◈◈◈ رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو ◈◈◈

✍️: عبیداللّٰہ صدیقی
دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
یوں تو تاریخ عالم کے چند اوراق خون سے لکھے گئے ہیں، مگر عالم اسلام کی حرماں نصیبی کہ یہ قربانی بارہا اِس کے ذمے آئی، غیر مذہبی مقتدرہ سلطنتوں کے ہونٹوں کی خشک پپڑیاں جب جب ظلم و استبداد کی تشنہ خوں ہوئیں، تب تب انہوں نے اپنے دندان نِیش مسلمانوں کی بُنِ گردن میں گڑا کر خون چوسا ہے اور سیرابی حاصل کی ہے، غزوۂ احد و خندق ہو یا معرکۂ کربلا، واقعہ حَرّہ ہو یا اندلسی مسلمانوں کے زوال کی داستان، پندرہویں صدی کا مظلوم اسپین ہو یا روہنگیوں کی زیر استبدادی، عراق و شام کی لہو لہان صدیاں ہوں یا ارض فلسطین کی بلکتی ہوئی تصویریں، الغرض:
_جب بھی اہل چمن کو ضرورت پڑی خون ہم نے دیا گردنیں پیش کیں_
پوری دنیا میں اس وقت ہندوستانی حالات کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،𝐒𝐥𝐨𝐰 𝐏𝐨𝐢𝐬𝐨𝐧 گرچہ علم سُمّیات نے متعارف کرایا مگر اِس کی کاربردری موجودہ ہندوستانی سیاست نے کی، بایں طور کہ سماجی ہم آہنگی کو دور کرنے کے لیے 𝐓𝐖𝐄𝐄𝐓 سے لے کر کتھاؤں تک جانبدارانہ اور مذہبی بیانات کا وہ لامتناہی سلسلہ جس سے جدید نسل کی فکری و تہذیبی شناخت کو نشانہ بنا کر مشتعل کیا گیا اور باہمی اعتمادات کی رسی کمزور کی گئ اور نتیجتاً انسانی دشمنی وجود میں لائی گئی، 𝐈𝐍𝐃𝐈𝐀 𝐇𝐀𝐓𝐄 𝐋𝐀𝐁 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق _”٢٠٢٥ٔء میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے ١٣١٨ واقعات ریکارڈ کئے گئے، مجموعی طور پر ریکارڈ شدہ تقاریر میں سے ٩٨٪ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئیں، وہیں بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں سب سے زیادہ ہیٹ اسپیچ کا مشاہدہ کیا گیا”_ سال ٢٠٢٤ء میں ایسے ١١٦٥ اور ٢٠٢٣ء میں ٦٦٨ معاملے درج کئے گئے تھے۔
بات صرف مکالمات اور مباحثات تک محدود نہیں رہ جاتی، معاشرتی تعصب اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی آتش سیال نے جب سرزمین ہند کو خاکستر کرنا چاہا تو بغض و عداوت کا جدید نقاب اوڑھ کر ہجومی تشدد (𝐌𝐎𝐁 𝐕𝐈𝐎𝐋𝐄𝐍𝐂𝐄) جیسا حربہ اپنایا گیا، جس کی سربراہی 𝐑𝐒𝐒 اور پشت پناہی موجودہ ہندوستانی سیاست نے کی، نتیجتاً تشدد و انتہا پسندی کا ایسا ماحول تیار کیا گیا کہ صرف شبہات کی بنیاد پر بے گناہ افراد کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور متعدد گھروں کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوئیں، 𝐂𝐞𝐧𝐭𝐫𝐞 𝐟𝐨𝐫 𝐒𝐭𝐮𝐝𝐲 𝐨𝐟 𝐒𝐨𝐜𝐢𝐞𝐭𝐲 𝐚𝐧𝐝 𝐒𝐞𝐜𝐮𝐥𝐚𝐫𝐢𝐬𝐦 کی سابقہ رپورٹس کے مطابق ٢٠١٨ء سے ٢٠٢٥ء تک موب لنچنگ کے تقریباً ٢٠٥ واقعات درج ہوئے، اب یہ تعداد مستزاد ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی میں موضوع بحث وہ فتنۂ ارتداد ہے جسے 𝐁𝐋𝐓 جیسی متنازع اصطلاح سے موسوم کیا گیا ہے، کسی بھی مذہب یا خاندان کی عفت و عصمت کا مدار عورتیں بھی ہوا کرتی ہیں، زندگی کی دوڑ میں بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ عورت صرف ایک جنس نہیں بلکہ کسی بھی قوم یا خاندان کی