HIRA ONLINE / حرا آن لائن
یہ بھی تربیت کا حصہ ہے

یہ بھی تربیت کا حصہ ہے  آدم علی ندوی عبداللہ بن مبارک  رحمۃ اللہ علیہ ان بزرگوں میں سے تھے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے رہتے تھے، جبکہ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے مکہ مکرمہ کے حرم میں عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ۱۷۷ھ میں ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے طرسوس سے محمد بن ابراہیم بن ابی سکینہ کے ہاتھ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک خط روانہ کیا۔ اس خط میں انہوں نے اپنے انداز میں جہاد کی فضیلت اور مجاہدین کی زندگی کی عظمت کی طرف توجہ دلائی۔ جب یہ خط فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچا اور انہوں نے اسے پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر فرمایا:”ابو عبدالرحمن نے سچ کہا اور خیرخواہی کی۔”اس کے بعد فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے خط لانے والے سے پوچھا: کیا تم حدیث لکھتے ہو؟اس نے عرض کیا: ہاں۔ فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تو یہ حدیث بھی لکھ لو۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا اجر حاصل کرسکوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مسلسل نماز پڑھتے رہو اور سستی نہ کرو، اور ہمیشہ روزہ رکھتے رہو اور کبھی افطار نہ کرو؟اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم اس کی طاقت بھی رکھتے تو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے مرتبے کو نہ پہنچ سکتے۔ (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، حدیث: 2633۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر، ۲۲/٤٤٩۔) اللہ کی راہ میں جہاد محض ایک وقتی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری…

Read more

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری

حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے-  (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…

Read more

نسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار

نسلوں كی تعمیر میں اساتذه كا كردار! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ ابھی ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء كی تاریخ گزری هے، ۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء هندوستان كے دوسرے صدر جمهوریه ایك ممتاز فلسفی، ماهر تعلیم، قابل استاذ اور مصنف ڈاكٹر رادھا كرشنن كا یوم پیدائش هے، هندوستان میں یه دن ان كی یاد میں هر سال یوم اساتذه كے عنوان سے منایا جاتا هے، اسی مناسبت سے درج ذیل تحریر پیش كی جا رهی هے: حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ (آل عمران :۱۶۴) اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان…

Read more

تبلیغی جماعت: تاریخ، نظریاتی بنیاد، طریقۂ کار اور علمی تجزیہ برصغیر کی دینی و سماجی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تبلیغی جماعت ایک منفرد اور ہمہ گیر اصلاحی تحریک کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس تحریک نے عام مسلمانوں کو بنیادی دینی تعلیم، نماز، ذکر، اخلاق اور دعوت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک سادہ اور عملی طریقۂ کار اختیار کیا۔ تبلیغی جماعت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عمومی طور پر سیاسی سرگرمیوں اور مناظرانہ اسلوب کے بجائے اصلاحِ نفس، عملی دین اور دعوت و تربیت پر توجہ مرکوز کی۔ اس مضمون میں تبلیغی جماعت کے تاریخی پس منظر، مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد، چھ نکات، عملی طریقۂ کار، تاریخی ارتقا، اثرات اور اس پر ہونے والی علمی تنقید کا ایک متوازن جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تبلیغی جماعت کا تاریخی پس منظر انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں برصغیر کے مسلمان سیاسی زوال، نوآبادیاتی دباؤ اور معاشرتی کمزوریوں کے مختلف مسائل سے دوچار تھے۔ بہت سے علاقوں میں دینی تعلیم عام لوگوں تک مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ پا رہی تھی، جبکہ بعض علاقوں میں مذہبی شعور کمزور ہونے کے ساتھ مقامی رسم و رواج بھی مسلمانوں کی عملی زندگی پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ خصوصاً میوات کے علاقے میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی شعائر سے واقفیت کمزور ہونے کی شکایات سامنے آتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایسی دعوتی کوشش کی ضرورت محسوس ہوئی جو براہِ راست عوام تک پہنچے، انہیں بنیادی دین سکھائے اور عملی تربیت کے ذریعے ان کی زندگی میں دینی تبدیلی پیدا کرے۔ اسی پس منظر میں مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی دعوتی جدوجہد نمایاں ہوئی۔ مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ اور تبلیغی جماعت کی بنیاد مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (1885ء–1944ء) برصغیر کی معروف دینی علمی روایت سے وابستہ عالم اور داعی تھے۔ انہوں نے علمی تعلیم کے ساتھ اصلاح و تربیت کے میدان میں بھی کام کیا۔ میوات کے دوروں اور وہاں کے حالات کے مشاہدے سے انہیں…

