آہ ! جعفر بھائی بقلم: محمد اكرم ندوى آكسفورڈ
مصائب اور تهے پر ان كا جاناعجب اكـ سانحه سا ہو گيا ہے آج (15 جنورى سنه 2025م) كو جعفر بهائى كے حادثۂ جانكاه نے دل وجان كو جهنجهوڑ ديا، مولانا سيد جعفر مسعود حسنى ندوى دار العلوم ندوة العلماء كے ناظر عام، ادب عربى وفكر اسلامى كے استاد، اور پندره روزه عربى جريده "الرائد” كے ايڈيٹر انچيف تهے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ تيرے جانے سے گماں برہمى دہر كا تها تو گيا اور بپا دہر ميں محشر نه ہو سنه 1978م ميں ندوه ميں ميرا داخله ہوا، ہمارے درجه ميں پچاس طلبه تهے، ان ميں ايكـ طالبعلم تهے، جو كنارے بيٹهتے، خاموش رہتے، چپكے سے آتے اور چپكے سے چلے جاتے، شرافت ان كے چہرے سے ٹپكتى، بے ضرر تهے، نه كسى سے لڑتے اور نه كوئى بحث كرتے، وه ہم ميں سے تهے، پر ہم ميں سے نه لگتے، جو ايسا ہو اس سے دوستى كيسے ہو، تاہم يكطرفه محبت ضرور ہوگئى، ملكوتى صفات سے آراسته يه طالب علم تهے جعفر بهائى، جو مرور ايام وليالى سے دوست بهى بن گئے اور اچهے دوست، ہميں ان كى دوستى پر ناز ہے۔ ندوه كى طالعلمى ميں چهـ سال ہم ايكـ ساتهـ رہے، فارغ ہونے كے بعد ميں ندوه ميں مدرس ہوگيا، اور جعفر بهائى كى تقررى مدرسه عرفانيه ميں ہوئى، ہمارى ملاقات تقريبا ہر روز ہوتى، عصر كے بعد ندوه كى كينٹين كے باہر مجلسيں ہوتيں، گپ بازى ہوتى، شعر وشاعرى ہوتى، زاہد صاحب مير مجلس ہوتے، اور ہم چند دوست ان كے گرد ہاله بنائے ہوتے، آه وه كيا ايام تهے! ان كى سہانى ياديں آج بهى ناخن به دل ہيں، جعفر بهائى سے ميرے ماه وسال سنه 1978م سے ان كے انتقال تكـ وابسته ہيں۔ شب صحبت غنيمت داں كه بعد از روزگار ما گردش كند گردوں بسے ليل ونہار آرد جعفر بهائى كے اندر كئى نسبتين جمع تهيں، اور هر نسبت متقاضى تهى كه اس كى وجه سے مجهے ان سے عقيدت ومحبت هو، وه صحيح النسب سادات حسنى مين سے تهے، اور تنها يه نسبت بهت سى نسبتون كى جامع…
Read more