سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری
🖋️ احمد نور عینی
کہا جاتا ہے کہ اس ملک کا تہذیبی مزاج عدم تشدد کا ہے، اور جیو ہتیا (ذبح جانور) تشدد ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک میں ناقابل برداشت عمل ہے، اور چوں کہ مسلم قوم کا نظریاتی وعملی دونوں سطح پر گوشت خور ہونا ایک بے غبار حقیقت ہے، نیز اسلام اور مسلم قوم سے بھارتی اقوام کو مانوس نہ ہونے دینا دور جدید کے برہمنواد کا اہم منصوبہ ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کو لے کر اسلام پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ گو کہ یہ دعوی بھی محتاج بحث ہے کہ آیا ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک کے تہذیبی مزاج اور ثقافتی ورثہ کے خلاف ہے یا نہیں نیز یہ مسئلہ بھی تحقیق طلب ہے کہ جیو ہتیا کے پاپ ہونے کا تصور کہاں سے شروع ہوا، مگر اس مضمون میں اس بحث کو نہ چھیڑتے ہوئے سناتنی لٹریچر سے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کے منتروں اور اشلوکوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اپنے پیاروں سے ہم کہہ سکیں کہ
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ
▪️ وید:
سناتنی لٹریچر میں سر فہرست وید آتے ہیں، وید کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع یگیہ (قربانی) ہے، ویدوں میں رگ وید کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس کے پہلے منڈل کے سوکت: ۱۶۲، کے دوسرے منتر میں گھوڑے اور بکروں کی قربانی کا ذکر ہے، آگے اس سوکت کے دیگر منتروں میں اشومیدھ یگیہ (گھوڑے کی قربانی) کی تفصیلات ہیں۔دسویں منڈل میں ہے کہ اندر دیوتا کہتا ہے: میرے لیے یگیہ کرتا (قربانی کرنے والے) لوگ پندرہ سے بیس بیل پکاتے ہیں (۸۶:۱۴) ۔اسی منڈل کا سوکت ۹۱ بتاتا ہے کہ اگنی کے لیے گھوڑوں،سانڈوں، بیلوں، جوان گایوں اور مینڈھوں کی قربانی دی جاتی تھی (۱۴)، سوکت ۷۲ بتاتا ہے کہ گائے کو تلوار یا کلہاڑی سے ذبح کیا جاتا تھا (۶)۔ اور سوکت ۲۸ بتاتا ہے کہ اندر کے لیے یجمان بیل پکاتے تھے۔ چوتھے منڈل میں تو کتوں کی انتڑیاں تک پکانے کی بات ہے (۱۸:۱۳)۔اتھر وید کے نویں کانڈ میں پنچودن اج (پانچ طرح کے چاول کے ساتھ بکرے کا گوشت پکانے)کا ذکر ہے (۴:۲۸) ، چوتھے سوکت میں بکروں اور تیسرے میں بیلوں کو قربان کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ پانڈو رنگ وامن کانےنے واجسنے ئی سمہتا (یجروید) کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے کہ اس کتاب میں گائے کا گوشت کھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ (دیکھیے کانے کی دھرم شاستر وچار: ۱۸۰)
▪️ اپنشد
