﷽
حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر
ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندوی
استاذ حدیث وفقہ: جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات
آج سے تقریباً تیس سال پہلے ۳۰ / دسمبر ۱۹۹۴ء تا ۲ / جنوری ۱۹۹۵ء كو دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں ایك فقہی سمینار منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی ؒ (بانی اسلامك فقہ اكیڈمی ، انڈیا ) باحیات تھے اور سمینار كی قیادت كر رہے تھے، اس سمینار میں شركت كی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی تھی، اور یہیں سے اسلامك فقہ اكیڈمی (انڈیا) كے فقہی سمینار میں میری شركت كی ابتداء ہوئی ، اس سمینار میں ایك موضوع” رؤیت ہلال “ بھی تھا ، جس پر میں نے بھی مقالہ لكھا تھا ، بعدمیں اس پورے مقالہ كو” رمضان كے شرعی احكام “ میں شامل اشاعت كردیا ، جو كہ راقم الحروف كی تصنیف اور وجہ تعارف ہے، بہر حال فقہی سمینار كے لئے یہ میرا پہلا مقالہ تھا، اس كے بعد سےالحمد للہ ہر سال ایك دو كبھی تین موضوعات پر لكھتا رہتا ہوں ، اور یہ جو كچھ بھی ہوتا ہے محض اللہ كے فضل وكرم سے ہوتا ہے ۔
حدیثی سمینار میں شركت:
ایك لمبے عرصہ كے بعد اسی مقام یعنی دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں گذشتہ سال پہلا حدیثی سمینار ہوا تھا جس میں میری حاضری ہوئی تھی، امسال تیسری مرتبہ دوسرےحدیثی سمینارمنعقدہ ۱۹، ۲۰ / شوال المكرم ۱۹۴۷ھ مطابق ۸، ۹ / اپریل ۲۰۲۶ء بروز بدھ اور جمعرات میں شركت كے لئےجانا ہوا، میرے ساتھ جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات سے دو اور مؤقر اساتذہ جناب مولانا توصیف صاحب مظاہری مدظلہ العالی اورجناب مولانا سفیان صاحب ندوی مدظلہ العالی بھی تھے، ہم لوگ مؤرخہ۱۸ / شوال المكرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۷ / اپریل ۲۰۲۶ء روز منگل دس بجے رات میں پہنچے ، ریلوے اسٹیشن پر داعی كی جانب سے مہمانوں كے استقبال كے لئے كوئی نظم نہیں تھا؛ اس لئے خود ہی اپنے طور پر كرایہ كے آٹو ركشہ تلاش كرنا پڑا، اور آٹو پر بیٹھ كر دارالعلوم اسلامیہ ماٹلی والا حاضر ہوئے، اسی طرح واپسی میں بھی میزبان كی طرف سے مہمانوں كو اسٹیشن پہونچانے كا كوئی انتظام نہیں تھا ؛ اس لئے خود ہی كرایہ كا آٹو لے كر اسٹیشن آنا پڑا ؛ حالانكہ عام طور پر سمیناروں میں آنے والے مہمانوں كو قریبی اسٹیشنوں سے استقبال كرنے اور لانے اور پھر وہاں تك پہونچانے كا نظم منتظمین سمینار كی جانب سے رہتا ہے ۔
سمینار اور اس كے موضوعات:
بہر حال سمینار اپنے وقت پر صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہوا ، گذشتہ سال كی طرح امسال بھی مشہور عالم دین ، علم وتحقیق كا درخشاں ستارہ، عالی نظر محقق ومؤرخ ، مقاصد شریعت كے ماہر، افراد سازی كے ملكہ كا حامل، فقیہ وقت، مفسر قرآن وشیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی اقبال بن محمد صاحب ٹنكاروی دامت بركاتہم(مہتمم: دار العلوم ماٹلی والا بھروچ – گجرات) كی سرپرستی و زیر اہتمام دار العلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا، بھروچ – گجرات كی خوبرو وكشادہ اور خوش منظرمسجد میں سمینار كی ساری نشستیں منعقد ہوئیں، اختتامی تأثراتی نشست كو چھوڑ كر مقالات كی خواندگی كی نشستیں كل پانچ منعقد ہوئیں ، گذشتہ سال مركزی عنوان : ” علوم حدیث اور اس كے متعلقات“ تھا ، سال رواں دوسرا حدیثی سمینار كا مركزی عنوان: ”صحاح ستہ اور ان كے متعلقات “ تھا، اس كے تحت ذیلی موضوعات: صحاح ستہ كا جامع نصاب ،صحیح بخاری اور صحیح مسلم كے درمیان ایك تقابلی مطالعہ، عارضة الأحوذياور تحفة الأحوذي كے درمیان ایك تقابل، روایت بالمعنی اور فقہی احكام میں اس كے اثرات، احادیث كی تصحیح وتعلیل اور شیخین، صحیح بخاری – اس كا آغاز وارتقاء، تعارض حدیث اور وجوہ ترجیحات، فتح الباری اور عمدۃ القاری كے مابین تقابلی جائزہ“ وغیرہ جیسے بڑے اہم ” كل (۵۸) موضوعات تھے ، یہ سمینار گجرات اسٹیٹ لیبل پر تھا؛ اسی وجہ سے صرف صوبۂ گجرات كے دینی مدارس اور جامعات كے شیوخ و اساتذۂ حدیث كو لكھنے كی دعوت دی گئی تھی۔ واضح رہے كہ ان میں سے بعض موضوعات ایك سے زائد حضرات اساتذۂ حدیث كے سپرد كئے گئے تھے ، ماشاء اللہ ساٹھ سے زائد علماء نے مفصل ومبسوط مقالے لكھے ، جن كی طباعت ضخیم دوجلدوں میں عمل میں آئی ۔ میرا موضوع مقالہ: ” روایت بالمعنی اور فقہی احكام میں اس كے اثرات“ تھا، الحمد للہ سمینار میں اس كی تلخیص پیش كرنے كی سعادت حاصل ہوئی ۔ اس میں كوئی شك نہیں ہے كہ سارے ہی مقالات اپنی جگہیں پر علمی وتحقیقی، بڑے اہم ، پرمغز اور مفید تھے۔
الحمد للہ ساری نشستیں بڑے ہی مرتب ومنظم انداز میں اپنے وقت پر شروع ہوا كرتی تھیں، جو حسن انتظام وانصرام اور وقت كی قدردانی كی جیتی جاگتی مثال ہے ، اسی طرح وقت پر عمدہ طعام اور ناشتہ كا انتظام واہتمام بھی تھا ،ادارہ كے بےلوث خدمت گذاراساتذہ كرام نےخوش اخلاقی كا مظاہرہ كیا ، جو علماء دین كی شان وپہچان ہے ، اللہ تعالی جمیع اساتذہ كرام ، منتظمین اور ٹرسٹی حضرات كو اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے جنہوں نے رات ودن ایك كركے اس پروگرام كو سجایا اوراس كو ترتیب دینے میں بڑی قربانیاں دیں، اورانہیں رحمت خاصہ وبركات سے نوازے، آمین ثم آمین۔
حقیقت میں یہ حدیثی سمینارنے اساتذۂ حدیث گجرات میں علم وتحقیق كی ایك نئی روح پھونك دی ، ان كے خوابیدہ صلاحیتوں كو منظر عام پر لانے میں ایك بڑا كردار ادا كیا،نیز اس نے اساتذۂ حدیث میں حدیث سے مزید دلچسپی بڑھائی اور ان كے شوق حدیث كو جلا بخشا ، خا ص طور پر نوجوان فضلاء كے ذوق تحقیق و مطالعہ كو خوب پروان چڑھایا ، جو ایك خوش آئند اور نیك فالی ہے ، اللہ كرے كہ یہ مبارك سلسلہ جاری وساری رہے ۔
