یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
🖋️ احمد نور عینی
یہ دور ایک ایسے ابراہیم کی تلاش میں ہے جو تہذیبِ حاضر کے تراشیدہ بتوں اور دانش فرنگ کی من موہ مورتیوں کو زمیں بوس کرے، دورِ خلیل کے آزر نے تو صرف پتھر کے بت تراشے تھے مگر دورِ جدید کے آزروں نے ترشوائے صنم اور، ایسا نہیں ہے کہ پتھر کے بت اس دور میں نہیں پائے جاتے ، ضرور پائے جاتے ہیں، مگر یہ دور سنگ وگل کے بجائے فکر ونظر کے بتوں کا دور ہے، ان بتوں کے آگے پجاری جبینِ سر کے بجائے جبینِ عقل خم کرتے ہیں، اس دور کے ابراہیم کو سنگ وگل کے بتوں کے ساتھ ساتھ فکر ونظر کے بتوں سے بھی نمٹنا ہے، مغربی افکار وباطل نظریات، ملحدانہ خیالات وغیر اسلامی نظام ہائےحیات یہ وہ بت ہیں جنھیں اس دور میں پوجا جاتا ہے۔
ان میں ایک بت ہے قومیت کا ، یہ ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا ہے، اس سے امت مسلمہ خانوں میں بٹتی ہے اور قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے، جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اسلام اس کا مخالف نہیں ہے، کیوں کہ اسلام دین فطرت ہے اور وطن سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے، اس لیے اسلام حب وطن کے جذبات کا پورا احترام کرتا ہے؛ مگر اس بت کے پجاری وطن کا درجہ محبوب سے بڑھا کر معبود تک پہنچاتے ہیں، سرحدی لکیروں کی بنیاد پر مسلمانوں کو شہری اور اجنبی کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں، رنگ ونسل کو مذہب پر مقدم کرکے وطن کو ہیئت اجتماعیہ انسانیہ کے اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس بت کی پوجا کا اثر ہے کہ مسلمانوں کی مرکزیت عنقا ہوئی، دار الاسلام کے حصے بخرے ہوئے اور ہر حصے نے مستقل وجود کی شکل اختیار کی، شیرازۂ وحدت کے تار وپود ہواؤں میں بکھر گئے، اور بالآخر
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
ایک بت ہے ہیومنزم کا، لغوی مفہوم کے اعتبار سے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے، مگر یہاں بات اصطلاحات کی ہورہی ہے، اور یہ اپنے اصطلاحی مفہوم میں بہت سنگینی لیے ہوئے ہے، یہ انسانی عمل کے محرک (Motive) کو تبدیل کردیتا ہے، انسانی عمل کا محرک رضائے الہی ہونا چاہیے؛ مگر ہیومنزم رضائے انسانی کو اصل بنا دیتا ہے، مثلا زنا بالرضا سے خواہ خدا ناراض ہوتا ہو مگر چوں کہ یہ عمل فریقین کی رضامندی سے انجام پاتا ہے اس لیے ہیومنزم کے پجاریوں کو اس میں اعتراض کی کوئی بات نظر نہیں آتی، ہیومنزم انسانیت نوازی کے خوش کن نعروں کے ساتھ آتا ہے مگر حقیقت میں وہ انسان کو ہی سب کچھ قرار دے کر خدا کی خدائی سے انسانیت کو بے نیاز؛ بل کہ بیزار کردیتاہے۔
