اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے از: محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کوئی بھی قوم جو اپنی نشاة ثانیہ اور ترقی و عروج کی خواہش رکھتی ہے اسے اپنی شناخت بنانی ہوتی ہے، اور اسی کی بنیاد پر اس کی ترقی و تنزل کے فیصلے ہوتے ہیں، شناخت سے مراد کسی قوم کی وہ تشخصات، ما بہ الامتیاز صفات، ترجیحات، دستور حیات، اور اس کی وہ تاریخی خصوصیات ہوتی ہیں جو اسے دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہیں، امت مسلمہ کی شناخت کی بات کی جائے تو اس سے مراد نہ تو نہ قومی شناخت ہے نہ نسلی، نہ لسانی، اور نہ علاقائی،جس کے عفریت کو قابو کرنا محال ہوچکا ہے، یہاں گفتگو اس کلیدی شناخت کی ہے جس میں یہ ایک مسلمان کی پہچان کی یہ تمام جہتیں آکر سمٹ جاتی ہیں، وہ ہے اسلامی شناخت جو ہر شناخت سے بڑھ کر اور برتر ہے، اور تنہا یہی وہ شناخت ہے جو معتبر ہے، بقیہ شناخت کے نام پر جو کچھ ہے اس کی حیثیت چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کی طرح ہے کہ جس کو پیاسا پانی خیال کرتا ہے؛ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں پاتا،اور وہاں اسے یہ آواز آتی ہے: اس سرابِ رنگ وبو کو گلستاں سمجھا ہے تو آہ اے ناداں! قفَس کو آشایں سمجھا ہے تو تاریخی اعتبار سے غور کریں تو اسلامی شناخت کواس وقت شدید صدمہ پہنچا جب مغرب پرستی،مذہب بیزاری کے احیا(Secularisation)، اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی مہم اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے آغاز میں خاص طور پر مصر میں شروع ہوئی، جب فرانسیسی سپہ سالار نپولین بونا بارٹ نے ١٧٩٧ء میں مصر پر حملہ کیا،محمد علی پاشا برسر اقتدار آئے اور مصر کے ”خدیو” یا والی بنے تو مغربی تہذیب کو مصری معاشرہ میں نفوذ کا موقع ملا، اور سرکش سیلاب کی مانند اس نے سماج کی تہوں میں اپنی جگہ بنالی، اور مصریوں میں قومیت و وطنیت کی تخم کاری شروع ہوگئی، غیر اسلامی نظریات عالم اسلام کے ممالک میں جنگل کی آگ…
Read more