ماشاء اللہ یہ سمینار ہر لحاظ سے بڑا ہی كامیاب اور خوب عمدہ رہا ، تقریبا پورے گجرات كے دینی مدارس وجامعات سے اساتذۂ حدیث كی شركت ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے مقالات كی تلخیصیں پیش كیں ۔ اہل علم ودانش سے یہ بات مخفی نہیں ہے كہ مقالہ كی تلخیص پورے مقالہ كا نچوڑ اور خلاصہ ہوتی ہے ، تلخیص سننے والے كو بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے ؛ چنانچہ شركاء سمینار جو اپنے اپنے مقالات كی تلخیص پیش كرتے ہیں ، ان كو ایك دوسرے كی تلخیص سننے كا سنہرہ موقع ملتا ہے ، جس سے كم وقت میں مختلف موضوعات پر پیش كردہ مقالات سے قیمتی معلومات سے مالا مال ہوتے ہیں ۔
حدیثی سمینار كے انعقاد كا اساسی مقصد:
اس سمینار كے انعقاد كا اہم مقصدحدیث پاك كے طلبہ اور اساتذہ اور باحثین واسكالرس اور نیز حدیث پاك پر علمی وتحقیقی كام كرنے والے یا كتب حدیث كی شرح لكھنے والے كو كتب حدیث اور ان كی شروحات اور بعض ضروری متعلقات حدیث سے روشناس كرانا تھا ؛ تاكہ ان كے لئے ان كا علمی سفر آسانی سے اور كامیابی كے ساتھ اپنی منزل كو پہنچ سكے ۔
غور وفكر كے چند گوشے:
- ۱ – اس سمینار میں صحاح ستہ ، موطأ الامام مالك، موطأ الامام محمد، شرح معانی الآثار للطحاوی اور مشكاۃ المصابیح كی فی الجملہ مشہور عربی اوراردو شروحات كا تعارف پیش كیا گیا ، ویسے بعض مدارس میں داخل نصاب آثار السنن ازعلامہ شوق نیموی بھی ہے ؛ لیكن اس كاتعارف نہیں آسكا؛ حالانكہ یہ كتاب اتنی زیادہ اہم ہے كہ اس كتاب كے منظر عام پر آنے كے بعد شرح حدیث پر لكھی جانے والی كوئی بھی حاشیہ یا شرح ایسی نہیں ہے ، جس میں اس كتاب كا حوالہ نہ ہو اور اس سے استفادہ نہ كیا گیا ہو، علامہ شوق نیمویؒ كے بعد جس نے بھی شرح حدیث پر قلم اٹھایا، وہ اس كتاب سے مستغنی نہ ہوسكا، اس كی قدر وقیمت اور بڑی اہمیت كے پیش نظر علامہ انور شاہ كشمیری ؒ جیسی شخصیت نےنے اس پر حاشیہ تحریر فر مایا، جو پاكستان سے چھپ چكا ہے اور صاحب تحفۃ الاحوذی مولانا عبد الرحمن مباركپوری ؒ نے اس كے رد میں پوری ضخیم ایك كتاب ہی لكھ ڈالی، جس كانام ” إبكار المنن في تنقيد آثار السنن“ہے ۔
- ۲ – اسی طرح ایك دوسری كتاب ” مشارق الأنوار النبوية في صحاح الأخبار المططفوية“ جس كے مصنف ساتویں صدی ہجری كے ایك عظیم محدث، فقیہ حنفی، لغوی، ابوالفضائل حسن بن محمد بن حیدر بن علی صغانی ہیں ، جو ۱۵ / صفر المظفر ۵۷۷ھ میں لاہور میں پیدا ہوئے اور یہیں قیام كے دوران ۶۳۷ھ میں وفات پائے ۔ آپ نے بر صغیر میں علم حدیث كی بڑی خدمت انجام دی ، آپ جہاں ایك طرف ایك بڑے محدث تھے ، تو وہیں لغت وفقہ كے امام بھی تھے؛ چنانچہ آپ كی تصنیفات میں سے اہم ترین تصنیف اور شہرۂ آفاق ” مشارق الانوار النبوية في صحاح الأخبار المططفوية“ ہیں كتاب ہے (سبحة المرجان في آثار هندوستان ازمولانا غلام علی آزاد بلگرامی ، ص: ۷۵)۔ اسمیں علامہ صغانی ؒ نے صرف صحیح حدیثیں جمع كی ہیں ، داخل اور بیرون ہند میں اس كتاب كو بڑی قبولیت حاصل ہوئی ، لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ، یہاں تك كہ اس كتاب كی اہمیت كے پیش نظر علماء نے اس كی بہت ساری شرحیں لكھیں اور اس پر حواشی لكھے اور یہ دینی مدارس وجامعات میں داخل نصاب ہوئی ( تفصیل كے لئے ملاحظہ ہو : ہندوستان میں مسلمانوں كا نظام تعلیم وتربیت از مولانا مناظر حسن گیلانی، ص: ۱۵۳، تاریخ ہند – آب كوثر از شیخ محمد اكرم، ص: ۸۱، تذكرۂ علماء ہند از شیخ رحمان علی، ص: ۲۳، رجال السند والهند إلى القرن السابع از قاضی اطہر مباركپوری ، ص:۹۲ – ۹۵)۔
- اس كتاب كا حق تھاكہ اس دوسری حدیثی سمینار میں ایك عنوان بنتا اور اس كا تعارف اہل علم كے درمیان خاص طور پر نوجوان فضلاء مدارس كے سامنے آنا چاہیئے تھا، اور یہ بھی بحث ہونی چاہئیے تھی كہ اس كتاب كو لوگوں نے نصاب سے خارج كیوں كیا ؟ حالانكہ اس میں صحیح احادیث جمع كی گئی ہیں اس میں صحاح ستہ كا بھی خلاصہ آگیا اور نیز یہ ایك ایك عظیم محدث، فقیہ حنفی ابوالفضائل حسن بن محمد بن حیدر بن علی صغانی كی ہے اور ایك عرصۂ دراز تك داخل نصاب رہی ہے، اور بہت سارے مدارس میں مشكاۃ المصابیح كی جگہ یہی پڑھائی جاتی تھی، اب شاید ہی كسی مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہوگی ؟ آخر ایسا كیوں؟ایك جائزہ لیا جانا چاہیئے ۔ واضح رہے كہ اسی كی جگہ اب مشكاۃ المصابیح داخل نصاب ہے اور پڑھائی جاتی ہے؛ حالانكہ اس میں ضعیف اور منكر حدیثیں بھی بہت ہیں ۔
- ۳ – اسی طرح ایك اور كتاب محدث دكن علامہ سید عبد اللہ بن مولانا سید مظفر حسین حیدر آبادیؒ كی شہرۂ آفاق تصنیف ” زجاجة المصابیح “ ہے، جو مشكاۃ المصابیح كے منہج وطرز پر ہے ، یہ بھی بعض دینی مدارس میں داخل نصاب ہے ، اور پڑھائی جاتی ہے ، اس دوسرے حدیثی سمینار میں زیر بحث آنی چاہیئے تھی،كاش كہ اس كا مفصل تعارف آتا اور مشكاۃ المصابیح سے اس كا مقابلہ وموازنہ كیا جاتا ہے تو بہت اچھا ہوتا اور ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آتی كہ آخر جس مقصد كے لئے یہ كتاب مرتب كی گئی ، اس كو لوگ بروئے كار كیوں نہیں لائے؟ اور اس كتاب كو مشكاۃ المصابیح كی جگہ داخل نصاب كرنے میں كیا مانع ہے ؟
- ۴ – اسی طرح صحاح ستہ كی مزید اہم شروحات وحواشی اور ان سے متعلق دوسری نوعیت كے اور بھی كام خود علماء برصغیر نے كئے ہیں ، ان كا ذكر بھی اس سمینا ر میں نہیں آسكا، اصل میں مركزی عنوان كافی پھیلاہوا ہے ، اس كا احاطہ مشكل ہے، اگرصرف ”صحیحین اور ان كے متعلقات“ ہی مركزی عنوان ہوتا ، تو ایك سمینار كے لئے كافی تھا؛ كیونكہ صرف صحیحین اوران سے متعلق شروحات وحواشی اور دیگر چیزیں بہت ہیں ؛ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے كہ جبكہ ہر سال حدیثی سمینار ہونا طے ہے ، مركزی عنوان زیادہ پھیلاہوا نہ ہو ، ایسا ہو كہ ایك سمینار میں اس كا احاطہ ممكن ہو، اور جو بھی ذیلی عناوین مقرر ہوں ، اس میں بھی انداز ہ كر لیا جائےكہ كونسا عنوان كم سے كم كتنے صفحات پر مشتمل ہو سكتا ہے ، اور مقالہ نگار سے صفحات كی تحدید كی جائے ؛ تاكہ خواہ مخواہ كے صفحات نہ بڑھائیں۔
- ۵ – اسی طرح جن اساتذۂ حدیث سے مقالہ لكھایا جائے ان كو پڑھنے كا موقع ہرحال میں دیا جائے ، گو وقت میں توسیع كرنی پڑے، دوروزہ سمیناركے بجائے سہ روزہ كردیا جائے اور مقالہ خواندگی كے وقت میں دومنٹ اور كم كردئیے جائیں، انسان كی نفسیات ہے ، آپ چھ منٹ وقت دیں گے تو وہ آٹھ میں مقالہ كی خواندگی پوری كریں گے او ر اگر آٹھ منٹ دیں گے تو وہ دس منٹ لیں گے، جیساكہ عملی طور پر مشاہدہ كیا جاتا ہے ۔ بہرحال اس میں ادارہ كی نمائندگی پیش نظر نہ رہے بلكہ مقالہ نگار كی محنت وكاوش كی قدر دانی ،ان كی حوصلہ افزائی ، ان كے جذبات كی رعایت او رجائز خواہشات كا پاس ولحاظ ركھا جائے اور ان كے مقالات پیش كرنے كو یقینی بنایا جائے ، ورنہ آہستہ آہستہ اچھے لكھنے والے تخلف اختیار كر لیں گے، جو سمینار كے لئے خسارہ كی بات ہوگی؛ اس لئے سمینار كی كامیابی اور اس خوبصورتی مقالہ لكھنے والوں اور ان كی كی شركت وخواندگی سے وابستہ ہے ۔
- ۶ – اس سمینار میں تین چار مقالے ایسے سننے كو ملے ، جن كو سن كر اندازہ ہورہا تھا Ai اور Chat Gpt سے استفادہ كیا گیا ہے ؛ كیونكہ ان كے مواد میں یكسانیت یہاں تك الفاظ وتعبیرات تك ملے جلتے تھے؛ حالانكہ عنوان الگ، كتاب الگ اور مصنفِ كتاب الگ ، ظاہر ہے كہ جب كتاب الگ اور مصنف الگ تو تعارف وتبصرہ میں فرق ہونا معقول بات ہے ، ہاں ، بعض چیزوں میں یكسانیت ممكن ہے ؛ اس لئے صدر جلسہ، سمینار كے كنوینر یا جنرل سكریٹری كی جانب سے مقالہ نگار كو ہدایت كی جانی چاہیئے كہ وہ مقالہ كی تیاری میں Ai اور Chat Gpt سے استفادہ نہ كریں ، ان كی معلومات ناقص ہوتی ہیں اور بسا اوقات غلط معلومات فراہم كرتےہیں ، اور گڈ مڈ كرتے رہتے ہیں ، كچھ كہیئے تو فورًا معافی مانگنے لگتے ہیں ، اگر كسی وجہ سے ان كا استعمال نا گزیر ہو تو اصل كتاب سے مراجعت ضرور كریں ،ان پر بھروسہ نہ كریں ، بہت سا مرتبہ ان كا حوالہ بھی درست نہیں ہوتا ہے ، معمولی رہنمائی مل سكتی ہے ، بہر حال ان كے حوالہ جات كو اصل كتابوں سے نكال لیں، اگر كتابوں میں مل جائے تو ٹھیك ہے ورنہ چھوڑ دیں۔
- ۷ –بعض مقالات میں كتابوں اور مصنف كے تعارف میں بہت زیادہ مبالغہ سے كام لیا گیا ، اور زیادہ مبالغہ بھی ایك قسم كا جھوٹ ہی ہے ، دوسری بات یہ ہے كہ جب آپ كسی كتاب كا تعارف وتجزیہ پیش كریں تو اس كا علمی محاسبہ اور ناقدانہ جائزہ لینا چاہیئے اور اس كے منفی پہلو پربھی روشنی ڈالنی چاہیئے اور شائستہ وشستہ اسلوب میں اس پر نقد ہونا چاہیئے تھا ، جیسا كہ انصاف كا تقاضا ہے ۔
- ۸ – اگر ایسا ہوتا تو بہت اچھا ہوتا كہ ایك موضوع سے متعلق یا ایك نشست كے اختتام پر تھوڑی دیر مناقشہ ہونا چاہیئے ، شركاء میں سے پڑھے گئے مقالات میں سےكسی مقالہ وموضوع كےبارے میں كوئی كچھ كہنا چاہتا ہے ، تو اس كو بولنے كا موقع دیا جاتا تو اچھا ہوتا ، اس سے موضوع كھلتا ہے، اگر كوئی مفید گوشہ فوت ہورہا ہوتاہے تو وہ سب كے سامنے آجاتا ہے اورسمینار كی افادیت ومعنویت بڑھ جاتی ہے اور شركاء بھی زیادہ دیر بیٹھے بیٹھے بور نہیں ہوتے ہیں اور چونكہ كبھی چھوٹوں كے ذہن میں بھی كام كی بات آجاتی ہے ، جس سے سب كا فائدہ ہوگا ، خصوصیت سے مقالہ نگار كا بڑا فائد ہ ہوگا كہ ان كا كبر ٹوٹے گا اور وہ دانائی كے ساتھ اپنے مقالہ میں اس شق كا اضافہ كرلیں گے۔
- ۹ – اس سمینار میں صحاح ستہ كے نصاب پر بھی گفتگو آئی ،خصوصیت سے بیك زباں یہ بات آئی كہ نصابی نقطۂ نظر سے صحاح ستہ مكمل نہیں ہوپاتی ہیں ؛ حالانكہ مكمل ہونی چاہیئے تھیں، بعض نے كہا ابواب منتخب كئے جائیں، اس طور پر كہ تكرار كو حذف كرتے ہوئے اس بات پر توجہ مركوز كی جائے كہ حدیث كے تمام ابواب درایۃً طلبہ كی نظر سے گذر جائیں ، اور ایسا كیا جانا ممكن ہے ، ایك رائےیہ آئی كہ زوائد صحاح ستہ تیار كیا جائے ، اس طرح تكرار حدیث سے بچتے ہوئے پوری صحاح ستہ كا پڑھایا جانا ممكن ہوجائے گا ، اس لحاظ سے بعض مقالہ نگار نے اس كا نصاب بھی تیار كیا ہے ، جیسا كہ ایك سے زائد حضرات مقالات نگار كا موضوع مقالہ ”صحاح ستہ كا جامع نصاب“ تھا ، اس میں كوئی شك نہیں ہے اس میں كلام كی بہت گنجائش ہے ۔
- غور وفكر كا مقام ہے كہ تكرار حدیث كا اپنا ایك فائدہ ہے ، جس سے انكار نہیں كیا جاسكتا، پھر مصنفِ كتاب حدیث كاتكرار بے معنی اور بے مقصد نہیں لاتاہے ؛ بلكہ كسی نئے معنی یا كسی پیش آمدہ نئے مسئلہ كی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے ، خاص طور پر ایك حدیث كے مختلف ٹكڑے یا حدیث كی پوری متن ، گو اس میں تكرار لازم آتا ہے؛ لیكن مختلف ابواب كے تحت ذكر كرنا دراصل حدیث پاك سے نئے مستنبط مسئلہ یا كسی خاص بحث كی طرف اشارہ كرنا اور قارئین كو روشناس كرانا ہوتا ہے اور مصنف كے یہ مختلف تراجم ابوب احادیث كے مركزی مضمون كی شرح وتوضیح كرتے ہیں، ظاہر ہےكہ زوائد حدیث كا الگ نصاب تیار كركے پڑھائے جانے كی صورت میں ان سب سے محرومی ہوگی ، اور مصنف كتاب كامقصد تالیف فوت ہوگا، دوسری بات یہ ہے كہ جب تك پوری حدیث قارئین كے سامنے نہ ہو تو حدیث كا مضمون پورے طور پر سمجھنے میں دشواری ہوگی ۔ نیز زوائد حدیث الگ سے نصابی نقطۂ نظر سے پڑھانے میں ایك دشواری استاذ حدیث كو پیش آئے گی اس كو اصل كتاب كے باب سے جوڑ كر بتانا ہوگا كہ یہ حدیث فلاں باب سے متعلق ہے اور وہاں اس معنی كی حدیث اور بھی ہے ، اس طرح ربط بتاكر پڑھا نا ہوگا۔ نیز حدیث كے طریقۂ تدریس میں یہ چیز شامل ہے كہ استاذ اختلاف روایات بتائے اور یہ بتائے كہ فلاں حدیث میں یہ اضافہ ہے اور یہاں نہیں ہے ، اس سے حدیث كا مضمون واضح ہوتا ہے اور مسئلہ كا صحیح حكم خاص طور پر فقہی احكام سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ، اب زوائد حدیث كا الگ نصاب تیار كر كے پڑھانے میں اس پر شاید عمل نہ ہوپائے یا دشواری ہو ۔ نیز ایك مضمون كی حدیثیں زوائد كے ساتھ شروحات میں ایك ساتھ جمع ہوتی ہیں ، تو اس سے مضمون حدیث واضح ہوتا ہے اور بعض فقہی گھتیاں سلجھتی ہیں ، اب جبكہ زوائد حدیث كا الگ نصاب تیار ہوگا تو استاذ درس میں زوائد حدیث جو مضمون كی وضاحت كے لئے ہیں ، كو چھوڑ كركے آگے بڑھے گا یہ كہتے ہوئے زوائد حدیث كا نصاب جو الگ سے تیار كیا گیا ہے وہاں آئےگا ، نتیجہ یہ ہوگا كہ مضمون حدیث وقت پر واضح نہیں ہوگا ۔ مزید زوائد حدیث كا نصاب تیار شدہ سامنے ہو تو غور وفكر كیا جاسكتا ہے ۔
- یقیناً موجودہ نصاب حدیث نظر ثانی كا محتاج ہے ، اس سے انكار نہیں كیا جاسكتا، اس كا حل نكلنا چاہیئے ، تو میری ناقص رائے كے مطابق ایسا كیا جاسكتا ہے اور نتیجہ اور افادیت كے لحاظ سے ایساكرنا بہتر اور مفید ہوگا، اور وہ یہ ہے :
- حالات اور زمانہ كی ضرورتیں اور تقاضے كے پیش نظرصحاح ستہ سے ابواب حدیث منتخب كئے جائیں، ان ابواب كو پہلے درایۃً پڑھائے جائیں، اس كے بعد دوسرے ابواب الاہم فالاہم منتخب كئے جائیں ، ابواب حدیث كے انتخاب میں تكرار سے بچتے ہوئے كس كتاب كے كونسے ابواب زیادہ مناسب مفید اور جامع اور محیط ہیں ، وہ ابواب ان كتابوں سے لئے جائیں ، دورۂ حدیث كے سال صرف كتب حدیث پڑھائی جائیں دوسری اور كوئی چیز نہ پڑھائی جائے، تو امید ہےكہ تمام ابواب حدیث درایۃً ہوجائیں گے، ساتھ ہی استاذ پرانے موضوعات پر گفتگو كم اور مختصر كریں ، دور حاضر كے سلگتے ہوئے موضوعات خاص طور پر الحاد كے خلاف جہاں حدیث آئے وہاں قدر تفصیل سے گفتگو كی جائے اور بقیہ جگہوں پرمعتدل گفتگو ہو، تو امید ہے كہ پورے سال میں تمام حدیثی ابواب پورے ہوجائیں گے اور روایۃً پڑھانے كی نوبت كم آئے ، اور اگر آئے بھی تو بہت كم رہیں گے۔
- صحیح بخاری اور سنن ترمذی جن كو عام طور پر ختم كرنے كا اہتمام كیا جاتا ہے ،تو ان میں ایسا كیا جاسكتا ہے كہ منتخب ابواب درایۃً پڑھائے جائیں او ر بقیہ روایۃً پڑھا دئیے جائیں ۔
- ایك بات اور قابل لحاظ ہے ، اور وہ یہ ہے كہ عام طور پر دورۂ حدیث سے پہلے مشكاۃ المصابیح پڑھائی جاتی ہے ، اس میں ایسا كیا جاسكتا ہے كہ اس كی تلخیص آگئی ہے ، تلخیص میں تكرار كو حذف كردیا گیا ہے ، اس كو نصاب میں داخل كیا جائے اور اس كی ضخامت كو دیكھ كر دو یا تین حصوں میں تقسیم كردیا جائے اور پوری پڑھانے كا اہتمام كیاجائے ، یا مشكاۃ المصابیح كےموجودہ اصل نسخہ كو ہی گھنٹی كے وقت كے لحاظ سے تین یا چارحصوں میں تقسیم كر كے اتنی گھنٹیوں میں پڑھا كر ختم كرنے كا پورا اہتمام كیا جائے ؛ تاكہ ایك بار درایۃً پورےمضامین حدیث طلبہ كی نظر سے گذر جائیں ، اس اعتبار سے اگردورۂ حدیث میں ابواب حدیث پورے نہیں بھی پڑھائے جاسكے تو كوئی حرج واقع نہیں ہوگا ۔