عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
تمہید
دنیا میں انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان اور توحید کی نعمت ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، جہاد کیے گئے، اور اللہ کے نیک بندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرلی مگر کلمۂ توحید سے دستبردار نہ ہوئیں، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون کے ظلم کو برداشت کیا مگر توحید کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم دولت ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار مصائب برداشت کیے۔
توحید اسلام کی بنیاد، ایمان کی روح اور نجاتِ آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی عقیدہ ہے۔
توحید کا معنی و مفہوم
توحید کا لغوی معنی ہے: کسی کو ایک ماننا اور یکتا تسلیم کرنا۔
شرعی اصطلاح میں توحید سے مراد ہے:
اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، افعال اور عبادات میں یکتا اور بے شریک ماننا۔
یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا، حاجت روا اور عبادت کے لائق واحد معبود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ
"تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔”
(البقرۃ: 163)
عقیدۂ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز
تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
"ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اس پر یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔”
(الانبیاء: 25)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی دعوت کا محور صرف اور صرف توحید تھا۔
توحید انسان کی تخلیق کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
"میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
(الذاریات: 56)
اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا، شہرت حاصل کرنا یا عیش و آرام نہیں بلکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور توحید کا قیام ہے۔
توحید عبادات کی قبولیت کی پہلی شرط
کوئی بھی عبادت خواہ نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو یا صدقہ، اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک عقیدہ درست نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں سب سے پہلے لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی ہے۔”
(بخاری)
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمام اعمال سے مقدم رکھا ہے۔
توحید جنت کی کنجی ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
"جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
(صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
"جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”
(صحیح مسلم)
توحید گناہوں کی بخشش کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اگر بندہ توحید پر قائم رہے تو اس کے بڑے بڑے گناہ بھی معاف ہوسکتے ہیں۔
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، مگر میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین بھر مغفرت لے کر آؤں گا۔”
(ترمذی)
یہ حدیث توحید کی عظمت اور شرک سے بچنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
شرک کی ہولناکی
جس طرح توحید سب سے بڑی نیکی ہے، اسی طرح شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
"بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔”
(لقمان: 13)
اور فرمایا:
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
"جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی۔”
(المائدۃ: 72)
سورۂ اخلاص: توحید کا جامع تعارف
اللہ تعالیٰ نے سورۂ اخلاص میں اپنی وحدانیت کا جامع بیان فرمایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ اللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
یہ مختصر سورت توحید کی مکمل تعلیم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دی گئی ہے۔
موجودہ دور میں توحید کی ضرورت
آج امت مسلمہ مختلف فتنوں، خرافات، بدعات، مادہ پرستی اور کمزور ایمانی کیفیت کا شکار ہے۔ ان تمام بیماریوں کا علاج توحید خالص ہے۔ جب بندہ صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اسی سے مانگتا ہے، اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امید رکھتا ہے تو اس کے دل میں سکون، زندگی میں استقامت اور آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
خلاصۂ کلام
عقیدۂ توحید اسلام کی بنیاد، انبیاء کی دعوت، انسان کی تخلیق کا مقصد، عبادات کی قبولیت کی شرط، جنت کی کنجی اور گناہوں کی بخشش کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جو شخص توحید پر قائم رہا اور شرک سے بچتا رہا، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت اور اپنی رضا کا وعدہ فرمایا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ توحید کو سمجھے، اس پر عمل کرے، اپنے گھر والوں کو اس کی تعلیم دے اور ہر قسم کے شرک، خرافات اور باطل عقائد سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی بچائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید پر زندگی گزارنے اور اسی پر خاتمہ نصیب فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