علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)
محدثِ وقت، شارحِ صحیح بخاری وسننِ ترمذی، اور فقیہِ عصر، علامہ انور شاہ کشمیریؒ (وفات 1352ھ/1933ء) کی ذاتِ گرامی برصغیر کی علمی و حدیثی روایت میں ایک بے مثال اور امتیازی مقام رکھتی ہے، آپ کی شخصیت علومِ اسلامیہ کے ہر گوشے میں اپنی درخشانی کا پرتو بکھیرتی نظر آتی ہے۔ علم کا رسوخ، فکر کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، دقتِ نظر، احاطۂ فنون، استقراء کی قوت، اور نقد و تحلیل میں جو بلندی آپ کو عطا ہوئی، وہ اس خطۂ علم میں بہت کم اہلِ فضل کے نصیب میں آئی ہے، آپ کی ذات محض ایک محدث یا فقیہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، بلکہ آپ علومِ اسلامیہ کے پورے دبستان کی علمی روح تھے، اور آپ کی مجلسِ درس ایک مستقل مکتبِ فکر کا درجہ رکھتی تھی۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے جن الفاظ میں آپ کے علمی جہان کا نقشہ کھینچا ہے، وہ نہ صرف آپ کے مقامِ رفیع کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی گویا مجسم تصویر ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:”مرحوم کم گو مگر وسیع النظر عالم تھے، ان کی مثال اُس سمندر کی سی تھی جس کی سطح تو پرسکون ہو، مگر اس کے باطن میں قیمتی موتیوں کے بے شمار خزانے پوشیدہ ہوں، وہ وسعتِ نظر، قوتِ حافظہ اور کثرتِ محفوظات میں اپنے عہد میں بے مثال تھے، علومِ حدیث کے حافظ اور نکتہ شناس، علومِ ادب میں بلند مرتبہ، معقولات میں مہارت رکھنے والے، شعر و سخن سے بہرہ مند اور زہد و تقوى میں کامل تھے” ۔
یہ شہادت دراصل اس علمی ساخت و پرداخت کا بیان ہے جس نے شاہِ کشمیریؒ کو اپنے معاصرین میں ممتاز اور تاریخِ علم میں منفرد بنا دیا۔
راقم کا تعلق اور عقیدت حضرت شاہؒ صاحب سے محض مطالعے یا سنی سنائی باتوں سے نہیں، بلکہ زمانۂ طالبِ علمی سے قلبی وابستگی کی صورت میں قائم ہوا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں جو پہلا باقاعدہ اور قابلِ اشاعت مضمون راقم نے قلم بند کیا، وہ بھی آپ ہی کی شخصیت کے محاسن اور علمی جہات پر تھا، جو طلابِ ندوہ کے مجلّہ "الإصلاح” میں تقریباً ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا۔
بعد کے زمانوں میں یہ تعلق رسمی اظہار سے بڑھ کر گہری علمی نسبت میں تبدیل ہوا۔ اس نسبت کا ایک خوشگوار ثمر یہ بھی ہے کہ حضرت کے صاحبزادے، شیخُنا المجیز المحترم مولانا انظر شاہ کشمیریؒ سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، اور انہوں نے راقم کو اجازتِ حدیث سے نوازا۔ مزید برآں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ علامہ کے آخری تلامذۂ کبار میں سے مولانا احمد رضا بجنوریؒ سے بھی اجازت لی جائے، اور اللہ کا فضل ہے کہ یہ سعادت بھی میسر آئی، اس علمی نسبت کی تفصیل راقم نے اپنی کتاب "الجامع المعین فی طبقات الشیوخ المتقنین والمُجیزین المُسنِدین” میں شرح وبسط کے ساتھ ذکر کی ہے۔
علامہ کشمیریؒ کی شخصیت ہمہ سمت اور متنوع جہات کا مجموعہ ہے، خصوصاً فنِّ حدیث میں آپ کا مقام آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہے۔ آپ کے صاحبزادے، شیخُنا المجیز مولانا انظر شاہ کشمیریؒ نے جس مؤثر انداز میں آپ کی حدیثی عظمت کو بیان کیا ہے، وہ آپ کی علمی گہرائی کا نہایت معتبر تعارف ہے، وہ لکھتے ہیں: "حضرت شاہ صاحب نے اسلامی فنون کی اس دوسری اساس (یعنی علمِ حدیث) کو متعلقہ علوم سے اس طرح لبریز کر دیا تھا کہ ہندوستان کی علمی تاریخ یکسر بدل کر رہ گئی، انہوں نے درسِ حدیث میں علوم و فنون کا وہ حسین پیوند لگایا کہ یہ فن دوسرے فنون کے مقابلہ میں بلند و بالا نظر آنے لگا” ۔
یہ کلمات اس حقیقت پر واضح دلیل ہیں کہ شاہِ کشمیریؒ کی مجلسِ درس محض روایتِ حدیث کا حلقہ نہ تھی، بلکہ اصول و فقہ، علل و رجال، تاریخ و ادب، اور لغت و معقولات، سب کے باہمی امتزاج سے پیدا ہونے والی ایک ہمہ گیر اور معارف سے لبريز فضا تھی، جس نے برصغیر کی علمی دنیا کو نئی حیات بخشی۔
درحقیقت علامہ کشمیریؒ کے ہاں علمِ حدیث کا جو عمیق فہم اور باریک بینی پائی جاتی ہے، وہ محض معلومات کی فراوانی نہیں بلکہ ایک مستقل علمی مزاج اور اصولی تربیت کا نتیجہ ہے۔ آپ کی تحقیقات نہ صرف محدثینِ متقدمین کی روش سے ہم آہنگ ہیں بلکہ ان میں ایسی جامع اجتہادی بصیرت بھی جلوہ گر ہے جو آپ کو اپنے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے۔ آپ کے نزدیک حدیث کا علم محض حفظِ متون یا جمعِ اسانید کا نام نہیں، بلکہ روایت و درایت کے امتزاج، نقد و تحقیق کے توازن، اور اصولی احتیاط کے التزام کا مجموعہ ہے۔
