان کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا فہم قرآن بہت عالی ہے، ان کی نظر بہت وسیع ہے، قرآن مجید کے حرف حرف پر ان کا غیر متزلزل ایمان ہے، ورنہ عام طور پر جن لوگوں کو ابتلاء و آزمائش کے فلسفہ اور تاریخِ اسلام میں اس کی اہمیت کا درست علم نہیں ہوتا وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہو جاتے ہیں، واویلا کرتے ہیں، ماتم کرتے ہیں اور فتح و آزادی کے بجائے غلامی کو ترجیح دیتے ہیں، موت کا خوف اور زندگی کی چاہت (وہن) انھیں آزمائش و مقاومت کے نام سے ہی ڈرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم راست طور پر قرآن مجید کا بیانیہ پیش کرنےکی کوشش کریں گے، تاکہ حالات کا بھی صحیح اندازہ ہو جائے اور فلسفہ آزمائش و نصرت کا قرآنی بیانیہ بھی سامنے آ جائے، اس سلسلے کے تمام فلسفوں سے قطعِ نظر قرآن کا فلسفہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ایک روز الجزیرہ نے اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا بیان نشر کیا، جس میں اس نے کہا تھا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم حماس کی طاقت کو توڑ کر رکھ دیں، تاکہ اس کے اندر حکومت کرنے کی صلاحیت اور عسکری قوت باقی نہ رہے۔ ہم نے اس پر نوٹ چڑھاتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ناممکن ہے، اسی وزیر نے پہلے کہا تھا کہ ہم یہ کام چند دن میں کر گزریں گے؛ لیکن اس بیان میں کہا کہ اس کے لیے ہمیں طویل مدت درکار ہے، اسی لیے ہم نے لکھا کہ یہ ناممکن ہے، کیوں کہ مقاومہ کے لوگوں نے یہ باور کر دیا ہے کہ انھیں موت کا خوف نہیں، وہ فلسفۂ…
Read more