HIRA ONLINE / حرا آن لائن
تقریب تقسیم انعامات برائے مسابقۂ مطالعات و افکار: 2024 کا کامیاب انعقاد

بسم اللہ الرحمن الرحیم مؤرخہ 25/اکتوبر 2024 مطابق 21/ربیع الثانی 1446ھ بروز: جمعہ بوقت: 04:00 تا 08:30 بجے شب دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کے زیر انتظام جامعہ خدیجہ الکبری للبنات، لکھنؤ کے آڈیٹوریم میں اللقاء الثقافی،لکھنؤ کی 131/ویں نشست میں تقریب تقسیم انعامات برائے مسابقۂ مطالعات و افکار: 2024 کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مسابقہ میں حصہ لینے والے تمام مساہمین کو جہاں نقد، کتب، فائل، میڈل اور توصیفی اسناد پر مشتمل انعامات سے نوازا گیا، وہیں ممتاز پوزیشن ہولڈرز کے درمیان شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔ 30/ایام کے طے شدہ دورانیہ والے اس مسابقہ میں مختلف متعینہ جہات (اردو زبان و ادب/ عربی ادب/ سیرت/ تاریخ/ تحریکات/ شخصیات/ تفسیر/ حدیث/ فقہ وغیرہ) پر 26446 صفحات کا مطالعہ مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) کی نگرانی میں کیا گیا۔ تقریب کے پہلے سیشن کا آغاز ابو سفیان (متعلم: مدرسہ سیدنا بلال، لکھنؤ) کی تلاوت سے ہوا، جب کہ دوسرے سیشن کے آغاز میں محمد مختار (متعلم: ممتاز پی۔جی۔کالج، لکھنؤ) نے تلاوت کی۔ 18/ ممتاز مساہمین نے اپنے مطالعہ کی روداد اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد پر روشنی ڈالی اور مہمانان عظام نے اپنے گراں قدر تاثرات سے نوازا۔ درایں اثنا اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشستوں کی 50/روداد (100-51) پر مشتمل مجموعہ کی نقاب کشائی کی گئی۔ نیز مسعود عالم ندوی(ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) نے نوجوان مصنف محمد عامل ذاکر شیخ (متعلم: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کی کتاب "ارض فلسطین منظر اور پس منظر” کا تعارف بھی کرایا۔ اخیر میں تاثراتی سیشن کے صدر مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی مدظلہ العالی (ڈائریکٹر: حکمہ فاؤنڈیشن، لکھنؤ) اور تقسیم انعامات کے لیے مختص سیشن کی صدارت کر رہے مولانا فیصل احمد ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم العالیہ (استاد: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) کے رہنما خطابات ہوئے۔ واضح رہے کہ تقریب کی نظامت کا فریضہ مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) اور محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ اس موقع پر اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے فاؤنڈر…

Read more

پریشانی کی حکمت

زندگی میں ہر انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عموماً ہم ان مسائل کو اپنی غلطیوں یا گناہوں کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ آزمائشیں ہماری تربیت اور کردار سازی کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ مصیبتیں ہماری استقامت اور صبر کا امتحان لیتی ہیں اور ہمارے ایمان کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ (البقرہ:155) ۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مشکلات اللّٰہ کی طرف سے آزمائشیں ہیں، جن کا مقصد ہمارے ایمان کو مضبوط کرنا اور روحانی ترقی دینا ہے، نہ کہ گناہوں کی سزا دینا۔ جب میرا پاؤں ٹوٹا تو کچھ لوگوں نے اسے میری کسی غلطی یا گناہ کا نتیجہ قرار دیا، لیکن غور کرنے پر میں نے یہ سمجھا کہ یہ آزمائش دراصل میری اندرونی طاقتوں کو پرکھنے اور مجھے مزید بہتر بنانے کے لیے تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مؤمن کو جب کوئی تکلیف، بیماری، غم یا پریشانی لاحق ہوتی ہے، تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔” (صحیح البخاری: 5641) اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ مشکلات دراصل ہمارے لیے رحمت کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں اپنی کمزوریوں اور طاقتوں کا ادراک کراتی ہیں اور ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔ مشکلات ہمیں روحانی ترقی اور گناہوں کی معافی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ آج کے دور میں، جہاں ذہنی دباؤ اور پریشانیاں عام ہیں، ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ہر مشکل، چاہے کتنی بھی بڑی ہو، ہماری زندگی میں بہتری کا ذریعہ بن سکتی ہے، اگر ہم اسے صبر اور شکر کے ساتھ قبول کریں۔ ان مسائل کا سامنا ہمیں خود کو مضبوط اور بہتر بنانے کا موقع دیتا ہے اور یہ یاد دہانی ہے کہ اللّٰہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ مشکل اور آسانی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ جہاں ایک…

