HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اسلامی معیشت کے بنیادی اصول

اسلامی معیشت کے بنیادی اصول محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں بھر پور رہنمائی کی ہے اور کسی گوشہ کو تشنہ اور نامکمل نہیں چھوڑا ہے ، عقیدہ ، ایمان ،عبادت ،معاشرت، سیاست ،معاملات ،اخلاقیات اور معاشیات نیز تدبیر منزل ہر باب میں کامل رہنمائی موجود ہے ۔ اسلامی معیشت یا یہ کہئیے کہ اسلامی کا معاشی نظام ایک مکمل نظام ہے ،قرآن و حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں فقہ کی کتابوں میں اس کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور اس کے کلیات و جزئیات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے کہ مال کس طرح حاصل کیا جائے اور اس کو کہاں اور کس طرح خرچ کیا جائے ۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے ، جس پر قدیم و جدید علماء کی علمی اور تحقیقی کاوشیں موجود ہیں اور جدید معاشی نظام پر بھی کتابیں آرہی ہیں ۔ راقم الحروف یہاں اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول پر ایک مختصر تحریر پیش کر رہا ہے ، امید کہ قارئین اس سے استفادہ کریں گے ۔ م۔ ق ۔نآج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ھو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احمد بہاولپوری صاحب رح نے ایک واقعہ سنایا تھاکہ میرا کوئی عزیز میرے پاس آیا کہ حضرت مجھے اسلام آباد میں معیشت کے بارے میں کے بارے ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ھے اور مجھے اس کانفرنس میں معیشت کے بارے میں اسلام نے جو ھدایات دی ہیں اس پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا ھے لہذا اس بارے میں آپکی رہنمائی درکار ھےتو حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اسلامی معیشت کا خلاصہ تو میں بتا دوں گا اور انتہائی مختصر انداز صرف 3 ہی جملوں میں ہی ساری اسلامی معیشت سمجھا دوں گالیکن خیال کرنا میری یہ باتیں سن کر وہاں پر موجود اشرافیہ کی طرف سے کہیں جوتے نہ پڑ جائیں آپ کواس نے کہا کہ حضرت ان کے جوتوں سے خود کو کسی طرح بچا…

Read more

مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات

مسئلۂ شر اور بہوجن نفسیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد ابھی کچھ عرصہ قبل خدا کے وجود پر ایک علمی بحث ہوئی، جس میں منکر خدا مناظر نے خدا کے نہ ہونے پر مسئلہ ٔشر سے استدلال کیا، جسے انگریزی میں (Problem of Evil) کہا جاتا ہے، یعنی اگر خدا ہے تو پھر شر کیوں ہیں؟ کیا خدا خالق شر ہے؟ اگر خالق شر ہے تو پھر شر کے ارتکاب واکتساب پر عقاب وعذاب کیوں؟ اور کیا خدا قادر مطلق نہیں ہے؟ اگر ہے تو وہ شر کو کیوں نہیں روکتا؟ چوں کہ شر کا وجود حقیقت ہے، اور اسے خدا روک نہیں رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرے سے خدا ہے ہی نہیں، کیوں کہ اگر خدا ہوتا تو وہ شر کو ضرور روکتا۔ خلاصہ یہ کہ شر کا وجود خدا کے عدم وجود کی دلیل ہے۔ پھر اس مسئلۂ شر کی بھی دو قسمیں ہوجاتی ہیں: اخلاقی شر(Moral Evil)، اور فطری شر (Natural Evil)۔ اخلاقی شر میں وہ برائیاں آتی ہیں جنھیں انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے، جیسے قتل، چوری، زنا، دھوکہ، جھوٹ وغیرہ، اور فطری شر میں وہ مصیبتیں آتی ہیں جو انسان کے اختیار کے بغیر وجود میں آتی ہیں، جیسے، زلزلے، سیلاب وغیرہ۔ منکر ین خدا اس مسئلۂ شر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا اگر موجود ہوتا تو وہ قتل اور ظلم کو برداشت نہ کرتا، اور زلزلے ، سیلاب وغیرہ لاکر ہزاروں انسانوں کو موت کی آغوش میں نہیں سلاتا، لیکن چوں کہ یہ سب ہورہا ہے لہذا اس کا مطلب ہے کہ خدا نہیں ہے۔مذکورہ مباحثہ میں منکر خدا مناظر نے غزہ کی مثال دے کر اسی مسئلۂ شر والی دلیل کا سہارا لیا تھا، جس کا جواب مثبت خدا مناظر نے یہ کہہ کر دیا کہ انسانوں کو خدا کی طرف سے اختیار کی آزادی (Free Will) حاصل ہے، وہ اپنے اختیار سے ظلم کر رہے ہیں۔ مسئلۂ شر کا اشکال الحاد کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے، خاص کر وہ لوگ جو کسی طرح کے…

Read more

قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ

قرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ از : مولانا ابو الجیش ندوی تمہید عصرِ حاضر میں آئینوں، انسانی حقوق کے منشوروں اور عالمی معاہدات کی کثرت کے باوجود انسانی وقار، عدل اور اخلاقی توازن کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مقالہ اس مقدمے کو پیش کرتا ہے کہ قرآنِ مجید محض ایک مذہبی متن نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات، عدل، آزادیِ ضمیر اور سماجی ذمہ داری پر مبنی ایک ہمہ گیر اور آفاقی اخلاقی و دستوری فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ قرآن انسان کو نسل، مذہب اور قومیت سے ماورا ہو کر مخاطب کرتا ہے اور ایک ایسا معیاری (Normative) تصورِ انسانیت پیش کرتا ہے جو جدید انسانی حقوق اور عالمی دستوریت کے مباحث میں سنجیدہ علمی مکالمے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مضمون قرآنی اصولوں کے تصوری تجزیے کے ذریعے قرآن کو “دستورِ انسانیت” کے طور پر سمجھنے کی کوشش ہے۔ تعارف (Introduction) انسانی تاریخ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ قوانین اور آئین تو بار بار مرتب کیے گئے، مگر انسانیت کو محفوظ نہ رکھا جا سکا۔ جدید دنیا میں ریاستی آئین، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بین الاقوامی قوانین اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ، نسلی امتیاز، ریاستی تشدد اور معاشی استحصال ایک عالمی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا محض قانونی ڈھانچے انسان کے اخلاقی وقار کی ضمانت دے سکتے ہیں؟قرآنِ مجید اس تناظر میں ایک منفرد متن کے طور پر سامنے آتا ہے، جو خود کو کسی خاص مذہبی یا قومی گروہ تک محدود نہیں کرتا بلکہ صراحت کے ساتھ “ہُدًى لِلنَّاسِ” یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت قرار دیتا ہے۔ یہی پہلو قرآن کو ایک آفاقی دستوری متن کے طور پر زیرِ بحث لانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ قرآن کا مخاطَب: انسان بحیثیت انسان قرآن کے اسلوبِ خطاب میں بار بار “يَا أَيُّهَا النَّاسُ” کا استعمال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی بنیادی اخلاقی اپیل انسانیت کی مجموعی وحدت سے ہے، نہ کہ کسی خاص مذہبی برادری سے۔قرآن ایمان…

