میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ
*میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃاللہ علیہ* *طارق شفیق ندوی* *نائب ناظم دارالعلوم فیض محمدی ، مہراج گنج ، یوپی* *اک عکس جیسے نور کا بکھرا ہو چار سو* *چہرے پہ یوں چمکتی تھی ان کی محبتیں* مرشد و مربی مولانا شہباز سیوانی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 09/ نومبر/ 2002 ) ایک متوازن الفکر انسان اور ایک متبحر اور متنوع صلاحیتوں کے عالم دین تھے . وہ بلند پایہ محدث و مفسر تھے . بہترین ادیب و شاعر تھے . انصاف پسند مہتمم اور دوراندیش منتظم تھے . جرات مند مدیر اور بے لاگ مبصر تھے . جفاکشی ، اصول پسندی اور للہیت میں ممتاز تھے . ان کی صلاحیت و صالحیت اور فضائل و کمالات کے سبھی معترف تھے . ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں ان کے استاذ اول (١) حاجی مولوی محمد بشیر صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 04 / اکتوبر/ 1972 ) جو میرے خسر ڈاکٹر محمد زین الدین صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 13/اگست / 2020 ) کے اکلوتے حقیقی پھوپھا تھے ، رانی پور کے رہنے والے تھے . ان کی بڑی بیٹی غفری خاتون میرے بڑے ماموں جناب احسان احمد صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 19/مئی/ 1995 ) سے اور چھوٹی بیٹی صابرہ خاتون مولانا شہباز صاحب کے بڑے بھائی ماسٹر محمد عالم رحمہ اللہ ( وفات 23/ دسمبر 2019 ) سے منسوب تھیں . (٢) مولانا اختر احسن اصلاحی ، (٣) علامہ مودودی اور (٤) مفکر اسلام علی میاں رحمہم اللہ اجمعین کی علمی ، فکری ، تعمیری اور تحقیقی رجحانات کا نمایاں دخل تھا اور ان کے وعظ وخطبات ، پندونصائح ، بے نفسی و فروتنی ، معاملہ فہمی و خوش تدبیری اور غیر معمولی انتظامی قابلیت و خدمات کو فکر اسلامی کی تشریح و تنفیذ کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا. *ان سے ملے ہوئے تو زمانہ گزر گیا* *لیکن وہ جلوہ آج بھی میری نظر میں ہے* مولانا جیسی یکتائے روزگار اور جامع صفات شخصیت کو پہلی بار 1977 میں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ، موصوف…
Read more