HIRA ONLINE / حرا آن لائن

مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے

مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے


خاندانی پس منظر


ابتدائی تعلیم اور علمی سفر


تدریسی اور دعوتی خدمات



مولانا اپنے برادرِ اکبر سید عبد اللہ حسنی ندوی کی وفات کے بعد کل ہند تحریک پیام انسانیت کے معتمدِ عمومی منتخب ہوئے۔ یہ تحریک انسانیت، اخلاق اور باہمی محبت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔


روحانی وابستگی اور بیعت

تصوف و سلوک میں مولانا کو سید ابو الحسن علی ندوی سے خصوصی نسبت حاصل ہے۔ آپ ان کے دستِ گرفتہ ہیں اور متعدد مشائخ کی جانب سے اجازتِ بیعت و ارشاد بھی رکھتے ہیں۔


تصانیف اور علمی خدمات

مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی اردو اور عربی دونوں زبانوں میں کئی اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کی تحریروں میں علمی وقار، سادگی اور دعوتی اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔

اردو تصانیف



ادبی اور تحقیقی خدمات


ذاتی زندگی

نتیجہ

3–5 minutes
780 words

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

Related Posts

شبلی روایت اور تجدید کا معیار

شبلی: روایت اور تجدید کا معمار از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ عربی اور اردو کے معتبر ادیب، عالم اور داعی، مولانا محمد یوسف صدیقی ندوی بھوپالی نے درجِ ذیل استفسار فرمایا: فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب السلام علیکم، علامہ شبلی نعمانی کی عبقری شخصیت، جو جامع الکمالات، ہر فن مولیٰ تھی، بلکہ وہ تو جدت و تخلیق، ابداع وایجاد کے امام تھے مگر برصغیر کے علماء نے وہ مقام نہیں عطا کیا جس کے وہ حق دار تھے – اس کے پس پردہ کیا عوامل و محرکات کار فرما تھے ۔ اس کا منصفانہ جواب عنایت فرمائیے – بہت شکریہ جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ایک نہایت دقیق، منصفانہ اور تاریخِ افکار سے گہرا تعلق رکھنے والا سوال اٹھایا ہے۔ اس کا جواب جذبات کی سطح پر نہیں، بلکہ تاریخ، فکر اور علمی روایت کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ کہنا درست نہیں کہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو سرے سے ان کا مقام نہیں ملا؛ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت کی وسعت، ان کے افکار کی ہمہ گیری اور ان کی خدمات کی گہرائی کا وہ جامع اور ہمہ گیر اعتراف نہ ہوسکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ اس کا سبب ان کی علمی قامت میں کوئی کمی نہ تھی، بلکہ وہ خود اپنے عہد کے پیمانوں سے بلند تھے۔ بعض شخصیتیں زمانے کی پیداوار ہوتی ہیں اور بعض زمانے کے معیار بدل دیتی ہیں؛ شبلیؒ دوسری قسم کی شخصیت تھے۔ وہ اپنے دور کے محض شارح نہ تھے، بلکہ اس کے معمار تھے؛ محض وارث نہ تھے، بلکہ تجدید و تخلیق کے امین تھے۔ برصغیر کی فکری تاریخ میں شبلیؒ کی مثال اس دریا کی سی ہے جو قدیم پہاڑوں کے دامن سے نکلتا ہے، اپنے سرچشموں سے وفادار بھی رہتا ہے اور نئی زمینوں کو سیراب بھی کرتا ہے۔ ان کی شخصیت میں روایت کی گہرائی، تحقیق کی وسعت، تنقید کی بصیرت، ادب کی لطافت، تاریخ کا شعور، تعلیم کی اصلاح اور اجتہاد کی جرأت ایک ایسے حسین امتزاج کے ساتھ…

Read more

اہل بیت اور اہل سنت

اہل بیت اور اہل سنت (دوسری قسط) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  آپ ﷺ نے عمومی طور پر اہل بیت کی جو فضیلت بیان فرمائی ہے ، اس کے بعد کسی صاحب ایمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اہل بیت کی ناقدری کرے ، یا ان کی شان میں بدگوئی کرے ، حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے مکہ ومدینہ کے درمیان مقام خُم میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ایک : کتاب اللہ ، جس میں ہدایت اور روشنی ہے ؛ لہٰذا تم کتاب اللہ کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رہو ، دوسرے : میرے اہل بیت ، پھر آپ نے تین بار فرمایا : میں تم کو اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، (مسلم عن زید بن ارقم: ۲۴۰۸) حج کے کثیر مجمع میں یوم عرفہ کو بھی آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوںکہ اگر ان کو پکڑے رہے تو گمراہ نہ ہوگے ، ایک : کتاب اللہ ، دوسرے : میرا خاندان یا میرے اہل بیت ۔ (ترمذی عن جابر بن عبداللہ: ۳۷۶۶) علماء اہل سنت والجماعۃ نے ہمیشہ اہل بیت کو اپنی آنکھوں کا نور بنایا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفۂ راشد کہا ، اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے بارے میں یہ نقطۂ نظر رکھا کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ وہ خطا پر تھے ؛ البتہ یہ اجتہادی خطاء تھی ، اور اجتہادی خطاء قابل گرفت نہیں ہوتی ، اوراس کی بناء پر طعن نہیں کیا جا سکتا ، اسی طرح حضرت معاویہؓ کی طرف سے یزید کی جانشینی بھی ان کی ایک اجتہادی خطاء تھی ، جہاں تک یزید کی بات ہے تو اُمت کے کسی معتبر عالم نے اس کی بادشاہت کو برحق قرار دینے کی کوشش نہیں کی ؛ بلکہ سلف صالحین…

Read more

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے