HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ

کرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہ !میرے پیارے عیسائی بھائیو اور بہنوآج جب آپ کے گھروں میں خوشی کے چراغ روشن ہیں،دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت تازہ ہے،تو ہم مسلمان آپ کے دروازے پر کسی بحث کے ساتھ نہیں آئے—بلکہ محبت، احترام اور خیر خواہی کے ساتھ آئے ہیں۔ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے لیے صرف ایک مذہبی شخصیت نہیں،بلکہ امید، رحمت اور قربانی کی علامت ہیں۔اور شاید یہ جان کر آپ کو سکون ملے کہہم بھی عیسیٰ علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں—سچی، گہری اور دل سے۔ہم حضرت مریم علیہا السلام کو پاکیزگی کی بلند ترین مثال مانتے ہیں۔ہم عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش پر ایمان رکھتے ہیں۔ہم ان کے اخلاق، ان کی شفقت، ان کی دعا،اور ان کے درد مند دل کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہم آپ سے کچھ چھیننے نہیں آئے۔نہ آپ کی خوشی،نہ آپ کی شناخت،نہ آپ کی محبت۔ہم صرف ایک بات آپ کے دل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کس کی طرف بلاتے تھے؟وہ اپنے رب کے سامنے جھکتے تھے۔وہ دعا کرتے تھے۔وہ کہتے تھے:“میں اور تم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔”یہ بات ان کی عظمت کو کم نہیں کرتی—بلکہ بڑھا دیتی ہے۔کیونکہ بندگی میں جھکناکمزوری نہیں،بلکہ سب سے بڑی بلندی ہے۔اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہعیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں—مگر خدا کے بہت قریب تھے۔وہ معبود نہیں—مگر ہدایت کا چراغ تھے۔ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سننا آسان نہیں۔عقیدہ صرف سوچ کا نام نہیں،یہ دل کا رشتہ ہوتا ہے۔اسی لیے ہم آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالتے۔ہم صرف دعوت دیتے ہیں—وہی دعوت جو عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی:ایک خدا کی عبادت۔اسی خدا کی، جس نے عیسیٰ کو بھیجا۔اور محبت کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہعیسیٰ علیہ السلام نے خود کہا تھاکہ میرے بعد ایک رسول آئے گاجو سچ کو مکمل وضاحت کے ساتھ پیش کرے گا۔ہم اس رسول کو محمد ﷺ مانتے ہیں—عیسیٰ کے مخالف کے طور پر نہیں،بلکہ ان کے…

Read more

نام کتاب : تراوش قلم

نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…

Read more

اک بزم وفا پروانوں کی

اک بزم وفا پروانوں کی ڈاکٹر محمد اعظم ندویاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد دار العلوم وقف دیوبند کی ہر دلعزیزی کا آفتاب نصف النہار تک پہنچ چکا ہے، اس نے اپنی عمر کے چالیس بیالیس برس پورے کرکے قربانی اور ریاضت کی چلہ کشی بھی کرلی ہے، اس کے شان وشِکوہ کا کیا کہنا! قسام ازل کی فیاضی جسے چاہے دل نواز کرے، اس کی عظمت کے امتیازی نقش ونگار اور دلکش خط وخال کی تصویر کشی یہاں ممکن نہیں، خدا اسے سدرہ آشنا بنائے، ہندوستان کی وہ باکمال شخصیات کہ جن کے چراغوں کے سامنے دوسرے چراغ نہیں جلتے، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ بھی ہیں، ان کا علم ایک قلزم نا پیدا کنار ہے، اقبال نے اورنگ زیب رحمہ اللہ کے بارے میں کہا تھا: درمیان کار زار کفر ودیںترکش ما را خدنگ آخریں ہم دلائل کی دنیا میں اسے علامہ پر بے تکلف منطبق کرسکتے ہیں۔ دار العلوم وقف دیوبند میں تقریباً دس برس سے "حجۃ الاسلام اکیڈمی” قائم ہے، اس نے ایک عشرہ میں اپنی عالمی سطح کی رنگا رنگ طباعتوں، تحقیقات اور سیمیناروں کے ذریعہ اہل علم میں وہ مقام بنایا ہے جس کا عشر عشیر بھی کئی کئی دہائیوں سے قائم بعض تحقیقی ادارے نہیں پیش کرسکے ہیں، ابھی 20-21 جمادی الثانی 1447ھ مطابق 13-14 دسمبر 2025ء اس نے اپنے روشن کارناموں میں ایک اور گراں قدر اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے علامہ انور شاہ کشمیری کی حیات وخدمات اور افکار وآثار پر ایک دو روزہ اور دو لسانی عالمی سیمینار کا کامیاب انعقاد، جس کے خیر کثیر کا ذکر خیر چہار جانب ہے۔ مجھ نابکار کو بھی اس سیمینار میں مقالہ نویسی اور باریابی کا شرف بخشا گیا تھا، موضوع تھا "علامہ کشمیری پر عربی زبان میں اہم تصنیفات وتحقیقات- تحلیل وتجزیہ”، میں 13 کی صبح انڈیا کی ٹرینوں اور جہازوں کی طرح معمول کے مطابق لیٹ پہنچا، انڈیگو کے حالیہ غیر مجاز تصرفات کی زد میں آگیا تھا، واپسی میں بھی یہی حشر ہوا، دو راتیں آنکھوں کی نذر ہوئیں، "غیر مستطیع” انڈیگو نے ایک عدد…