ذیل میں جو چند فنی مباحث پیش کیے جا رہے ہیں، ان کے ذریعے شاہِ کشمیریؒ کی باریک بینی، دقائق فہمی، اصولی توازن اور نقدی لطائف واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان مباحث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ علمِ حدیث میں ان کا مقام صرف شارح یا ناقل کے درجے تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک بلند پایہ ناقد، بصیرت رسا محقق، اور صاحبِ منہج محدث تھے۔
معقولات میں انہماک رکھنے والے حضرات اور حدیث سے ان کی بیگانگی:
جن حضرات کی علمی دل چسپی کا محور فنونِ معقولات ہوں، وہ اکثر علمِ حدیث اور اہلِ حدیث کی سعى علمی کو کمتر وقعت دیتے ہیں، ان کے نزدیک حدیث محض نقل و روایت کا باب ہے، جس میں عقل و استدلال کی گنجائش کم ہے، اس لیے وہ اسے علومِ معقولہ کے مقابلے میں ادنیٰ مرتبے کا فن سمجھتے ہیں۔ مگر علامہ کشمیریؒ کے نزدیک یہ طرزِ فکر نہ صرف علمی ناپختگی کی علامت ہے بلکہ فنِ حدیث کی حقیقت سے یکسر لاعلمی کا نتیجہ ہے۔
علامہؒ کو علمِ حدیث کی عظمت، اس کی اصولی گہرائی، اس کے تاریخی پس منظر، اور اس کے دقیق مناہج کا مکمل شعور تھا۔ اسی بنا پر وہ اس غلط فہمی کی بڑی شدّت اور وضاحت کے ساتھ تردید فرماتے ہیں کہ حدیث کا علم، عقل و استدلال کے مقابلے میں کوئی ثانوی یا کم حیثیت کا علم ہے۔ وہ اپنے وسیع استقراء اور تجربے کی روشنی میں اس حقیقت کو پوری قوت سے بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ حدیث کی ضبط و دیانت، فنّی احتیاط اور علمی استقامت کا کوئی ثانی نہیں۔
چنانچہ وہ اس مضمون کو ایک جامع عبارت میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:میدانِ روایت میں میں نے حقیقی اتقان، ضبط، اور علمی دیانت سب سے بڑھ کر محدثین کے طبقے میں دیکھی ہے، ان کے بعد فقہاء کا مقام ہے، پھر اہلِ لغت کا، یہ تینوں طبقات ایسی کوئی بات، خواہ وہ معنوی ہو یا لفظی، حدیث کے نام سے منسوب نہیں کرتے جو اصل مصادرِ حدیث میں اساس و بنیاد نہ رکھتی ہو۔
اس کے بر خلاف وہ لوگ جن کے اذہان فنونِ معقولات کی پیچیدگیوں میں محض فکری مشغلے کی حد تک محدود ہو چکے ہوں، وہ حدیث کی حقیقت اور اس کے اصولی نظام کو سمجھنے کی صلاحیت سے اکثر محروم رہتے ہیں۔ ان کے ہاں نہ حدیث کی فنی ماہیت کا صحیح شعور ہوتا ہے اور نہ ہی اسانید کی تحقیق اور نقدِ رجال کے بنیادی قواعد کی کچھ معرفت۔ چنانچہ جب ایسے حضرات کسی قول کے متعلق محض یہ سنتے ہیں کہ "یہ حدیث ہے”، تو بلا تحقیق اسے حدیث کہہ کر قبول کر لیتے ہیں، خواہ وہ صریح موضوع کیوں نہ ہو ۔
علامہ کشمیریؒ کی یہ تنبیہ دراصل ایک اصولی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے:کہ علمِ حدیث محض روایت کے جمع کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ یہ ایسا دقیق اور لطیف فن ہے جس میں تاریخی شعور، ضبطِ روایت، نقدِ متن، علمِ رجال، روشِ اسناد، اور دقیقہ رسی جیسے اوصاف لازمی عناصر کا درجہ رکھتے ہیں۔یہ ایک ایسا علمی نظام ہے جسے اہلِ معقولات محض عقل کی میزان پر تول کر نہیں سمجھ سکتے؛ اس میں وہ محنت، تدقیق، مشقت اور عملی تجربہ مطلوب ہے جو محدثین کی نسلوں نے صدیوں تک اپنے خونِ جگر سے پروان چڑھایا۔
حضرت شاہؒ صاحب کا یہ بیان نہ صرف محدثین کی علمی فضیلت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی واشگاف کرتا ہے کہ جو حضرات اس عظیم فن سے بے بہرہ رہتے ہیں، وہ روایتِ نبوی کے ادراک میں سطحیت اور مغالطے کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔علامہؒ کا یہ نقد ایک علمی تنقید بھی ہے، اور علمِ حدیث کی شان کے اظہار کا جلی عنوان بھی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا طریقۂ روایت اور حدیث میں ان کی محتاط بصیرت
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا مطالعہ، اور ان کے اندازِ نقل کی باریکیاں ہمیں اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ علمِ حدیث ایک نہایت دقیق، نازک اور ذمہ دارانہ فن ہے، اس کے ہر لفظ میں ضبط، ہر ترکیب میں دیانت، اور ہر نسبت میں حقیقت اور احتیاط کی گہری پاسداری پوشیدہ ہوتی ہے۔ روایت کا تعلق صرف مسموعات ومقروءات سے نہیں، بلکہ اس پورے پس منظر سے ہے جسے ایک ثقہ صحابی اپنی صداقت، تجربے اور علمی ورع کے ساتھ محفوظ کرتا ہے۔
صحیح بخاری کے باب "الإقامةُ واحدةٌ إلّا قولَه: قد قامتِ الصلاة” میں ایک روایت منقول ہے جس میں جملہ "فَأُمِرَ بلالٌ” تمام طرق میں صیغۂ مجہول کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ اس بارے میں علامہ ابن حجرؒ نے یہ علمی جستجو کی کہ اس حکم کا حقیقی صادر کنندہ کون تھا، اور اس سلسلے میں وہ ایک ایسی روایت پیش کرتے ہیں جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکم براہِ راست رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔
علامہ کشمیریؒ اس نقطے پر نہایت دقیق اور بصیرت افروز تبصرہ کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ اس مقام پر امام ابوحاتم جیسے جلیل القدر ناقدِ حدیث نے اس روایت کو ایک ظاہری علت کی بنا پر قبول نہیں کیا اور اسے وہم قرار دیا۔ شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ میں نے بھی اس مسئلے پر طویل عرصے تک غور و فکر کیا، روایات کے طرق دیکھے، شواہد کو پرکھا، اور آخرکار میرے سامنے یہ حقیقت پوری وضاحت سے روشن ہوئی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اس موقع پر موجود ہی نہ تھے جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ کو اذان اور اقامت کے شفعی اور وتری انداز کے بارے میں ہدایت دی تھی۔
حضرت انسؓ کا علم یہ تھا کہ حضرت بلالؓ بعد کے زمانے میں اس اسلوب پر اذان و اقامت دیتے تھے، اور ظاہر ہے کہ ایک صحابی یہ سمجھ ہی سکتے ہیں کہ بلالؓ کا یہ طریقہ یقیناً عہدِ نبوی کی ہدایت پر قائم ہوگا۔ اسی ظنِ غالب کی بنیاد پر حضرت انسؓ نے اس اسلوبِ اذان کو سنت کی طرف منسوب کیا، مگر چونکہ وہ خود حکم دیتے وقت حاضر نہ تھے، اور روایت میں اصل مشاہدہ بنیادی قدر کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے انہوں نے نہایت اعلیٰ دیانت کا ثبوت دیتے ہوئے حکم دینے والے کی تعیین سے احتراز کیا اور روایت کو صیغۂ مجہول میں ذکر کیا۔
اگر حضرت انسؓ اس موقع پر بنفسِ نفیس حاضر ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کو حضرت بلالؓ کو حکم دیتے ہوئے دیکھتے، تو یقینا اس نسبت کو پورے اطمینان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے نام سے صراحتاً نقل کرتے۔ لیکن چونکہ یہ مشاہدہ انہیں حاصل نہیں تھا، اس لیے انہوں نے نہایت باریک احتیاط سے کام لیتے ہوئے وہی بات بیان کی جس تک ان کا علم براہِ راست پہنچتا تھا، اور جس چیز کا علم مشاہدے کے بغیر تھا، اسے صراحتاً رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہ کیا ۔
یہ پورا واقعہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی علمی دیانت، فہمِ دقیق اور روایت میں اعلیٰ ترین احتیاط کا نہایت تابناک نمونہ ہے۔ ان کے طرزِ بیان سے یہ حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ اجاگر ہوتی ہے کہ علمِ حدیث ایسا لطیف اور دقیق علم ہے جس میں ہر لفظ کی تہہ میں معنی کی ذمہ داری اور ہر جملے کے پیچھے صداقت اور احتیاط کا ایک مستقل نظام کارفرما ہوتا ہے۔ یہ مثال ہر طالبِ علم کے لیے ایک زندہ درس ہے کہ حدیث کی نسبت ایسا معاملہ ہے جس میں قیاس، گمان یا ظنِ غیر غالب کی کوئی گنجائش نہیں، اور جس بات کا مشاہدہ نہ ہو یا جس کی نسبت یقینی نہ ہو، اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا علمی امانت کے خلاف ہے۔
حضرت انسؓ نے جب حکم دینے والے کی تعیین سے گریز کیا، تو انہوں نے دراصل یہ واضح کیا کہ علمِ حدیث کے رواۃ، خصوصاً صحابۂ کرامؓ کے نزدیک نسبت کی صداقت کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ان کے ظنِ غالب میں بلالؓ کا یہ اسلوبِ اذان یقیناً رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہی سے ہوگا، لیکن چونکہ وہ اس موقع پر بنفسِ نفیس موجود نہ تھے، اس لیے انہوں نے حقیقت کے دائرے سے باہر ایک لفظ بھی زبان پر نہ آنے دیا۔ یہ وہ علمی احتیاط ہے جس نے صحابہ كرام رضي الله عنهم کی روایات کو صداقت کا معیار اور امانت کا نشان بنا دیا۔
علامہ کشمیریؒ نے جب اس واقعے کی تحقیق کے ضمن میں اپنی اس کیفیت کا ذکر کیا کہ "میں نے اس مسئلے میں سنین تک غور کیا” تو یہ کوئی معمولی جملہ نہیں۔ یہ ان کے علمی مزاج، فکری گہرائی اور محدثانہ بصیرت کی ایک شان دار جھلک ہے۔ ان کے نزدیک تحقیق کا مطلب صرف یہ نہ تھا کہ ایک دلیل دیکھی، ایک روایت پڑھی اور فیصلہ صادر کر دیا؛ بلکہ وہ ہر مسئلے کے اطراف میں پھیلے ہوئے تمام احتمالات کو سمیٹتے، ہر روایت کی سند و متن کا باریک تجزیہ کرتے، عللِ خفیہ کو کھنگالتے، ائمۂ نقد کے اقوال کا موازنہ کرتے، اور اس سارے عمل کے بعد ایک ایسا نتیجہ اخذ کرتے جس پر تحقیق کے چراغ جلتے تھے اور دیانت کی روشنی سایہ فگن ہوتی تھی۔
ان کا یہ "سنین تک غور کرنا” اس امر کا اعلان ہے کہ علمِ حدیث کی راہ میں جلد بازی کی کوئی جگہ نہیں۔ یہاں وہی شخص کامیاب ہے جو صبر کے ساتھ غور کرے، تدبر کے ساتھ پرکھے، اور دلائل کے تانے بانے میں حرکتِ خیال کے ہر دھاگے کو مضبوطی سے باندھے۔ علامہ کشمیریؒ کی یہ عادت کہ کسی مسئلے کو برسوں تک غور و فکر کی بھٹی میں پکا کر نتیجے تک پہنچتے، ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ سچا علم وہ ہے جو دلائل کے دریاؤں سے گزر کر ذہن کی وادی میں اطمینان بن کر اترے۔
