یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے!
از : ڈاکٹر محمد اعظم ندوی یہ مشہور مصرعہ ڈاکٹر تابش مہدی صاحب (1951-2015) کی ایک مقبول عام غزل کا حصہ ہے، جو پہلی بار بچپن میں کیسٹ پر سنا تھا، اور شاعر سے غائبانہ لیکن والہانہ تعلق ہوگیا تھا، بعد میں دارالعلوم ندوۃ العلماء اور رابطہ ادب اسلامی کے مختلف سیمیناروں میں ان سے ملنے اور ان کو سننے کا براہ راست موقع ملا، عقیدت اور بڑھ گئی، ان کی شخصیت گلشن ادب کے اس شگفتہ پھول کی مانند تھی جس میں نہ صرف عاجزی اور سادگی کا حسن تھا، بلکہ ان کی تخلیقات سے صالح ادب کی خوشبو بھی پھیلتی تھی۔آج عشقِ رسول ﷺ کا ایک روشن چراغ بجھ گیا، اور نعت گوئی کی ایک منفرد آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ تابش مہدی صاحب ایک عاشقِ رسول ﷺ شاعر تھے، جن کی نعتیں دلوں کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور کرتی رہیں، ان کے کلام میں عقیدت کی وہ گہرائی تھی جو سننے والوں کے دلوں کو بے ساختہ حضور ﷺ کی محبت کی جانب کھینچ لیتی تھی، اور آنکھوں کو اشکبار کرتی تھی، ان کا مخصوص ترنم، جس میں وارفتگی اور محبت کی تاثیر شامل تھی، سننے والوں پر ایسا اثر کرتا کہ وقت تھم جاتا اور جذبات دل کی گہرائیوں سے ابھرنے لگتے۔ ان کا یہ شعر ان کی شخصیت کی شفافیت اور ان کی فکر کی گہرائی کا مظہر ہے: اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئی سوزِ یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئی تابش مہدی صاحب کا وجود نعت گوئی، نظم وغزل اور تنقید وتخلیق کی روایت کا ایک ایسا روشن باب تھا، جس میں محبت، عاجزی اور شریعت کی روشنی تھی، ان کی شاعری محض کلام نہیں تھی بلکہ ایک پیغام بھی تھی۔ عزیز دوست مولانا شاہ اجمل فاروق صاحب ندوی اور محترمہ ڈاکٹر ثمینہ تابش (کوثر) صاحبہ کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں، شاہ اجمل سے میرا رشتہ تعلیمی رفاقت، بے تکلف دوستی اور احترام ومحبت کا ہے، اور ڈاکٹر ثمینہ تابش صاحبہ سے تلمذ، علمی استفادہ اور…
Read more