Read more

کیا خدا کا وجود ہے؟

کیا خدا کا وجود ہے؟ ✍🏻 محمد ظفر ندوی مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اور عالم دین مفتی شمائل ندوی کے مابین ایک اعلی سطحی اور ہائی پروفائل علمی مباحثہ اس موضوع پر ہوا کہ "کیا خدا کا وجود ہے؟” چوں کہ جاوید اختر صاحب”ایتھسٹ” یعنی ملحد ہیں، خدا کے وجود کے قائل نہیں ہیں، اس لیے وہ خدا کے نا ہونے پر دلائل دینے کی کوشش کر رہے تھے اور مفتی صاحب خدا کے وجود پر دلائل دے رہے تھے۔ میں اپنے اس مضمون میں مفتی شمائل ندوی کی طرف سے دیے گئے دلائل پر بحث کروں گا اور اگلے مضمون میں جاوید اختر صاحب کے الزامات اور جوابات پر گفتگو کروں گا۔ Argument of Contingencyپہلے دس منٹ میں جو سب سے اہم موضوع تھا وہ آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی تھا۔ آئیے ہم سب سے پہلے اسی پر بحث کرتے ہیں اور اس کو آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے "آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی” کے آغاز سے پہلے ہی ایک بنیادی اور بڑے مسئلے کو واضح کردیا، وہ یہ کہ سائنس کے ذریعے خدا کی شناخت ممکن نہیں، سائنس کا یہ میدان نہیں ہے، سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرنے یا اس کے وجود کو رد کرنے کا معیار نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے "نیشنل اکیڈمی آف سائنس” کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا کہScience doesn’t have the processes to prove or disprove the existence of God. یعنی "سائنس کے پاس خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کے طریقے (processes) نہیں ہیں۔” یہ بات اکثر سائنسدان، فلاسفہ، اور الہیات دان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کا تعلق empirical evidence سے ہے "امپیریکل ایویڈینس” کا مطلب "تجرباتی ثبوت” ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ "حواسِ خمسہ یا سائنسی آلات سے جن اشیاء کی تصدیق اور تثبیت ہو۔ مثلاً ہوا نظر نہیں آتی مگر ہم محسوس کرسکتے ہیں، یہ حواس کی مثال ہے۔ اسی طرح "تجربہ” مثلاً پانی ایک سو سینٹی گریڈ پر ابلنے لگتا ہے تو یہ تجربہ ہے، ان کو امپریکل ایوڈینس کہتے ہیں۔ اس کے…

