HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ذکاوت وذہانت کی اہمیت اورکچھ نادر واقعات

*ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی* *استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد* ذکاوت وذہانت، جسے انگریزی میں’’Intelligence‘‘کہا جاتا ہے، انسان کی ایک ایسی فطری خوبی ہے جو اُسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے، یہ ایک ہمہ گیر صلاحیت ہے جو مختلف شعبوں میں کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے، ذکاوت کی تعریف مختلف انداز میں کی جا سکتی ہے، لیکن عمومی طور پر یہ ذہنی قابلیت، تیزفہمی، دقت نظر،حکمت ودانائی، فراست،’’ سرعۃ البدیہۃ‘‘ ( حاضر جوابی اور بروقت فیصلہ لینے کی صلاحیت) اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی لیاقت جیسی خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے ذکاوت، فراست اور دور اندیشی جیسی صفات بہت اہمیت رکھتی ہیں، ابن جوزی نے کتاب الاذکیاء کے مقدمہ میں لکھا ہے: ’’فإن أجلّ الأشياء موهبة العقل، فإنه الآلة في تحصيل معرفة الإله، وبه تضبط المصالح، وتلحظ العواقب، وتدرك الغوامض، وتجمع الفضائل‘‘(عقل سب سے بڑی بخشش ہے ؛کیوں کہ وہ اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہے،اور اسی سے نیکیوں کے اصول بنتے ہیں، اور انجام کا لحاظ کیا جاتا ہے،اور باریکیوں کو سمجھا جاتا ہے،اور فضائل حاصل کئے جاتے ہیں) (کتاب الاذکیاء، ابن الجوزی،مکتبۃ الغزالی،ص۵،اردو ترجمہ: لطائف علمیہ، مولانا اشتیاق احمد صاحبؒ،اسلامی کتب خانہ،لاہور،۱۳۷۲ھ)۔ ذکاوت کی بہت سی قسمیں ہوسکتی ہیں، علمی ذکاوت جس میں منطقی انداز فکر، ریاضیاتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور تجزیاتی فہم شامل ہیں، یہ تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے اہم ہے، اسی طرح تخلیقی ذکاوت نئے اور منفرد خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں،اس میں آرٹس، سائنس اور ادب کے میدان میں نئی راہیں کھولنے کی قابلیت شامل ہے،ذکاوت کی بدولت انسان مختلف چیلنجوں کا سامنا کر سکتا ہے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، ذکاوت کے بغیر کسی بھی قسم کی تعلیمی، پیشہ ورانہ یا ذاتی واجتماعی کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، ذکاوت ایک فطری نعمت ہے، مگر اسے تعلیم و مطالعہ اور صحت مند طرز زندگی جیسے مناسب غذا، ورزش اور اچھی نیند کے ذریعہ بڑھایا جاسکتا، اس سے ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد…