ایک بت ہے فیمنزم (حریت نسواں) کا، یہ بت چراغِ خانہ کو شمعِ محفل بناتا ہے، اس دور کے شاعر وصورت گر وافسانہ نویس کے اعصاب پر عورت کو سوار کرتا ہے، جس کی مشت خاک شرف میں ثریا سے بڑھ کر ہے اور ہر شرف جس کے درج کا در مکنوں ہے اسے گھر سے نکال کر اور اس کے سربسے حیا کی چادر اتار کر ہوسناک نگاہوں کی لذت اندوزی کا سامان بناتا ہے، امور خانہ میں صنفی مناسبت سے تقسیم کار کے اصول پر عمل کرنے والے مردوزن کو ایک دوسرے کا فریق بنادیتا ہے، اس بت کے پجاریوں کی مت ماری گئی ہے، ایک عورت ریسپشن پر بیٹھی دنیا بھر کے مردوں کا استقبال کرے تو یہ ترقی اور آزادی ہے ، جب کہ وہی عورت اگر گھر میں اپنے گھر لوٹے تھکے ماندے شوہر کا استقبال کرے تو یہ غلامی اور قدامت پسندی ہے، ایک عورت ایر ہوسٹس بن کر پرواز کناں مسافروں کو کھانا پیش کرے تو یہ وسعت ذہنی اور روشن خیالی ہے ، جب کہ وہی عورت گھر میں اپنے شوہر اور بچوں کو کھانا پیش کرے تو یہ تنگ نظری اور تاریک خیالی ہے، ہاں ، اس حقیقت سے مجال انکار نہں کہ فیمنزم کی ترویج میں وہ مرد بھی برابر کے شریک ہیں جو عورتوں کو انسانی حقوق سے بھی محروم رکھتے ہیں، ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کرتے ہیں، ان کی جائز خواہشات کو بھی کچل دیتے ہیں، اور جن پر وقار کا ایسا بخار رہتا ہے کہ ان کی موجودگی گھر کی عورتوں کو زنداں کا احساس دلاتی ہیں، ایسے مردوں کا یہ طرز عمل فیمنزم کے پجاریوں کو موقع فراہم کرتا ہے اور اس کے رد عمل میں عورتیں فیمنسٹ بن جاتی ہیں۔
ایک بت ہے ڈارونزم کا، دور جدید کا الحاد اس بت کے آگے سجدۂ تشکر بجالاتا ہے کہ اس نے الحادی فکر کو پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا، یہ بت نہ صرف یہ کہ خدا سے رشتہ منقطع کرتا ہے ؛ بل کہ اول بشر سے بھی ناطہ توڑ دیتا ہے، اس بت کے پجاریوں کی عقل نہ جانے کہاں گھاس چرنے گئی کہ ان کی نظر میں انسانوں اور بندروں کے جد امجد ایک ہیں، یہ لوگ مفروضات کو قطعیات کی حیثیت دیتے ہیں، ان سے کوئی پوچھے کہ تم جو بندر سے انسان تک کے حیاتیاتی سفر کا نقشہ دکھاتے ہو، اس نقشہ کا پہلا بندر تو اس وقت موجود ہے اور آخری بندر یعنی انسان بھی اس وقت موجود ہے، ہوسکتا ہے ایک دو بندر اور مل جائیں، مگر بیچ کے باقی بندر کہاں چلے گئے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ ارتقا کا یہ سفر انسانوں پر کیوں رک گیا؟ ہزاروں سال سے انسان اپنی اسی شکل میں موجود ہے، یہ ارتقا پذیر ہوکر کسی اور جاندار کی شکل اختیار کیوں نہیں کرسکا؟ ڈارونزم کا بت ایسا بت ہے کہ جو اس کے آگے سر جھکاتا ہے اس کی نظر میں الہیات، روحانیت اور مذہبی اقدار کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا۔
ایک بت ہے جمہوریت کا، جس کا چہرہ تو روشن ہے مگر اندروں چنگیز سے تاریک تر ہے، یہ وہی ساز کہن ہے جس کے پردوں میں غیر از نوائے قیصری کچھ نہیں، اورجب انسان ذرا خود شناس وخود نگر ہوا تو وقت کے ابلیسوں نے شاہی کو جمہوری لباس پہنادیا۔ گو کہ جمہوریت میں پائی جانے والی اسلام موافق خصوصیات کی بنیاد پر بہت سے لوگ اسے مشرف بہ اسلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ایک ریسرچ کا موضوع ہے، ہمیں اس سے یہاں بحث نہیں ہے ، جمہوریت سے یہاں ہماری مراد وہ نظام حکومت ہے جس میں فیصلے کا اختیار خدا کے بجائے اکثریت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، حتی کہ یہ اہم ترین فیصلہ کہ خدا کی دھرتی پر خدا کا حکم چلے یا نہ چلے مملکت کی اکثریت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جیت کر آنے والی پارٹی خواہ کیسی ہی اسلام پسند کیوں نہ ہو مملکت کے دستور کو اسلامی بنانے کے لیے اسے ریفرینڈم کرانا پڑے گا اور جب اکثریت اس کے حق میں ووٹ دے گی تبھی اسلامی دستور کا عملی انطباق ہوگا، اسی وجہ سے ہم نے مروجہ جمہوریت کو اس دور کا بت کہا ہے کہ اس میں خدائی حکم کا نفاذ بھی اکثریت کی رضامندی کا محتاج ہے۔
ایک بت ہے سرمایہ داریت کا، اس بت کے پجاری مکر کی چالوں سے بازی لے گئے ؛ جب کہ مزدور انتہائے سادگی سے مات کھا گیا، اس بت کی پوجا کا اثر ہے کہ کھیت سے خود دہقاں کو روزی میسر نہیں ہوپاتی، اس بت کے پجاری دولت کے بھوکے ہوتے ہیں، انھیں صرف پیسے سے غرض ہوتی ہے، یہ تعلیم کو کاروبار اور مریضوں کو پیسہ اگلنے والا آلۂ خود کار بنالیتے ہیں، یہ جس میدان میں جاتے ہیں عوام کی جیبوں پر بالکل اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے بھوکے بھیڑیے کسی ناتواں بکری پر ، اس بت کے پروہتوں کو نہ اخلاقیات سے کوئی مطلب ہوتا ہے نہ انسانیت سے کوئی سروکار۔
ایک بت ہے سوشلزم کا، اس بت پر غریب پروری ، مسکین نوازی اور مزدوروں کی خود مختاری کا خوب صورت پیرہن چڑھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
ایک بت ہے سیکولرزم کا، اس بت کے پروہت مذہب کو فرد تک محدود رکھتے ہیں، خدا کی خدائی کو زیادہ سے زیادہ ذاتی اور نجی زندگی تک ہی قبول کرتے ہیں، سیاست سے دین کو جدا کرکے چنگیزی کو راہ دیتے ہیں ، اور ایوانِ حکومت کو ہوس کی امیری اور ہوس کی وزیری کی تماشہ گاہ بناتے ہیں، معیشت وتجارت سے مذہب کو نکال کر سرمایہ ہی کو خدا مان لیتے ہیں، سرمایہ کےحصول کے لیے اخلاقیات کی ساری بندشیں توڑ ڈالتے ہیں، تعلیم گاہوں کے ’’اقرأ‘‘ کو ’’اسم رب‘‘ سے بیگانہ کرتے ہیں، اور نئی پود کو زمزمِ مذہب کے آبِ حیات بخش سے محروم رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں الحاد پنپتا ہے اور خدا بیزاری کا زہرہلاہل نئی نسل کے رگ وپے میں پیوست ہوتا ہے، اس بت کے پروہت سماجی زندگی سے بھی مذہب کو بے دخل کرتے ہیں، پہلے کہتے تھے کہ مذہب کو اپنے گھر تک رکھو، مگر اب تو گھر تک بھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے، گھر کے ذمہ دار افراد مذہب پر عمل کرنے کے لیے گھر کے دیگر ارکان کو مجبور نہیں کرسکتے ، یہاں تک کہ باپ بھی بیٹے کی ذاتی زندگی کے بارے میں اس کا احتساب کرنے کا حق نہیں رکھتا، یہ سب اسی سیکولرزم کے بت کی کرشمہ سازیاں ہے۔اس بت کے پجاریوں کی یہ بات کتنی عجیب ہے کہ خدا کا عمل دخل فرد کی ذاتی زندگی میں قابل قبول ہے مگر افراد سے مرکب اجتماعی زندگی میں خدا کا عمل دخل قابل قبول نہیں ہے، گویا فرد تو بندۂ خدا ہو سکتا ہے؛ مگر فرد کا مجموعہ جب مل کر افراد بن جائیں تو وہ بندگان خدا نہیں ہیں۔ أَلا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ!
