HIRA ONLINE / حرا آن لائن
یہ کتاب…..! (حلال و حرام )

نام کتاب : حلال و حرام مصنف : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تعارف و تبصرہ : اسجد حسن بن قاضی محمد حسن ندوی یقیناً ہر زمانہ میں امت کی رہنمائی کے لئے کوئی نہ کوئی نبی ضرور آئے ، اور سبھوں نے اپنی امت کی رہنمائی کی ، سبھوں کی بعثت محدود زمانہ تک تھی، لیکن سب سے اخیر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، آپ کی بعثت آخری نبی کی حیثیت سے ہوئی، امت کا اتفاق ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، اس لئے آپ پر جو کتاب نازل ہوئی ہے وہ آخری کتاب ہے، جس طرح آپ کی امت آخری امت ہے اسی طرح آپ کے ذریعہ آیا ہوا دین اسلام آخری اور مکمل دین ہے ، جس میں امت کی ہر پہلو سے رہنمائی کی گئ ہے ، چوں کہ دین اسلام کے دو سر چشمے ہیں ، ایک قرآن مجید اور دوسرا حدیث ، یہی دونوں شریعت مطہرہ کے اساسی سرچشمے ہیں، یہ بات یادر ہے کہ احکام شرعیہ سے متعلق جو آیات ہیں وہ سب محکم نہیں ہیں بلکہ بعض محکم ہیں تو بعض مجمل، بعض مشترک ہیں تو بعض متشابہ،گرچہ احکام سے متعلق آیات پانچ سے زیادہ نہیں ہیں لیکن اصولی اعتبار سے قیامت تک پیش آمدہ مسائل کا حل اس میں مضمر ہے، جن کی آئینے میں فقہاء اور مجتہدین امت مسلمہ کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں ،اور قیامت تک پیش آمدہ معاملات کا حل اسی دونوں مآخذکی روشنی میں پیش کرتے رہیں گے، پیش نظر کتاب ( حلال و حرام) بھی اسی ضرورت کی تکمیل ہے ، قرآن و سنت کے مطابق اسلام میں حلال و حرام کیا ہے وہ بیان کیا گیا ہے، مثلا ماکولات و مشروبات ، غیر مسلم کا ذبیحہ ، بند ڈبیوں کا گوشت ، الکڑک شارٹ کا ذبیحہ ، شراب اور دوسری نشہ آور اشیاء دوائی کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اس کے علاوہ لباس و زینت گھریلو استعمال کی چیزیں ، کتا پالنا ، فوٹو گرافی ، کسب و…

Read more

عورت کا حق میراث اور اسلام از: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

شریعت ِاسلامی کے تمام احکام کی بنیاد عدل پر ہے ، عدل سے مراد ہے صلاحیت کے اعتبار سے ذمہ داریوں کی اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے حقوق کی تعیین ، عدل کا تقاضہ کبھی مساوات اور برابری کا ہوتا ہے اور کبھی کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کا ، اسلام کا قانون میراث بھی اسی اُصول پر مبنی ہے ، اسلام سے پہلے مختلف مذاہب اور قوانین میں الگ الگ قانونِ میراث رہا ہے ، عربوں کا فلسفہ یہ تھا کہ جو لوگ مقابلہ اور مدافعت کی طاقت رکھتے ہوں ، صرف وہی میراث کے مستحق ہیں ، اسی لئے وہ عورتوں اور بعض اوقات نابالغ بچوں کو بھی میراث سے محروم کردیتے تھے ، یہودیوں کے یہاں پوری میراث پر پہلوٹھے لڑکے کا قبضہ ہو جاتا تھا ، ہندوؤں کے یہاں عورتیں میراث کی حقدار نہیں ہوتی تھیں ، خود یورپ میں عورتوں کو انیسویں صدی میں حق میراث ملا ہے ، اس سے پہلے وہ اس حق سے محروم تھیں ۔ قرآن مجید میں میراث کے سلسلے میں تین باتیں خاص طور پر ملحوظ رکھی گئی ہیں : ٭ پہلی بات یہ کہ کچھ قریبی رشتہ دار لازمی طور پر میراث کے حقدار ہوں گے ، ان رشتہ داروں کو’’ ذوی الفروض ‘‘ کہا جاتا ہے ، ان میں مرد بھی ہیں اور اسی درجہ کی رشتہ دار عورتیں بھی ، جیسے باپ اور ماں ، بیٹا اور بیٹی ، شوہر اور بیوی ، یہ بات بھی اہم ہے کہ اصحابِ فروض میں عورتیں بہ مقابلہ مردوں کے زیادہ ہیں ، عورتیں سترہ حالتوں میں اصحابِ فروض کی حیثیت سے وارث بنتی ہیں اور مرد صرف چھ حالتوں میں ۔ ٭ دوسرے : جس شخص سے ذمہ داریاں کم یا ختم ہو گئی ہوں ، اس کا حصہ بہ مقابلہ اس رشتہ دار کے کم رکھا گیا ہے ، جو ابھی ذمہ داریوں کے میدان میں قدم رکھ رہا ہے ، اور جس پر مستقبل میں اپنے متعلقین کے تئیں زیادہ ذمہ داریاں آنے والی ہوں ، ان کا حصہ زیادہ رکھا…

