Bhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہ
بھوج شالا ہندوستان کی ریاست Madhya Pradesh کے شہر Dhar میں واقع ایک تاریخی عمارت ہے۔ یہ مقام صدیوں سے علمی، مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عمارت کو بعض لوگ قدیم سرسوتی مندر اور سنسکرت تعلیم گاہ مانتے ہیں، جبکہ مسلمان اسے Kamal Maula Mosque کے نام سے ایک تاریخی مسجد قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مقام طویل عرصے سے تنازع کا مرکز رہا ہے۔
بھوج شالا نام کی حقیقت
“بھوج شالا” کا نام راجہ Bhoja کے نام سے منسوب ہے، جو پرمار خاندان کے مشہور ہندو راجہ تھے۔ وہ علم، ادب، فلسفہ اور فنون کے سرپرست مانے جاتے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق انہوں نے سنسکرت ادب، شاعری، یوگا اور تعمیرات پر متعدد کتابیں لکھیں یا ان کی سرپرستی کی۔
وکی پیڈیا کے مطابق “بھوج شالا” کی اصطلاح 1903 کے بعد مشہور ہوئی، جب ماہر آثارِ قدیمہ K. K. Lele نے اس مقام پر سنسکرت اور پراکرت زبان کے کتبے دریافت کیے۔ اس سے پہلے قدیم تحریروں میں یہ عمارت زیادہ تر “کمال مولا مسجد” یا “راجہ بھوج کا مدرسہ” کے طور پر ذکر ہوتی تھی۔
تاریخی پس منظر
تاریخی تحقیق کے مطابق اس عمارت کے ستون اور تعمیراتی حصے زیادہ تر بارہویں اور تیرہویں صدی کے ہیں۔ بعد میں اسلامی طرز کے گنبد اور قبریں بھی اس احاطے میں شامل کی گئیں۔
بعض مورخین کے مطابق یہاں کبھی علم و ادب کا مرکز یا سرسوتی مندر موجود تھا، جبکہ دیگر مؤرخین اسے ایک مشترکہ تاریخی مقام سمجھتے ہیں جہاں مختلف ادوار میں مختلف مذہبی اثرات شامل ہوتے گئے۔
ہندو فریق کا دعویٰ
ہندو تنظیموں اور بعض ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ:
- یہ مقام اصل میں دیوی سرسوتی کا مندر تھا۔
- یہاں سنسکرت تعلیم دی جاتی تھی۔
- راجہ بھوج نے اس مقام کو علمی مرکز کے طور پر قائم کیا تھا۔
- عمارت میں موجود سنسکرت اور پراکرت کتبے ہندو اور جین روایت کی نشانی ہیں۔
- “وج دیوی” اور “سرسوتی” سے متعلق آثار اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ عبادت گاہ تھی۔
- بعد میں مسلم دور میں یہاں مسجد قائم کی گئی۔
ہندو فریق یہ بھی کہتا ہے کہ اس مقام پر ہندو عبادت کی روایت مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوئی۔
مسلم فریق کا دعویٰ
مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ:
- یہ صدیوں سے Kamal Maula Mosque کے طور پر معروف رہی ہے۔
- یہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔
- تاریخی سرکاری ریکارڈ اور سابقہ انتظامی فیصلے مسجد کی حیثیت کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔
- عمارت میں اسلامی طرزِ تعمیر، محراب اور منبر موجود ہیں۔
- آثارِ قدیمہ کی بعض چیزوں کی بنیاد پر پوری عمارت کو صرف مندر قرار دینا درست نہیں۔
مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مقام کی مشترکہ اور پیچیدہ تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آثارِ قدیمہ اور کتبے
اس مقام پر کئی اہم سنسکرت اور پراکرت کتبے ملے ہیں، جن میں:
- گرائمر اور سنسکرت قواعد کے کتبے
- “کُرم شتک”
- “وجیاشری ناٹکا”
- راجہ بھوج کے زمانے سے منسوب تحریریں
بعض محققین کے مطابق یہ کتبے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ یہ مقام کبھی علمی و مذہبی مرکز رہا ہوگا۔ تاہم کچھ اسکالرز کہتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں مختلف عمارتوں کے پتھر دوبارہ استعمال کیے گئے، اس لیے صرف کتبوں کی بنیاد پر قطعی نتیجہ نکالنا مشکل ہے۔
سرسوتی مورتی کا تنازع
برطانیہ کے British Museum میں موجود ایک قدیم مورتی کو کبھی “راجہ بھوج کی سرسوتی” کہا گیا، لیکن بعد کی تحقیق میں کئی ماہرین نے اسے جین مذہب کی دیوی “امبیکا” قرار دیا۔
اسی لیے اس معاملے پر علمی حلقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
عدالتی تنازع
یہ مقام ہندوستانی حکومت کے محکمہ آثار قدیمہ Archaeological Survey of India (ASI) کے تحت محفوظ تاریخی یادگار ہے۔
کئی سالوں تک انتظام یہ تھا کہ:
- مسلمان جمعہ کے دن نماز ادا کرتے تھے۔
- ہندو منگل کے دن پوجا کرتے تھے۔
لیکن وقتاً فوقتاً اس معاملے پر کشیدگی پیدا ہوتی رہی، خاص طور پر جب بسنت پنچمی جمعہ کے دن آتی تھی۔
2024 کی عدالتی کارروائی
2024 میں Madhya Pradesh High Court نے ASI کو مقام کا تفصیلی سروے کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں ASI نے دس جلدوں پر مشتمل رپورٹ تیار کی۔
اس رپورٹ کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا اور دونوں فریقوں نے اپنے اپنے حق میں دلائل پیش کیے۔
2026 کا حالیہ عدالتی فیصلہ
15 مئی 2026 کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ:
- متنازعہ حصہ دیوی سرسوتی کا مندر تھا۔
- ہندو عبادت کا تسلسل برقرار رہا ہے۔
- 2003 کا وہ ASI حکم منسوخ کیا جاتا ہے جس میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں 2019 Supreme Court verdict on Ayodhya dispute کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔
موجودہ صورتحال
فیصلے کے بعد:
- ہندو تنظیموں نے اسے تاریخی کامیابی قرار دیا۔
- مسلم تنظیموں نے تشویش ظاہر کی اور ممکنہ قانونی اپیل کی بات کی۔
- حکومت نے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
یہ معاملہ صرف مذہبی نہیں بلکہ تاریخی، قانونی اور آثارِ قدیمہ سے بھی جڑا ہوا ہے، اسی لیے اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
نتیجہ
بھوج شالا ایک ایسا تاریخی مقام ہے جہاں:
- ہندو، جین اور اسلامی تاریخ کے آثار ملتے ہیں،
- علمی و مذہبی روایتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں،
- اور جدید ہندوستان میں مذہبی مقامات کے تنازعات کی ایک اہم مثال سامنے آتی ہے۔
تاریخی تحقیق، آثارِ قدیمہ اور عدالتوں کے فیصلے اس بحث کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، اسی لیے اس موضوع کو جذبات کے بجائے تحقیق اور قانون کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