بنیادی شناخت ہوا کرتی ہے جو معاشرے اور مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اسلام دشمنوں نے مسلمان بچیوں کو نشانہ بنانے کے لئے 𝐁𝐋𝐓 جیسی سازشی تحریک کی بنیاد ڈالی، جسے سوشل میڈیا اور سیاسی مباحث کے ذریعہ مقبولیت حاصل ہوئی، 𝐓𝐡𝐞 𝐓𝐢𝐦𝐞𝐬 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐝𝐢𝐚 نے دعوی کیا کہ: "بعض واقعات اور ویڈیوز کو غیر مصدقہ طور پر "بھگوا لَو ٹریپ” سے جوڑ دیا جاتا ہے” جبکہ بعد میں 𝐁𝐎𝐎𝐌 کی شائع کردہ محقق و مصدق خبروں سے یہ دعوی نہ صرف جھوٹا ثابت ہوا بلکہ سیکولرزم بھی بے نقاب ہوا اور یہ دھوکا دہی تحریک ایک حد تک کامیاب بھی ہوئی۔
بعض شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد کے دوران صرف مسلمان گھروں، دکانوں کو نشانہ بنا کر املاکی نقصانات پہنچانے کی اطلاعات نہ صرف قوم و ملت بلکہ اس ہمہ گیر ملک کے لیے بھی شرمندگی کی باعث ہیں جہاں ارباب حکومت مساوات کے نام پر بھیک میں ووٹ مانگتے ہوں، مسلمانوں کو غیر مناسب طور پر متاثر کر کے ان اقدامات کی مناسبت قانون سے بتائی گئی جبکہ یہ 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐜𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐏𝐮𝐧𝐢𝐬𝐡𝐦𝐞𝐧𝐭 کا ناقابل قبول وہ اقدام تھا جس کی آئین ہند میں کوئی جگہ نہیں، 𝐓𝐡𝐞 𝐄𝐜𝐨𝐧𝐨𝐦𝐢𝐜 𝐓𝐢𝐦𝐞𝐬 کی آخری املاک متعلق رپورٹ بتاتی ہے کہ: "مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کِرن رَجِیْجَوْ نے انکشاف کیا کہ ہندوستان بھر میں ٨,٩٢٩ وقف املاک کو تجاوزات کا سامنا ہے”، 𝐌𝐨𝐧𝐞𝐲 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐫𝐨𝐥 کے مطابق: _”١٣,٧٢٣ جائیدادیں عدالتی تنازعات اور ٩٩٤ متنازع منتقلی کے زمرے میں درج ہیں”_، ٧ فروری ٢٠٢٤ کو 𝐀𝐦𝐧𝐞𝐬𝐭𝐲 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 نے شائع کیا کہ: _”فرقہ وارانہ تشدد اور مظاہروں کی اقساط کے بعد متعدد ریاستوں میں بے شمار جائیدادوں کی تعزیراتی مسماری کا تجزیہ کیا ہے، اسی دوران ٢٠٢٠ء میں دہلی، ٢٠٢٣ء میں نوح، ٢٠٢٤ء میں ہلدوانی، ٢٠٢٦ء میں تریپورہ، اجین اور جبل پور میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران اکثر مسلمان املاکیں متاثر ہوئیں۔
مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت عرصۂ دراز سے موضوع سخن یوں بھی رہی ہے کہ اسلامی لباس و گفتگو کی شائستگی سینۂ باطل پر بل کھاتا ہوا سانپ واقع ہوئی یا وہ زہر ہلاہل جو نگلے نہیں نگلا جاتا، بالخصوص داڑھی، ٹوپی اور حجاب، بالعموم کرتا پائجامہ اور اسلامی ناموں کے غیر اندیشانہ تاثرات کی بابت ایسی ماحولیاتی تبدیلیاں وجود میں لانے کی کوششیں کی گئیں جن سے تعصب و فرقہ وارانہ فسادات کی کشیدگی کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی، 𝐀𝐏𝐂𝐑 کے مطابق ٢٠١٤ء سے لے کر اب تک ملک بھر میں مذہب کی بنیاد پر نفرت کے ٣,٥٧٦ واقعات کا ریکارڈ موجود ہے، جس میں 𝐕𝐢𝐬𝐢𝐛𝐥𝐞 𝐑𝐞𝐥𝐢𝐠𝐢𝐨𝐮𝐬 𝐈𝐝𝐞𝐧𝐭𝐢𝐭𝐲 یعنی داڑھی، ٹوپی، حجاب، اسلامی لباس، مسلم نام یا ظاہری شناخت کی وجہ سے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ہندوستان کی اس شکستہ حالت کے تناظر میں