Read more

مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف

مطالعۂ کتبخوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارف اسجد حسن ندوی انسانی زندگی کے تمام رشتوں میں ازدواجی رشتہ سب سے زیادہ نازک، گہرا اور اثر انگیز ہوتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس پر ایک فرد کے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور معاشرتی استحکام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے ازدواجی زندگی کو محض جسمانی یا سماجی ضرورت قرار نہیں دیا بلکہ اسے سکونِ قلب، مودّت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ازدواجی زندگی اگر فہم، برداشت، اخلاص اور باہمی احترام کے ساتھ گزاری جائے تو یہ انسان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے، لیکن اگر اس میں غفلت، خود غرضی اور بداعتمادی داخل ہو جائے تو یہی رشتہ دلوں کا بوجھ اور زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی، مادّی ترجیحات، ناپختگی اور دینی اقدار سے دوری نے ازدواجی تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ازدواجی زندگی کے حقیقی مفہوم کو سمجھا جائے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض، باہمی رویّوں اور اختلافات کے حل کو واضح کیا جائے۔ "خوش گوار ازدواجی زندگی” اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر تصنیف کی گئی ایک نہایت اہم اور مفید کتاب ہے۔ اس میں ازدواجی زندگی کے بنیادی اصول، میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض، جذباتی و نفسیاتی تقاضے، اختلافات کے اسباب اور ان کے حل کو نہایت سادہ، مدلل اور عملی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض نصیحتوں پر مشتمل نہیں بلکہ ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے قابلِ طریقوں سے واقف کراتی ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر مامون مبیض انسانی نفسیات اور خاندانی نظام کے ماہر ہیں ۔ انہوں نے ازدواجی زندگی کو ایک فطری اور نفسیاتی رشتہ سمجھتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کا گہرا اور حقیقت پسندانہ مطالعہ پیش کیا ہے۔ ان کا…

Read more

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔

خواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔ اردو ترجمہ: تحفۃُ النُّبَلاء فی جماعۃ النساءمصنف: علامہ محمد عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ۔ ترجمہ، تحقیق و تعلیق: محمد شمس قمر صاحب۔ ناشر:حجۃ الاسلام اکیڈمی، دارالعلوم وقف، دیوبند۔ از : مولانا آدم علی ندوی ابھی چند دن قبل دارالعلوم وقف دیوبند میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر ایک نہایت کامیاب سیمینار منعقد ہوا، جس کی دھوم اور چرچا پورے ملک میں رہی۔ اس کے حسنِ انتظام اور کامیابی کے تذکرے ہر زبان پر تھے۔ اس سیمینار کا ایک اہم حصہ نئی مطبوعات کا اجرا بھی تھا۔ منتظمینِ سیمینار نے اپنے مہمانوں کو حجۃ الاسلام اکیڈمی کی نئی مطبوعات بڑی تعداد میں پیش کیں۔ ہمارے ادارہ سے مہتمم مدرسہ اور مدیر ندائے اعتدال محترم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب نے اپنے مقالہ کے ساتھ شرکت فرمائی اور ایک نشست، بلکہ پہلی نشست کی کامیاب اور ذمہ دارانہ نظامت بھی کی۔ آپ نے حسب سابق ہدیہ میں ملی اکثر کتابیں مدرسہ کی لائبریری کو ہدیہ کیں۔ وہیں سے میں نے اس نئی کتاب کو حاصل کیا اور مطالعہ شروع کیا۔حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کے حمد وسپاس، ڈاکٹر محمد شکیب صاحب کی تقریظ اور مفتی امانت علی صاحب کے مقدمہ سے گزرتے ہوئے جب اصل کتاب کے تین ابواب تک پہنچا تو اردو ترجمہ، دلائل اور علامہ لکھنویؒ کے جوابات پڑھ کر بے حد مسرت ہوئی۔ بار بار اس کتاب کی اشاعت پر مولانا شکیب صاحب اور ترجمہ و تعلیق پر محمد شمس قمر صاحب کے لیے دعائیں دل سے نکلتی رہیں اور اچھے جذبات دل میں جگہ بناتے رہے۔البتہ "ضمیمہ” کا حصہ پڑھ کر پہلی سی کیفیت برقرار نہ رہ سکی اور نہ صرف احساسات بدلے بلکہ کچھ تکدربھی ہوا ۔ اس وقت جبکہ برصغیر کے بیشتر علمی و دینی چمن مرجھا رہے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت سے ادارے آخری سانسیں لے رہے ہیں، ایسے نازک دور میں چمنستانِ قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند، مسلسل ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ سیمینار، نئی مطبوعات اور تحقیقی سرگرمیاں اس کی کھلی شہادت ہیں۔ نیز وہ…

Read more