میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
از ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
متعدد علماء اور مفتیانِ کرام کی جانب سے مجھے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں طعن وتشنيع كے سخت لہجے میں سوال کیا گيا ہے کہ میں فلاں اور فلاں افراد سے تعلق کیوں رکھتا ہوں، ان کے بعض علمی، فکری یا سماجی کاموں کی تحسین کیوں کرتا ہوں، یا ان کے بارے میں حسنِ ظن کیوں رکھتا ہوں، جبکہ اکابر، علماء یا دینی ادارے انہیں کافر اور گمراہ قرار دے چکے ہیں۔
ان تمام خیر خواہوں اور ناصحین کی خدمت میں نہایت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ میرا موقف کسی مصلحت، تعلق یا گروہی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اصولی سوچ پر مبنی ہے، اور اسی اصول کی بنا پر میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کہنے سے حتی الامکان اجتناب کرتا ہوں۔
میرا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص خود کو مسلمان کہتا ہے، اسلام سے اپنی نسبت کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور قرآنِ مجید پر ایمان کا اقرار کرتا ہے، میں اسے مسلمان سمجھتا ہوں۔ اس کے باطن، نیت اور انجام کا فیصلہ اپنے ذمہ لینے کو نہ اپنا حق سمجھتا ہوں اور نہ اپنی صلاحیت۔ انسانوں کے دلوں کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور قیامت کے دن بندوں کے ایمان و اعمال کا آخری فیصلہ بھی اسی کے حضور ہونا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ میں خود بھی اسی عدالت میں کھڑا ہونے والا ایک محتاج بندہ ہوں، اس لیے دوسروں کے ایمان کے بارے میں فیصلے صادر کرنے میں بڑی احتیاط برتتا ہوں۔
میرے نزدیک تکفیر محض ایک علمی اصطلاح نہیں بلکہ ایک نہایت سنگین شرعی اور اخلاقی حکم ہے۔ کسی شخص کو مسلمان قرار دینے میں کوئی پیچیدگی نہیں، کیونکہ وہ خود اس کا دعویٰ کرتا ہے؛ لیکن کسی مسلمان کو اسلام سے خارج قرار دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہیں۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ اس باب میں غیر معمولی احتیاط کی تلقین کی ہے۔ میری رائے میں اگر کسی شخص کے قول یا موقف میں ننانوے احتمالاتِ کفر موجود ہوں اور ایک احتمالِ اسلام بھی پایا جاتا ہو تو انصاف، احتیاط اور حسنِ ظن کا تقاضا یہی ہے کہ اس ایک احتمال کو اختیار کیا جائے۔ کسی مسلمان کو مسلمان سمجھ لینے میں اگر خطا ہو جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، لیکن کسی مسلمان کو ناحق کافر قرار دینا ایسا معاملہ ہے جس کا بوجھ بہت سنگین ہے۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کسی انسان کے قول یا عمل کو اس کی نیت سے مکمل طور پر جدا نہیں کیا جا سکتا۔ بسا اوقات لوگ حق کی تلاش میں، دین کی خدمت کے جذبے سے، یا کسی علمی اجتہاد کی بنیاد پر ایسی رائے اختیار کر لیتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں غلط ہوتی ہے۔ غلطی اور کفر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ایک شخص کسی مسئلے میں خطا کر سکتا ہے، کمزور استدلال اختیار کر سکتا ہے، یا کسی غلط نتیجے تک پہنچ سکتا ہے، لیکن جب تک یہ یقین نہ ہو کہ اس نے جان بوجھ کر اسلام کی بنیادی حقیقتوں کا انکار کیا ہے، اس کے بارے میں کفر کا حکم لگانا میرے نزدیک درست نہیں۔ پھر نیتوں کا حقیقی علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہم الفاظ سن سکتے ہیں، اعمال دیکھ سکتے ہیں، لیکن دلوں کے بھید نہیں جان سکتے۔ جب دلوں کا حال ہمیں معلوم نہیں تو پھر ان کے بارے میں آخری فیصلے صادر کرنے میں اتنی جرأت کیوں کی جائے؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ فلاں اکابر یا فلاں دارالعلوم نے کسی شخص کو گمراہ یا کافر قرار دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اسی موقف کو اختیار کرنا چاہیے۔ میں اکابرِ امت اور دینی اداروں کے علم و خدمات کا معترف ہوں، لیکن تاریخِ علم کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ شاید ہی کوئی بڑا عالم، مفکر یا مصلح ایسا گزرا ہو جسے کسی دوسرے حلقے نے کافر، گمراہ، بدعتی یا واجب الرد نہ کہا ہو۔ مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا شبلی نعمانیؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا حمید الدین فراہیؒ، علامہ محمد اقبالؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور بے شمار دیگر اکابر کے خلاف مختلف ادوار میں فتاویٰ اور تنقیدات لکھی گئیں۔ اگر صرف فتووں کی موجودگی کو معیار بنا لیا جائے تو امت کی علمی تاریخ کا ایک بڑا حصہ مشتبہ قرار پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء بھی انسان ہیں، ان کے درمیان اختلافات بھی ہوتے ہیں، اور ان اختلافات میں شدت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے کسی ایک فتوے یا ایک جماعت کی رائے کو آخری اور قطعی فیصلہ سمجھ لینا میرے لیے آسان نہیں۔
میرے اس موقف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام آراء درست ہیں یا یہ کہ حق اور باطل میں کوئی فرق نہیں۔ میں اختلافِ رائے کے حق کا قائل ہوں اور یہ بھی مانتا ہوں کہ بعض نظریات غلط، بعض تعبیرات کمزور اور بعض افکار نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ میں علمی تنقید کا بھی قائل ہوں اور فکری اختلاف کو بھی ایک فطری اور ناگزیر حقیقت سمجھتا ہوں۔ لیکن اختلاف اور تکفیر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں کسی شخص کی رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، اس کے استدلال پر نقد کر سکتا ہوں، اس کی فکر کو غلط سمجھ سکتا ہوں، لیکن یہ سب کچھ کیے بغیر بھی اسے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا ضروری نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے مذہبی ماحول میں اختلافِ رائے کو اکثر تکفیر یا تضلیل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، حالانکہ امت کی عظیم علمی روایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شدید علمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ایمان، اخلاص اور خیر خواہی کا اعتراف برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ امتِ مسلمہ کے موجودہ حالات ہم سے زیادہ فراخ دلی، زیادہ حکمت اور زیادہ حسنِ ظن کا تقاضا کرتے ہیں۔ آج مسلمان علمی، اخلاقی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں بے شمار چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہماری توانائیاں ایک دوسرے کی تکفیر اور تضلیل میں صرف ہوتی رہیں تو ہم اپنے اصل مسائل سے مزید دور ہوتے جائیں گے۔ مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے دن شاید مجھ سے یہ سوال نہ کیا جائے کہ میں نے کتنے مسلمانوں کو کافر قرار دیا تھا، لیکن یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل میں کتنی خیر خواہی، کتنی انصاف پسندی اور کتنا حسنِ ظن پیدا کیا تھا۔
اسی لیے میں ہر مسلمان کو مسلمان سمجھتا ہوں، اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتا ہوں، اس کی نیکیوں کے قبول ہونے کی امید رکھتا ہوں، اور اس کی لغزشوں کے لیے معافی کا طلبگار رہتا ہوں۔ میں اپنے لیے بھی یہی امید رکھتا ہوں، کیونکہ ہم سب خطاکار بندے ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے نیاز نہیں۔
لہٰذا میں اپنے تمام ناصحین اور ناقدین سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں کہ میں فلاں یا فلاں مسلمان کو کافر یا گمراہ قرار دوں گا۔ اسی طرح ایسے مضامین، پیغامات اور فتاویٰ بھی مجھے نہ بھیجے جائیں جن کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی تکفیر یا تضلیل ہو۔ اگر ایسے پیغامات موصول ہوں گے تو میں انہیں حذف کر دوں گا، اور بسا اوقات بھیجنے والے کا نمبر بھی بلاک کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا، کیونکہ میں اپنی توجہ ان امور پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں جو مسلمانوں کے درمیان خیر، احترام، اخوت اور باہمی حسنِ ظن کو فروغ دیتے ہیں، نہ کہ ان چیزوں پر جو مزید نفرت، تقسیم اور دوری کا سبب بنتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ میری لغزشوں کو معاف فرمائے، مجھے مسلمانوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے والا بنائے، میرے دل کو کینہ، تعصب اور بے جا سختی سے محفوظ رکھے، مجھے عدل، اعتدال اور رحمت کے راستے پر قائم رکھے، اور میرا خاتمہ ایمان، عافیت اور خیر کے ساتھ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
15/6/2026
Abdul Ahad Nadwi