ایک بت ہے مغربی تہذیب کا، جو گوکہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے ، مگر اس میں ایسی چمک ہے کہ نظر خیرہ ہوجاتی ہے، اس سے وہی آنکھ محفوظ رہتی ہے جس میں خاک مدینہ ونجف کا سرمہ لگا ہو، یہ تہذیب فساد قلب ونظر اور محرومی سوز جگر ہے، رقابت، خود فروشی، ناشکیبائی و ہوسناکی اس کی سوغات اور بے کاری، مے خواری ، عریانی و افلاس اس کی فتوحات ہیں، نہ اس کی نظر نظیف ہے اور نہ اس کی روح عفیف، اس کی مثال ایسی ہے جیسے شاخ نازک کا آشیانہ یا چراغ سحر کاپروانہ۔
ایک بت ہے برہمنیت اور ذات پات کا، یہ بت نیا نہیں ہے، بہت پرانا ہے، ہزاروں سال پرانا، ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ جمہوری دور کی مجبوری کی وجہ سے اس نے اپنے چہرے پر ہندوتو کا نقاب ڈال لیا ہے، جس نے کچھ لوگوں کو غلط فہمی میں اور کچھ لوگوں کو خوش فہمی میں ڈال رکھا ہے۔ بھارت کے ابراہیم کے لیے اس بت کا توڑنا ناگزیر ہے، اس کو نظر انداز کر کےاس ملک میں کار خلیل انجام نہیں دیا جاسکتا، اس بت کے پروہت انسانوں کو افضل ومفضول ، برتر وبدتر، اور چھوت واچھوت کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں، انسانی مساوات ان کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی، سب سے بدتر حالت تو اچھوتوں کی ہے کہ انھیں جانوروں جیسا ؛ بل کہ بعض اعتبار سے جانور وں سے بدتر قرار دیا گیاہے، اس بت کو شاطر برہمن نے اس خوبصورتی سے تراشا ہے اور ایسی مضبوطی سے بنایا ہے کہ گوتم بدھ، مہاویر اور گرونانک جیسے مہا پرشوں کی ضرب کاری بھی اس بت کو زمیں بوس نہ کرسکی، یہ بت آج بھی پوری ہیبت وسطوت کے ساتھ جلوہ گر ہے، جس کی تباہ کاری، عیاری اور مکاری کو دیکھ کر دل سے یہ آواز آتی ہےکہ
آہ! شُودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے
دردِ انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
ایک بت ہے اہل حرم کے سومنات کا، اس بت سے مراد وہ ’ملایان ِسو ‘اور ’پیران ِپندار خو‘ ہیں جو وقتِ قیام سجدے کی اہمیت سمجھاتے ہیں، جو باطل کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ پاکر خاک کی آغوش میں محو تسبیح ومناجات رہتے ہے، اور اپنی بزدلی پر مصنوعی زہد کا پردہ ڈالتے ہیں، جو گفتار کے غازی تو رہتے ہیں مگر کردار سے عاری ہوتے ہیں، جن کی آستین شب تار میں بے یدِ بیضا ثابت ہوتی ہے، جو من کی دنیا سے دور اور بادۂ حبِ منصب ودولت سے مخمور رہتے ہیں، جن کی زبانوں پر مصلحت پسندی کے چھالے اور لبوں پر مفاد پرستی کے تالے پڑے ہوتے ہیں، جو اپنی تن آسانی کی خاطر باطل سے سمجھوتہ کر بیٹھتے ہیں، اور اپنی حیلہ جو وتاویل خو صلاحیت کے سہارے اس سمجھوتے کا جواز بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں، جن کے خرقۂ سالوس میں شاطر مہاجن چھپا ہوتا ہے، جو اپنے آپ کو اپنی قوم کا برہمن سمجھتے ہیں کہ برہمنوں کی طرح نہ ان کا کوئی احتساب ہوتا ہے اور نہ ان کے معاملات کا کوئی حساب۔اللهم لا تجعلنا منهم. واضح رہے کہ اہل حرم کے سومنات کے بت سے مراد وہ مخلص علما اور پیرانِ با صفا نہیں ہیں جو وسعتِ افلاک میں تکبیر مسلسل لگاتے ہیں، جو بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چلتے ہیں، ہزار خوف کے باوجود جن کی زبان ان کے دل کی رفیق ہوتی ہے، جو مشکل سے مشکل حالات میں بھی استغنا کی زرہ زیب تن کیے ہوتے ہیں، جن کا دل ہر دو جہاں سے غنی اور جن کا سینہ حبِ دنیا سے تہی ہوتا ہے، جن کا یقین بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی کا کام کرتا ہے، عشقِ جسور وفقر ِغیور جن کی حیات دوروزہ کا زاد راہ ہوتا ہے، جن کی شخصیت سراپا علم ریز، روحانیت خیز، اخلاص بیز اور زہد واتقا سے لبریز ہوا کرتی ہے، جو ایسے خود آگاہ وخدا مست ہوتے ہیں کہ ان کی صحبت وتربیت گداؤں کو شکوہ جم وپرویز عطا کرتی ہے، ان کی قلندرانہ نگاہ فکر وعمل کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے، اور ان کے نفسِ گرم کی تاثیر خاکِ چمنستاں کو شرر آمیز بنادیتی ہے، ایسے علما ہماری سر آنکھوں پر، حاشا وکلا کہ ہم اللہ کے ان کے ولیوں کو کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب کریں۔ اللهم اجعلنا منهم.
اس دور کے بڑے بتوں میں یہ چند بت ہیں، ان کے علاوہ اور بھی چھوٹے بڑے کئی بت ہیں جن سے باطل کے صنم خانے آباد ہیں اور کسی ابراہیم کی آہٹ نہ پاکر یہ بتانِ عصر حاضر خورسند وشاد ہیں:
بت صنم خانوں میں کہتے ہیں : مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
آج یہ پورا جہاں باطل افکار ونظریات، ملحدانہ خیالات وتصورات اور غیر اسلامی نظام ہائے حیات کا صنم کدہ اور بت خانہ بنا ہوا ہے، اس صنم کدے اور بت خانے کو مسمار کرنے کے لیے یہ دور اپنے ابراہیم کی راہ دیکھ رہا ہے:
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ
زمانہ ایک ایسے ابراہیم کے لیے چشم براہ ہے جو دور حاضر کے دیدہ زیب ودلفریب بتوں کو لا الہ الا اللہ کی ضرب کاری کے ذریعہ پاش پاش کرے، اللہ کے بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے کر آئے، اپنے ہاتھوں میں پیمانۂ الا اور مئے توحید لے کر صفت جام پھرے، اللہ کے کلمہ کی بلندی وبالادستی کے لیے ’’فک کل نظام‘‘ کو اپنا شعار بنائے، مال ودولتِ دنیا ورشتہ وپیوند کو بتانِ وہم وگماں سمجھے، نمرود ِوقت کے دربار میں لا الہ الا اللہ کا پیغام سنائے، راہ عزیمت کا مسافر بن کر آتش نمرود میں ڈالے جانے کے لیے تیار رہے، خدا کے حکم کے آگے اپنا سب کچھ قربان کردے، اور اپنی قوم سے خطاب کرکے کہے:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الأنعام: 79)
میں نے اپنا رخ یکسو ہوکر اس خدا کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
