ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام
ڈاکٹر اسرار احمدؒ (26 اپریل 1932ء – 14 اپریل 2010ء) برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، داعیِ دین اور بانیِ تنظیمِ اسلامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی قرآنِ حکیم کے فہم، دعوتِ دین اور اسلامی نظامِ حیات کے احیاء کے لیے وقف کر دی۔ اپنی علمی گہرائی، خطیبانہ انداز اور قرآنی فکر کے باعث آپ کو عالمِ اسلام میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ریاست ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں قرآن و اسلام کے گہرے مطالعے کے شوق نے آپ کو اسلامی علوم کی جانب متوجہ کیا اور آپ نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔
دینی و فکری خدمات
زمانۂ طالب علمی میں آپ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم بعض فکری اور سیاسی اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کا یقین تھا کہ اسلامی انقلاب اور معاشرتی اصلاح کا اصل ذریعہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے۔
اسی مقصد کے لیے آپ نے 1972ء میں انجمن خدام القرآن اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز بھی کیا۔ آپ کی دعوت کا مرکزی نکتہ قرآنِ حکیم کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا تھا۔
بحیثیت مفسرِ قرآن
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو خصوصاً درسِ قرآن کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کے ہزاروں خطابات، دروس اور بیانات آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں محفوظ ہیں جن سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔ آپ نے قرآنِ مجید کے پیغام کو عام فہم اور مؤثر انداز میں پیش کیا اور مسلمانوں کو قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنے کی دعوت دی۔
علمی و تصنیفی خدمات
آپ نے اسلام، قرآن، پاکستان اور امتِ مسلمہ کے مسائل پر سو سے زائد کتابیں اور رسائل تحریر کیے۔ آپ کی متعدد تصانیف کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ آپ کی تحریروں اور خطابات کا بنیادی موضوع قرآن فہمی، اصلاحِ معاشرہ، اسلامی نظامِ حیات اور امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ تھا۔
اعزازات
حکومتِ پاکستان نے آپ کی دینی و علمی خدمات کے اعتراف میں 1981ء میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ سے نوازا، جو پاکستان کے اہم ترین قومی اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔
وفات
ڈاکٹر اسرار احمدؒ طویل عرصے تک قلبی عارضے میں مبتلا رہے۔ 14 اپریل 2010ء کو 78 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال فرمایا۔ آپ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک صاحبِ فکر، صاحبِ بصیرت اور مخلص داعیِ قرآن سے محروم ہو گیا، تاہم آپ کے علمی آثار، دروسِ قرآن اور تصانیف آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
علمی ورثہ
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآنِ حکیم کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کو مضبوط بنانے کی جدوجہد ہے۔ ان کی دعوت، فکر اور علمی خدمات آج بھی دنیا بھر میں قرآن فہمی اور دینی بیداری کے فروغ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