اسی مزاج کی بدولت انہوں نے حضرت انسؓ کی روایت اور امام ابوحاتم کے نقد دونوں کا نہایت متوازن انداز میں جائزہ لیا۔ انہوں نے نہ محض روایت کو سطحی طور پر قبول کیا، نہ نقد کو بغیر تحقیق کے ردّ کیا، بلکہ دونوں پہلوؤں کو ایک محدث کے وقار اور ایک محقق کی بصیرت کے ساتھ دیکھا، اور آخرکار اس نتیجے تک پہنچے جس میں روایت کے الفاظ بھی محفوظ رہے اور علمی دیانت بھی برقرار رہی۔
حضرت انسؓ کی روایت کی یہ مثال اور علامہ کشمیریؒ کا اس پر غور و فکر کا طویل سفر، دونوں مل کر علمِ حدیث کی اس عظمت کو نمایاں کرتے ہیں کہ یہ علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ فہم، بصیرت، صبر، دیانت اور تحقیق کے بےمثال امتزاج کا نام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کا سرچشمہ وہی ہے جو دل اور دماغ دونوں کو روشن کرے، اور وہ تبھی ممکن ہے جب طالبِ علم روایت کے لفظ سے لے کر روایت کے معنی تک ہر چیز کو صداقت کی کسوٹی پر پرکھے۔
صحیح بخاری کی عظمت اور امام بخاریؒ کا حدیثی وقار
حضرت امام بخاریؒ کی امتیازی عظمت صرف صحیح بخاری جیسی بے مثال کتاب کی تدوین تک محدود نہیں، بلکہ اس عظیم کارنامے کے پس منظر میں چھپی ہوئی ان کی غیر معمولی بصیرت، فکری نزاکت، بے مثال احتیاط اور علمی وقار میں بھی جلوہ گر ہے۔ ان کی کتاب کا ہر باب، تراجمِ ابواب کا انتخاب، ہر روایت کی تعیین اور ہر لفظ کی تركيب اُن کے ذہنِ رسا اور علمی پختگی کا ایسا شاہکار ہے جس کی مثال پوری حدیثی روایت میں بہت کم ملتی ہے۔
اسی علمی مزاج کی ایک روشن مثال صحیح بخاری کے باب "سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَه”میں دیکھی جا سکتی ہے۔ علامہ کشمیریؒ اس باب کی دقتِ نظر واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابنِ ماجہ نے انہی الفاظ کو ایک مستقل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، مگر اس کی سند حد درجہ کمزور، بلکہ ساقط الاعتبار ہے۔
علامہ کشمیریؒ کے مطابق امام بخاریؒ کی نظر اس سند کی کمزوری پر پوری طرح محیط تھی، مگر ان کے طرزِ عمل میں دو چیزیں نمایاں ہوئیں:
اولاًانہوں نے اس مضمون کو باب کے عنوان میں ذکر کر کے اس کے فقہی مفہوم کی طرف اشارہ ضرور کیا، کیونکہ معنی کے اعتبار سے یہ بات مختلف احادیث اور آثار سے مستنبط ہے۔
ثانیاًانہوں نے اس عنوان کو حدیث کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا اور نہ ہی یہ ظاہر ہونے دیا کہ یہ حدیث کے الفاظ ہیں، حالانکہ اگر وہ چاہتے تو اسے بطور روایت ذکر کر سکتے تھے۔ مگر چونکہ امام بخاریؒ کے نزدیک سند کا ضعف اس قدر شدید تھا کہ حدیث کا نام لینا بھی علمی دیانت کے منافی ہوتا، اس لیے انہوں نے صرف اتنا کیا کہ مضمون کو "ترجمۃ الباب” کی حد تک رکھا، مگر اسے حدیث کے طور پر پیش نہ کیا۔
یہ طرزِ عمل امام بخاریؒ کے بلند مرتبہ علمی وقار کا نہایت واضح نمونہ ہے، وہ سند کی باریکیوں، رواۃ کے مراتب، علل کے خفی پہلوؤں اور حدیث کے قبول و رد کے اصولی معیار پر کامل بصیرت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی روایت کو صرف اس لیے درج نہیں کرتے تھے کہ اس کا مفہوم درست ہے، بلکہ انہوں نے ہمیشہ سند کی پختگی اور روایت کی صحت کو اپنی تالیف میں اصل معیار بنایا ۔
امام بخاریؒ کے نزدیک حدیث وہی ہے جو سند کے مضبوط ستونوں پر قائم ہو، جس کے ہر راوی کی ثقاہت آزمایا ہوا سرمایہ ہو، اور جس کی ہر کڑی عللِ خفیہ قادحه اور احتمالاتِ اضطراب سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جن روایات میں سند کی کمزوری، راوی کے ضعف یا تسلسلِ اسناد میں خلل کا شائبہ تک ہوتا، امام بخاریؒ ان کی طرف التفات بھی گوارا نہ کرتے تھے۔ ان کے نزدیک حدیث محض روايت نہیں تھی، بلکہ ایک امانت تھی، اور امانت کو اسی موقع پر ادا کیا جا سکتا ہے جب اس کی بنیاد دیانت اور تحقیق کے سخت ترین معیار پر قائم ہو۔
صحیح بخاری کی شانِ دوام اور امام بخاریؒ کے مقامِ رفعت کا راز اسی علمی نزاکت اور احتیاط میں پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب کی ہر سطر اور ہر سطر کے پیچھے چھپی ہوئی ہر ساعت کی محنت ان کے علمی مقام کو ابدیت عطا کرتی ہے، اور ہر قاری کے دل میں صداقت، احتیاط اور حقیقت پسندی کا وہ معیار قائم کرتی ہے جو صدیوں سے اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے۔
امام ترمذیؒ کی "حسن صحيح” كى اصطلاح:
امام ترمذیؒ کی اصطلاح "حسن صحیح” ان فنی مباحث میں سے ایک ہے جس پر قدیم و جدید محدثین نے کثرت سے گفتگو کی ہے۔ اس تعبیر کی علمی توجیہ میں مختلف آراء سامنے آئیں، اور ہر امام نے اپنے ذوقِ حدیث اور اصولی فہم کی بنیاد پر اس کی توضیح کی۔ علامہ کشمیریؒ نے ان آراء کا نہایت باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور اس بحث کو ایک مضبوط اصولی بنیاد فراہم کی ہے۔
علامہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ امام ترمذیؒ کا یہ کہنا کہ "یہ حدیث حسن صحیح ہے” بظاہر اس معروف تفریق کے خلاف معلوم ہوتا ہے جو محدثین صحیح اور حسن کے درمیان قائم کرتے ہیں۔ کیونکہ اصولی طور پر صحیح حدیث وہ ہے جس کے تمام رواۃ عادل اور کامل الضبط ہوں، سند متصل ہو، اور وہ روایت علل و شذوذ سے مکمل طور پر پاک ہو۔ اس کے برخلاف حسن حدیث میں ضبط کا درجہ کچھ کم ہوتا ہے، اگرچہ عدالت اور اتصالِ سند برقرار رہتا ہے۔ اس اصولی فرق کی روشنی میں بظاہر “حسن” اور “صحیح” دو متقابل اوصاف بن جاتے ہیں، اور ان کا ایک روایت میں جمع ہونا سوال پیدا کرتا ہے۔
اسی اشکال کو حل کرنے کے لیے محدثین نے متعدّد توجیہات پیش کیں۔بعض حضرات، مثلاً حافظ ابن حجرؒ نے یہ رائے پیش کی کہ امام ترمذیؒ کی تعبیر میں لفظ "أو” یعنی "یا” مقدر ہے۔ مطلب یہ کہ امام ترمذیؒ کو روایت کی کیفیت میں تردد ہوا کہ یہ حسن کے درجہ میں ہے یا صحیح کے۔بعض نے اس کے بجائے واو کے تقدیر کا احتمال ذکر کیا کہ "حسن و صحیح” یعنی ایک سند کی رو سے حسن ہے اور دوسری سند کی بنیاد پر صحیح۔ اگرچہ یہ توجیہات اپنی جگہ ممکن ہیں، لیکن علامہ کشمیریؒ کے نزدیک یہ نہ مکمل اطمینان بخش ہیں، نہ امام ترمذیؒ کے اسلوب اور ان کے ذوقِ نقد کے مطابق، کیونکہ ایک متقدم امام کے بار بار تردد کو اصولی طور پر بعید سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح حافظ ابن کثیرؒ نے یہ رائے پیش کی کہ "حسن صحیح” دراصل ایک درمیانی درجہ ہے، جیسے کسی چیز کو "کھٹا میٹھا” کہا جائے۔ مگر علامہ کشمیریؒ کے نزدیک یہ توجیہ بھی کمزور ہے، اس لیے کہ امام ترمذیؒ کبھی کبھی صحیحین کی احادیث پر بھی "حسن صحیح” کا اطلاق کرتے ہیں، جب کہ صحیحین کی روایات کے بارے میں اس درمیانی درجہ کی بات درست نہیں آتی۔
آخرکار علامہ کشمیریؒ اس نتیجے کو ترجیح دیتے ہیں جسے ابن دقیق العیدؒ نے بڑی دقت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق "حسن” اور "صحیح” اپنے مفہوم (definition) کے اعتبار سے دو الگ اور متقابل اوصاف ہیں، لیکن ان کا مصداق (application) ہمیشہ متعین اور منفصل نہیں ہوتا۔ یوں سمجھئے کہ جیسا "ظاہر” اور "نص” دو الگ مفہوم رکھتے ہیں، مگر ان کے اطلاقات میں عموم اور خصوص کا تعلق پایا جاتا ہے، کبھی نص ظاہر کے مفہوم کو اپنے اندر سمیٹ لیتى ہے، اور کبھی ظاہر اپنے سیاق میں نص کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی حسن اور صحیح بعض مواقع پر ایک روایت میں جمع ہو سکتے ہیں، جب مفہوم مختلف ہو مگر مصداق ایک ہی ہو۔
علامہ کشمیریؒ کے نزدیک یہی تعبیر سب سے زیادہ دقیق، متوازن اور امام ترمذیؒ کے منہج سے ہم آہنگ ہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ترمذیؒ کا مقصود صرف اصطلاحات کا مجموعہ نقل کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ روایت کے مجموعی ماحول، اس کے طرق، اس کے راویوں کے حالات، اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اسے ایک جامع تعبیر دیتے تھے۔ ان کی اصطلاح "حسن صحیح” دراصل اس وسعتِ نظر کی آئینہ دار ہے جس میں روایت اپنی متعدد جہات کے ساتھ دیکھی جاتی ہے۔
علامہ کشمیریؒ نے نہ صرف قدیم اقوال کو جمع کیا بلکہ ان کے درمیان اصولی تطبیق قائم کر کے اس بحث کو ایک جامع علمی نتیجے تک پہنچایا، یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ وہ فنِ حدیث کی باریکیوں کو محض نقلی سطح پر نہیں بلکہ اصولی، استقرائی اور تحقیقی بنیادوں پر سمجھتے تھے، اور یہی وہ وصف ہے جو ان کے منہج کو برصغیر کے مناہجِ حدیث میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
مسح علی الجوربین کی روایت کی علت:
علامہ کشمیریؒ نے جوربوں پر مسح کے مسئلے کو جس باریک بینی اور علمی احتیاط کے ساتھ واضح فرمایا ہے، وہ اُن کے منہجِ نقدِ حدیث اور فقہی بصیرت کا نہایت درخشاں نمونہ ہے۔ وہ اس مقام پر حدیثی تحقیق اور فقہی حکم کے باہمی تعلق کو اس انداز سے روشن کرتے ہیں کہ طالبِ علم کے سامنے دونوں علوم کی حدود، معیار اور دائرۂ کار نہایت واضح ہو جاتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ جوربوں پر مسح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔ یعنی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی ایسا قول یا فعل سندِ صحیح کے ساتھ موجود نہیں جو اس مسئلے کو براہِ راست ثبوت فراہم کرے۔ تاہم، وہ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی بیان کرتے ہیں کہ فقہاء کی نظر میں شرائط کے ساتھ جوربوں پر مسح کا حکم جائز ہو سکتا ہے، لیکن یہ جواز فقہی اصول کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی صحیح مرفوع روایت پر۔