Read more

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

      از: اسجد حسن بن قاضی محمد حسن ندوی     مظلومِ مدینہ، شہیدِ مدینہ ، کاتبِ وحی، حافظِ قرآن، حیا و پاکبازی کا استعارہ ، السابقون الاولون میں شامل ، صاحبِ ثروت، سخی و فیاض، مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک، دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اندوہناک حادثہ اٹھارہ ذو الحجہ ۳۵ ؁ ہجری بروز جمعہ کو پیش آیا ، یہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ تھا کہ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان پھوٹ پڑگئی ، جو مسلمان اخوت، مساوات، عدل و انصاف کی عظیم علم بردار قوم تھی ،ان میں فرقہ بندیاں پیدا ہونے لگی ، اسی پھوٹ اور گروہ بندی کے نتیجے میں جنگ ِ جمل، جنگ صفین، حضرت علیؓ کی شہادت، مکہ پر فوج کشی اور واقعہ کربلا جیسے المیے پیش آئے، اور مسلمانوں کی تلواریں اپنے بھائیوں کے خون سے آلودہ ہوئیں،(تاریخ الخلفاء، علامہ جلال الدین سیوطی)        حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پیدائش 576 عیسوی میں عام الفیل کے چھ سال بعد مکہ کی خوشگوار وادی طائف میں ہوئی، آپؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رہنمائی اور کوشش سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اسلام لانے میں آپؓ کا شمار پانچویں نمبر پر ہوتا ہے،  جس طرح حضرت علی المرتضیؓ حضور اکرمؐ کے داماد تھے، اسی طرح حضرت عثمانؓ بھی حضور کریمؐ کے دوہرے داماد تھے، چناچہ ہجرت سے قبل حضور اکرمؐ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ آپؓ کے نکاح میں آئیں اور سن دو ہجری میں حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد حضور اکرمؐ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثومؓ بھی آپؓ کے نکاح میں دے دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ذَاکَ امْرُؤٌ یُدْعٰی فی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی ذَالنُّوْرَیْنِ. (ابن حجر العسقلانی، الاصابة، 4: 457)      حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرمؐ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپؐ کے پاس باری باری صحابہ کرامؓ آرہے تھے، پھر ایک شخص نے دستک دی اور آنے کی اجازت مانگی، حضور کریمؐ نے مجھ سے…

Read more

*بارہ سالہ جہد مسلسل کا ثمرہ ہے اللقاء الثقافی، لکھنؤ: ڈاکٹر محمد ادریس ندوی قاسمی*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم *بارہ سالہ جہد مسلسل کا ثمرہ ہے اللقاء الثقافی، لکھنؤ: ڈاکٹر محمد ادریس ندوی قاسمی* (اللقاء الثقافی لکھنؤ” کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات و اعزازات: 24-2023 کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد، علماء و دانشوران اور معززین شہر کی شرکت) مؤرخہ 9/ فروری 2023 مطابق 28/ رجب المرجب 1445ھ بروز جمعہ جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں دار البحث والاعلام، لکھنؤ کی طلبہ ونگ "اللقاء الثقافی لکھنؤ” کی ہفت روزہ تربیتی سیریز بعنوان: *میرا انتخاب، میری تخلیق* *میری تخلیق، میرا انتخاب*

Read more

یکم محرم الحرام: یوم شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

    اجد حسن     آج اسلامی تاریخ کا پہلا دن ہے ، آج ہی کے دن امیر المومنین ، مراد قلب رسول ، انتخاب رب العالمین ،فاتح بیت المقدس ، وزیر پیغمبر ، خلیفہ دوم ، فاتح قیصر و کسریٰ، میدان عدالت کے نیر تاباں ، احقاقِ حق کے لیے تیغِ بُرّاں، ابطالِ باطل پہ شمشیرِ عریاں ، مطلوب و محبوب، فاروقِ اعظم، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے،      حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی عدل و انصاف، جرات و بہادری، روشن خدمات پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کارناموں سے اسلامی تاریخ منور ہے ،     آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی قدر عمر بن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے، آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے ،         آپ رضی اللہ عنہ ’’عام الفیل‘‘ کے تقریباً 13 سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور نبوت کے چھٹے سال پینتیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہو ئے،         حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہی ہوتے،( لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ) .        اس دنیا میں جتنے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محدث ضرور ہوا ہے، اگر میری امت کا کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہیں صحابہ کرامؓ نے عرض کیا، محدث کون ہوتا ہے؟ تو فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے گفتگو کریں،         قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): «لقد كان فيما قبلكم من الأمم مُحدَّثُون، فإِن يك في أمَّتي أحدٌ؛ فإِنَّه عمر».(طبرانی اوسط)        آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ قیدیوں کے سلسلے میں آپ کی رائے اور حکم قتل کا تھا…

Read more

The Life of the Prophet

May praise be to Allah, the Creator of the Worlds, and peace and blessings be upon His Prophet Muhammad, the head of all Dear audience! Today I have the pride to speak some humble words about the Head of all Prophets and the Seal of Prophethood Sayyidna Muhammad (Allah bless him and give him peace) whom Allah () called mercy for the universe saying: ﲔﻤﻟﺎﻌﻠ ﺔﲪر ﻻا كﺎﻨﻠﺳر ﺎﻣو  "And We have not sent you but as mercy for all the worlds.” (Surah al-Anbiya, 21:107) At another place Allah Ta’ala says:   نﻮﻤﻠﻌﻳ ﻻ سﺎﻨﻟا ﱶﻛ ﻦﻜﻟو اﺬﻧو اﲑﺸ سﺎﻨﻠ ﺔﻓﰷ ﻻا كﺎﻨﻠﺳر ﺎﻣو "   We did not send you (O Prophet) but to the entire mankind, as a bearer of good news and as a Warner, but most people do not know.” (Surah al-Noor, 34:28)

Read more