Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
08.08.2026
Trending News: قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطن
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
08.08.2026
Trending News: قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطن
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

  1. Home
  2. سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جون 23, 2026
  • 0 Comments

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم—

سہیل انجم

سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920ء میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے. ان کا انتقال 1985 میں ہوا. وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے. وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے. یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ *دارالعلوم* کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے.

انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا. ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا، لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے. 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا. ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا. ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے. اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا. اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا. ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار *زمیندار* کے صفحہ اول پر شائع کیا. اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا. سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا. ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ *غنچہ* اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ *پیامِ تعلیم* میں شائع ہوئے. دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں. 1936ء میں سہارنپور سے ہفت روزہ *صداقت* جاری ہوا تو وہ اس کے مستقل کالم نگار اور ادارتی عملہ کے رکن بن گئے. وہ صداقت میں اصلاحی، دینی اور سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ایک فکاہیہ کالم *اسرار و لطائف* بھی پابندی سے لکھتے رہے. صداقت نے 1939ء میں ان کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کیا. اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی. یہ خصوصی شمارہ ان کی صحافتی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا. انھوں نے سلطان الحق قاسمی بجنوری کے ساتھ مل کر ہفت روزہ *استقلال* شروع کیا. یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کب جاری ہوا لیکن اس کا عید نمبر دسمبر 1937 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ازہر شاہ قیصر کا ایک مستقل کالم *تواضعات* کے عنوان سے شائع ہوتا رہا. اسی طرح پندرہ روزہ *دیوبند ٹائمز* میں، جس کے مدیر مولانا اعجاز احمد قاسمی تھے، سیاسی حاشیے کے عنوان سے کالم لکھتے. لیکن کالم پر ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام *غزالی* شائع ہوتا. اس کالم میں پندرہ دن کی ملکی و غیر ملکی خبروں پر تبصرے ہوتے. انھوں نے نومبر 1940ء میں دیوبند سے دو ماہی *الانور* جاری کیا جس نے علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی اور کاموں پر توجہ مرکوز کی. یہ ایک دینی و اصلاحی اخبار تھا. اس کا مقصد علامہ کشمیری کے کی علمی خدمات سے اردو داں طبقہ کو روشناس کرانا تھا. انھوں نے الانور میں ان پر متعدد مضامین لکھے. اسی عرصے میں انھوں نے ماہنامہ *ہادی* دیوبند کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی. اس کا پہلا شمارہ مئی 1949 میں منظر عام پر آیا تھا. اس کے ادارہ تحریر میں سید ازہر شاہ قیصر کے علاوہ سید محبوب رضوی اور مولانا محمد سالم قاسمی کے نام شامل ہیں. مئی 1950ء میں شعبۂ ادارت میں علامہ انور صابری کا نام بھی شامل ہو گیا. اکتوبر 1950ء میں جمیل مہدی بھی اس کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے. سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ان کو 1951میں دارالعلوم دیوبند کے رسالے *دارالعلوم* کی ادارت تفویض کی گئی. اس ذمہ داری نے ان کے قلمی جوہر کو مزید جلا بخشی اور ان کے قلم سے بے شمار اہم اور قابل ذکر مضامین نکلے. انھوں نے ایک طرح سے خود کو اس رسالے کے لیے وقف کر دیا. اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ رسالہ اور ان کا نام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہو گئے۔ وہ 1982ء تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے. اس ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے دو ماہی *اجتماع* سہارنپور، ماہنامہ *خالد* دیوبند، ماہنامہ *طیب* دیوبند اور *اشاعت الحق* دیوبند کی بھی ادارت سنبھالی تھی. جب ان کی ادارت میں دارالعلوم دیوبند کی اشاعت بحال ہوئی تو انھوں نے *حرف آغاز* کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ القاسم کے بعد عرصہ تک دارالعلوم کا اپنا کوئی ترجمان نہیں تھا تاآنکہ 1360ھ میں رسالہ دارالعلوم نکالا گیا جو آٹھ سال تک اپنی بہت سی مجبوریوں کے باوجود اشاعت دین اور تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتا رہا.