Read more

میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ

*میرے محسن ، میرے مربی مولانا شہباز اصلاحی رحمۃاللہ علیہ* *طارق شفیق ندوی* *نائب ناظم دارالعلوم فیض محمدی ، مہراج گنج ، یوپی* *اک عکس جیسے نور کا بکھرا ہو چار سو* *چہرے پہ یوں چمکتی تھی ان کی محبتیں* مرشد و مربی مولانا شہباز سیوانی رحمۃ اللہ علیہ ( وفات 09/ نومبر/ 2002 ) ایک متوازن الفکر انسان اور ایک متبحر اور متنوع صلاحیتوں کے عالم دین تھے . وہ بلند پایہ محدث و مفسر تھے . بہترین ادیب و شاعر تھے . انصاف پسند مہتمم اور دوراندیش منتظم تھے . جرات مند مدیر اور بے لاگ مبصر تھے . جفاکشی ، اصول پسندی اور للہیت میں ممتاز تھے . ان کی صلاحیت و صالحیت اور فضائل و کمالات کے سبھی معترف تھے . ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں ان کے استاذ اول (١) حاجی مولوی محمد بشیر صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 04 / اکتوبر/ 1972 ) جو میرے خسر ڈاکٹر محمد زین الدین صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 13/اگست / 2020 ) کے اکلوتے حقیقی پھوپھا تھے ، رانی پور کے رہنے والے تھے . ان کی بڑی بیٹی غفری خاتون میرے بڑے ماموں جناب احسان احمد صدیقی رحمہ اللہ ( وفات 19/مئی/ 1995 ) سے اور چھوٹی بیٹی صابرہ خاتون مولانا شہباز صاحب کے بڑے بھائی ماسٹر محمد عالم رحمہ اللہ ( وفات 23/ دسمبر 2019 ) سے منسوب تھیں . (٢) مولانا اختر احسن اصلاحی ، (٣) علامہ مودودی اور (٤) مفکر اسلام علی میاں رحمہم اللہ اجمعین کی علمی ، فکری ، تعمیری اور تحقیقی رجحانات کا نمایاں دخل تھا اور ان کے وعظ وخطبات ، پندونصائح ، بے نفسی و فروتنی ، معاملہ فہمی و خوش تدبیری اور غیر معمولی انتظامی قابلیت و خدمات کو فکر اسلامی کی تشریح و تنفیذ کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا. *ان سے ملے ہوئے تو زمانہ گزر گیا* *لیکن وہ جلوہ آج بھی میری نظر میں ہے* مولانا جیسی یکتائے روزگار اور جامع صفات شخصیت کو پہلی بار 1977 میں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ، موصوف…

Read more

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع از: قاضی محمد حسن ندوی

تواضع و انکساری اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی صفات میں سے امتیازی اور مثالی صفت ہے، یہ وصف جس میں ہوتا ہے ، وہ اپنی بڑائی اور شہرت کا متمنی نہیں ہوتا، اور نہ جاہ منصب کا خواہاں ،بلکہ وہ دل سے اپنے آپ کو کمتر اور کوتاہ تصور کرتا ،اور اپنی چال ڈھال ،طور و طریق اور سلوک سے ہر وقت اپنی عاجزی اور مسکنت کا مظاہرہ کرتا ،اور اسی کواپنے لئے اعزاز تصور کرتا ہے میرا کچھ ہونا ذلت وخواری کا سبب ہے یہ ہے میرا اعزاز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں یقیناَ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں محبوب اور پیارہ ہوجاتا،یہ صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی صفت تھی ،سیدنا حضرت عبدااللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بے تکلف بیٹھ جاتے ،زمین ہر کھانا نوش فرماتے اور بکریوں کو خود باندھتے،اور غلام کی دعوت بھی قبول فرماتے ( شعب الایمان۔ 290/1) خادم رسول سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام بیماروں کی مزاج پرستی فرماتے،جنازہ میں شرکت فرماتے،اور غلام کی دعوت قبول فرماتے””””( شعب الایمان 290/2) یہ سب باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن دلیل تھیں کہ ہر کمال سے متصف ہونے کے باوجود آپ کی حیات طیبہ ان تکلفات سے قطعاً خالی تھی ،یہ ادا اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے،اسی لئے ایسے لوگوں کو اپنے خاص بندوں میں شامل کیا ہے،اور ان باتوں کو عبادالرحمن کی صفت اور شان قرار دیا ہے، ( عبادالرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا) الفرقان 63) "اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر دبے پائوں چلتے ہیں” اسی لئے حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوے فرمایا ( واقصد فی مشیک ) لقمان /19) "اے بیٹے! اپنی چال درمیانہ رکھا کرو” واقعی جو لوگ متواضع ہوتا ہے مال کی کثرت کے باوجود ان میں غرور تکبر اور عجب نہیں آتا،اور نہ کسی کو حقیر سمجھتا بل کہ مال ودولت جاہ و منصب کو فضل الٰہی اور…