زمانہ ایک ایسے ابراہیم کا منتظر ہے جو لا الہ الا اللہ کا رمز آشنا ہو، جو یہ سمجھتا ہو کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عالم تکوینی میں خدا کے سوا کسی کا حکم نہیں چل سکتا ، اسی طرح عالم تشریعی میں خدا کے سوا کسی کا حکم نہیں چلایا جاسکتا، خدا کی دھرتی پر صرف خدا کا قانون چلے، وہی معاشی نظام قابل قبول ہے جو خداکی شریعت کے مطابق ہو، وہی سیاسی نظام منظور ہے جو خدا کے قوانین کے موافق ہو، وہی سماجی نظام قابل انطباق ہے جو خدا کی شریعت سے ہم آہنگ ہو، وہی تعلیمی نظام لائق تنفیذ ہے جو خدا کی تعلیمات سے موافقت رکھتا ہو، ہر وہ نظام حیات جو خدا کے بتائے ہوئے اصولوں سے متصادم ہو اس کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا جائے ، اور ہر وہ فکر وفلسفہ جو خدا سے بے نیاز وبیزار کرے اس کی جڑوں پر نشتر چلایا جائے، یہ ہے وہ نکتہ ہے جو لا الہ میں پوشیدہ ہے:
صنَمکدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لااِلٰہ میں ہے
اوپر کے بت تو وہ ہیں جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ، مگر کچھ بت ایسے بھی ہیں جو چھپے ہوئے ہیں، وہ کہیں اور نہیں، اپنوں کی آستینوں میں چھپے ہوئے ہیں، اس بات سے مجال انکار نہیں کہ ہمارے درمیان ایسے بندگانِ مولا صفات بھی ہیں جو اپنی آستینوں میں ید بیضا لیے بیٹھے ہیں:
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ،ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
انہی خرقہ پوشوں کے دم سے عالم تیرہ وتار میں روشنی کی کرنیں بکھری نظر آتی ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے اور بہت تلخ حقیقت ہے کہ ہماری صفوں میں ایسے پیران حرم بھی ہیں جو اپنی آستینوں میں بت چھپائے بیٹھے ہیں، ان بتوں میں نفاق وابن الوقتی، مصلحت انگیزی، تملق وچاپلوسی، مفاد پرستی وخود غرضی، پندار برتری، جذبۂ خود نمائی اور آمریت پسندی کے بت قابل ذکر ہیں، اس دور کے ابراہیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آستین کے ان بتوں سے بے خوف ہوکر حق کا برملا اعلان کرے:
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
بتکدوں میں اذان حق دینا اور بت پرستوں تک لا الہ الا اللہ کا پیغامِ سرمدی پہنچانا اس امت کا اولین فرض منصبی ہے، خدا کے بندوں کو خدا کی بندگی کی طرف لانے کے لیے یہ امت برپا کی گئی ہے، خدا کی نصرت اس فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہے، ہمارے ملک بھارت میں جہاں مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کیا جارہا ہے، اس کام کی اہمیت وضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، موجودہ حالات میں برادران وطن کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان تک حق کا پیغام پہنچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اس فریضہ سے پہلو تہی خوفناک وخطرناک انجام کا باعث بنے گی؛ لہذا یہ ناگزیر ہے کہ براہیمی نسبت رکھنے والے ساقیان مے توحید شراب کہن کا وہی جام گردش میں لائیں اور اپنے خون جگر سے لالۂ ہندی کی حنا بندی کریں:
حنا بند ِعروسِ لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے ، معمار جہاں تو