🔰بچوں كی دینی تعلیم كا سنہرا موقع
🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانیزاں🕯 اگر کسی آبادی میں سیلاب آجائے تو آبادی کا ہر شخص فکر مند اور بے قرار نظر آتا ہے ، کبھی کبھی یہ تباہی و بربادی پورے ملک کے لوگوں کو اس کے نقصانات کے تدارک کے لئے بے چین کردیتی ہے ، خدا نخواستہ کسی شہر میں زلزلہ آگیا تو ہلاک ، زخمی اور بے گھر ہونے والوں کے لئے پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ریلیف کی تقسیم عمل میں آتی ہے ، اور اگر کہیں تباہ کن طوفان آگیا تو پوری دنیا کے ذارئع ابلاغ جاگ اٹھتے ہیں اور اسی کی داستانیں نوکِ زبان ہوتی ہیں ، سونامی کی ظالم موجوں نے کسی خطہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو تو برسہابرس وہ اخبارات و رسائل کا موضوع بنے رہتے ہیں ؛ لیکن ایک سیلاب ان سیلابوں سے بڑھ کر ، ایک زلزلہ ان زلزلوں سے زیادہ ہیبت ناک ، ایک طوفان ہواؤں کے طوفان سے زیادہ خطرناک اور ایک سونامی سمندر کی سرکش موجوں سے پیداہونے والی سونامیوں سے بھی زیادہ جان لیوا ہے ؛ لیکن انسان ان سے غافل ، بے پروا اور ان کے بارے میں تساہل کا شکار ہے ۔ یہ وہ سیلاب ہے ، جو درختوں اور کھیتوں کو بہا نہیں لے جاتا ؛ بلکہ اخلاق کو بہالے جاتا ہے ، یہ وہ زلزلہ ہے ، جس میں زمین کے اندر چھپی ہوئی چٹانیں متزلزل نہیں ہوتیں ؛ بلکہ انسان کے سینوں میں موجود دلوں کی دنیا تباہ و برباد ہوجاتی ہے ، یہ وہ طوفان نہیں ، جو درختوں کو اٹھاکر پھینک دے اور گھروں کو تہ وبالا کردے ؛ بلکہ یہ وہ طوفان ہے ، جو ایمان کے شجر طوبی کو اکھاڑ پھینکتا ہے ، یہ وہ سونامی نہیں ، جس سے آبادیاں ویران ہوجاتی ہیں ؛ بلکہ یہ وہ سونامی ہے ، جس سے اخلاق و کردار کی دنیا ویران ہوجاتی ہے ، یہ ہے برائیوں کا سیلاب ، یہ ہے اخلاق و کردار کی تباہی اور یہ ہے ایمان و یقین کی غارت گری ، یہ وہ…
Read more