ہمارا موجودہ رسالہ *دارالعلوم* کا دور جدید ہے جو ہمارے حلقے کے مسلسل اصرار اور خواہش پر ازسرنو جاری کیا جا رہا ہے. ان کی ادارت میں دارالعلوم جلد ہی اس مقام پر پہنچ گیا جسے رسالے کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے. سید صاحب ادب و صحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتے تھے جس کی بنا پر وقت کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور کہنہ مشق صحافیوں سے ان کی راہ و رسم بڑی گہری تھی. ادھر ان کے با فیض اور لاثانی محقق و محدث والد علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی جو ان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے اور قلبی تعلق رکھے تھے اور اپنا ہر ممکن تعاون دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے. چنانچہ انھوں نے دارالعلوم کی ادارت سنبھالتے ہی اسے شہرت و مقبولیت کے سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا. پہلے اس رسالے کی رسائی عام طور پر اہل علم و نظر اور دینی و مذہبی طبقوں ہی تک محد دو تھی اب اس کی پہنچ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے لے کر اد با شعر ایک اور عام قارئین سے لے کر بڑے بڑے صحافت پیشہ حضرات تک ہونے لگی. رسالے کا آغاز از ہر شاہ قیصر اپنے علمی، فکری، تحقیقی، ادبی و سیاسی اداریوں سے کرتے جسے وہ *حرف آغاز* کے عنوان سے لکھا کرتے تھے ( بعد میں تقریباً سترہ سال تک حرف آغاز مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دو ایک دفعہ مولانا ندیم الواجدی نے بھی لکھا). اس کے بعد مقالات کے کالم کے تحت ملک کے شہرہ آفاق علماء، محققین، اسکالرس، ادبا اور صحافیوں کی نگارشات کا نمبر ہوتا. ادبیات کا مستقل گوشہ تھا جس کے تحت ہر ماہ ماہر القادری، حمید صدیقی لکھنوی زائر حرم ، روش صدیقی، الم مظفر نگری، نازش پرتاب گڑھی، جگر مراد آبادی اور ان جیسے دیگر بین الاقوامی شہرت و عظمت کے مالک شعرا کی تازہ بہ تازہ غزلیات شائع کی جاتیں. اخبار و افکار کے تحت ہر ماہ ملکی و عالمی پیمانے کی خاص خاص خبریں دی جاتیں. تنقید و تبصرہ بھی ایک مستقل کالم تھا جس میں ہر ماہ نئے مصنفین کی کتابوں پر فاضلانہ اور بے باک و حقیقت افروز تبصرے کیے جاتے. تبصرے کے لیے چونکہ بہ یک وقت کئی کئی کتابیں آتی تھیں اس لیے مولانا کے علاوہ آپ کے برادر خرد مولانا سید انظر شاہ، مولانا عبد الرؤف عالی اور مولانا قمر احمد عثمانی وغیرہ بھی تبصرہ نگاری کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے. رسالے کے اخیر میں حسب سابق حضرت مہتمم صاحب کے اسفار کی تفصیلات اور کوائف دارالعلوم درج کیے جاتے تھے. سیداز ہر شاہ قیصر نے اپنے دور ادارت میں جہاں اپنی قلمی نوازشوں سے دارالعلوم کو مثالی وقار و اعتبار بخشا و ہیں وقت کے مشہور اہل قلم و ادب و شعر کو اس رسالے میں لکھنے کی دعوت دی جنھوں نے اپنے رشحات و تخلیقات سے اس کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے. الغرض سید از ہر شاہ قیصر کے عرصہ ادارت میں ماہ نامہ دار العلوم ایک مکمل اور ہمہ جہت میگزین تھا جس میں علمی، دینی، ادبی، تنقیدی اور سیاسی ہر قسم کے موضوعات پوری دیدہ وری کے ساتھ برتے جاتے اور ارباب ذوق ان کا والہانہ استقبال کرتے تھے.