علامہ کشمیریؒ کی اس گفتگو کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ حدیث اور فقہ کے درمیان وہ واضح خطِ امتیاز کھینچتے ہیں جو ہر محقق اور ہر صاحبِ علم کے لیے ناگزیر ہے۔ فقہ کا دائرہ بعض اوقات قیاس، اصول اور نظائر پر قائم ہوتا ہے، جب کہ حدیث کا دائرہ نقل کی صحت، سند کی مضبوطی اور روایت کے ثبوت سے عبارت ہے۔
اسی تناظر میں وہ حدیثِ مغیرہ کے اس حصے پر بحث کرتے ہیں جس میں بعض طرق میں جوربوں پر مسح کا ذکر آیا ہے۔ امام ترمذیؒ نے اس روایت کی سند کو بظاہر صحیح قرار دیا، لیکن علامہ کشمیریؒ کے نزدیک یہ فیصلہ صرف ظاہرِ سند کی بنیاد پر ہے، علامہ کشمیریؒ ستّر سے زائد طرق کی روشنی میں اصل واقعے کا موازنہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
- اس واقعے کی تمام معتبر روایات میں صرف خفین پر مسح کا ذکر ہے۔
- جو راوی اس میں "جوربین” یا "نعلین” کا اضافہ کرے، وہ اصل روایت کو درست طور پر سمجھ نہ سکا۔
- معتبر ائمہ نے بھی اس اضافے کو قبول نہیں کیا، عبدالرحمن بن مہدی جیسے عظیم ناقد اسے بیان تک نہیں کرتے تھے۔
- امام ابو داود نے اس کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور امام مسلم نے اسے اپنی جامع میں جگہ نہیں دی ۔
علامہ کشمیریؒ اس کی علّت کو نہایت حکیمانہ انداز میں واضح کرتے ہیں کہ یہ روایت نہ سنداً متصل ہے، نہ متناً محفوظ، اور منقول شواہد کی روشنی میں اسے قبول کرنا ممکن نہیں۔
یہاں ان کی علمی توازن کا جوہر سامنے آتا ہے:وہ یہ نہیں کہتے کہ فقہ میں مسحِ جوربین کا حکم غلط ہے؛ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ مرفوع حدیث کا نتیجہ نہیں، بلکہ فقہی استنباط کا ثمر ہے۔ اس سے وہ ایک اصولی حقیقت کا درس دیتے ہیں:
حدیث کا ثبوت فقط صحیح سند سے ہوتا ہے،جبکہ فقہی حکم کبھی کبھی اصول و قواعد کی بنا پر بھی ثابت ہو جاتا ہے؛لیکن دونوں کا درجہ اور بنیاد ایک نہیں ہوتی۔
علامہ کشمیریؒ کی یہ تصریح حدیث و فقہ کے تعلق میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی گفتگو طالبِ علم کو سکھاتی ہے کہ: - ہر فقہی حکم لازمی نہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہو؛
- اور ہر صحیح حدیث لازمی نہیں کہ فقہی حکم کی شکل اختیار کرے؛
- حدیث کی بنیاد تحقیقِ سند ہے،
- فقہ کی بنیاد تحقیقِ حکم اور فقہی اصول۔
علامہ کشمیریؒ نہ صرف روایت کی دقتِ تحقیق کا درس دیتے ہیں بلکہ فقہ کے اصولی وزن اور روایت کی حجیت میں فرق بھی واضح کرتے ہیں۔ ان کی یہ تحقیق علمِ حدیث کی دنیائے نقد میں ایک روشن مثال ہے جس سے منہجِ تحقیق، علمی احتیاط اور فقہی بصیرت کا حسین امتزاج سامنے آتا ہے، اور یہی وہ اسلوب ہے جو طلبۂ علم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عمرو میں خلط
علامہ کشمیریؒ صحیح بخاری کے باب "الاستجمار وتراً” پر بحث کرتے ہوئے ایک ایسے علمی نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے مگر تحقیقِ حدیث کے میدان میں نہایت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس مقام پر ایک باریک سهو واقع ہوا ہے جسے نظر انداز کرنا کسی سنجیدہ محقق کے شایانِ شان نہیں۔
حنفی علماء جب حدیثِ قُلَّتَین پر گفتگو کرتے ہیں تو بعض نے اختلافِ روایات کے ضمن میں یہ بات لکھی ہے کہ "ابن عمر سے چالیس قلہ کی روایت ہے”۔ علامہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو شروع میں ایک نسخہ جاتی غلطی سمجھتے تھے۔ انہیں خیال گزرا کہ اصل روایت ابن عمرو بن العاص سے ہے، مگر کاپی کرتے وقت کاتب نے "واو” (و) گرا دیا، جس سے "ابن عمرو” بدل کر "ابن عمر” بن گیا۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو اختلاف کی ایک بڑی وجہ ازخود ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ محض ایک علمی اندازہ تھا۔ علامہؒ کی تحقیق کی پیاس اس وقت بجھی جب بیہقی کی مطبوعہ کتاب ان کے سامنے آئی اور اس میں وہی روایت ابن عمرو بن العاص سے منقول ملی جس کا وہ پہلے سے غالب گمان رکھتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ دریافت انہیں اس طرح مسرور کر گئی جیسے روزہ دار کو افطار کے وقت راحت محسوس ہوتی ہے۔
علامہؒ کہتے ہیں کہ یہ غلطی ایسی ہے جو بار بار نقل ہونے کے باعث کئی کتابوں میں منتقل ہو گئی، اس لیے محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے محض دہرائے نہیں بلکہ اس پر تنقیدی نظر ڈالے۔ حقیقت وہی ہے جو انہوں نے دلائل کی بنیاد پر متعین کر دی ہے ۔
یہ پورا مقام دراصل تحقیقِ رواۃ کا ایک عملی درس ہے:صرف ایک حرف "واو” کا گر جانا راوی کے نام کو بدل دیتا ہے، اور راوی کا نام بدل جائے تو پوری بحث کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فنِ حدیث میں باریک سے باریک امور بھی کس درجہ اہم ہوتے ہیں۔
