-*کس قدر آساں ہے موت!* ✍️ محمد نصر الله ندوی،ندوةالعلماء،لکھنؤ
آہ دنیا کس قدر فانی ہے،ہر دن جب سورج طلوع ہوتا ہے،اپنے ساتھ غم واندوہ کی خبر لیکر آتا ہے،جب شام ڈھلتی ہے تو کتنے جنازے شہر خموشاں کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں،زندگی گویا کسی غریب کی قبا ہو ،جس میں ہر روز پیوند کاری کی جاتی ہے،ہر لمحہ موت کا رقص جاری ہے،ہر گھڑی کوچ کا نقارہ بجتا ہے،جن کا اجل آجاتا ہے،وہ آخرت کے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں،جن کا وقت موعود ابھی مکمل نہیں ہوا،د نیا کی کوئی طاقت اسے زندگی سے محروم نہیں کر سکتی،جانے والے میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں،جن کی ناگہانی موت سے دل کانپ جاتا ہے،اور دنیا کی بے ثباتی کا منظر آنکھوں کے سامنے گردش کر نے لگتا ہے۔ مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی رح کی ناگہانی موت نے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا،موت کی ایسی کہانی کہ یقین کرنا مشکل ہے ،بدھ کی شام مولانا اپنے وطن رائے بریلی میں تھے،کسی کام سے شہر گئے تھے،واپسی میں سڑک کنارے کھڑے تھے کہ ایک تیز رفتار کار نے روند دیا اور مولانا جاں بحق ہوگئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا کا انتقال ملت اسلامیہ بالخصوص ندوة العلماء کیلئے بڑا خسارہ ہے،وہ اپنے عظیم باپ کے سچے جانشیں تھے،عربی اور اردو کے بہترین ادیب اور قلم کار تھے،خانوادہ حسنی کے گوہر آبدار تھے، فکر اسلامی اور سیرت ان کا خصوصی موضوع تھا،عربی کے انشاء پرداز تھے،قلم وقرطاس کے شہ سوار تھے، ان کے قلم گہر بار سے کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں،ندوی فکر اور ثقافت کا حسین امتزاج تھے،ادب اسلامی کے ترجمان تھے،علم وادب کے پاسبان تھے،عربی جریدہ (الرائد) کے رئیس التحریر تھے،جس میں آپ وقیع اداریے تحریر کرتے، تعلم وتربیت ان کا مقصد حیات تھا،چھوٹے چھوٹے جملوں میں گہری نصیحت فرماتے،قرآن کریم سے بہت لگاؤ تھا،ایک عرصہ تک انہوں نے درس قرآن دیا اور پیغام الہی سے لوگوں کو روبرو کرایا،جب بھی کسی مجلس میں گفتگو کرتے ،قرآن کی کسی آیت کو موضوع سخن بناتے اور اسی کے گرد اپنی بات مرکوز رکھتے،طلبہ کی ذہنی اور فکری تربیت کرتے،فکر اسلامی…
Read more