مولانا نے 1951 سے 1982 تک رسالہ *دارالعلوم* کی ادارت بحسن و خوبی انجام دی. مگر جب اس سال دارالعلوم سخت پر آشوب حالات سے گزرا اور اس کے تعلیمی و انتظامی شعبے تشویش ناک حد تک متاثر ہوئے تو رسالہ کی سرگرمیاں بھی ان حالات سے دو چار ہوئیں اور سال بھر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ اس کی اشاعت تعطل کا شکار رہی. پھر جب حادثات اور ہنگاموں کا طوفانِ بلا خیز تھما اور سابقہ معمولات علمی و انتظامی جدید انتظامیہ کے تحت بحال ہوئے تو رسالہ کی اشاعت کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ادارت کے لیے پھر مولانا سید از ہر شاہ قیصر کو مدعو کیا گیا. مگر حالات و انقلابات کی بے انتہا سنگینی نے ان کی طبع حساس پر غیر معمولی اثر ڈالا تھا اور وہ حد درجہ دل گیر ہو چکے تھے. اس لیے انتظامیہ کے اصرار کے باوصف انہوں نے گوشہ تنہائی ہی کو ترجیح دی اور کسی طرح بھی دوبارہ اس رسالے کی ادارت کے لیے تیار نہ ہوئے. اس طرح *دارالعلوم* اپنے ایک عظیم مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہو گیا.”(بحوالہ: دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ، مصنف: نایاب حسن قاسمی، ادارہ تحقیق اسلامی دیوبند).مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر نے *سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی* نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے. مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمی نے *درویش صفت صحافی* کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت شاہ جی کا سب سے پہلے میں نے جمعیة علماء ہند کے اکابرین ثلاثہ (مولانا حفظ الرحمن، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد میاں) کی مجلس میں تذکرہ سنا. اچھے لکھنے والوں کا ذکر ہو رہا تھا. مولانا محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر الجمعیة اور ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر انصاری اخبار بھی مجلس میں موجود تھے. مفتی صاحب نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر ازہر شاہ قیصر درالعلوم کے اداریے بڑی محنت سے لکھتے ہیں. زبان بھی پرشوکت ہوتی ہے اور فکر بھی صائب ہوتا ہے. فارقلیط صاحب نے مفتی صاحب کی تائید کی. البتہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے مفتی صاحب کی *پرشوکت زبان* پر فرمایا کہ اب دور آسان رادو زبان لکھنے کا ہے. ازہر شاہ کے سامنے علما کا طبقہ رہتا ہے. اگر وہ مسلم عوام کو سامنے رکھیں تو انھیں احساس ہو. مولانا آزاد نے بھی رام گڑھ کانگریس کے خطبہ میں اپنی پرشوکت اور پروقار زبان کی بجائے آسان اور عام فہم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے. ازہر شاہ مولانا آزاد کے الہلال و البلاغ کو دیکھتے ہیں. اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر تابش مہدی نے لکھا ہے. وہ اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:

*علامہ ڈپٹی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کے عناصر اربعہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اسلوب تحریر اوراپنی ادبی نظریہ سازی کے ذریعہ اردو شعر وادب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے. ہندوستان کی مردم خیز بستی دیو بند کے شعری و ادبی حوالے سے بھی چار نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں. ان میں پہلا نام علامہ انور صابری کا ہے جنھوں نے اپنی شاعری اور بدیہہ گوئی کے ذریعہ شہرت و مقبولیت حاصل کی. دوسرا نام مولانا عامر عثمانی کا ہے جنھوں نے اپنے ماہانہ رسالہ ”تجلی“ کے ذریعہ اپنی تخلیقی، تنقیدی اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا. تیسرا نام جمیل مہدی کا ہے جنھوں نے دیوبند سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیااور اس کے بعد لکھنو چلے گئے. انھوں نے وہاں سے روزنامہ عزائم جاری کیا اور آخری عمر تک عزائم ہی کے ذریعہ اپنی ذہانت و فطانت کا لوہا منواتے رہے اور چو تھا نام ابن الانور مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر کا ہے جو اوائل عمری ہی سے صحافت کے دامن گرفتہ ہوئے تو زندگی کی آخری سانس تک اس کی وفاداری سے منہ نہیں موڑا.

*انھوں نے ان کی تحریری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:*مولانا سید از ہر شاہ قیصر اردو کے معتبر صحافی بھی تھے اور شگفتہ قلم ادیب وانشا پرداز بھی. شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رکھتے تھے …. اگرچہ وہ ایک درویش صفت، قلندر مزاج، گوشہ نشین اور عزلت پسند صحافی تھے تاہم ان کے قلم میں بلا کی شوخی اور دلاویزی تھی. ان کا مطالعہ بہت وسیع اور ہمہ جہت تھا. اس سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ کشادہ نظری اور وسیع المشربی سے کام لیا. جو عمق اور ٹھہراؤ ان کے مشاہدے میں تھا وہ بہت کم لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے. رسالہ دارالعلوم میں ان کے اداریوں کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا. متعدد معاصر جرائد انھیں اپنے ہاں نقل کرتے تھے.

*غرضیکہ مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے. جب بھی دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ان کی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی.

