قرآن کے پانچ اساسی علوم
قرآن کے پانچ اساسی علوم حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی معرکہ آراء کتاب "الفوز الکبیر فی اصول التفسیر” میں قرآن مجید کے تمام مضامین اور علوم کو پانچ بنیادی علوم میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک پورا قرآن ان ہی پانچ علوم کے گرد گھومتا ہے۔شاہ صاحب کی یہ تقسیم قرآنی مطالعہ کو انتہائی سہل اور منظم بنا دیتی ہے: 1. علم الاحکام (Science of Rulings) اس علم میں وہ تمام احکامات شامل ہیں جو انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔عبادات: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ۔معاملات: خرید و فروخت، نکاح و طلاق، وراثت۔سیاست و عدل: حدود و تعزیرات اور حکمرانی کے اصول۔مقصد: اس کا مقصد انسانی افعال کی اصلاح اور ایک منظم معاشرے کی تشکیل ہے۔ 2. علم المخاصمہ (Science of Disputation) اس سے مراد وہ مباحث ہیں جو قرآن نے باطل نظریات رکھنے والے چار بڑے گروہوں کے رد میں بیان کیے ہیں:یہود: جنہوں نے احکامِ الہیٰ میں تحریف کی۔نصارٰی: جنہوں نے شرک اور غلو سے کام لیا۔مشرکین: جو اللہ کی ذات و صفات میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔منافقین: جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے۔مقصد: باطل عقائد کی تردید اور اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا۔ 3. علم التذکیر بآلاء اللہ (Reminders of God’s Favors) اس علم میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور اس کے احسانات کا ذکر ہے۔آسمان و زمین کی تخلیق، بارش کا برسنا، انسانوں کی پیدائش اور کائنات کا مربوط نظام۔مقصد: انسان کے دل میں اللہ کی عظمت، محبت اور شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنا۔ 4. علم التذکیر بایام اللہ (Reminders of God’s Historical Days) ”ایام اللہ” سے مراد تاریخ کے وہ اہم واقعات ہیں جب اللہ نے قوموں پر انعام کیا یا انہیں عبرت کا نشان بنایا۔انبیاء کرام کے واقعات اور ان کی قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں۔فرعون، قارون اور قومِ عاد و ثمود کے انجام کا تذکرہ۔مقصد: اس کا مقصد تاریخ سے سبق حاصل کرنا اور اللہ کے قانونِ مکافاتِ عمل کو سمجھنا ہے۔ 5. علم التذکیر بالموت و ما بعد الموت (Reminders of Death…
Read more