Read more

جہاد ضرورت اور فضیلت

اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…

Read more

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت

خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎‏‎ گزشته دنوں ملك میں ایك اهم موضوع پر اهل علم كے درمیان مذاكره هوا، اور وه هے خدا كا وجود، جس كا مذهب سے گهرا تعلق هے، دنیا میں جو مذاهب پائے جاتے هیں، ان میں خدا كے وجود كا مشترك تصور هے، خدا كا یقین هی انسان كو ایك غیبی طاقت كا مطیع وفرمانبردار بناتا اور اس كے اندر جواب دهی كا یقین پیدا كرتا هے، اور یه بات اس كو خیروصلاح اور عدل وانصاف پر قائم ركھتی هے؛ مگر اس وقت مغربی تهذیب كی بنیادی دعوت خدا پرستی كے بجائے شهوت پرستی كی هے، اور اس فلسفه میں سب سے بڑی ركاوٹ خدا كا یقین هے، بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد هماری نئی نسلوں میں بڑھتا جا رها هے؛ اسی لئے ضروری هے كه مسلمان اپنے بال بچوں كی تربیت میں اس پهلو كو ملحوظ ركھیں۔ الله تعالیٰ كے وجود كو ماننے سے یه یقین ركھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں ؛ لیکن وہ موجود ہے ، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے همیں اس كی اطاعت وفرماں برداری كرنی چاهئے۔غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ؛ لیکن چند اہم دلیلیں یہ ہیں :(الف) ہم دن و رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی ، سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ، اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیں گے ، تو یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے ؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسے ارشاد ہے :اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۔ (ابراہیم: ۱۰)كیا…

Read more

کامیابی کے اصول (laws of success)

کامیابی کے اصول (laws of success)نیپولین ہل کے 16 اصول – اسلامی شعور اور عملی رہنمائی کے ساتھ ✍️ مرتب: ابوالجیش ندوی کامیابی ہر انسان کا خواب ہے، مگر کچھ ہی لوگ اسے حقیقت بنا پاتے ہیں۔ نیپولین ہل کی شہرہ آفاق کتاب "The Law of Success” نہ صرف کامیابی کے اصولوں کو واضح کرتی ہے بلکہ انسانی کردار، رویہ، ارادے، خوداعتمادی اور عمل کو یکجا کرتی ہے۔ اس تحریر میں ان 16 اصولوں کو آسان اردو، اسلامی تناظر، قرآنی حکمت، سیرت النبی ﷺ اور عملی مشقوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہر طالب علم، معلم، والدین اور عام قاری اسے اپنی زندگی میں نافذ کر سکے۔اصول نمبر 1: واضح مقصد (Definite Chief Aim)خلاصہ: کامیابی کی بنیاد ایک واضح اور بامعنی مقصد ہے۔ جو انسان اپنی منزل نہیں جانتا، وہ ہر راستے پر بھٹکتا ہے۔اسلامی بصیرت: "وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون” (الذاریات: 56)عملی رہنمائی:اپنے مقصد کو تحریر کریں اور روزانہ اسے دہرائیںاسے وقت، مقدار اور نفع سے جوڑیںاسے اپنی نماز، نیت اور زندگی کا حصہ بنائیںمشق: “میرا مقصد زندگی” فارم بھریںاقتباس: "Goals are dreams with deadlines.” اصول 2: خوداعتمادی (Self-confidence)خلاصہ: کامیابی خود پر یقین سے شروع ہوتی ہے۔ شک اور خوف انسان کو مفلوج کر دیتے ہیں۔اسلامی بصیرت: موسیٰ علیہ السلام کا قول: "کلا إن معي ربي سيهدين” (الشعراء: 62)عملی رہنمائی:مثبت جملے خود سے دہرائیں: “میں کامیاب ہوں”خوف کی فہرست بنائیں اور اس کا توڑ سوچیںسیرت النبی ﷺ سے حوصلہ حاصل کریںمشق: “میرے 3 خوف اور ان کا حل” ورک شیٹاقتباس: “Believe you can, and you’re halfway there.” اصول 3: پہل و قیادت (Initiative & Leadership)خلاصہ: کامیاب افراد خود پہل کرتے ہیں، رہنمائی کا انتظار نہیں کرتے۔اسلامی بصیرت: "وسارعوا إلى مغفرة من ربكم” (آل عمران: 133)عملی رہنمائی:روزانہ ایک نیا کام خود سے شروع کریںقیادت صرف عہدہ نہیں، ذمہ داری ہےنبی کریم ﷺ کی پہل کی مثالیں یاد رکھیںمشق: “آج میں نے کس کام میں پہل کی؟” نوٹ کریںاقتباس: "Leaders create paths, not follow them.” اصول 4: تخیل (Imagination)خلاصہ: تخیل وہ طاقت ہے جو علم کو عمل میں بدلتی ہے، خواب کو منصوبہ…

Read more