علامہ کشمیریؒ نے مختلف مصادر کے تقابل، نسخوں کی تطبیق اور روایت کے پورے سلسلے کا جائزہ لے کر اصل راوی کی درست نشاندہی کی۔ یہ اس بات کا روشن نمونہ ہے کہ علمی احتیاط، گہرائی اور باریک بینی کے بغیر حدیثی تحقیق مکمل نہیں ہو سکتی۔ طلبہ اور محققین کے لیے یہ مثال محض ایک وضاحت نہیں، بلکہ پورا ایک منہج ہے،وہ منہج جو ہر سنجیدہ طالبِ علم کو احادیث کے مطالعے میں اپنانا چاہیے۔
حبیب بن ابی ثابت کا سماع
علامہ کشمیریؒ یہاں امام ترمذی کی ایک حدیث پر نہایت نفیس اور باریک تحقیق پیش کرتے ہوئے سند کے اختلافات اور سماع کے مسئلے کو کھولتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ حبیب بن ابی ثابت کا سماع عروہ بن الزبیر سے نہیں، بلکہ عروہ مُزَنی سے ہے، اور چونکہ عروہ مُزَنی نے حضرت عائشہؓ سے کچھ نہیں سنا، اس لیے یہ نسبت محلِّ نظر ہے۔
ابو داود اس پر ایک مختلف احتمال ذکر کرتے ہیں: ان کے نزدیک غالب گمان یہ ہے کہ حبیب نے عروہ بن الزبیر ہی سے سنا ہوگا، اس لیے کہ وہ نقل کرتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابن الزبیر سے ایک صحیح حدیث بھی روایت کی ہے، اگرچہ ابو داود خود اس حدیث کو اپنی سنن میں بیان نہیں کرتے۔
امام ترمذیؒ بھی ایک مقام پر حبیب کی ابن الزبیر سے روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور اسی بنیاد پر انہوں نے کتاب الدعوات میں وہ روایت ذکر کی ہے، باوجود اس کے کہ اس کی بعض جہاتِ ضعف کی طرف بھی اشارہ کیا۔ علامہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ امام ترمذی کا یہ رجحان اس امر کو تقویت دیتا ہے کہ ان کے نزدیک حبیب نے ابن الزبیر سے سماع کیا ہے۔ اس طرح ابو داود اور ترمذی کے اقوال باہمی طور پر متصادم نہیں رہتے۔
مزید برآں، مسند احمد اور سنن ابن ماجہ دونوں میں ایسی سندیں موجود ہیں جو صحیح طریق سے اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ حبیب نے عروہ بن الزبیر سے سنا ہے۔ اس طرح اصل راوی کا تعین زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
علامہ کشمیریؒ اپنی تحقیق کو سمیٹتے ہوئے یہ نکتہ واضح کرتے ہیں کہ: - ہمارے پاس دو صحیح (بلکہ کم از کم حسن) احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسّ الذکر (یعنی شرمگاہ کو چھونا) سے وضو نہیں ٹوٹتا؛
- نیز حدیث کے متن میں موجود جملہ "إن هي إلا أنت” بھی اسی بات کو مضبوط کرتا ہے کہ صحیح راوی عروہ بن الزبیر ہی ہیں، نہ کہ عروہ مُزنی ۔
یہ تمام بحث دراصل فنِ حدیث کے سب سے حساس پہلوسماع، اتصالِ سند اور راویوں کے باہمی اختلافاتکا نہایت عمدہ نمونہ ہے۔ علامہ کشمیریؒ نے مختلف مراجع، جیسے ابو داود، ترمذی، احمد اور ابن ماجہ، کو جمع کر کے ایک ہم آہنگ نتیجے تک رسائی حاصل کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب سندوں میں اختلاف ہو، یا کسی راوی کے سماع کے بارے میں شبہ پیدا ہو جائے، تو محقق کے لیے محض ظاہری اقوال پر اکتفا کرنا کافی نہیں؛ اسے پوری روایت اور اس کے تمام طرق پر گہری نظر ڈالنی پڑتی ہے۔
یہ حدیث نہ صرف فنِ حدیث کے محققین کے لیے ایک اعلیٰ مثال ہے بلکہ فقہی اعتبار سے وضو کے مسائل کے بارے میں بھی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں یہ سبق چھپا ہے کہ علمی وزن روایت کے پیچھے چھپی سند، راویوں کے باہمی روابط، اور ان کے سماع کی تحقیق ہی اصل قوت رکھتی ہے۔ یہی وہ دقتِ نظر ہے جو علامہ کشمیریؒ جیسے اکابر محدثین کا امتیاز ہے۔
همدانی اور همذانی میں فرق
علامہ کشمیریؒ یہاں امام ترمذی کی ایک سند میں مذکور راوی ابو اسحاق السَّبِیعی کے نام کی توضیح کرتے ہوئے نہایت باریک نکتہ اٹھاتے ہیں۔ ترمذی نے ان کے نام کے ساتھ "عمرو بن عبد اللہ السبیعی الہمدانی” کا اضافہ کیا ہے۔ علامہ کشمیریؒ اس پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ ہمدان اور ہمذان کے درمیان فرق دقیق اور نہایت اہم ہے، اور یہی فرق سند کی صحت یا سقم کا فیصلہ کرتا ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں کہ: - ہَمْدان (پہلے حرف پر فتح، دوسرے پر سکون) عرب کا ایک معروف قبیلہ ہے، اور روایت میں مذکور اکثر راوی اسی قبیلے سے ہیں۔
- ہَمَذان (دوسرے حرف پر فتح) ایک جغرافیائی مقام ہے، جو راویوں میں شمار نہیں ہوتا اور اس نسبت سے کوئی معتبر سند وجود نہیں رکھتی۔
اس طرح ایک حرف کی حرکت کے فرق سے قبیلہ اور علاقہ دونوں جدا ہو جاتے ہیں، اور اگر محقق اس لطیف فرق کو نظر انداز کر دے تو پوری روایت کی سمت بدل سکتی ہے۔ علامہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ یہ معاملہ دراصل علمِ حدیث کے ایک خاص فن سے تعلق رکھتا ہے جسے "مُؤْتَلِف و مُخْتَلِف” کہا جاتا ہے، یعنی وہ علم جس کے ذریعے ہم اُن راویوں میں فرق کرتے ہیں جن کے نام شکل و صورت میں مشابہ ہوں، لیکن حقیقت میں دو مختلف اشخاص ہوں۔
