Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

*جعفر بهائى !**آپ بھی ساتھ چھوڑ گئے -*محمد رضی الاسلام ندوى

  1. Home
  2. *جعفر بهائى !**آپ بھی ساتھ چھوڑ گئے -*محمد رضی الاسلام ندوى

*جعفر بهائى !**آپ بھی ساتھ چھوڑ گئے -*محمد رضی الاسلام ندوى

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جنوری 16, 2025
  • 0 Comments

کل مسجد اشاعتِ اسلام (مرکز جماعت اسلامی ہند) میں بعد نمازِ عصر کی تذکیر میں میں نے ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہر نماز اس طرح پڑھی جائے جیسے وہ زندگی کی آخری نماز ہو – (ابن ماجہ :4171) میں نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی موت کب واقع ہوگی؟ اور کہاں ہوگی؟ طبعی موت ہی نہیں آتی ، بلکہ آئے دن ایکسیڈنٹ ہوتے رہے ہیں اور اچانک موت کسی کو اُچک لیتی ہے –

کیا خبر تھی کہ تھوڑی دیر کے بعد ہی اس کی مثال ہمارے سامنے آجائے گی – عشاء کے وقت بھائی رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے جعفر بھائی کے ایکسیڈنٹ کی خبر دیتے ہوئے تصدیق چاہی – میں نے موبائل اٹھاکر واٹس ایپ کھولا تو بہت سے پیغامات موجود تھے ، جن میں حادثہ کی خبر اور اس کی تفصیلات موجود تھیں – جعفر بھائی ایک مصاحب کے ساتھ بائک پر کسی ضرورت سے رائے بریلی شہر گئے تھے – واپسی میں ایک جگہ سڑک کے کنارے رُک کر اپنا مفلر درست کرنے لگے کہ اچانک پیچھے سے ایک گاڑی نے ٹکر مار دی – وہ اسی جگہ جاں بحق ہوگئے اور مصاحب شدید زخمی – اس سے معلوم ہوا کہ زندگی اور موت کا رشتہ کتنا کم زور ہے ! کچّے دھاگے کی طرح – انا للہ وانا الیہ راجعون –

دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں میرا داخلہ پچاسی سالہ جشنِ تعلیمی کے بعد 1975 میں اُس وقت کے عربی سوم میں ہوا – وہ بھی اسی سال ندوہ آئے اور اسی درجہ میں ان کا داخلہ ہوا – اس سے قبل وہ حفظ اور ابتدائی تعلیم رائے بریلی میں حاصل کرچکے تھے – وہ شہر سے آتے تھے اور تعلیم سے فارغ ہوکر گھر چلے جاتے تھے ، اس لیے ندوہ کیمپس میں انہیں زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہیں ملتا تھا ، لیکن ان کے ایک شوق نے انہیں ندوہ کیمپس سے باندھ رکھا تھا – انہیں کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا – وہ بہت اچھے کھلاڑی تھے – اس لیے ندوہ میں ہونے والے میچوں میں وہ کسی نہ کسی ٹیم کا ضرور حصہ بنتے تھے – ہم لوگوں نے 1981 میں عالمیت اور 1983 میں فضیلت کی – خوش قسمتی سے ہماری کلاس ممتاز طلبہ پر مشتمل تھی – حشمت اللہ ، اکرم ، وزیر ، عبد الحی ، عمر لداخی ، آفتاب ، خالد کان پوری ، خالد گونڈوی ، عبد القیوم کشمیری ، عبد الرزاق ، نجم الحسن ، عبد الحسیب ، نثار احمد اور جعفر بھائی – (اس وقت اتنے ہی نام یاد آرہے ہیں -) یہ سب اپنی امتیازی صلاحیتوں کی وجہ سے اساتذۂ ندوہ کو محبوب تھے – میرے اور جعفر بھائی کے درمیان ایک قدرِ مشترک تھی : خاموش مزاجی اور کم آمیزی – لیکن اس کے باوجود معلوم نہیں کیسے ہمارے درمیان بہت قربت اور دوستانہ ہوگیا تھا – شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد گرامی مولانا محمد واضح رشید حسنی ندوی ہمارے استاد تھے – وہ پندرہ روزہ عربی جریدہ الرائد کے ایڈیٹر بھی تھے – کلاس کے علاوہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا – وہ اردو اخبارات سے اہم خبریں نشان زد کرکے ہم سے عربی میں ترجمہ کرواتے ، پھر ہمارے ترجموں کو قابلِ اشاعت بناکر الرائد میں چھاپ دیتے – اس طرزِ تربیت سے بہت حوصلہ ملا اور یہی چیز بعد میں پورے اعتماد کے ساتھ لکھنے کی بنیاد بنی –

