محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
مفتی محمد شمیم قاسمی مگہری
مدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ آنند نگر
(قسط نمبر 1)
محرم الحرام کی فضیلت اور اسلامی سال کا آغاز
اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے آتے ہی امت مسلمہ کے مختلف طبقات اپنے اپنے انداز میں اس کا استقبال کرتے ہیں۔ بعض لوگ اس مہینے کو محض غم و ماتم کا مہینہ بنا دیتے ہیں، بعض اسے صرف تاریخی واقعات تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ ایک معتدل مسلمان کے لیے محرم کا اصل تعارف وہی ہے جو قرآن و سنت نے پیش کیا ہے۔ محرم نہ صرف اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے بلکہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی حرمت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔
افسوس یہ ہے کہ محرم کے نام پر آج امت کے اندر جذبات تو بہت ہیں مگر علم کم ہے، نعرے بہت ہیں مگر تحقیق کم ہے، قصے بہت ہیں مگر دلائل کم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محرم کو قرآن، سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں سمجھیں تاکہ افراط و تفریط دونوں سے بچ سکیں۔
محرم کی شرعی حیثیت
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ محرم کے معنی ہیں حرمت والا یا قابل احترام ۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب اس مہینے کی عظمت کے قائل تھے اور اس میں جنگ و قتال سے اجتناب کرتے تھے، لیکن اسلام نے اس کی حرمت کو محض ایک معاشرتی روایت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے شرعی حیثیت عطا کی۔
محرم ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآن نے الأشهر الحرم یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ اس مہینے کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے بعد سب سے افضل نفلی روزوں کو محرم کے روزے قرار دیا۔ اگر محرم کی کوئی فضیلت نہ ہوتی تو نبی کریم ﷺ اس مہینے کی عبادت کو اس درجہ اہمیت نہ دیتے۔
علماء لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض جگہوں، بعض زمانوں اور بعض اشخاص کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ جیسے مکہ مکرمہ کو تمام شہروں پر، رمضان کو تمام مہینوں پر اور جمعہ کو تمام دنوں پر فضیلت دی گئی، اسی طرح محرم کو بھی سال کے دیگر مہینوں پر ایک خاص شرف حاصل ہے۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا محرم کو شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ کہنا اس کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف کسی چیز کی نسبت عموماً اس کی عظمت و شرف کو ظاہر کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت محرم کو عبادت، ذکر، روزہ اور اصلاحِ نفس کا مہینہ سمجھتے ہیں، نہ کہ بدعات، خرافات اور غیر شرعی رسومات کا۔
قرآن کریم میں حرمت والے مہینے
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ﴾ (التوبہ: 36)
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حرمت والے مہینوں کا نظام کوئی انسانی ایجاد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے جو تخلیقِ کائنات کے دن سے قائم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محرم کی عظمت کسی تاریخی واقعے کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہے۔
صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ نے ان چار مہینوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: تین مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، اور ایک رجب۔
اس سے معلوم ہوا کہ محرم کی فضیلت واقعۂ کربلا سے کئی دہائیاں پہلے سے موجود تھی۔ جب قرآن نازل ہوا تب بھی یہ مہینہ محترم تھا اور جب رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تب بھی یہ مہینہ معزز تھا۔
علماء نے لکھا ہے کہ حرمت والے مہینوں میں گناہ کی قباحت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور نیکی کا اجر بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ہر زمانے میں گناہ حرام ہے لیکن ان مہینوں میں اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ جس طرح مقدس مقامات میں گناہ کا وبال زیادہ ہوتا ہے اسی طرح حرمت والے مہینوں میں بھی معصیت کا بوجھ زیادہ شدید ہوتا ہے۔ لہٰذا محرم ہمیں محاسبۂ نفس، توبہ اور اصلاح کا پیغام دیتا ہے۔
عاشوراء کا روزہ
محرم کی سب سے نمایاں عبادت عاشوراء کا روزہ ہے۔ عاشوراء سے مراد محرم کی دسویں تاریخ ہے۔ یہ روزہ اسلام سے پہلے بھی معروف تھا اور قریش بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، لیکن اسلام نے اس روزے کو ایک نئی معنویت عطا کی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش زمانۂ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی رکھتے تھے۔ مدینہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔
بعد میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ فرض نہ رہا بلکہ نفلی اور مستحب قرار پایا، لیکن اس کی فضیلت باقی رہی۔
صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مجھے اللہ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ ایک سال گزشتہ کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
یہ فضیلت معمولی نہیں ہے۔ ایک دن کا روزہ اور پورے سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کی بشارت اس سے عاشوراء کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
اہل سنت کے نزدیک عاشوراء کا دن عبادت، ذکر، تلاوت اور روزے کا دن ہے۔ یہ دن نہ خوشی کے نام پر نئی رسموں کا دن ہے اور نہ ماتم و نوحہ کے نام پر خود کو اذیت دینے کا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عاشوراء
عاشوراء کے روزے کی سب سے اہم حکمت وہ واقعہ ہے جس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا۔
آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:
یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟
انہوں نے کہا:
یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون کو غرق کر دیا۔
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔
چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
اس حدیث سے کئی اہم مسائل معلوم ہوتے ہیں۔
پہلا یہ کہ اسلام سابقہ انبیاء سے اپنا تعلق جوڑتا ہے اور ان کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔
دوسرا یہ کہ انبیاء علیہم السلام کی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرنا مشروع ہے۔
تیسرا یہ کہ عاشوراء کا تعلق اصل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات سے ہے، نہ کہ بعد کے پیدا ہونے والے رسوم و رواج سے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اگرچہ بعد میں اسی تاریخ کو کربلا کا عظیم سانحہ پیش آیا، لیکن عاشوراء کی فضیلت اس سے پہلے ہی قرآن و سنت سے ثابت تھی۔
محرم کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی احادیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے محرم کو شہر اللہ فرمایا ہے۔ یہ نسبت اس مہینے کی عظمت اور خصوصی فضیلت کو ظاہر کرتی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ عاشوراء کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہے تاکہ مسلمانوں کی عبادت یہود سے ممتاز رہے۔
علماء نے اس بنا پر تین درجے بیان کیے ہیں
نو اور دس محرم کا روزہ رکھنا
دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا
صرف دس محرم کا روزہ رکھنا
ان میں سب سے افضل صورت نو اور دس کا روزہ ہے۔
احادیث کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محرم کو عبادت، روزہ، شکر اور اللہ کی طرف رجوع کا مہینہ بنایا، جبکہ بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والی بہت سی رسومات کا کوئی ثبوت نہ قرآن میں ملتا ہے اور نہ سنت میں۔
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور عظمت والا مہینہ ہے۔ اس کی فضیلت کسی تاریخی حادثے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ براہِ راست قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ عاشوراء کا روزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی یادگار ہے اور نبی کریم ﷺ نے اسے امت کے لیے عظیم عبادت قرار دیا ہے۔
لہٰذا ایک سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ محرم کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھے، اس کی مشروع عبادات کو اختیار کرے، اور ان تمام بدعات، خرافات، توہمات اور غیر شرعی رسومات سے بچے جن کا تعلق نہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، نہ صحابہ کرامؓ سے اور نہ ہی سلف صالحین سے۔
قسط جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