*حج کی غلطیاں*
محمد رضی الاسلام ندوی
[ عمرہ کے دوران میں طواف اور سعی کی غلطیاں ایک الگ پوسٹ میں بیان کی جاچکی ہیں – ]
1 – بعض لوگ حدودِ عرفات کے باہر ہی پڑاؤ ڈال دیتے ہیں اور غروبِ آفتاب تک وہیں رہ کر مزدلفہ لوٹ آتے ہیں – یہ بہت بڑی غلطی ہے – ان لوگوں کا حج نہیں ہوتا – اس لیے کہ وقوفِ عرفہ حج کا اہم ترین رکن ہے – 9 ذی الحجہ کو حدودِ عرفات میں ، غروبِ آفتاب سے قبل ، چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہو ، داخل ہونا ضروری ہے –
2 – بعض لوگ غروبِ آفتاب سے قبل ہی میدانِ عرفات سے مزدلفہ کی طرف چل دیتے ہیں – یہ درست نہیں ہے – اللہ کے رسول ﷺ نے سورج ڈوبنے تک وہاں قیام کیا تھا –
3 – بعض لوگ میدانِ عرفات میں واقع جبلِ رحمت کی چوٹی پر چڑھنا ضروری سمجھتے ہیں ، حالاں کہ یہ ضروری نہیں – پورے میدانِ عرفات میں کہیں بھی وقوف کیا جاسکتا ہے –
4 – بعض لوگ میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت کی طرف رخ کرکے دعا کرتے ہیں ، حالاں کہ یہ درست نہیں – دعا قبلہ روٗ ہوکر مانگنی چاہیے –
5 – بعض لوگ مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے سے قبل ہی کنکریاں چننے لگتے ہیں – یہ درست نہیں – مزدلفہ پہنچ کر سب سے پہلے مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنی چاہیے – نماز ادا کرنے کے بعد کنکریاں چنیں – کنکریاں حدودِ حرم میں کہیں سے بھی چنی جاسکتی ہیں – مزدلفہ سے یا منی سے –
6 – بعض لوگ کنکریوں کو پانی سے دھوتے ہیں – یہ بھی درست عمل نہیں ہے – انہیں دھونے کی ضرورت نہیں –
7 – بعض لوگ جمرات کو کنکریاں مارتے وقت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ شیطان کو کنکریاں مار رہے ہیں – اسی لیے اس موقع پر غصّہ کا اظہار کرتے ہیں ، بلکہ بعض لوگ گالیاں تک دے بیٹھتے ہیں – یہ درست نہیں – رمی جمار کی مشروعیت اللہ کی یاد کے مقصد سے ہے ، اس لیے اس موقع پر غیظ و غضب کا اظہار کرنے سے بچنا چاہیے –
8 – بعض لوگ رمی جمار کے لیے بڑے پتّھر ، جوتے ، چپّل یا لکڑی کا استعمال کرتے ہیں – یہ بھی درست نہیں – اس کے لیے صرف کنکریاں استعمال کرنی چاہییں ، وہ بھی اتنی بڑی جتنی بکری کی مینگنیاں ہوتی ہیں –
9 – کنکریاں مارتے وقت دھکّم پیل اور مار دھاڑ کرنا شریفانہ رویّہ نہیں ہے – کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کو اذیّت پہنچائے بغیر کنکریاں ماری جائیں –
10 – بعض لوگ ساتوں کنکریاں مٹّھی میں لے کر ایک بار ہی میں پھینک دیتے ہیں – اس صورت میں یہ ایک کنکری مارنا ہی سمجھا جائے گا – درست طریقہ یہ ہے کہ ایک بار میں ایک کنکری ہی پھینکی جائے اور اسے پھینکتے ہوئے اللہ اکبر کہا جائے –
11 – رمی جمار پر قدرت و طاقت کے باوجود ، محض مشقّت اور بھیڑ بھاڑ سے بچنے کے لیے ، دوسرے کو نائب بنانا درست نہیں – ہاں ، اگر بیماری یا کوئی اور عذر ہو تو دوسرے کو کنکریاں مارنے کے لیے نائب بنانا جائز ہے –
12 – بعض لوگ 12 یا 13 ذی الحجہ کو منی میں رمی جمار سے قبل مکہ مکرمہ جاتے ہیں اور طوافِ وداع کرتے ہیں ، پھر واپس منی جاکر کنکریاں مارنے کے بعد وہیں سے اپنے ملک یا شہر روانہ ہوجاتے ہیں – یہ درست نہیں ہے – حج کا آخری کام خانۂ کعبہ کا طواف ہونا چاہیے –
13 – بعض لوگ طوافِ وداع کرنے کے بعد مسجدِ حرام سے الٹے پاؤں نکلتے ہیں ، اس طرح کہ ان کا رخ خانۂ کعبہ کی طرف ہوتا ہے – یہ درست نہیں – یہ لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے میں خانۂ کعبہ کی تعظیم ہے ، حالاں کہ یہ سراسر بدعت ہے – دین میں اس کی کوئی حقیقت نہیں –
14 – بعض لوگ طوافِ وداع کے بعد مسجدِ حرام کے دروازے پر پہنچ کر خانۂ کعبہ کی طرف رخ کرکے خوب دعائیں کرتے ہیں – یہ بھی ثابت نہیں ہے –