اپنشد وں کو ویدک لٹریچر کا حصہ مانا جاتا ہے، اس مجموعۂ کتب کا موضوع فلسفۂ الہیات ہے، کرم کانڈ اور رسوم ورواج اس کا موضوع نہ ہونے کے باوجود ذبح وقربانی کی بات اس میں ملتی ہے، مثلا: برہدارنیک اپنشد کہتا ہے کہ اگر کوئی چاہے کہ اس کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہو جو بڑا عالم، مشہور، مجلسوں میں جانے والا، شیریں کلام، تمام ویدوں کا جاننے والا اور پوری عمر پانے والا ہو، تو وہ (میاں بیوی) گوشت کے ساتھ چاول پکائیں اور اسے گھی کے ساتھ کھائیں۔ یہ گوشت کسی طاقتور سانڈ یا زیادہ عمر والے بیل کا ہو (۱۸:۴:۶)۔ اسی اپنشد میں ہے کہ جانور ہی یگیہ ( قربانی) کے لائق ہے۔(دیکھیے: ۳:۹:۶)
▪️ برہم سوتر
یہ کتاب اپنشدوں کا نچوڑ اور خلاصہ ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی شرح لکھنے والے اپنے وقت کے عظیم محقق اور مفکر کہلائے، جن میں آدی شنکر اچاریہ اور رامانجہ اچاریہ قابل ذکر ہیں، اس میں اس اعتراض کا کہ جانوروں کی قربانی ناجائز ہونی چاہیے یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ ناجائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ شاستروں کی تعلیمات کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔ (دیکھیے:۳:۱:۲۵)۔ آدی شنکر اچاریہ نے اس سوتر کی شرح میں ذبح جانور کی ممانعت والاشاستری حکم نقل کیا پھر دونوں میں تطبیق دی ، جس کا حاصل یہ ہے کہ جو قربانی شاستروں کی تعلیمات کے مطابق ہوگی وہ جائز ہوگی اور جو شاستروں کے خلاف ہوگی وہ ناجائز۔(برہم سوتر، انگریزی مترجم جارج تھباوٹ، محولہ بالا سوتر)
▪️ برہمن گرنتھ
وید کی تفسیر میں برہمن عالموں نے جو کتابیں لکھی ہیں انھیں ’’برہمن‘‘ کہا جاتا ہے، یہ تفسیریں ویدک دور کے اختتام کے وقت لکھی گئیں، سناتنی لٹریچر میں برہمن گرنتھ کو وہی مقام حاصل ہے جو ہمارے یہاں خیر القرون کی تفسیروں کو حاصل ہے۔ اس مجموعہ میں ایک شت پتھ برہمن ہے جو یجروید کی تفسیر ہے، اس میں یجناولکیہ رشی کا یہ قول منقول ہے کہ میں تو اسے یعنی گائے اور بیل کا گوشت کھاتا ہوں، بہ شرطے کہ وہ نرم وملائم ہو (۳:۱:۲:۲۱)۔ اس موضوع پر سب سے دلچسپ حوالہ ایتریہ برہمن کا ہے ، یہ رگ وید کی تفسیر ہے، اس میں یگیہ کا جانور ذبح کرنے کے فضائل ومسائل کافی تفصیل کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں، جو دسیوں صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ قربانی سے پہلے یوپہ نامی لکڑی کا ستون نصب کیا جاتا ہے، پھر منتر پڑھتے ہوئے اس کی رسم تاجپوشی انجام پاتی ہے، پھر منتر وں کے ورد کے ساتھ جانور کے اطراف آگ گھمانے کی رسم انجام پاتی ہے، پھر اسے قربان کرنے کے لیے پروہتوں کے حوالے کیا جاتا ہے، قربانی سے پہلے جانوروں کے مالکانہ حقوق پروہتوں کی طرف منتقل کیے جاتے ہیں، پھر ذبح کرنے کا مرحلہ آتا ہے، اس سلسلہ میں ایتریہ برہمن کی ہدایات کچھ یوں ہیں:’’ اس کے پیر شمال کی طرف موڑدو، اس کی آنکھیں سورج کی طرف کردو، ۔۔۔ اس کا پورا چمڑا (کاٹے بغیر) ادھیڑ لو، ناف کاٹنے سے پہلے اوجھڑی پھاڑدو،عقاب کی طرح اس کے سینے کے ٹکڑے کرو، اس کے بازووں کو دو کلہاڑی کی طرح، اس کے اگلے پیروں کو دو نوکدار آلے کی طرح ، اور اس کے کندھوں کو دو کشیپوں (کی طرح دو ٹکڑے کرو)، اس کی پشت کا نچلا حصہ (مکمل)سالم رہنا چاہیے، اس کی رانوں کو دو ڈھال (کی طرح دو ٹکڑے کرو)، اس کے دونوں گھٹنوں کو اولینڈر کے دو پتوں (کی طرح دو ٹکڑے کرو)، اس کی چھبیس پسلیاں بالترتیب نکال لو، ہر پسلی صحیح سالم رہے۔۔۔ (اوجھڑی نکالتے وقت) انتڑیوں کو مت کاٹو۔ (انگریزی مترجم مارٹن ہاؤگ،۲/۸۶،۸۷) ۔ پھر اس کے بعد منوتہ رسم کا مرحلہ آتا ہے جس میں جانور کے اجزا دیوتاؤں کو پیش کیے جاتے ہیں۔پھر اس کے بعد قربان کیے ہوئے جانور کی تقسیم کی باری آتی ہے، ایتریہ برہمن کی تفصیل کے مطابق جانور کا گوشت یگیہ میں شامل برہمن پروہتوں میں تقسیم کیا جاتا، جانور کا معمولی سا حصہ چھوڑ کر پورے جانور پر برہمنوں کا قبضہ ہوتا، جو شخص قربانی کے لیے جانور برہمنوں کے حوالے کرتا اس کے حصے میں کمر کی ہڈی، مثانہ اور دایاں پاوں آتا ، اس کی بیوی کے حصے میں بایاں پاؤں آتا ، اور بالائی ہونٹ دونوں میاں بیوی کے درمیان مشترک ہوتا ۔( تفصیلات کے لیے مذکور کتاب کے انگریزی ترجمہ کی دوسری جلد ملاحظہ ہو)۔
▪️ سمرتی
سمرتی میں وہ کتابیں آتی ہیں جو کرم کانڈ، رسوم ورواج، نیز مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق احکام وہدایات پر مشتمل ہیں، ضمنا اس میں کلامی مباحث بھی آئے ہیں، لیکن اصلا یہ احکام کی ہی کتابیں ہیں، منو سمرتی کا پورا نام منو دھرم شاستر ہے، دھرم شاستر، دھرم سوتر، گرہ شاستر اور گرہ سوتر نامی کتابیں اسی مجموعہ میں شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت ومقبولیت منو سمرتی کو حاصل ہے، منوسمرتی میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری کا ذکر اتنا زیادہ ہے کہ اس کے لیے مستقل مقالہ چاہیے، یہاں کچھ اشلوک نقل کیے جاتے ہیں، پانچویں ادھیائے میں ہے کہ ’’ مدھوپرکہ (مخصوص ضیافت) کے وقت، یگیہ کے موقع سے، شرادھ (ایصال ثواب) کے لیے اور دیوتاؤں کو نذرانہ پیش کرنے کے موقع پر جانور ذبح کیا جائے، منو جی یہ حکم دیتے ہیں۔ ویدوں کے حقیقی مفہوم سے واقف دویجہ جب ان مقاصد کے لیے جانور ذبح کرتا ہے تو وہ وہ اپنے آپ کو اور اس جانور کو نعمتوں والے مقام میں داخل کرتا ہے‘‘(۴۱، ۴۲)۔ اسی باب میں مچھلیاں کھانے کی اجازت دی گئی ہے، بہ شرطے کہ انھیں دیوتاؤں اور آتماؤں کو پیش کیا جائے (۱۶)۔آگے منو جی کہتے ہیں:خار پشت، ساہی، گوہ،گینڈا، کچھوا، خرگوش کھانے کے لائق ہیں اسی طرح اونٹ کو چھوڑ کر ایک طرف کے جبڑے میں دانت رکھنے والے (پالتو جانور کھانے کے لائق ہیں)‘‘ (۱۸)۔ ’’مخلوقات کے دیوتا (پرجا پتی) نے یہ پوری (دنیا) روح حیات کے لیے بنائی ہے، متحرک اور جامد دونوں طرح کی مخلوقات روح حیات کی غذا ہیں‘‘ ( ۲۸)۔ ’’کھانے کے لائق جانوروں کو کھانے سے کھانے والے کو دوش نہیں ہوتا؛ کیوں کہ کھانے کے لائق جانور کو اور کھانے والے جاندار کو خالق نے ہی (خاص مقاصد کے لیے) پیدا کیا ہے‘‘(۳۰)۔ ’’ گوشت کھایا جاسکتا ہے جب کہ اس پر پانی چھڑکا گیا ہو، جب کہ منتر پڑھے جائیں، جب کہ برہمن (کھانا) چاہیں، جب کہ قانون کے مطابق (رسم کی ادائیگی) عمل میں لائی جائے، اور جب کہ بھوک سے جان جاتی ہو (۲۷)۔ ’’گوشت کھانے والا اگر یگیہ کے ذریعہ دیوتاؤں اور آتماؤں کی تعظیم بجالائے تو گنہ گار نہ ہوگا، خواہ وہ گوشت خرید کر لائے، یا خود (جانور) کاٹے، یا کسی سے ہدیتا حاصل کرے‘‘ (۳۲) ۔ ’’ جو دویجہ ویدوں کا مطلب جانتے ہوئے کسی جانور کو مذکورہ مقاصد کے لیے ذبح کرتا ہے تو وہ مع جانور بابرکت مقام پاتا ہے‘‘ (۴۲)۔ ’’ یگیہ(قربانی) کی غرض سے ذبح کرنا جیو ہتیا نہیں ہے‘‘ (۳۹)۔ ’’جو شخص (مقدس رسم کے موقع پر ضیافت کرنے یا تقریب کی ذمہ داری نبھانے میں) مشغول ہونے کی بنا پر گوشت کھانے سے انکار کرتا ہےمرنے کے اکیس جنم تک جانور رہتا ہے‘‘ (۳۵)۔
اس مجموعۂ کتب میں ایک آپستمبہ دھرم سوتر ہے، اس میں دودھاری گایوں اور بیلوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی گئی ہے، اور یجروید کے حوالے سے سانڈوں کے گوشت کو چڑھاوے کے لیے مناسب بتا یا گیا ہے (انگریزی ترجمہ جارج بھولر:۶۴)۔ وششٹھ دھرم سوتر میں بھی یجروید کے حوالے سے دودھاری گایوں اور بیلوں کوکھانا جائز قرار دیا گیا ہے۔ (انگریزی ترجمہ پاترک اولیول: ۲۸۸)۔ آپستمبہ دھرم سوتر کے علاوہ ایک آپستمبہ گرہ سوتر ہے، اس میں ہدایت دی گئی ہے کہ شادی کے موقع سے مہمانوں کی ضیافت گائے سے کرنی چاہیے، کیوں کہ یہ ذبح گاؤ کا بہترین موقع ہے (انگریزی ترجمہ ہرمن اولڈن برگ، ۲/۱۷۴)۔ مادھو گرہ سوترمیں وید کا یہ حکم سنایا گیا کہ مدھو پرکہ (مخصوص ضیافت) گوشت کے بغیر نہیں ہونی چاہیے (۱-۹-۲۲)۔ ہرنے کیشی گرہ سوتر کے مطابق مدھوپرکہ (مخصوص ضیافت) میں گائے کاٹنا افضل ہے۔ (انگریزی مترجم ہرمن اولڈ برگ، کھنڈ ۱۳)۔ بودھاین گرہ سوتر میں بھی اسی طرح کی (ہرنے کیشی گرہ سوتر کی) بات ہے (۱:۲: ۵۱تا ۵۴)۔ آش ولاین گرہ سوترمیں ہے کہ گوشت کے بغیر مدھو پرکہ نہیں ہونا چاہیے۔ (انگریزی ترجمہ، ہرمن اولڈن برگ،۱/۲۰۰)۔ اسی گرہ سوتر کے ادھیائے چار کے کنڈیکا تین میں انتم سنسکار (آخری رسومات) کی تفصیلات ہیں، اس میں مذبوحہ جانور کے مخصوص اعضا کو انتم سنسکار میں کس طرح استعمال کیا جائے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