Read more

جھوٹ کی منڈی

<p>جھوٹ کی مَنڈی<br />مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ<br />==============================<br />دنیا میں مختلف قسم کے بازار ہوتے ہیں، الگ الگ چیزوں کی الگ الگ منڈیاں ہوتی ہیں، جھوٹ کی بھی ایک منڈی ہے اور یہ منڈی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے یہاں لگتی ہے اورزبان سے اس کی سودا گری کی جاتی ہے ، جو جتنا بڑا لیڈر ہے وہ اتناہی بڑا جملہ باز اور جھوٹا ہوا کرتا ہے، پھر یہ جھوٹ اس قدر کثرت سے بولا جاتا ہے کہ سامنے والا اسے سچ سمجھنے لگتا ہے، اور عوام اس جھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے، اس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، تاریخیں مسخ ہوتی ہیں اور لوگوں کی توجہ اہم معاملات ومسائل سے ہٹ کر اس فرضی اور جھوٹے معاملات ومسائل پر مرکوز ہوجاتی ہے اور سیاسی بازی گر اپنا اُلو سیدھا کر لیتے ہیں، عوام کو بے وقوف بنا کر جھوٹ کی اس منڈی کا اصل ہدف رائے دہندگان کو اپنی طرف کرنا ہوتا ہے، تاکہ ووٹ زیادہ ملیں اورکامیابی یقینی ہو جائے۔<br />ہمارے یہاں کم وبیش ہرپارٹی کے قائدین جھوٹ کی اس منڈی کا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن بھاجپا کے قائدین نریندر مودی اور امیت شاہ اس میدان میں بہت آگے ہیں اورکوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، جب بڑے صاحب اس میں ممتاز ہیں تو چھوٹے نیتا بھی اس کام اورکاز میں ان کے ساتھ ان کے ہم نوا ہوجاتے ہیں، اس طرح جھوٹ پھیلانے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔<br />ابھی حال ہی میں راجستھان کے ہانسواڑہ میں نریندر مودی نے کانگریس کے خلاف بولتے ہوئے مسلمانوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘ کہہ ڈالا، اور کانگریس کے نظریات کے بارے میں سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے حوالہ سے کہا کہ ان کے سابقہ بیان سے لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی چاہتی ہے کہ ہندوستان کے سرمایہ پر پہلا حق مسلمانوں کا ہو، من موہن سنگھ نے جو بات کبھی کہی تھی وہ صرف اس قدر تھی کہ ’’ملک کے اثاثوں اور وسائل پر سماج کے کمزور طبقات یعنی درج فہرست…

