بیوی پر شوہر کے حقوق
Related Posts
انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ
انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ باہر سے غذا یا دوا کی صورت میں کسی چیز کا اندر جانا ناقض وضو نہیں انجکشن پر جسم کا تھوڑا سا خون لگا رہتا ہے ۔ اس مقدار میں خون کا باہر آنا بھی ناقص نہیں ہے ، اس لئے کہ وہ اتنی کم مقدار میں ہوتا ہے کہ بہہ نہیں سکتا۔ چنانچہ فقہا ہیں کہ اگر جسم سے خون نکلے ، اسے پونچھ دیا جائے اور اس کی مقدار اتنی کم کو پونچھا جاتا تو بھی بہہ نہیں سکتا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ، ثم خرج ايضا و مسحه فان كان الدم بحال لوترك ماقد مسح منه مسال انتقض وضوءه ، وان كان لا يسيل لا ينتقض وصوه – ) جب زخم سے تھوڑا سا خون نکلے ، پھر اسے پونچھ ڈالے پھر دوبارہ خون کے اور اسے بھی پونچھ ڈالے ، تو اگر مجموعی طور پر خون کی مقدار اتنی ہو کر پونچھا ہوا خون چھوڑ دینے کی صورت میں بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔ ہاں اگر انجکشن کا منشا ہی خون لگانا اور کھینچنا ہو تو اس کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور اس کی نظیر فقہ کا یہ جزئیہ ہے کہ : القراد اذا مص عضو انسان فامتلا دما ان كان صغيرا لا ينقض وضوء كما مصت الذباب او البعوض كان كان كبير اينقض وكذا العلقة اذا مص عضو انسان حتى امتلات من دمه انتقض الوضوء – ) چیچڑی جب کسی آدمی کا عضو چوس لے اور خون سے بھر جائے تو اگر وہ چھوٹا ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے مچھر مکھیاں وغیرہ اور اگر بڑا ہو تو ٹوٹ جائے گا ، اسی طرح جونک جب آدمی کا عضو چوسے یہاں تک کہ خون سے بھر جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ حوالہ کتاب: جدید فقہی مسائل صفحہ: 91 جلد : 1 مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ
Read moreعلامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)
علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلامڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025) محدثِ وقت، شارحِ صحیح بخاری وسننِ ترمذی، اور فقیہِ عصر، علامہ انور شاہ کشمیریؒ (وفات 1352ھ/1933ء) کی ذاتِ گرامی برصغیر کی علمی و حدیثی روایت میں ایک بے مثال اور امتیازی مقام رکھتی ہے، آپ کی شخصیت علومِ اسلامیہ کے ہر گوشے میں اپنی درخشانی کا پرتو بکھیرتی نظر آتی ہے۔ علم کا رسوخ، فکر کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، دقتِ نظر، احاطۂ فنون، استقراء کی قوت، اور نقد و تحلیل میں جو بلندی آپ کو عطا ہوئی، وہ اس خطۂ علم میں بہت کم اہلِ فضل کے نصیب میں آئی ہے، آپ کی ذات محض ایک محدث یا فقیہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، بلکہ آپ علومِ اسلامیہ کے پورے دبستان کی علمی روح تھے، اور آپ کی مجلسِ درس ایک مستقل مکتبِ فکر کا درجہ رکھتی تھی۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے جن الفاظ میں آپ کے علمی جہان کا نقشہ کھینچا ہے، وہ نہ صرف آپ کے مقامِ رفیع کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی گویا مجسم تصویر ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:”مرحوم کم گو مگر وسیع النظر عالم تھے، ان کی مثال اُس سمندر کی سی تھی جس کی سطح تو پرسکون ہو، مگر اس کے باطن میں قیمتی موتیوں کے بے شمار خزانے پوشیدہ ہوں، وہ وسعتِ نظر، قوتِ حافظہ اور کثرتِ محفوظات میں اپنے عہد میں بے مثال تھے، علومِ حدیث کے حافظ اور نکتہ شناس، علومِ ادب میں بلند مرتبہ، معقولات میں مہارت رکھنے والے، شعر و سخن سے بہرہ مند اور زہد و تقوى میں کامل تھے” ۔ یہ شہادت دراصل اس علمی ساخت و پرداخت کا بیان ہے جس نے شاہِ کشمیریؒ کو اپنے معاصرین میں ممتاز اور تاریخِ علم میں منفرد بنا دیا۔راقم کا تعلق اور عقیدت حضرت شاہؒ صاحب سے محض مطالعے یا سنی سنائی باتوں سے نہیں، بلکہ زمانۂ طالبِ علمی سے قلبی وابستگی کی صورت میں قائم ہوا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں جو پہلا باقاعدہ اور قابلِ اشاعت مضمون…
Read more

