جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ امام ابو حامد الغزالی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف "جواہر القرآن” میں قرآن کے گہرے مطالعے کے بعد اس کے تمام تر مقاصد اور جوہر کو چھ بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ ان تمام مقاصد کا محور ایک ہی نکتہ ہے: بندوں کو ان کے اصل معبود، "جبارِ اعلیٰ” کی طرف بلانا۔
امام غزالی ان چھ مقاصد کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں: اصولی مقاصد اور تکمیلی مقاصد۔
اول: تین بنیادی اور اہم اصول (السوابق والاصول)
یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن پر دین کی پوری عمارت قائم ہے:
معرفتِ الٰہی (تعریف المدعو إليہ): قرآن کا سب سے پہلا اور اہم مقصد انسان کو اس کے خالق و مالک کی پہچان کروانا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور اس کے افعال کا بیان شامل ہے تاکہ بندہ جان سکے کہ وہ کس کی بندگی کر رہا ہے۔
صراطِ مستقیم کی پہچان: اللہ کی پہچان کے بعد دوسرا قدم اس راستے کو جاننا ہے جو اس تک لے جاتا ہے۔ قرآن وہ طریقہ کار اور ضابطہ حیات واضح کرتا ہے جس پر چل کر انسان اپنے رب کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔
انجامِ سفر کی حقیقت: جب انسان اللہ کی طرف سفر شروع کرتا ہے، تو قرآن اسے بتاتا ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد (یعنی مرنے کے بعد اور قیامت کے دن) اس کے حالات کیا ہوں گے۔ یہ جنت، دوزخ اور لقائے الٰہی کی کیفیات کا بیان ہے۔
دوم: تین تکمیلی اور متمم اجزاء (الروادف والتوابع)
یہ اجزاء پہلے تین اصولوں کی وضاحت اور ان پر عمل پیرا ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں:
قبول کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں کے احوال: قرآن میں جہاں انبیاء اور صالحین کے قصے ہیں (تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں)، وہیں ان لوگوں کا تذکرہ بھی ہے جنہوں نے حق کو ٹھکرایا، تاکہ انسان ان کے انجام سے عبرت حاصل کرے۔
منکرین کی رسوائی کا بیان: اس مقصد کے تحت قرآن ان لوگوں کے باطل نظریات کا پردہ چاک کرتا ہے جو اللہ کے دین کے دشمن رہے، اور ان کی اخلاقی و سماجی برائیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
زادِ راہ اور تیاری کا طریقہ: سفر کتنا ہی واضح کیوں نہ ہو، زادِ راہ کے بغیر طے نہیں ہوتا۔ قرآن انسان کو تقویٰ، تزکیہ نفس اور اخلاقیات کا وہ سامان فراہم کرتا ہے جو اس طویل سفرِ آخرت کے لیے ضروری ہے۔ یہ حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنی ہے
حاصل تحریر
امام غزالی کی یہ تقسیم ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن محض قصوں یا قانونی احکامات کی کتاب نہیں، بلکہ ایک مربوط نظام ہے جو انسان کی روح کو اس کے مرکز (اللہ تعالیٰ) سے جوڑنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اگر ہم ان چھ مقاصد کو ذہن میں رکھ کر قرآن کا مطالعہ کریں، تو اس کی ہر آیت اپنی جگہ ایک قیمتی ہیرا (جوہر) نظر آئے گی۔