میڈیا کا کردار تمام اقلیتوں کے سماجی، تعلیمی، معاشی اور قانونی مسائل کو اجاگر کرنا، مختلف طبقات و متاثرہ افراد کو آواز فراہم کرنا، حقائق بیان کرنا، آئینی اقدار کو فروغ دینا اور مختلف فرقوں کی متوازن نمائندگی کرنا ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کا جو کردار ہندوستانی میڈیا نے ادا کیا ہے اس سے منفیات بھی عاری ہیں، جس کی بنیاد حقائق و صداقت پر ہونی چاہیے تھی، اب اس کی چہار دیواری کو 𝐒𝐭𝐞𝐫𝐞𝐨𝐭𝐲𝐩𝐢𝐧𝐠, 𝐏𝐨𝐥𝐚𝐫𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐒𝐞𝐧𝐬𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥𝐢𝐬𝐦 اور 𝐄𝐜𝐨 𝐂𝐡𝐚𝐦𝐛𝐞𝐫 کا سہارا ہے۔
ہندوستان وہ آئینی جمہوری ملک ہے جہاں مساوات میں تفاوت کی کوئی گنجائش نہیں، بس حالیہ تناظر میں شرط ہے کہ آپ مسلمان نہ ہوں، اقتصادیت و کفایت شعاری کے مدعیان کی اعتدال پسندی ہر اس جگہ اپنا وجود منواتی نظر آتی ہے جہاں مسلمان نہ ہوں، سہولیات اور معاشی وسائل کے فرمان وہاں جاری ہوتے ہیں جہاں مسلمان نہ ہوں۔
مذکورہ بالا پہلوؤں کا آئینی تجزیہ یہ ہے کہ:
⚖️ 𝐈𝐏𝐂 𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟓𝟑𝐀 — مذہب، نسل، زبان یا برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کے جرم میں 3 سال قید یا جرمانہ، اور اگر جرم عبادت گاہ کے تناظر میں ہو تو سزا 5 سال۔
⚖️ 𝐌𝐨𝐛 𝐕𝐢𝐨𝐥𝐞𝐧𝐜𝐞 | 𝐁𝐍𝐒 𝐒𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝟏𝟎𝟑 — ہجومی تشدد کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید۔
⚖️ 𝐅𝐨𝐫𝐜𝐞𝐝 𝐑𝐞𝐥𝐢𝐠𝐢𝐨𝐮𝐬 𝐂𝐨𝐧𝐯𝐞𝐫𝐬𝐢𝐨𝐧 — ناجائز مذہب تبدیلی کی سزا عموماً 3 سے 10 سال قید اور جرمانہ۔
⚖️ 𝐏𝐫𝐨𝐩𝐞𝐫𝐭𝐲 𝐃𝐚𝐦𝐚𝐠𝐞 — قصداً املاکی نقصان پہنچانے کی سزا دفعہ 324 کے تحت نوعیت کے مطابق۔
⚖️ 𝐀𝐫𝐭𝐢𝐜𝐥𝐞 𝟐𝟓 — اپنے مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی، اور اس میں مداخلت کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی۔
⚖️ 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐚𝐥 𝐕𝐢𝐨𝐥𝐞𝐧𝐜𝐞, 𝐅𝐚𝐤𝐞 𝐍𝐞𝐰𝐬 & 𝐏𝐮𝐛𝐥𝐢𝐜 𝐃𝐢𝐬𝐨𝐫𝐝𝐞𝐫 — فرقہ واریت، تشدد، خوف و ہراس یا عوامی بدامنی پھیلانے/خبریں شائع کرنے پر متعلقہ فوجداری دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کرتا ہے کہ عظمت اقوام نہ ان کے وسائل سے وابستہ ہوتی ہے، نہ ان کی آبادی سے اور نہ ہی محض ان کی عسکری قوت سے، بلکہ ان کے عروج و زوال کا حقیقی مدار تین بنیادی ستونوں پر قائم ہوتا ہے: تعلیم، اتحاد اور حقوق کا شعور۔
جب یہ تینوں عناصر کسی معاشرے میں جمع ہو جاتے ہیں تو وہ قوم فکری بالیدگی، سیاسی استحکام اور تہذیبی برتری کی حامل بن جاتی ہے اور جب یہ عناصر کمزور پڑ جاتے ہیں تو زوال، انتشار اور محکومی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
انسانی تاریخ دراصل علم و جہالت، اتحاد و انتشار، اور شعورِ حقوق و استحصال کے درمیان جاری ایک مسلسل کشمکش کی داستان ہے، یہی کشمکش قوموں کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا سبب بنتی ہے۔