Read more

برادری سے آگے

انسانی معاشرت میں رشتوں اور تعلقات کی بنیاد ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ آج، جب میں نے ایک طالب علم کو دوسری کلاس میں بھیجا، تو مجھے محسوس ہوا کہ ہماری سماجی روایات کتنی عمیق اور بعض اوقات مایوس کن ہیں۔ جیسے ہی وہ طالب علم کلاس میں داخل ہوا، وہاں کے طلبہ نے اسے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ان کی برادری یا خاندان سے نہیں تھا۔ یہ واقعہ ہماری معاشرتی زندگی کے ایک اہم مسئلے کی عکاسی کرتا ہے: انسان کا فطری رجحان دوسروں کے بارے میں ان کے ظاہری اور معاشرتی پس منظر کی بنیاد پر فیصلے کرنا، حالانکہ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔” (الحجرات: 13) یہ آیت انسانی زندگی کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے تقویٰ اور اخلاق میں ہے، نہ کہ اس کے خاندان یا قبیلے میں۔ مگر آج کا انسان ان اعلیٰ تعلیمات کو بھلا کر اپنی ذات اور مفادات کے گرد دیواریں کھڑی کر چکا ہے۔ اس سے معاشرتی زندگی میں تفریق، نفرت اور دشمنی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ اس واقعے میں طلبہ کا رویہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو آج کے بڑے پیمانے پر سماجی مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو تعصبات سے آزاد کرے اور اسے دوسروں کو انسانیت کی بنیاد پر قبول کرنے کی صلاحیت عطا کرے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں اور انسان کی عزت و عظمت کا پیمانہ صرف اس کی نیکی اور تقویٰ ہے۔ یہ تعلیمات ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف بلاتی ہیں جہاں نفرت و تفریق کی بجائے محبت…

Read more

بارات کے کھانے کا شرعی حکم

:سوال نمبر: 266بارات میں جانا، اور لڑکی والے کے یہاں کھانا کیسا ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: بارات جانا اسلامی طریقہ نہیں ہے- اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جب رشتہ طے ہوجائے، تو لڑکا اور اس کے گھر والوں میں سے چند افراد لڑکی والے کے یہاں جاکر سادہ انداز میں نکاح گاہ میں، اور بہتر ہے کہ مسجد میں نکاح پڑھوا کر رخصتی کرواکر دلہن کو لے آئیں- شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکی والے کی ذمہ داری نہیں ہے- عام طور سے لڑکی والے سماجی دباؤ میں کھانے کا انتظام کرتے ہیں، لہٰذا بارات میں جانے اور کھانا کھانے سے بچنا چاہیے-نبی کریم – صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- کا ارشاد ہے: "دع ما يريبك إلى ما لا يريبك”. (سنن نسائی، کتاب الاشربہ، باب الحث علی ترك الشبهات، حدیث نمبر 5711، سنن دارمی، حدیث نمبر 2532، بہ روایت: حسن بن علی – رضی اللہ تعالیٰ عنہما-، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)-در اصل شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عقد کے وقت یا عقد کے بعد، اور بہتر یہ ہے کہ میاں بیوی کے ملاپ کے بعد ولیمہ کا انتظام کرے- لیکن ولیمہ میں بھی تکلفات سے بچے، نام و نمود سے دور رہے اور ولیمہ میں مالدار کے ساتھ فقراء کو بھی مدعو کرے-خود نبی اکرم – صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم- نے اپنے ولیمہ کے موقع سے کبھی بکرے کے گوشت کا بھی انتظام فرمایا، تو کبھی کھجور اور ستو وغیرہ جو میسر تھا، اسی کا ولیمہ کیا-اسلامی تعلیمات و ہدایات اپنانے میں ہی خیر و برکت ہے- تمام مسلمانوں کو ان کا اہتمام کرنا چاہیے-حضرت انس بن مالک – رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے: "ما أولم النبي -صلى الله تعالى عليه و سلم- على شيء من نسائه ما أولم على زينب، أولم بشاة”. (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الولیمہ ولو بشاة، حدیث نمبر 5168، مسند ابی عوانہ، حدیث نمبر 4165)-ان ہی کی ایک دوسری روایت ہے:…