Read more

اے کعبہ کے مسافر! ذرا آہستہ قدم رکھ

ائے کعبہ کے مسافر! ذرا آہستہ قدم رکھ ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کون ایسا مسلمان ہے جس کے دل میں یہ تمنائیں کروٹیں نہ لیتی ہوں کہ میں احرام کی دو چادروں میں لپٹ کر اللہ کے گھر کی زیارت کروں، سراپا عجز ونیاز، مجسم عشق ووارفتگی، ساری دنیا کو بھلاکر، یاد محبوب دل میں بساکر، سر مۂ عشق آنکھوں میں لگاکر،اور لبوں پر یہ نغمہ سجاکر کہ ؎ دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد لیکن پھر وہ ٹھہر کر سوچتا ہے کہ گناہوں کے بوجھ کے ساتھ آخر کس طرح میں خانۂ خدا پر نگاہ ڈالوں گا، اور کس طرح کعبہ کے گرد سات پھیرے لگاؤں گا، زندگی بھر جس شیطان سے دوستی رہی اسے کیوں کر کنکریاں مارسکوں گا، کیسے’’ لبیک‘‘ (میں حاضرہوں) کہنے کا یارا ہو گا، اس ڈر سے کہ کہیں جواب میں ’’لا لبیک‘‘ (تیری حاضری قبول نہیں) تو نہ کہہ دیا جائے گا، اور نہ جانے محرومی اور یاس کے احساسات وخیالات کن کن وادیوں میں سرگرداں رکھتے ہیں، اور کبھی دل سے ایک دبی دبی سی آواز بھی آتی ہے کہ ؎ کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ایک طرف حرماں نصیبی کا یہ احساس ہوتا ہے اور دوسری طرف اللہ رب العزت کے فیصلے ہوتے ہیں، فریب خوردہ انسان بدگمانی کا ایسا عادی کہ اپنے رب سے بھی بدگمان ہوجاتا ہے، اور رب ہے کہ جب بلانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کون ہے جو اس کے فیصلہ کو ٹال سکے، انتخاب قرعے کے ذریعہ نہیں ہوتا رب البیت کی جانب سے ہوتا ہے، کتنے لوگ دولت کا ڈھیر چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے ان کو بلایا نہ گیا، وہ نہ جاسکے، جہاں بلایا گیا وہاں چلے گئے، اور کتنے ایسے ہیں جو اپنی مادی حالت پر نظر کرتے ہوئے یہ حوصلہ بھی نہیں پاتے کہ حج کا ارادہ کریں لیکن شوق رہ رہ کر ان کے دلوں میں انگڑائیاں لیتا ہے،…

Read more

مولانا سید سلمان حسینی ندوی:ایک ایسی شخصیت جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا از: نقی احمد ندوی

مولانا سید سلمان حسینی ندوی ہندوستان کے ایک مشہور عالم دین، ایک شعلہ بیان مقرر، ایک بہترین محدث، ایک عظیم داعی اور ایک مخلص مربی ہیں۔ انجمن شباب اسلام اور جامعہ سید احمد شہید کے بانی و صدر اور بہت سی علمی، دعوتی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف عالمِ اسلام کے لیے ایک دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں اور ظلم و ستم اور نا انصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں مولانا کی آواز اس گھن گرج جیسی ہوتی ہے جس کی بازگشت ہندوستان کی سرحدوں کے باہر سیکڑوں میل دور عرب کے کوہساروں اور ریگزاروں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ مولانا کے موافقین اور مخالفین دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بلا کی صلاحیت و قابلیت اور ذہانت و فطانت کے ساتھ ساتھ ا ٓپ کو ایسی شیریں بیانی اور شعلہ فشانی کی عدیم المثال قدرت سے نوازا ہے جو آپ کے معاصرین میں عنقاء ہے۔ اردو اور عربی دنوں زبانوں میں یکساں بولنے اور لکھنے کی بے پناہ صلاحیت آپ کو دیگر علماء وقائدین کے درمیان نہ صرف یہ کہ ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہے بلکہ اپنے معاصرین کی پہلی صف میں لاکھڑا کردیتی ہے۔ مولانا موصوف کی پیدائش 1954ء میں لکھنؤ میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجدکا نام مولانا سید محمد طاہر حسینی تھاجن کا تعلق اترپردیش میں واقع ضلع مظفر نگر کے قصبہ منصورپور کے ایک معزز سادات گھرانے سے تھا۔ آپ علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کے سگے بھائی، سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنیؒ کے نواسے ہیں۔ لہٰذا آپ کی تعلیم و تربیت میں علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کا خاصا اثر رہا ہے۔ مولانا کی والدہ انتہائی نیک صفت خاتون تھیں۔ مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر اور محلہ کے مکتب میں حاصل کی۔ پھر دارالعلوم ندوۃ العلماء کے درجہ حفظ میں داخلہ لے لیا اور حفظ کی تکمیل کے بعد اس عظیم دانش گاہ سے 1974ء میں عالمیت پھر1976ء میں فضیلت کی ڈگری لی۔اس کے بعد سعودی عرب کی مشہور یونیورسٹی جامعہ الامام محمد بن…

Read more