Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
19.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
19.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

*ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

  1. Home
  2. *ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

*ملنے کے نہیں ، نایاب ہیں ہم* *(مرحوم تابش مہدی کے بارے میں کچھ یادیں)*

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جنوری 24, 2025
  • 0 Comments

از: محمد رضی الاسلام ندوی

جناب تابش مہدی کی وفات 22 جنوری 2025 کی صبح ہوئی اور شام کو ان کی تدفین عمل میں آئی – اُس وقت سے ان کا سراپا برابر نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے اور ان سے متعلق یادیں اُمڈ اُمڈ کر آرہی ہیں۔

وہ اسلام پسند ادیب و شاعر ، تنقید نگار ، محقّق و مصنّف کی حیثیت سے معروف ہوئے اور خاص طور پر نعتیہ شاعری کے میدان میں انھوں نے عالمی شہرت پائی – اس حوالے سے انہیں پوری دنیا میں مدعو کیا جاتا تھا – ان کا نعتیہ کلام ان کے دواوین میں محفوظ ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بھی موجود ہے – نعتیں پڑھنے کا ان کا مخصوص انداز تھا ، جو دلوں کو گرماتا اور ذاتِ نبوی سے محبت پیدا کرتا تھا ، وہ اپنے کلام میں تعلیماتِ نبوی ، سیرت نبوی کا پیغام اور خلفائے راشدین کا ذکرِ خیر بہت خوب صورتی سے سمو دیتے تھے – اردو تنقید میں بھی ان کی متعدد کتابیں ہیں ، جو اس فن میں ان کی مہارت کا ثبوت پیش کرتی ہیں – لیکن میرے نزدیک ان کی شرافت ان سب خصوصیات پر فائق تھی – میرے لیے وہ ایک سرپرست ، مربّی ، بہی خواہ اور مشیر تھے۔

یاد آتا ہے کہ ان سے اوّلین تعارف غائبانہ گزشتہ صدی کی نویں دہائی کی ابتدا میں ہوا ، جب میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا طالب علم تھا اور انھوں نے دیوبند سے ماہ نامہ الایمان کا اجرا کیا تھا – مجھے مضمون نگاری کا شوق تھا ، چنانچہ میں نے مختلف رسائل میں مضامین بھیجنے شروع کیے – انھوں نے بھی الایمان میں میرے کئی مضامین شائع کیے – اُس زمانے کا ایک دل چسپ واقعہ اب تک یاد ہے – تعارف و تبصرہ کے کالم میں انھوں نے کسی دیوان پر تبصرہ کیا تو اس کی بخیہ ادھیڑ دی ، لکھا کہ شاعر کو عروض و قوافی کی بالکل خبر نہیں ہے – میرے روم پارٹنر برادر گرامی عطاء الرحمٰن صدیقی ندوی کو ، جو ادب و شاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ، یہ تبصرہ پسند نہیں آیا – ہم لوگوں نے طے کیا کہ تابش صاحب کو متوجہ کیا جائے کہ انھوں نے تبصرہ کرنے میں زیادتی کی ہے – اپنی شناخت چھپانے کے لیے خط میں اور پتہ میں بھی ندوہ کا ذکر نہیں کیا گیا اور صرف Post Box No. : 93 لکھا گیا – لیکن وہ تاڑ گئے – انھوں نے اپنے جواب میں ذرا بھی خفگی کا اظہار کیے بغیر لکھا کہ میرا تبصرہ ندوہ کے کسی ادب شناس استاد کو دکھا لیجیے ، پھر فیصلہ کیجیے۔

ان کا وطن ریاست اتر پردیش کا ضلع پرتاپ گڑھ تھا ، لیکن ان کا نکاح دیوبند کے عثمانی خاندان میں ہوا تھا ، اس لیے کچھ عرصہ وہ دیوبند میں مقیم رہے – اُس زمانے کی ایک یاد اب تک ذہن میں تازہ ہے – اسلامی طلبہ تحریک نے دینی مدارس میں نفوذ کے لیے ‘نھضۃ العلماء’ کے نام سے ایک تنظیم بنائی تھی – اس کی طرف سے بڑے دینی مدارس کا دورہ طے کیا گیا – برادر محترم مولانا عبد البر اثری فلاحی کے سربراہی میں دیوبند ، سہارن پور اور مراد آباد کے مدارس میں جانا ہوا ، جہاں تنظیم کا اچھا تعارف ہوا اور روابط استوار ہوئے – اُن دنوں تابش صاحب دیوبند میں موجود تھے – انھوں نے ہم لوگوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور ضیافت کی – اس موقع پر انھوں نے اپنا مجموعۂ کلام ، جو ‘تعبیر’کے نام سے طبع ہوا تھا ، ہمیں تحفۃً پیش کیا۔

تابش صاحب متعدد رسائل کی ادارت سے وابستہ رہے ہیں – ان میں سے ایک ماہ نامہ زندگی نو بھی ہے – وہ مدیر مجلہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی کی معاونت کرتے تھے – اس کے لیے کئی برس ان کا قیام علی گڑھ میں رہا – اُن دنوں ان سے قربتیں بڑھیں۔

ان کی زندگی کا خاصا عرصہ دہلی میں گزرا اور وہ یہیں کے ہو رہے – مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی کے شعبۂ ادارت سے وہ وابستہ ہوئے – اشاعت کے لیے آنے والی کتابوں کی ریڈنگ کرکے زبان و بیان اور املا درست کرنا ان کا کام تھا – یہ کام انہوں نے پوری ذمے داری سے خود انجام دیا اور اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم تیار کردی – مکتبہ سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد مرکز جماعت میں شعبۂ تعلیم اور تصنیفی اکیڈمی میں ان کی خدمات حاصل کی گئیں اور وہ کافی دنوں تک اپنی بیش بہا صلاحیتوں سے فیض پہنچاتے رہے۔