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستی

Related Posts

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
  • hira-online.comhira-online.com
  • اگست 1, 2026
  • 0 Comments
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

*مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری ندوی*                               ( 1920 —- 1999 ) *از قلم : طارق شفیق ندوی* احادیث نبویہ میں اچھے نام رکھنے کی ترغیب و تلقین آئی ہے، کیونکہ اس سے شخصیت میں وقار پیدا ہوتا ہے، دل میں اس کی عظمت قائم ہوتی ہے. دوسری بات یہ کہ نام کی حیثیت ایک قالب کی سی ہے، جس میں انسان ڈھلتا ہے اور اس کی فطرت پر نفسیاتی اثر رہتا ہے. راقم کے نزدیک اس قبیل کی مثالوں میں ایک مثال مولانا معین اللہ ندوی نائب ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی ہے، جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تعمیر و استحکام میں معین و مساعد تھے، جنھیں ناچیز *معمار ندوہ* کے لقب سے ملقب کرنا زیادہ موزوں سمجھتا ہے.  مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی معتمد تعلیم ندوۃ العلماء لکھنؤ اپنے مضمون "احساسات و تاثرات” میں رقم طراز ہیں کہ: *”مولانا معین اللہ ندوی کا دارالعلوم کے مادی وسائل کے حصول، طلبہ کی رہائش کے لئے دارالاقامہ کی ضرورت، مسجد کی توسیع اور اس کو آباد کرنے کا اہتمام ، اس کے لئے درجہ حفظ کی توسیع و ترقی کی فکر میں نمایاں حصہ ہے. اسی طرح رواق سلیمانی، معہد تحفیظ القرآن الکریم، رواق اطہر، رواق عبد الحئی حسنی اور کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کی تعمیر میں ان کا بنیادی کردار ہے.”* کتب خانہ علامہ شبلی نعمانی کے قیام کی تجویز ندوۃ العلماء کے اجلاس (1915) میں منظور ہوچکی تھی اور موجودہ پانچ منزلہ خوبصورت عمارت کی بنیاد (1975) رکھی گئی تھی، جس کا افتتاح (1984) میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ہوا تھا، جس میں راقم بھی شریک تھا اور اس کی دیرینہ خواہش تھی کہ مولانا معین اللہ ندوی جیسے عہد آفریں منتظم، مفکر اسلام مولانا علی میاں کے عاشق زار ، سفر و حضر کے مشیر و مددگار کی ناقابل یقین خدمات اور حسن کارکردگی کے پیش نظر *معین الندوہ* کے ایوارڈ سے سرفراز کیا جاتا اور یک مشت پانچ لاکھ روپے بطور…

Read more

Continue reading
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے از ڈاکٹر محسن عتیق خان مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند   29 جون 2026 کو جب میں نے صبح صبح فون ہاتھوں میں لیا تو سب سے پہلے جس خبر پر نظر پڑی وہ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ناگہانی موت کی خبر تھی۔ آپ 72 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ كل ابن أنثى وإن طالت سلامته يوماً على آلة حدباء محمول یعنی ہر ماں کا بیٹا، چاہے کتنی ہی لمبی عمر اور صحت پا لے، ایک دن خم دار سواری (یعنی جنازے کی چارپائی) پر اٹھا کر لے جایا جائے گا۔” اور یہی ابدی حقیقت ہے، ہم کسی کو کتنا چاہتے ہوں، کتنا مانتے ہوں، یا کوئی کسی فرد، خاندان، قوم یا ملک کے لیے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کو اس مرحلے سے گزرنا ہے، اور ہر ایک کے گزرنے کے بعد دنیا یونہی حسب معمول اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ مولانا مرحوم کی موت کی خبر نے مجھے بے چین کر دیا خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی آپ کے جنازے میں شریک ہو سکتا مگر گاؤں میں ہونے اور آپ کے یہاں سے محض سو یا دو سو کیلو میٹر دور ہونے کے باوجو اس خواہش کی تکمیل ممکن نہ تھی کیونکہ میں خود تقریباً ایک مہینے سے بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔   مولانا کی موت کی خبر نے یادوں کے دریچے کھول دیے اور مجھے 30/35 سال پیچھے دار العلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں پہنچا دیا۔ میں نے مولانا مرحوم کو سب سے پہلے لکھنؤ کی سفید بارہ دری میں تقریر کرتے ہوئے سنا تھا۔ یہ 1993 کی ابتدا کی بات ہے، بابری مسجد شہید کی جا چکی تھی, ہندوستان کی تاریخ میں ظلم و بربریت کا ایک نیا اور تاریک باب جوڑا جا چکا تھا، مسلماں ظلم سے نڈھال، امید و بیم کی حالت میں تھا۔ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم 07.08.2026
  • سرمایہ دار صحابہ کرام 07.08.2026
  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026
  • بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا 05.08.2026
  • قسطوں پر سامان کی فروخت 05.08.2026
  • عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟ 05.08.2026
  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم
اسلامیات مضامین و مقالات

سرمایہ دار صحابہ کرام

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
سرمایہ دار صحابہ کرام
فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

قسطوں پر سامان کی فروخت

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
فقہ و اصول فقہ

عورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top