اسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقف
مولانا یحییٰ نعمانی
بعض اوقات بعض سادہ باتیں بھی پیچیدہ بن جاتی ہیں۔ ان کی ایک مثال حالیہ جنگ بھی ہے۔
۱۔ ظاہر بات ہے کہ دنیا کے سارے ہی انصاف پسند انسان ایران سے ہمدردی رکھ رہے ہیں۔ شیعیت کے عقائد سے پورے اختلاف کے باوجود یہی ہمارا موقف ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مظالم خصوصاً مسلم ممالک میں ان کی چیرہ دستیاں، لوٹ اور خوں ریزیوں کی تاریخ کے بعد دنیا میں اگر کوئی طاقت بھی ان کا مقابلہ کرنے کو کھڑی ہو تو یہ اطمینان اور داد کے لائق بات ہے۔ اگر ایران ہی نہیں، کوئی بھی ملک (مثلاً شمالی کوریا) بھی ان دو ظالم سرکش ممالک سے دو بدو کرتا نظر آئے تو ہماری ہمدردی و تائید کا مستحق ٹھہرے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کے عزائم کیا ہیں۔ عرب ممالک کے بیشتر حصہ پر وہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کیا پھر بھی ایران کی تائید اور مدد نہیں کی جائے گی؟ ان عرب ریاستوں نے تو بے شرمی کی حد کر دی ہے۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ اور فلسطینیوں کے خون کی قیمت پر، صرف اپنے تخت کو بچانے کے لیے اسرائیل کی حاشیہ برداری کا قلادہ اپنے گلوں میں ڈالا ہوا ہے۔ اب کون غیرت مند انسان ہوگا جو ایران کے موقف کی تائید و تعریف نہیں کرے گا۔
۲۔ عالمی حالات سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ یہ جنگ عالمی نظام میں گہری تبدیلی پیدا کرنے والی جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس جنگ کے نتیجہ میں ایک یک قطبی (Unipolar) دنیا کے اندھا دھند مظالم سے نجات مل جائے اور ایک کثیر قطبی نظام (Multipolar World Order) قائم ہو جائے، جہاں مظلوموں اور کمزوروں کے پاس کچھ راستے اور امکانات ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو سکا، تو خطہ کی دیگر ریاستوں، خصوصاً خلیجی ممالک کو بھی شاید امریکہ اور اسرائیل کے تسلط سے کچھ گلو خلاصی نصیب ہو جائے۔ اس لیے بھی ہماری ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔
۳۔ ایرانیوں کی بہادری اور قربانی کی تعریف یا ان کے غلبہ اور جیت کی تمنا کا مطلب ہرگز شیعیت کی تائید یا اس کے (اہل سنت کے نزدیک) صریح گمراہانہ عقائد کی حمایت یا ان کا قابلِ قبول ہونا نہیں ہے۔ دنیا کے معاملات میں ہم بہت سے گروہوں کی تائید کرتے ہیں، لیکن ان کے عقائد و افکار کی کھلی مخالفت کرتے ہیں۔ کیا ہم ہندوستان میں بعض غیر مسلم سیاسی پارٹیوں کی حمایت نہیں کرتے؟
۴۔ اس جنگ میں ایران کی تائید اور اگر ہو سکے تو مدد کے ساتھ ساتھ ہم قطعاً یہ نہیں کہتے کہ شیعیت کی گمراہی معمولی درجے کی ہے۔ اسی طرح ہم اس سے بھی غافل نہیں رہ سکتے کہ اس وقت سوشل میڈیا کے ذریعے اہل سنت میں شیعیت کی تبلیغ بڑی سرگرمی سے جاری ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہم شیعیت کی حقیقت اور اس کے صریح زیغ و ضلال پر مبنی عقائد کی وضاحت اہل سنت عوام کے سامنے ضرور کرتے رہیں گے اور علماء سے درخواست کریں گے کہ (نہایت شرافت اور نرمی کے ساتھ) وہ شیعہ حضرات کے خیالات کی تردید کی طرف توجہ کریں۔ کوئی طاقت اگر ظلم سے نبرد آزما ہو اور بڑی قربانیاں پیش کر رہی ہو تو بھی عقائد اور دین کی اساسات میں کوئی کمزوری یا مداہنت جائز نہیں ہوگی۔
مگر اس وقت شیعیت کے عقائد زیر بحث نہیں ہیں۔ نہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ شیعہ اہل سنت کو ضرور مومن تسلیم کریں، تب ہی ہم مصالحت و اتحاد کر سکتے ہیں۔ نہیں! ہم یہ کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی حالات اور خصوصاً ہمارے ملک کے حالات میں ہم کو مشترکہ مقاصد کے لیے اتحاد کرنا چاہیے اور شرک و ظلم کے مقابلہ میں مل کر جدوجہد کرنا چاہیے۔ یہی حق پسندی ہے۔ اور یہی حالات کا تقاضہ ہے۔ (۶/ اپریل ۲۰۲۶ء)