ندوہ سے فراغت کے بعد میں علی گڑھ چلا گیا – جعفر بھائی نے لکھنؤ یونی ورسٹی سے عربی میں ایم اے اور جامعة الملك سعود ریاض سے ٹیچرز ٹریننگ کورس کیا ۔ وہ لکھنؤ ہی میں واقع ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاخ مدرسہ عالیہ عرفانیہ میں استاد ہوگئے ، جہاں سے ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے وظیفہ یاب ہوئے تھے – ان کا اصل موضوع تفسیر ، حدیث اور فکر اسلامی تھا – انھوں نے ان موضوعات پر بہت سے ادبی و فکری مقالات لکھے ہیں – کئی کتابوں کا اردو سے عربی میں ترجمہ کیا ہے – سوشل میڈیا پر ان کے بہت سے خطابات سننے کا موقع ملا ، جس سے اندازہ ہوا کہ دعوتی و اصلاحی موضوعات پر ان کی گفتگو بہت مؤثر ہوتی تھی – اپنے والد ماجد کی وفات (2019) کے بعد انھیں ‘الرائد’ کا مدیر بنا دیا گیا تھا – کچھ عرصہ سے ندوہ میں فکر اسلامی کے موضوع پر کلاس لینے لگے تھے – مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی کے ناظم ندوہ منتخب ہونے کے بعد ان کی ناظر عام کی حیثیت سے تقرری عمل میں آئی تھی ۔

ندوہ سے جدا ہونے کے بعد سے اب تک ہمارے تعلقات کی گرم جوشی میں ذرا بھی کمی نہیں آئی تھی – وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی تو ہم کچھ دیر بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کرلیتے – کبھی فون پر بات ہوجاتی – واٹس ایپ پر بھی رابطہ رہتا – ایک بار ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچا تو انھوں نے کھانا کھلائے بغیر واپس نہیں ہونے دیا – ایک بار ملاقات ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تو میں نے فون کیا : ” آپ سے بہت دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی ہے – لکھنؤ اسٹیشن پر ہوں – دہلی جارہا ہوں – ٹرین اتنے بجے چُھوٹے گی – فرصت ہو تو آجائیے – “ انھوں نے جواب دیا :” آتا ہوں – “ ٹرین دیر رات چھوٹتی تھی – چند منٹ کی ملاقات کے لیے کسی کو بڑی زحمت میں مبتلا کرنا اور ریلوے اسٹیشن بلانا ، اب سوچتا ہوں کہ میں نے کتنی بڑی بے وقوفی اور جسارت کرلی تھی – لیکن جعفر بھائی تشریف لائے ، ٹرین چھوٹنے تک رُکے رہے ، چائے پی گئی اور باتیں ہوتی رہیں – اُن دنوں میں تصنیفی اکیڈمی جماعت اسلامی ہند کا سکریٹری تھا – میں نے ان سے خواہش کی کہ کچھ کتابوں کا اُجرت پر اردو سے عربی میں ترجمہ کروانا چاہتا ہوں – آپ خود ترجمہ کردیجیے یا کسی سے کروادیجیے ، لیکن اسے قابلِ اشاعت بنانا آپ کی ذمے داری ہوگی – وہ تیار ہوگئے – لیکن آئندہ عملاً اس کی کوئی صورت نہیں بن سکی –

میرے بہت سے کام جعفر بھائی کی وساطت سے بہت آسانی سے ہوجاتے تھے – ایک واقعہ یاد آرہا ہے – چند برس قبل جماعت اسلامی ہند کی طرف سے کل ہند سطح پر اصلاح معاشرہ مہم طے کی گئی – ذمے داروں کے کہنے پر اس کا تعارفی کتابچہ میں نے اردو میں تیار کیا ، جس کا ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کروالیا گیا اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے حلقوں کو بھیج دیا گیا – مہم کمیٹی نے تجویز دی کہ اگر اس پر مقدمہ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی سے ، جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر ہیں ، لکھوالیا جائے تو بہت اچھا رہے گا – مولانا کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے اُن سے اس خواہش کا اظہار کرنے کی ہمّت نہ ہوتی تھی – بہر حال میں نے ایک خط مولانا کے نام ڈاک سے بھیج دیا ، لیکن ساتھ ہی جعفر بھائی کو فون کیا کہ میرا یہ کام کروادیں – انھوں نے وعدہ کیا اور چند دنوں میں مقدمہ لکھواکر بھیج دیا –

گزشتہ دو برس سے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس تحقیقات شرعیہ کی جانب سے فقہی موضوعات پر سمینار ہونے لگے ہیں – اس طرح ندوہ میں حاضری کا بہانہ مل گیا ہے – 2023 کے سمینار میں شرکت کے لیے حاضری کا پروگرام بنا تو جعفر بھائی کو میسیج کیا ، لیکن ان سے ملاقات نہیں ہوسکی – بعد میں میں نے شکایت کی تو انھوں نے معذرت کی کہ اہلیہ کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ندوہ نہیں آپایا تھا – گزشتہ برس (2024) کے سمینار میں پھر حاضری ہوئی تو میں نے انہیں پہلے سے اطلاع کردی – اس طرح ان سے ملاقات یقینی ہوگئی – ندوہ کے مہمان خانے میں بیٹھ کر دیر تک ان سے باتیں ہوتی رہیں – میں نے کہا کہ جمعیۃ الاصلاح کے ذمے داروں نے میرا ایک پروگرام طے کرلیا ہے – کہنے لگے : آپ جب بھی ندوہ آئیں ، ہم آپ کے لیکچر کروائیں گے – طلبہ کو آپ جیسے لوگوں سے استفادہ کا موقع ملنا چاہیے –

16 دسمبر 2024 کو امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی کا ندوے کا دورہ طے پایا – مجھے ان کی رفاقت کرنی تھی – جماعت کے ریاستی ذمے داروں نے ندوہ جاکر ذمے داروں سے ملاقات کرکے دورہ کی تفصیلات طے کرلیں ، لیکن میں نے جعفر بھائی کو براہ راست فون کیا کہ میں امیر جماعت کے ساتھ ندوہ آرہا ہوں – انھوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا – ندوہ میں عصر کے بعد حاضر ہونا تھا – ہمیں پہنچنے میں دیر ہونے لگی تو انھوں نے مجھے فون کرکے دریافت کیا کہ کب تک پہنچ رہے ہیں؟ ہم مغرب سے قبل پہنچے تو انہیں اور دیگر اساتذۂ ندوہ کو مہمان خانے میں سراپا انتظار پایا – امیر جماعت کی مختصر گفتگو کے بعد تبادلۂ خیال ہوا – مغرب کی نماز کے بعد پھر بیٹھے اور گفتگو کا سلسلہ جاری رہا – پُر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا – ناظم ندوہ مولانا بلال حسنی کہیں سفر پر تھے – جعفر بھائی نے ان کی نیابت کی – انھوں نے مجھے اپنے قریب بٹھایا اور محبت کی بارش کرتے رہے – اس کے بعد ہم لوگوں نے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام اور کتب خانہ شبلی کی زیارت کی – بہت سے اساتذہ اور طلبہ ساتھ تھے – مجلس کی اہم مطبوعات کا ایک سیٹ امیر جماعت کو تحفۃً پیش کیا گیا – کتب خانہ کی وسعت ، مخطوطات کی حفاظت اور اختصاصی شعبوں کے طلبہ کے انہماکِ مطالعہ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی –

بھائی جعفر بہت سی خوبیوں کے مالک تھے – ان کی ہمہ جہت صلاحیتیں اپنی جگہ ، لیکن ان کی نجابت و شرافت ان سب پر مستزاد تھی – ان کی اچانک وفات ملتِ اسلامیہ ہندیہ کے لیے تو خسارہ ہے ہی ، لیکن میں اپنے ایک قریبی دوست اور ساتھی سے محروم ہوگیا ہوں – ہم میں سے ہر ایک کو اپنا اپنا کام پورا کرکے اس کا صلہ پانے کے لیے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوجانا ہے – فَمِنْھُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَنْتَظِر

اللہ تعالیٰ بھائی جعفر کی مغفرت فرمائے ، انہیں ان کی خدمات کا اجرِ جزیل عطا فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین !

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

-*کس قدر آساں ہے موت!* ✍️ محمد نصر الله ندوی،ندوةالعلماء،لکھنؤ
علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ

Related Posts

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • hira-online.comhira-online.com
  • ڈاکٹر محمد منظور عالم
  • ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور
  • جنوری 13, 2026
  • 0 Comments
ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور

ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشور از : مولانا ابو الجیش ندوی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ادارے بن جاتی ہیں، رجحانات کو جنم دیتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور عالمؒ (1945–2026) ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق، ادارہ سازی اور ملت کی اجتماعی قیادت کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ ان کی زندگی ایک ایسا سفر تھی جو جذباتی ردعمل سے ہٹ کر ڈیٹا پر مبنی فکر کی طرف مائل کرتی ہے۔ ابتدائی زندگی اور علمی تشکیل ڈاکٹر منظور عالمؒ 9 اکتوبر 1945 کو مدھوبنی، بہار میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے معاشیات میں PhD حاصل کی۔ یہ وہی دور تھا جب ان کے اندر اسلامی فکر اور عصری سماجی علوم کے امتزاج کا وژن ابھرا۔ بعد میں سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں اسلامی معیشت پر تدریس و مشاورت کی اور سعودی وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر رہے۔ مدینہ منورہ کے King Fahd Qur’an Printing Complex میں قرآن ترجمہ کے قومی منصوبے کے چیف کوآرڈینیٹر کے طور پر ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS): فکر کی ادارہ سازی 1986 میں نئی دہلی میں قائم ہونے والا Institute of Objective Studies (IOS) ڈاکٹر منظور عالمؒ کے فکری وژن کا عملی مظہر تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جذبات کے بجائے تحقیق اور پالیسی پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔ IOS نے:410 سے زائد تحقیقی منصوبے مکمل کیے400 سے زیادہ معیاری اشاعتیں شائع کیں1200 سے زائد کانفرنسیں، سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کیںیہ ادارہ تعلیم، معاشیات، سماجی انصاف، اقلیتی حقوق، فرقہ واریت اور ثقافتی شناخت جیسے شعبوں میں ہندوستانی مسلم فکر کا معتبر مرکز بن گیا۔ انہوں نے تحقیق کو محض علمی ورزش نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنایا۔ آل انڈیا ملی کونسل: فکر سے عمل کی طرف IOS اگر فکر کا مرکز تھا تو آل انڈیا…

Read more

Continue reading
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • hira-online.comhira-online.com
  • پرواز رحمانی
  • سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز
  • جنوری 8, 2026
  • 0 Comments
سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پرواز

سہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹرپرواز رحمانی کی آخری پرواز معصوم مرادآبادی میں ابھی ابھی سینئر صحافی اور ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی تدفین میں شرکت کرکے واپس آیا ہوں۔ان کی تدفین میں عوام وخواص کی خاصی بڑی تعداد شریک تھی اور ہر زبان پر ان کی صحافت اورشرافت کے یکساں چرچے تھے۔ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ۔ پرواز رحمانی کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔آخری دنوں میں انھیں برین ہیمریج کی وجہ سے اوکھلا کے الشفاء اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے گزشتہ رات آخری سانس لی۔لوگوں کو امید تھی کہ وہ الشفاء اسپتال سے شفایاب ہوکر واپس آئیں گے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ان سے میرا تعلق اس زمانے سے تھا جب ’دعوت‘ کا دفتر پرانی دہلی کے سوئیوالان علاقہ میں واقع تھا۔ وہیں ان کی رہائش بھی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے دفاتر کے ساتھ ’دعوت‘ کا دفتر بھی اوکھلا منتقل ہوا تو وہ بھی بادل نخواستہ اوکھلا چلے گئے، لیکن کافی عرصہ ان کی رہائش سوئیوالان کے پرانے مکان ہی میں رہی۔ وہ ڈی ٹی سی کی بس میں بیٹھ کر روزانہ اوکھلا جاتے تھے اور شام کو کام نپٹاکر گھر واپس آجاتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’دعوت‘ کے مستقل کالم ”خبرونظر“ کے معیارکو برقرار رکھنا تھا۔’دعوت‘ میں یہ کالم اس کے سابق ایڈیٹر محمد مسلم نے شروع کیا تھا۔ پرواز رحمانی کی صحافتی تربیت بھی محمدمسلم نے ہی کی تھی اور وہ انھیں صحافت میں اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ محمدمسلم کی خوبی یہ تھی کہ ان کا دائرہ بہت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top