▪️ پران
پران سناتنی لٹریچر میں تاریخ کی کتاب سمجھی جاتی ہے، لیکن یہ تاریخ اساطیر سے بڑھ کر نہیں۔ پرانوں میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں ان میں کچھ قابل ذکر یہ ہیں: کائنات کی تخلیق اور اس کا انجام، شاہی خاندانوں کے احوال، دیوی دیوتاؤں کی جنگوں کے تذکرے، محبت کی داستانیں اور ان کےدیگر احوال وواقعات، دیومالائی قصے کہانیاں، مقدس ایام، مقدس مقامات اور مقدس شخصیات کا تذکرہ،اوتار واد کا عقیدہ اور اوتاروں کا تذکرہ وغیرہ۔اس مجموعۂ کتب میں بھاگوت مہا پران کو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی، بھاگوت کتھا کے نام سے جو ست سنگ (مجلس وعظ) لگتی ہے اس میں اسی پران کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ اس کے دسویں اسکند کے باب ۵۸ میں ہے کہ ارجن شری کرشن کے ساتھ شکار پر گئے اور وہاں ، ہرن، سور، گینڈے، خرگوش، بھینس وغیرہ بہت سے جانوروں کا شکار کیا اور جو جانور یگیہ (قربانی) کے لائق تھے انھیں خدام ساتھ اٹھا لائے (۱۳ تا ۱۶)۔ آگے شری کرشن کی یہ مشغولیت بتائی جاتی ہے کہ وہ سندھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کر رہے ہیں، اس طرح وہ یگیہ (قربانی کی رسم) کے لیے متبرک جانوروں کو جمع کر رہے ہیں (۱۰:۶۹:۳۵)۔ منوجی کے بیٹے اکشواکو کے بارے میں ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے وکوکشے سے کہا کہ یگیہ (قربانی) کے لائق جانور لے آؤ (۹:۶:۶)۔ چوتھے اسکند میں یگیہ منڈپ (قربان گاہ) میں یگیہ پشووں (قربانی کے جانوروں) کا سر دھڑ سے الگ کرنے کی بات مذکور ہے (۴:۵:۲۵)۔ وشنو پران کے تیسرے کھنڈ میں آباءو اجداد کی روحوں کو پیش کیے جانے والے نذرانے کی تفصیلات میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ پِتر (آباء واجداد) ایک مہینے تک اُن نذرانوں سے آسودہ اور خوش رہتے ہیں جو چاول یا دوسرے غلّے، گھی، مچھلی، یا خرگوش، پرندوں، سور، بکرے، کالا ہرن ، عام ہرن، گائے (جنگلی گائے) یا بھیڑ کے گوشت سے پیش کیے جائیں، یا پھر گائے کے دودھ اور اس سے بننے والی اشیاء سے۔ اور عام طور پر گوشت سے، خصوصاً لمبے کانوں والی سفید بکری کے گوشت سے، وہ ہمیشہ کے لیے مطمئن رہتے ہیں۔ اسی طرح گینڈے کا گوشت، کالاشاک نامی سبزی، اور شہد بھی اُن ہستیوں کے لیے خاص طور پر موجبِ طمانینت سمجھے جاتے ہیں جن کی پرستش آبائی رسومات میں کی جاتی ہے (۱۶: ۱،۲،۳)۔ برہم ویورت پران کے کرشن جنم کھنڈ کی تفصیلات کے مطابق شری کرشن اور رکمنی کی شادی کے موقع سے ایک لاکھ گائے، دو لاکھ ہرن، چار لاکھ خرگوش اور کچھوے اور دس لاکھ بکرے اور بکری کاٹے اور پکائے گئے (۱۰۶: ۱۶۲،۱۶۳)۔ مارکنڈے پران سے ماخوذ کتاب درگا شپت ستی میں بتایا گیا ہے درگا ماتا پشو بلی (ذبح جانور) چاہتی ہیں (۵:۲۷)۔
