HIRA ONLINE / حرا آن لائن
کیا خدا کا وجود ہے؟

کیا خدا کا وجود ہے؟ ✍🏻 محمد ظفر ندوی مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اور عالم دین مفتی شمائل ندوی کے مابین ایک اعلی سطحی اور ہائی پروفائل علمی مباحثہ اس موضوع پر ہوا کہ "کیا خدا کا وجود ہے؟” چوں کہ جاوید اختر صاحب”ایتھسٹ” یعنی ملحد ہیں، خدا کے وجود کے قائل نہیں ہیں، اس لیے وہ خدا کے نا ہونے پر دلائل دینے کی کوشش کر رہے تھے اور مفتی صاحب خدا کے وجود پر دلائل دے رہے تھے۔ میں اپنے اس مضمون میں مفتی شمائل ندوی کی طرف سے دیے گئے دلائل پر بحث کروں گا اور اگلے مضمون میں جاوید اختر صاحب کے الزامات اور جوابات پر گفتگو کروں گا۔ Argument of Contingencyپہلے دس منٹ میں جو سب سے اہم موضوع تھا وہ آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی تھا۔ آئیے ہم سب سے پہلے اسی پر بحث کرتے ہیں اور اس کو آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے "آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی” کے آغاز سے پہلے ہی ایک بنیادی اور بڑے مسئلے کو واضح کردیا، وہ یہ کہ سائنس کے ذریعے خدا کی شناخت ممکن نہیں، سائنس کا یہ میدان نہیں ہے، سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرنے یا اس کے وجود کو رد کرنے کا معیار نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے "نیشنل اکیڈمی آف سائنس” کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا کہScience doesn’t have the processes to prove or disprove the existence of God. یعنی "سائنس کے پاس خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کے طریقے (processes) نہیں ہیں۔” یہ بات اکثر سائنسدان، فلاسفہ، اور الہیات دان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کا تعلق empirical evidence سے ہے "امپیریکل ایویڈینس” کا مطلب "تجرباتی ثبوت” ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ "حواسِ خمسہ یا سائنسی آلات سے جن اشیاء کی تصدیق اور تثبیت ہو۔ مثلاً ہوا نظر نہیں آتی مگر ہم محسوس کرسکتے ہیں، یہ حواس کی مثال ہے۔ اسی طرح "تجربہ” مثلاً پانی ایک سو سینٹی گریڈ پر ابلنے لگتا ہے تو یہ تجربہ ہے، ان کو امپریکل ایوڈینس کہتے ہیں۔ اس کے…

Read more