یہ فن محض تلفظ کا مسئلہ نہیں بلکہ خط، رسمِ تحریر اور نسخوں کے اختلافات پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک نقطہ اوپر نیچے ہو جائے، ایک حرکت بدل جائے، یا کسی ماخذ میں ضبط مختلف ہو تو پورا تعارف بدل جاتا ہے۔ محدثین نے اس کی اصلاح اور تعیین کے لیے باقاعدہ فن قائم کیا تاکہ راویوں کی نسبت میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
علامہ کشمیریؒ مزید اشارہ کرتے ہیں کہ علمِ حدیث میں اس طرح کے چوراسی (84) مستقل فنون بیان کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ہر اس چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو واضح کرنا ہے جو سند، راوی یا روایت کے الفاظ میں آ سکتی ہو۔ یہی فنون روایت کے طریق، راویوں کی شناخت، ضبط و اتقان، اور لفظی یا معنوی احتمالات کو درست کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔
یہ مقام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ: حدیث کی ہر سند محض ناموں کا سلسلہ نہیں، ہر نام کے پیچھے ایک تاریخی پس منظر، قبیلہ، مقام، ضبطِ روایت اور شخصی معرفت چھپی ہوتی ہے، اور ایک معمولی سا لفظی فرق پوری روایت کی بنیاد بدل سکتا ہے۔
علامہ کشمیریؒ کی یہ وضاحت اس بات کی روشن مثال ہے کہ اکابر محدثین ہر نام، اس کی اصل، اس کے قبائلی انتساب، اور کتبِ رجال میں اس کے مقام تک بھرپور رسائی حاصل کرتے تھے۔ یہی باریک بینی، یہی احتیاط، اور یہی علمی عمارت حدیث کے پورے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھتی ہے۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی شخصیتِ علمی برصغیر کی حدیثی روایت میں ایک درخشندہ مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے علمی کارناموں کے متعدد پہلو اس مقالے میں اجمالاً پیش کیے گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شاہِ کشمیریؒ کی وسعتِ نظر، قوتِ استقراء، لطائفِ فہم اور نقدی بصیرت کا کماحقہ احاطہ ایک مختصر تحریر تو درکنار، ایک مفصل تصنیف کے دامن میں بھی پوری طرح سمٹ نہیں سکتا۔
علمِ حدیث میں ان کا امتیاز صرف اس بات میں نہ تھا کہ وہ متون و اسانید پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے، بلکہ اصل كمال یہ تھا کہ وہ روایت و درایت کے دقیق مباحث میں ایسی جامعیت، توازن اور حکیمانہ گہرائی کے ساتھ گفتگو فرماتے کہ گویا قدیم ائمۂ محدثین کی علمی روح ان کی زبان و فکر میں جلوہ گر ہو گئی ہو۔
تواتر کے باب میں ان کی اصولی تقسیمات: تواترِ اسناد، تواترِ طبقات، تواترِ توارث، اور تواترِ قدرِ مشترک، ان کی تحقیقی بصیرت کے اعلیٰ نمونے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف سابقہ ائمہ کے اقوال کے حافظ تھے بلکہ اصولِ حدیث کے داخلی ڈھانچے میں نئی تنقیحات اور لطیف توضیحات کے ذریعے اضافہ بھی فرماتے تھے۔ ان کی یہ جہت دراصل ان کی مجتہدانہ بصیرت کی آئینہ دار ہے، جو محض روایت کے نقل کرنے سے کہیں بلند ہے۔
ان کے تلامذہ نے جن تقریرات و افادات کو محفوظ کیا، وہ بھی اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ شاہؒ صاحب کی مجلسِ درس صرف تدریس کا حلقہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا علمی دبستان تھا جس میں روایت کی تحقیق، متن کی تحلیل، علل کا کشف، اور نقدِ رجال جیسے دقیق فنون ایک ہم آہنگ علمی فضا میں پروان چڑھتے تھے۔ ان کے ہر استدلال میں اصولی وقار، ہر نقد میں علمی ورع، اور ہر رائے میں گہرے استقراء کی خوشبو نمایاں ہوتی ہے۔
شاہؒ صاحب کے منہج کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ علمِ حدیث صرف روایات کے جمع و تدوین کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہتی علمی عمل ہے جس میں وسعتِ نظر، صبرِ تحقیق، دیانتِ نقل، اور توازنِ نقد لازمی شرائط کا درجہ رکھتے ہیں۔ مؤتلف و مختلف سے لے کر عللِ حدیث تک، اور باب بندی کے اسرار سے لے کر رواۃ کے مناہج تک، ہر مقام پر ان کی فکری تہذیب اور علمی دقتِ نظر ایک مستقل مکتبِ فکر کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ کشمیریؒ کی علمی میراث محض چند تصانیف یا درسی افادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ و متحرک علمی ورثہ ہے جس نے برصغیر کی حدیثی روایت کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی تحقیقات آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی، اور ان کا علمی نور اہلِ علم کے ذہن و دل کو ہمیشہ منور کرتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ان کے علمی فیوض کو باقی رکھے، ان کی بصیرتِ تحقیقی سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے، اور اہلِ علم کو ان کے منہج کی استقامت اور ان کی دیانت کی خوشبو سے ہمیشہ بہرہ ور رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