میں اکتوبر 2011 میں دہلی پہنچا تو ان سے اور نزدیکیاں بڑھیں اور استفادہ کے مواقع حاصل ہوئے – مرکز میں روزانہ ہی ملاقات ہوجاتی تھی – مرکز سے تعلق ختم ہوجانے کے بعد بھی ان سے رابطے میں کمی نہیں آئی – جلد ہی ان کی خدمات مرکز جماعت کے کیمپس میں قائم اسلامی اکیڈمی کو حاصل ہوگئیں ، جہاں وہ طلبہ کو تجوید پڑھاتے تھے – فنِ تجوید و قراءت میں انہیں مہارت حاصل تھی – انھوں نے مختلف مدارس میں اس کی تعلیم دی ہے ، جن میں سے ایک جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ بھی ہے – تابش صاحب کی ابتدائی زندگی کے ایک مرحلے میں ان کا کچھ وقت میرے وطن بہرائچ میں گزرا تھا – ان کے اساتذہ میں سے ایک مولانا بلالی علی آبادی تھے – علی آباد ، جسے نواب گنج بھی کہا جاتا ہے ، میرے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے – اس بنا پر وہ اس علاقے کے قصبات اور وہاں کی معروف شخصیات سے اچھی طرح واقف تھے – کبھی دورانِ گفتگو علی آباد کا ذکر چھڑ جاتا تو دیر تک وہاں گزرے ہوئے ایام کو یاد کرتے – مجھ سے کہتے کہ جب آپ کبھی وطن جائیں تو مجھے بھی لے چلیں – اپنی آپ بیتی ‘ تیز دھوپ کا مسافر’ میں بھی انھوں نے وہاں گزارے ہوئے ایام پر تفصیل سے لکھا ہے۔

تابش صاحب سے خصوصی تعلق کی ایک وجہ سابق امیر جماعت اسلامی ہند و صدر ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ مولانا سید جلال الدین عمری سے ان کا قریبی ربط تھا – مولانا ان پر بڑا اعتماد کرتے تھے اور وہ ان سے بہت محبت اور احترام کا معاملہ کرتے تھے – مولانا کی زندگی ہی میں ایک بار تابش صاحب نے ان پر سمینار کرنے کا پروگرام بنایا تھا ، لیکن بعض اسباب سے اس پر عمل نہیں ہوسکا – وطنی نسبت تھی یا تحریکی یا مولانا عمری سے تعلق میں اشتراک کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت اور تعلّقِ خاطر کا اظہار کرتے تھے ، چنانچہ اپنے کئی بچوں کا نکاح انھوں نے مجھ سے پڑھوایا – تابش صاحب میرے لیے شفیق ، مُحب ، سرپرست اور مربّی تھے – میرے مضامین اور کتابیں ان کی نظر سے گزرتیں تو انہیں ملاحظہ کرتے ، ان پر تبصرہ کرتے ، ان کی تحسین کرتے اور کچھ کم زور پہلو ہوتے تو ان کی نشان دہی کرتے – وہ ان لوگوں کے سخت ناقد تھے جو اگرچہ رجوع الی القرآن کے داعی ہیں ، لیکن ان کی تحریروں سے استخفافِ حدیث کا اظہار ہوتا ہے – اس جانب وہ مجھے برابر متنبّہ کرتے رہتے تھے – تابش صاحب کی متعدد کتابوں پر میں نے تبصرہ لکھا ، جو سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ اور ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی میں شائع ہوئے – انھوں نے بھی میری بعض کتابوں پر تبصرے کیے – تابش صاحب ہر طبقے میں عزیز اور محترم تھے – ان کے شاگردوں اور فیض یافتگان کی تعداد ہزاروں میں ہے – ان کی مقبولیت کا اندازہ ان کے جنازے میں امڈ آنے والی بھیڑ سے ہوا – اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے – ان جیسی شخصیات آج کے دور میں کم یاب بلکہ نایاب ہیں – شاد عظیم آبادی کا یہ مصرعہ ان پر پورے طور پر صادق آتا ہے۔

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

محسوس ہورہا ہے جوارِ خدا میں ہوں۔۔۔ڈاکٹر تابش مہدی جوار خدا میں!
بابا رتن ہندی کا جھوٹا افسانہ

Related Posts

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • hira-online.comhira-online.com
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟ جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد…

Read more

Continue reading
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • بشیر بدر
  • بشیر بدر حیات و خدمات
  • مئی 28, 2026
  • 0 Comments
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

ڈاکٹر بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن بابایک تحقیقی و ادبی جائزہ تمہید اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض شاعر نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تہذیبی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو نہ صرف ایک نئی تازگی عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت بھی بخشی۔ ان کی شاعری محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، سماجی تغیرات اور داخلی احساسات کی شاعری ہے۔ انہوں نے غزل کو روایتی پیچیدگیوں سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی جس کی وجہ سے ان کے اشعار خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026ء کو ہوا اور ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے شاعر سے محروم ہوگئی جس نے غزل کو نئی نسل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں ہوئی۔ بعض روایات میں کانپور کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم عمومی طور پر ایودھیا کو ان کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر بھی نمایاں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ نوجوانی کے زمانے تک ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے کلام کی اشاعت کے خواہش مند تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی جریدے “نگار” میں شائع ہوئے۔ تعلیم اور علمی خدمات ڈاکٹر بشیر بدر نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اردو ادب میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top