معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
مولانا ابو الجیش ندوی
پس منظر
اسلامی فقہ محض چند صدیوں پرانے فتاویٰ یا خشک قوانین کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک نظامِ حیات ہے جو ہر دور کے انسانی مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں نے مسلم امہ کے سامنے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان حالات میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ "ہم فقہ کو اپنے معاصر واقعاتی حقائق کے ساتھ کیسے جوڑیں؟”
اس سلسلے میں فقہ کی تجدید اور اسے جدید زندگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 6 بنیادی راستوں پر مشتمل ایک جامع روڈ میپ درج ذیل ہے:
1. اسلوبِ بیان کی تجدید: جدید اور واضح زبان
فقہ کو عصرِ حاضر میں نافذ کرنے کا پہلا مرحلہ اس کے ابلاغ (Communication) کو درست کرنا ہے۔ صدیوں پہلے لکھی گئی فقہی کتب کی زبان اور اصطلاحات اپنی جگہ نہایت قیمتی ہیں، لیکن آج کا عام انسان اور یہاں تک کہ جدید جامعات کے طلبہ بھی اس زبان سے مانوس نہیں ہیں۔ تجدید کا تقاضا یہ ہے کہ فقہی احکام کو آسان، عام فہم اور جدید عربی یا مقامی زبانوں کے اسلوب میں پیش کیا جائے۔ جب تک شریعت کے قوانین کی زبان واضح اور عصرِ حاضر کے مزاج کے مطابق نہیں ہوگی، تب تک عام معاشرہ اس سے رہنمائی حاصل نہیں کر سکے گا۔
2. دلائل کی مرکزیت:
قرآن و سنت سے براہِ راست تعلق
بعض اوقات طویل عرصے تک ایک ہی مکتبِ فکر کی پیروی کے نتیجے میں لوگ فقہی آراء اور فتاویٰ کو تو یاد رکھتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے موجود اصل ماخذ کو بھول جاتے ہیں۔ تجدید کا دوسرا اہم راستہ یہ ہے کہ ہر فقہی جزئیے اور حکم کو براہِ راست قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کے نصوص (متون) کے ساتھ جوڑا جائے۔ جب عوام اور خواص کو کسی فیصلے کے پیچھے موجود الٰہی وحی کی دلیل نظر آتی ہے، تو ان کا اطمینانِ قلب بڑھتا ہے اور فقہ میں تقلیدی جمود کی جگہ علمی تحرک پیدا ہوتا ہے۔
3. اصولی بنیادیں: کلی قواعد پر استوار کرنا
فقہ اسلامی کا حسن یہ ہے کہ یہ بکھرے ہوئے مسائل کا ڈھیر نہیں، بلکہ چند عظیم اور آفاقی اصولوں پر قائم ہے، جنہیں ‘قواعدِ فقہیہ’ کہا جاتا ہے (جیسے: مشقت آسانی کو کھینچتی ہے، یا نقصان کو دور کیا جائے گا)۔ معاصر دور میں روزانہ سینکڑوں نئے مسائل (مثلاً ڈیجیٹل کرنسی، جینیاتی انجینئرنگ، وغیرہ) جنم لے رہے ہیں۔ ان تمام مسائل کا انفرادی حل ڈھونڈنے کے بجائے، اگر فقہ کی بنیاد ان کلی قواعد پر رکھی جائے، تو نئے پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل کو ان بڑے اصولوں کے تحت لا کر آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
4. مقاصدِ شریعت: احکام کی حکمتوں کا ادراک
اسلام کا کوئی بھی حکم مصلحت اور فائدے سے خالی نہیں ہے۔ شریعت کا اصل مقصد انسانیت کی جان، مال، عقل، نسل اور دین کی حفاظت کرنا ہے۔ معاصر دنیا میں فقہ کو متحرک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ احکام کو محض ‘حرام و حلال’ کی خشک پٹیوں کے طور پر پیش نہ کیا جائے، بلکہ ان کے پیچھے چھپی حکمت، علت اور انسانی مصلحت کو اجاگر کیا جائے۔ جب دنیا یہ دیکھے گی کہ اسلامی قوانین دراصل انسانیت کی فلاح کے لیے ہیں، تو ان قوانین کی قبولیت کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔
5. تقابلی مطالعہ: اسلامی فقہ اور وضعی قوانین کا موازنہ
آج کی دنیا بین الاقوامی قوانین اور انسان کے بنائے ہوئے (وضعی) دستاورات کے تحت چل رہی ہے۔ اسلامی فقہ کو عالمی سطح پر متبادل کے طور پر پیش کرنے کے لیے ‘المقارنة التشريعية’ (Comparative Jurisprudence) کی ضرورت ہے۔ یعنی مسلم فقہاء موجودہ دور کے سول، کرمنل اور تجارتی قوانین کا گہرا مطالعہ کریں اور ان کا موازنہ اسلامی فقہ سے کریں۔ اس تقابل سے نہ صرف یہ ثابت ہوگا کہ اسلامی قانون معاصر قوانین سے کہیں زیادہ جامع اور فطری ہے، بلکہ جدید قوانین کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے شریعت کی روشنی میں متبادل بھی فراہم کیے جا سکیں گے۔
6. معاصر سماجی علوم پر گرفت (سوشل سائنسز)
آج کے دور میں معاشروں کی سمت کا تعین سماجی علوم (سوشیالوجی، اکنامکس، سائیکالوجی اور پولیٹیکل سائنس) کر رہے ہیں۔ فقہ کی تجدید تب تک نامکمل ہے جب تک کہ وہ ان علوم پر اثر انداز نہ ہو۔ جدید فقہاء کا کام یہ ہے کہ وہ ان علوم کے ماہرین کے ساتھ مل کر ایسے احکام اور ضابطے (Regulatory Frameworks) وضع کریں جو ان علوم کے نظریات کو اسلامی اقدار کے دائرے میں لا سکیں۔ اس طرح، جدید سیکولر علوم کو شریعت کے تابع کر کے انسانیت کو گمراہی سے بچایا جا سکتا ہے۔
حاصلِ تحریر
یہ چھ نکاتی لائحہ عمل یہ واضح کرتا ہے کہ فقہ اسلامی کی تجدید کا مطلب شریعت کے بنیادی اصولوں کو بدلنا نہیں ہے، بلکہ اصولوں کی مضبوطی کے ساتھ ان کے اطلاق (Application) کو جدید بنانا ہے۔ زبان کو آسان کرنا، دلیل سے جوڑنا، قواعد کا استعمال، مقاصد کو سامنے رکھنا، موازنہ کرنا اور سماجی علوم پر گرفت حاصل کرنا—یہ وہ چھ راستے ہیں جن پر چل کر ہی فقہ اسلامی دوبارہ دنیا کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتی ہے اور مسلم معاشرہ اپنی مذہبی جڑوں سے جڑے رہ کر معاصر دنیا میں ترقی کر سکتا ہے۔