$_sc_done = false;
$_sc_done = false;
زبان کی حفاظت آدم علی ندوی انسان کے جسم میں زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے، مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہیں۔ یہی زبان کسی کو عزت دے سکتی ہے اور یہی کسی کی عزت خاک میں ملا سکتی ہے؛ یہی زبان ذکرِ الٰہی سے دلوں کو زندہ کرتی ہے اور یہی غیبت، بہتان اور دل آزاری کے ذریعے انسان کی آخرت برباد کر سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا(الحجرات: 12)تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ پھر غیبت کی قباحت سمجھانے کے لیے ایک ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا کہ انسان کانپ اٹھے: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ ظاہر ہے کوئی نہیں چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اسی مثال کے ذریعے غیبت کی گھناؤنی حقیقت واضح فرماتے ہیں۔ غیبت صرف یہ نہیں کہ کسی کی جھوٹی برائی بیان کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرو جو اسے ناگوار ہو۔ صحابہؓ نے پوچھا: اگر وہ بات واقعی اس میں موجود ہو؟ فرمایا: اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے بہتان باندھا۔(صحیح مسلم، 2589) یعنی سچی بات بھی اگر کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس طرح بیان کی جائے کہ اسے ناگوار گزرے تو وہ غیبت ہے۔ اور جھوٹی بات ہو تو معاملہ غیبت سے بھی آگے بڑھ کر بہتان بن جاتا ہے۔ ہر لفظ کا حساب ہوگا ہم اکثر بول کر بھول جاتے ہیں، لیکن ہماری زبان سے نکلا ہوا لفظ فراموش نہیں ہوتا۔ قرآن کہتا ہے:مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ(ق: 18)انسان کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس اسے لکھنے والا نگران موجود ہوتا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے: کیا یہ بات ضروری ہے؟ کیا یہ سچی ہے؟ کیا اس میں کوئی خیر ہے؟ کیا…
Read more
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از : مجيب الرحمن عتيق ندوي حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمہ اللہ بھی راہی ملک بقاء ہوگئے، ” كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال والاكرام ” موت سے کس کو رستگاری ہے ہر روز بندگان خدا کا اس دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کی بے ثباتی، انسان کی بے بسی اور اس دنیا کے ” مستقر ومتاع الی حین ” کا اعلان ہے، ” قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجاکر نقارہ "، حضرت مولانا رحمہ اللہ کا انتقال دار العلوم ندوہ العلماء کی تاریخ میں ایک عظیم معمار نسل، مربی و استاد اور غیر معمولی صفات وخصوصیات کے عہد کا خاتمہ ہے، مولانا مرحوم اپنی صلاحیت، ادب و ذوق، اعلی اخلاق، ذوق پروری، سادگی وتقوی، وضع واطوار، روش بندہ پروری، معمولات و پابندی اوقات، اور ایک طویل عہد پر پھیلی ہوئی متنوع خدمات میں ” فرد ممتاز ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جن لوگوں کو مولانا کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنی وضع و خو میں ایک "نرالے بے مثال انسان ” تھے، مولانا رحمہ اللہ ایک علمی و خدا ترس گھرانے میں پیدا ہوئے، اور پرورش و پرداخت پائی، آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی رحمہ اللہ مشہور محدث اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں شیخ الحدیث تھے، اور اپنے زمانے کے مشاہیر علماء اور کبار اساتذہ حدیث میں شامل تھے، حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے نصف صدی سے زائد دار العلوم ندوہ العلماء میں تدریسی و تربیتی خدمات انجام دیں، کئی نسلوں کے معمار و مربی رہے، دار العلوم کی مسجد میں امامت سے لیکر انتظام و ادارت کی کرسی کو سنبھالا، منبر ومحراب کی خطابت سے لیکر دار العلوم کے عربی ترجمان البعث الاسلامی اور ” الرائد ” کی سرپرستی فرمائی، ہزاروں خطبات اور سیکڑوں مقالات واداریے مولانا کی فیاضی طبع، ادبی ذوق، زبان وقلم کی جولانی کے گواہ ہیں، مولانا…
Read more
استغفار — اللہ کی رحمت کا دروازہ آدم علی ندوی انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے گناہ اور لغزشیں ہوتی رہتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے توبہ و استغفار کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے۔ قرآن کریم میں بار بار استغفار کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا(سورۃ النساء: 110) اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔ ایک اور مقام پر فرمایا:وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(سورۃ الأنفال: 33)اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے اپنی نیکیوں پر ناز نہیں کرتے، بلکہ رات کے آخری حصے میں بھی اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے ہیں:وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ(سورۃ آل عمران: 17)اور جو سحر کے اوقات میں استغفار کرتے ہیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً(صحیح البخاری، حدیث: 6307) اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں آپ کو سو مرتبہ یہ دعا پڑھتے شمار کرتے تھے:رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(سنن أبي داود، حدیث: 1516)اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ استغفار انسان کے لیے اللہ کی رحمت اور اس کی طرف رجوع کا عظیم ذریعہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ…
Read more
صدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟ مولانا آدم علی ندوی انسان چاہتا ہے کہ اس کی کمائی محفوظ رہے، ضرورت کے وقت اس کے کام آئے اور مشکل گھڑی میں اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسی لیے وہ اپنی پونجی کو محفوظ جگہ رکھتا ہے، بینک میں جمع کرتا ہے، کاروبار میں لگاتا ہے یا کسی اور ذریعہ سے اس کی حفاظت اور اضافہ کی کوشش کرتا ہے۔ بلاشبہ انسان کو اپنی محنت کی کمائی کی حفاظت کرنی چاہیے اور مستقبل کی ضروریات کے لیے منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن کبھی ہم نے اس سے آگے بڑھ کر سوچا ہے؟ جو مال ہم نے محفوظ کر رکھا ہے، کیا وہ قبر میں بھی ہمارے کام آئے گا؟ کیا وہ میدانِ محشر میں بھی ہمارے ساتھ ہوگا؟ کیا وہ پل صراط کے موقع پر بھی ہماری مدد کرے گا؟ کیا جب اعمال تولے جائیں گے تو ہمارا بینک بیلنس بھی ہمارے پلڑے میں رکھا جائے گا؟ نہیں،بالکل نہیں۔ دنیا کا مال دنیا ہی تک ساتھ دیتا ہے۔ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔ جس مال کو وہ ساری زندگی اپنا سمجھتا رہا، وہ اس کے ہاتھ سے نکل کر وارثوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ انسان خالی ہاتھ قبر میں داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ مال کہاں ہے جو واقعی ہمارے ساتھ جائے گا؟ وہ مال جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا۔ مال کو آخرت کے لیے محفوظ کرنے کا راستہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں صدقہ کرنے کو نقصان نہیں، بلکہ ایک ایسی تجارت قرار دیا ہے جس کا اصل نفع آخرت میں ملے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ(البقرۃ: 261) "جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے مزید بڑھا دیتا ہے۔” دنیا…
Read more
تہجد از: آدم علی ندوی اقبال نے سچ کہا ہے۔ عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی تاریخ کے اوراق اٹھائیے، اہلِ علم و تقویٰ کی زندگیاں دیکھیے، ان بزرگوں کے معمولات پر نظر ڈالیے جنہوں نے علم و عمل کے میدان میں گہرے نقوش چھوڑے، ان کی راتیں تہجد، قیام اور دعا سے آباد تھیں۔ تہجد کے اہتمام و پابندی نے ان کی شخصیتوں کو بلندی عطا کی۔ *تہجد کیا ہے؟* رات کی خاموشی میں اپنے رب سے ملنے کا ایک موقع ہے۔ جب دنیا سو رہی ہو، موبائل کی اسکرینیں بجھ چکی ہوں تو انسان اپنے نرم بستر کو چھوڑ کر وضو کرے، اور اللہ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ کبھی سجدے میں پیشانی رکھے، کبھی ہاتھ اٹھا کر مانگے، کبھی اپنے گناہوں پر روئے اور کبھی اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بن کر استغفار کرے۔ تہجد سے مراد رات کی وہ نفل نماز ہے جو انسان رات میں، خصوصاً کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد ادا کرتا ہے۔ رات کی نماز کے لیے قیام اللیل کی تعبیر بھی آتی ہے۔ تہجد اسی رات کی عبادت کا ایک اہم حصہ ہے۔ قرآن نے ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا(السجدۃ: 16) "ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔” کہیں قرآن انہیں سحر کے وقت استغفار کرنے والے کہتا ہے:وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ(الذاریات: 18) "اور سحر کے اوقات میں وہ استغفار کرتے ہیں۔” اور کہیں رات کی گھڑیوں میں سجدہ و قیام کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ(الزمر: 9) "بھلا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کرتے ہوئے عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے…” گویا قرآن ہمیں بار بار متوجہ کرتا ہے کہ جو شخص رات کی تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتا ہے، وہ محض نیند سے…
Read more
مقصدِ زندگی اور ہماری غفلت مولانا آدم علی ندوی اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی مخلوقات میں ایک ممتاز مقام عطا فرمایا، اسے تکریم و شرف سے نوازا اور اسے ایسی صلاحیتیں اور علوم بخشے جو اس کی دنیوی و اخروی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ہیں۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ(الإسراء: 70) "اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔” لیکن کیا یہ عزت محض اعزاز ہے؟ کیا انسان کو یہ شرف اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ کھائے، پئے، آسائش حاصل کرے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائے؟ ہرگز نہیں! عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے، صلاحیت کے ساتھ مقصد بھی اور زندگی کے ساتھ جواب دہی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ(الذاریات: 56) "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” انسان کی زندگی ایک ذمہ دارانہ سفر ہے۔ اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے، یہاں اسے اختیار، فرصت اور صلاحیت دی گئی ہے اور پھر اسے اسی بنیاد پر آخرت میں جواب دینا ہے۔ کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا کمایا، کتنی شہرت حاصل کی یا کتنی آسائشیں جمع کیں، اصل سوال یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے زندگی ملی تھی، کیا وہ مقصد پورا بھی ہوا؟ المیہ یہ ہے کہ آج زندگی کی رفتار تو بہت تیز ہے، مگر سمت کا تعین کمزور پڑ گیا ہے۔ وسائل بڑھ گئے، مصروفیات بڑھ گئیں، رابطے بڑھ گئے، معلومات کے ذرائع بڑھ گئے، لیکن کیا مقصدِ حیات کا شعور بھی اسی تناسب سے بڑھا؟ انسان صبح سے شام تک مصروف ہے، مگر اگر اس سے پوچھا جائے کہ "آخر کس لیے؟” تو شاید اس کے پاس کوئی واضح جواب نہ ہو۔ کبھی دنیاوی کامیابی کو زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیا جاتا ہے، کبھی شہرت کو کامیابی کا معیار بنا لیا جاتا ہے اور کبھی آسائش و تفریح کو زندگی کا حاصل۔ یوں انسان…
Read more