قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات
اسلامی عقیدے کے مطابق جادو محض ایک وہم یا افسانہ نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم نے اس کے وجود اور اس کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی فن ہے جو انسان کے ایمان اور دنیا دونوں کے لیے مہلک ہے۔
جادو کی حقیقت اور نقصان
قرآن کریم نے جادو کو ایک ایسے علم کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کا سیکھنا سراسر نقصان کا باعث ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ”
(اور وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں نفع نہیں دیتی۔)
اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جادو کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے روحانی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ جادوگر اپنے ناپاک مقاصد کے لیے شیاطین کا سہارا لیتا ہے، جو اسے اللہ کی بندگی سے دور کر کے کفر کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔
نظر بندی اور تخیلاتی جادو
جادو کی ایک قسم وہ ہے جس میں جادوگر انسانی حواس، بالخصوص نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے "سحرِ تخئیل” یا نظر بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی صورت میں دی ہے:
”يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ”
(ان کے جادو کے زور سے موسیٰ علیہ السلام کے خیال میں یہ بات آئی کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔)
یہاں جادوگروں نے رسیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ایسا اثر کیا تھا کہ انہیں وہ رسیاں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جادو انسان کی نفسیات اور ادراک کو متاثر کر سکتا ہے۔
خاندانی بگاڑ اور میاں بیوی میں تفریق
جادو کا ایک بدترین سماجی پہلو یہ ہے کہ اسے انسانی رشتوں کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جادوگر ایسے عمل سیکھتے ہیں جن کے ذریعے وہ میاں بیوی جیسے مقدس اور مضبوط رشتے میں دراڑ ڈال سکیں:
”فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ”
(پھر لوگ ان سے وہ عمل سیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں۔)
یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ جادو کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے، نفرت اور بدگمانی پیدا کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد معاشرتی اکائی (خاندان) کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔
بیماری اور قرآنی علاج (معوذتین)
جادو کے جسمانی اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ احادیثِ مبارکہ اور شانِ نزول کی روایات بتاتی ہیں کہ جب لبید بن اعصم نے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا، جس کے نتیجے میں آپ ﷺ پر جسمانی ثقل اور بیماری کے اثرات ظاہر ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے حل کے طور پر سورہ الفلق اور سورہ الناس نازل فرمائیں۔
ان سورتوں (معوذتین) کے ذریعے اللہ نے سکھایا کہ:
ہر قسم کے شر اور جادو کی گرہوں (النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ) سے پناہ مانگی جائے۔
حاسدین کے حسد سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ لی جائے۔
حاصل تحریر
قرآن کریم جادو کی تاثیر کو تسلیم تو کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ عقیدہ بھی پختہ کرتا ہے کہ جادوگر اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ایک مومن کے لیے جادو کا بہترین توڑ اللہ پر توکل، نماز کی پابندی اور مسنون دعاؤں (بالخصوص معوذتین اور آیت الکرسی) کی تلاوت ہے۔ جادو کا سہارا لینا یا اس پر یقین رکھنا کہ وہ اللہ کی مشیت سے آزاد ہے، ایمان کے منافی ہے۔