▪️ مہا بھارت
مہا بھارت کے شانتی پرو (باب ۱۴۱) میں درج تفصیلات کے مطابق وشوامتر منی نے اپنی بھوک مٹانے چنڈال کے گھر سے شاستروں کے طریقہ پر کاٹے گئے کتے کی ران چرائی اور کھائی۔اور انوشاسن پرو (۱۳) کے باب ۸۸ میں شرادھ میں جانور پیش کیے جانے کا تفصیلی ذکر ہے، اس میں مچھلی، بھیڑ، خرگوش، بکرے، سور، ہرن، پرندے، بھینسے ، گائے گینڈے وغیرہ کے گوشت کے ذریعے پِتروں (وفات پاچکے آباء واجداد) کی “مدتِ رضامندی” بیان کی گئی ہے۔
▪️ والمیکی رامائن:
والمیکی رامائن کے ارین کانڈ (سرگ ۴۷) میں سیتا جی راون سے کہتی ہیں کہ میرے شوہر رو رو، گوہ، جنگلی سور کو مار کر بہت سا گوشت لاویں گے (۲۲،۲۳) ۔بال کانڈ (۱۴ سرگ) میں راجہ دشرتھ کےاشو میدھ یگیہ (گھوڑے کی قربانی) کاتذکرہ ہے، اس میں یہ صراحت ہے کہ راجہ دشرتھ یگیہ کراتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاستروں کے مطابق جس دیو کے لیے جو جانور چاہیے وہ باہر آگیا، اور پنچھی بھی یگیہ شالہ (قربان گاہ) میں لائے گئے (۲۸)۔پھر کوشلیہ جی نے تلوار کے تین وار سے گھوڑے کے ٹکڑے کر دیے(۳۱)۔آگے چربی پکانے کی بات بھی آئی ہے (۳۴)۔ ایودھیا کانڈ (سرگ ۵۶)میں رام جی لکشمن کو ہرن مار کر لانے اور اسے قربانی میں چڑھانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ارین کانڈ (سرگ ۷۳) میں مچھلی مار کر کھانے بلکہ مچھلی آگ پر بھون کر کھانے کا ذکر ہے (۱۴،۱۵)
▪️ رام چرت مانس
تلسی داس کی رام چرت مانس تاریخی ترتیب کے اعتبار سے سناتنی مصادر کی آخری کتاب ہے، جو مغل دور میں لکھی گئی، اور عوامی زبان میں تصنیف کی گئی، اسے جتنی عوامی مقبولیت ملی شاید ہی کسی سناتنی کتاب کو ملی ہو، رام کتھا کے نام سے جو ست سنگ (حلقۂ وعظ) لگتے ہیں ان میں اسی کتاب کو بنیاد بنا کر شری رام جی کی کہانی سنائی جاتی ہے۔اس کے بال کانڈ میں ہے کہ شری رام جی اپنے بھائیوں اور ساتھیوں کے ساتھ ہرن کا شکار کرنے گئے۔اس میں یہ بھی ہے کہ وہ روز ہرن مار کر راجہ دشرتھ کو دکھاتے ہیں، نیز وہ اپنے بھائیوں اور ساتھیوں کے ساتھ بھوجن کرتے ہیں (ص ۱۶۴)۔ اسی کانڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ رام جی کی شادی کے موقع سے دہی، مچھلی اور ہاتھ میں کتاب لیے دو ودوان برہمن سامنے آئے (۲۳۷)۔ایودھیا کانڈ میں قند اور پھل کے ساتھ پرندے، ہرن اور مچھلی منگوانے کا ذکر ہے۔
سناتنی لٹریچر سے پیش کی گئی مذکورہ بالا تفصیلات سے اس دعوی کی قلعی کھل جاتی ہے کہ سناتن دھرم جیو ہتیا کے خلاف ہے۔ سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری کی مثالیں اتنی زیادہ ہیں کہ اقتباسات نقل کرنے میں تلخیص سے اور حوالے لکھنے میں حتی الامکان اختصار سے کام لینے کے باوجود موضوع کا احاطہ نہ ہوسکا اور بہت سی مثالیں باقی رہ گئیں۔