مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت مولانا آدم علی ندوی اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی مخلوقات میں ایک ممتاز مقام عطا فرمایا، اسے تکریم و شرف سے نوازا اور اسے ایسی صلاحیتیں اور علوم بخشے جو اس کی دنیوی و اخروی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ہیں۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ(الإسراء: 70) "اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” لیکن کیا یہ عزت محض اعزاز ہے؟ کیا انسان کو یہ شرف اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ کھائے، پئے، آسائش حاصل کرے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائے؟ ہرگز نہیں! عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے، صلاحیت کے ساتھ مقصد بھی اور زندگی کے ساتھ جواب دہی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ(الذاریات: 56) "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” انسان کی زندگی ایک ذمہ دارانہ سفر ہے۔ اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے، یہاں اسے اختیار، فرصت اور صلاحیت دی گئی ہے اور پھر اسے اسی بنیاد پر آخرت میں جواب دینا ہے۔ کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا کمایا، کتنی شہرت حاصل کی یا کتنی آسائشیں جمع کیں، اصل سوال یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے زندگی ملی تھی، کیا وہ مقصد پورا بھی ہوا؟ المیہ یہ ہے کہ آج زندگی کی رفتار تو بہت تیز ہے، مگر سمت کا تعین کمزور پڑ گیا ہے۔ وسائل بڑھ گئے، مصروفیات بڑھ گئیں، رابطے بڑھ گئے، معلومات کے ذرائع بڑھ گئے، لیکن کیا مقصدِ حیات کا شعور بھی اسی تناسب سے بڑھا؟ انسان صبح سے شام تک مصروف ہے، مگر اگر اس سے پوچھا جائے کہ "آخر کس لیے؟” تو شاید اس کے پاس کوئی واضح جواب نہ ہو۔ کبھی دنیاوی کامیابی کو زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیا جاتا ہے، کبھی شہرت کو کامیابی کا معیار بنا لیا جاتا ہے اور کبھی آسائش و تفریح کو زندگی کا حاصل۔ یوں انسان…
Read more