تاریخ کی عظیم تہذیبیں علم کے سہارے ہی پروان چڑھی ہیں، یونان و مصر جیسی اسلامی تہذیبوں نے اپنی فکری برتری کے ذریعہ دنیا کی قیادت کی، اسلامی تاریخ میں پہلی وحی کا "اقرأ” سے آغاز ہونا اس امر کی علامت ہے کہ علم و آگہی ہی انسانی ترقی کی بنیاد ہیں۔
علم سے محروم معاشرے آسانی سے جذباتیت، تعصب اور فکری غلامی کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ تعلیم یافتہ معاشرے سوال کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں اور اپنی تقدیر خود رقم کرتے ہیں۔
اگر تعلیم قوم کی عقل ہے تو اتحاد اس کا جسم اور قوت ہے، منتشر افراد خواہ کتنے ہی باصلاحیت کیوں نہ ہوں، اجتماعی قوت پیدا نہیں کر سکتے، اتحاد وہ قوت ہے جو مختلف افکار، طبقات اور گروہوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت مجتمع کر دیتی ہے۔
اسلام سے قبل عرب قبائل صدیوں تک باہمی نزاعات میں مبتلا رہے، مگر اسلام نے انہیں اخوت اور اتحاد کے رشتے میں پِرو دیا۔ یہی اتحاد تھا جس نے ایک منتشر قوم کو عالمی تاریخ کی مؤثر ترین تہذیبوں میں تبدیل کر دیا، ریاستِ مدینہ اس اجتماعی وحدت کی ایک عظیم مثال تھی۔
تعلیم انسان کو سوچنے کی صلاحیت دیتی ہے اور اتحاد اسے طاقت بخشتا ہے، مگر حقوق کا شعور ان دونوں کو مقصد عطا کرتا ہے، جو قوم اپنے حقوق اور فرائض سے ناواقف ہو، وہ آسانی سے محکومی کا شکار بن جاتی ہے۔
آگہئ حقوق دراصل انسانی وقار کے شعور کا نام ہے، یہ انسان کو بتاتی ہے کہ آزادی، انصاف، مساوات اور عزت اس کے پیدائشی حقوق ہیں، تاریخ کی بڑی اصلاحی تحریکیں اسی شعور کا نتیجہ تھیں، دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے، شہری آزادیوں کے فروغ اور قانونی مساوات کے قیام کے پیچھے بیدار ذہنوں اور باشعور عوام کی جدوجہد کارفرما رہی ہے۔
تعلیم، اتحاد اور حقوق کا شعور درحقیقت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، تعلیم شعور پیدا کرتی ہے، شعور اتحاد کی بنیاد پر بنتا ہے، اور اتحاد حقوق کے تحفظ کو ممکن بناتا ہے، اسی طرح حقوق کا شعور تعلیم کی اہمیت کو بڑھاتا اور اجتماعی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے، جہالت اتحاد کو تعصب میں بدل دیتی ہے، انتشار حقوق کو کمزور کر دیتا ہے اور حقوق سے ناواقف معاشرہ تعلیم کے حقیقی مقصد سے محروم رہ جاتا ہے، اس لیے ان تینوں عناصر کا باہم موجود ہونا کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ قوم کے لیے ناگزیر ہے۔
عصرِ حاضر اور ہماری ذمہ داریاں
آج کا دور علم، اطلاعات اور تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے، ایسے وقت میں تعلیم یافتہ، متحد اور حقوق سے آگاہ معاشرہ ہی اپنے وجود، شناخت اور ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے، نئی نسل کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ فکری بصیرت، اجتماعی شعور اور آئینی و سماجی حقوق کی آگہی بھی درکار ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مطالعے کو فروغ دیا جائے، اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے میں تبدیل کیا جائے، اور اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی سمجھا جائے، یہی رویہ ایک مضبوط، مہذب اور خوددار معاشرے کی تشکیل کر سکتا ہے۔