Read more

تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ آدم علی ندوی   تقویٰ کیا ہے؟ انسان اپنی جسمانی صحت کے لیے بہت سی مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص شوگر کا مریض ہو تو طبیعت چاہنے کے باوجود میٹھی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ سامنے مٹھائی رکھی ہو، دل اس کی طرف مائل ہو، لیکن صحت کو نقصان پہنچنے کے خوف سے وہ اپنے نفس کو روک لیتا ہے۔ چند لمحوں کی لذت کے مقابلہ میں وہ اپنی صحت کو ترجیح دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت و نگرانی کا احساس رکھتے ہوئے، اس کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچتا ہے، اس کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے تو یہی کیفیت تقویٰ کہلاتی ہے۔ تقویٰ دل کی وہ بیداری ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکتی اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ متقی انسان تنہائی اور مجمع، بازار اور مسجد، گھر اور دفتر۔ہر جگہ اپنے رب کی نگرانی کو محسوس کرتا ہے۔ تقویٰ کے درجات تقویٰ کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچے۔ پھر وہ ان امور سے بھی احتیاط کرنے لگتا ہے جو اسے گناہ کے قریب لے جا سکتے ہیں، اور یہاں تک پہنچتا ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ تقویٰ کی بلندی یہ ہے کہ انسان صرف گناہ سے نہیں بچتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گناہ تک پہنچا سکتے ہیں۔  تقویٰ دل میں ایک ایسا نگہبان پیدا کر دیتا ہے جو ہر وقت انسان کو برائی سے روکتا اور بھلائی کی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے۔ دنیا کا قانون انسان کو بیرونی نگرانی کے ذریعے روک سکتا ہے، لیکن تقویٰ اسے اس وقت بھی گناہ سے روکتا ہے جب کوئی انسان اسے دیکھنے والا نہ ہو۔ تقویٰ کے اثرات جب زندگی تقویٰ سے آراستہ ہوتی ہے تو انسان کے اندر…

Read more

ذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکار

ذکر الٰہی آدم علی ندوی   انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ اس کا دل ہے۔ دل درست ہو تو زندگی کی سمت درست رہتی ہے اور دل غفلت میں پڑ جائے تو بظاہر زندگی کے سارے اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان اندر سے ویران ہوجاتا ہے۔ جس طرح جسم کو زندہ رکھنے کے لیے غذا، پانی اور ہوا ضروری ہیں، اسی طرح دل کی زندگی بھی غذا چاہتی ہے، اور اس کی غذا ذکر الٰہی ہے۔ دل کے لیے مال و دولت غذا نہیں، آسائش و راحت غذا نہیں، عزت و جاہ غذا نہیں، حکومت و اقتدار غذا نہیں۔ یہ چیزیں جسم اور زندگی کے ظاہری اسباب تو ہوسکتی ہیں، مگر دل کا اطمینان ان کے ہاتھ میں نہیں۔ دل کی آبادی اپنے رب کی یاد سے ہے۔ جس دل کا تعلق اپنے رب حقیقی سے قائم ہے، وہ زندہ بھی ہے اور آباد بھی، اور جس دل سے اللہ کی یاد رخصت ہوگئی، اس میں غفلت اور ویرانی نے جگہ بنالی۔ اسی حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا کہ اللہ کو یاد کرنے والے اور اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)قرآن مجید بھی دل کے اسی اطمینان کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(الرعد: 28)جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ذکر کیا ہے؟ ذکر کیا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف چند تسبیحات اور وظائف گن دینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ ذکر کی اعلیٰ اور افضل صورت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مسنون اذکار پڑھے جائیں، زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھا جائے اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے، لیکن ذکر کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کو یاد کرنا…

Read more