وضو کے کتنے فرائض ہیں ؟
- پورا چہرہ دھونا
- دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
- چوتھائی سر کا مسح کرنا
- دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
اگر ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے تو وضو صحیح نہیں ہوتا۔
وضو میں چار چیزیں فرض ہیں:
اگر ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے تو وضو صحیح نہیں ہوتا۔
وضو میں چار چیزیں فرض ہیں:
وضو اسلام میں نماز اور بعض عبادات کے لیے بنیادی شرط ہے۔ وضو کے ذریعے مسلمان ظاہری پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو کا حکم دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کا مکمل طریقہ سکھایا ہے۔ وضو کی نیت جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو دل میں نیت کریں کہ: “میں پاکی حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کے لیے وضو کرتا ہوں۔” نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں۔ وضو کا مسنون طریقہ پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی تک ، ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اس طرح دھوئیں کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے شہادت کی انگلی سے کان کے اندر ، انگوٹھے سے کان کے باہر چھوٹی انگلی کان کے سوراخ میں ڈالیں۔ دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے انگوٹھے تکپھر بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھوٹی انگلی تک۔ وضو کے بعد کی دعا وضو مکمل ہونے کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر یہ کلمہ پڑھیں: اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر یہ دعا پڑھیں: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ترجمہ: اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں شامل فرما۔ تحیۃ الوضو
Read moreصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟ محمد رضی الاسلام ندوی سوال : صدقہ فطر پونے دو کیلو گیہوں بتایا جاتا ہے ، جب کہ احادیث میں گیہوں کا ذکر نہیں ہے، ان میں کھجور، جو اور کشمکش کے ایک صاع وزن کو صدقہ فطر قرار دیا گیا ہے۔براہِ کرم وضاحت فرمائیں، گیہوں کو کب سے اسٹینڈرڈ صدقہ فطر مان لیا گیا اور کس بنیاد پر؟کیا دوسری جنس میں صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی نقدی میں صدقہ فطر ادا کرنا چاہے تو کتنا کرے؟ جواب :احادیث میں صدقہ فطر کے لیے چار اجناس بتائی گئی ہیں۔ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَكَانَ طَعَامَنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأَقِطُ وَالتَّمْرُ. (بخاری: ۱۵۱۰)” رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم عید الفطر کے موقع پر غلہ (یعنی) جو،شمش، پنیر اور کھجور ایک صاع کی مقدار میں بہ طور صدقہ نکالا کرتے تھے۔“عہد نبوی میں مدینہ اور اس کے اطراف میں گیہوں نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کی پیداوار شام میں ہوتی تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی حکم رانی کے زمانے میں گیہوں کا رواج ہوا، لیکن وہ دیگر اجناس کے مقابلے میں مہنگا تھا، اس لیے صدقہ فطر گیہوں کے ذریعے نکالنے کی صورت میں اس کی مقدار ایک صاع کے بجائے نصف صاع مقرر کی گئی اور تمام صحابہ نے اس سے اتفاق کیا۔ایک صاع کا وزن تقریبًا سوا تین کلو اور نصف صاع کا وزن ایک کلو چھ سو گرام ہے۔ صدقہ فطر احادیث میں مذکور اجناس میں سے کسی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ صرف گیہوں کا تذکرہ کرنا اور اسی پر اصرار کرنا درست نہیں معلوم ہوتا۔صدقہ فطر نقدی میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے، بلکہ آج کل کے حالات میں نقدی میں ادا کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ عہد نبوی میں مذکورہ اجناس کو نقدی جیسی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ ان چیزوں کو فروخت کرکے اپنی ضرورت کی دوسری چیزیں خرید لیا کرتے۔ آج کے دور میں کوئی شخص کسی غریب کو مذکورہ…
Read more