Read more

کامیابی کے تین اصول

کامیابی کو ہم اکثر دولت، شہرت اور سماج حیثیت سے منسلک کرتے ہیں، لیکن کیا یہ سب کچھ حقیقی کامیابی کے پیمانے ہو سکتے ہیں؟ اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو کامیابی ایک وسیع اور جامع تصور ہے، جس کا تعلق نہ صرف دنیاوی کامیابی سے ہے بلکہ آخرت کی کامیابی سے بھی ہے۔ کامیابی وہ ہے جو آپ کو اندرونی سکون بخشے اور زندگی کے ہر پہلو میں توازن فراہم کرے۔ اس کا حصول تین بنیادی اصولوں پر منحصر ہے: اللّٰہ کے ساتھ مضبوط تعلق، انسانوں کے ساتھ احسن رویہ، اور اپنی صلاحیتوں کا مؤثر استعمال۔ پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کا تعلق اپنے خالق کے ساتھ کیسا ہے۔ ایک کامیاب زندگی کی جڑیں اسی تعلق میں پوشیدہ ہیں۔ جب انسان اللّٰہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کر لیتا ہے، تو اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سکون اور راحت آ جاتی ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب” (الرعد: 28) یعنی دلوں کو سکون اللّٰہ کے ذکر میں ہے۔ جب انسان کا دل اللّٰہ کے ذکر سے معمور ہو جاتا ہے، تو دنیا کی مشکلات اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں اور وہ ایک مستحکم زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے۔ اللّٰہ کی رضا کو زندگی کا محور بنانے والے لوگ حقیقی کامیاب ہیں۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ انسان اپنے معاشرتی تعلقات کو کیسے قائم کرتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی سے پیش آنا چاہیے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو اور اپنی زندگی میں محبت، اخلاص، اور عدل کا رویہ اپنائے۔ حدیث میں رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” یعنی "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح بخاری: 10)۔ یہ اصول معاشرتی کامیابی کا محور ہے۔ جب انسان دوسروں کے ساتھ خیرخواہی، ہمدردی اور درگزر کا رویہ اپناتا ہے، تو وہ ایک خوشگوار اور کامیاب زندگی بسر کرتا ہے۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ انسان اپنی…

Read more

مشکلوں میں آسانی

زندگی ایک سفر ہے، جس میں ہر قدم پر آزمائشیں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کسی نہ کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم زندگی کو سائنسی اور منطقی زاویے سے دیکھیں تو ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ مشکلات ہماری ترقی کا حصہ ہیں، جو ہمیں سیکھنے اور بہتر ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ آج سے دو ماہ قبل، میں نے ایک ذاتی آزمائش کا سامنا کیا جب میرا دایاں پاؤں ٹوٹا۔ ابتدائی امیدوں کے باوجود، حالیہ ایکسرے (20 جولائی 2024) میں ہڈی کی درستگی میں کمی دیکھی گئی، جس کے باعث ڈاکٹروں نے دوبارہ آپریشن کا مشورہ دیا۔ یہ صورتحال بلاشبہ ذہنی دباؤ کا باعث ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ اللہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے، جو ہمیں اپنی قوت کو پہچاننے کا موقع دیتی ہے۔ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ "بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے” (سورۂ الشرح: 6)۔ اس آیت میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ ہر مشکل کے اندر کوئی نہ کوئی آسانی چھپی ہوتی ہے۔ یہ آسانی ہمیں ایمان، ہمت، اور صبر کے ذریعے ملتی ہے۔ جدید نفسیات بھی کہتی ہے کہ جب ہم کسی آزمائش سے گزرتے ہیں تو ہماری شخصیت میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ مشکلات کے دوران ہمارا دماغ نئے طریقوں سے کام کرتا ہے اور ہمیں بہتر حل تلاش کرنے کی قوت دیتا ہے۔ جیسے ایک کسان جب اپنی زمین میں فصل بونے کا آغاز کرتا ہے، تو اس کے لئے کئی مشکلات سامنے آتی ہیں — زمین کی تیاری، موسمی اثرات، اور دیگر چیلنجز۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ یہ ساری محنت اس کی فصل کی کامیابی کا لازمی حصہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "مومن کا معاملہ ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی ملے اور وہ شکر کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے اور صبر کرے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے”…

Read more