Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
22.07.2026
Trending News: مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
22.07.2026
Trending News: مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  1. Home
  2. فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داری
از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)


آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔


کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟


جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد مند اہلِ علم و دانش نے متفکر ہو کر ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی، جس کا مقصدِ اعظم تھا فرقہ واریت کو ختم کرنا۔ اس تحریک کو بڑی حد تک کامیابی ملی، اور اس سے وابستہ علماء نے اتحادِ امت اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنا مشن بنایا۔
ان نیک دل اور پاک طینت علماء نے دین و ملت کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے نہ یہ کہ تکفیر و تفسیق کا نجس طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کی اور ہمیشہ اسے کریہ و مبغوض سمجھا۔ اس تنگ و تاریک گلی کو چھوڑ کر انہوں نے دو پاکیزہ شاہراہوں کا انتخاب کیا، جن پر چل کر انہیں حیرت انگیز کامیابی ملی، اور مخالفین نے بھی ان کی شرافتِ نفسی اور بلند ہمتی کا اعتراف کیا۔


یہ دو پاکیزہ شاہراہیں کیا ہیں؟


1- گمراہ کن خیالات کا سنجیدہ علمی تعاقب:

اسکندریہ کے کتب خانے کے جلانے کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا تو علامہ شبلی نے اس موضوع پر ایک نہایت عالمانہ مقالہ لکھ کر اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے جزیہ وغیرہ موضوعات پر علمی انداز سے مستشرقین کے شبہات کا جواب دیا، جرجی زیدان کی کتاب ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا رد لکھا۔ ان کی کتاب ’’الانتقاد‘‘ کو علامہ رشید رضا نے سراہا اور اسے شائع کیا۔ اسی قبیل سے شیعیت اور قادیانیت کی تردید میں مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتابیں ہیں۔


2- گمراہ کن مصنفین کی کتابوں سے بلند تر معیار کی علمی تحقیقات پیش کرنا:

مستشرقین نے نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو مطعون کیا اور خدشہ بڑھا کہ مسلمانوں کی نئی نسل اس موضوع پر مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہوگی۔ علامہ شبلی نے اس خطرے کو محسوس کیا اور ’’سیرت النبی‘‘ جیسی عظیم کتاب لکھی، جسے ان کے مایۂ ناز شاگرد علامہ سید سلیمان ندوی نے مکمل کیا۔ ’’الفاروق‘‘، ’’النعمان‘‘ وغیرہ بھی اسی قبیل کی کوششیں ہیں۔
میں ان بزرگوں کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دی۔ مغرب کا ایک اہم اعتراض تھا کہ مسلمان عورتوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار خود ان کا مذہب ہے۔ آکسفورڈ کے ایک مستشرق نے لکھا تھا کہ اگر مسلمان اپنی تاریخ سے پانچ پڑھی لکھی عورتوں کے نام پیش کر دیں تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ اسلام نے عورتوں پر ظلم نہیں کیا۔ اس موضوع پر میں نے کام کیا۔ ایک دن آکسفورڈ ہی کا ایک مستشرق میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ اب یہ اعتراض ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔ اگر آپ پانچ نام پیش کرتے تو پھر بھی لوگ اعتراض کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیتے، آپ نے اتنے ہزار نام پیش کر دیے ہیں، اب کوئی اشکال کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ چند سالوں پہلے ایک انسائیکلوپیڈیا نے اعتراف کیا کہ ہم عورتوں کے تئیں جب مذاہب و ادیان کو مطعون ٹھہراتے ہیں تو اسلام اس سے مستثنیٰ ہے۔


ان سب سے زیادہ کامیاب اور بابرکت کام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ انہوں نے اس دین اور قرآنِ کریم پر کیے گئے اعتراضات کا مناظرانہ انداز سے جواب نہیں دیا، بلکہ سنجیدگی کے ساتھ محققانہ علمی متبادل پیش کیے۔ اس وقت صرف ان کا ایک کارنامہ بیان کرتا ہوں۔ یورپ کے مصنفین قرآنِ کریم پر ایک بڑا اعتراض یہ کرتے تھے کہ قرآن میں کوئی ترتیب نہیں، سورتوں کی تقسیم بے معنی ہے، کسی بھی سورت میں کوئی بھی بات کہہ دی گئی ہے۔ مولانا فراہی نے تیس سال لگا کر وہ کتابیں لکھیں جو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کرتی ہیں کہ پورا قرآن مرتب ہے، ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہے، اور اس سورت کی تمام آیات اس مرکزی مضمون سے مربوط ہیں۔ اس وقت یورپ و امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں مولانا فراہی کے نظریے پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ میں نے خود آکسفورڈ میں دیکھا کہ قرآنیات سے اشتغال رکھنے والے مستشرقین مولانا فراہی کی عبقریت کے سامنے انگشت بدنداں ہیں۔
یہ وہ کوششیں ہیں جو ہمارے عہد میں برصغیر میں ہوئیں۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں علمائے عظام نے علمی تحقیق کے ذریعے مخالفین پر اپنی برتری ثابت کی۔ امام غزالی کی ’’تہافت الفلاسفہ‘‘، امام ابن تیمیہ کی ’’الرد علی المنطقیین‘‘، ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘، اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ اسی قبیل کی ہیں۔


آپ جب دیکھیں کہ کسی کی فکر یا تحریر سے کوئی فتنہ رونما ہونے والا ہے تو آپ اس شخص کو برا بھلا کہنے یا اسے گمراہ اور کافر قرار دینے کے بجائے علمی دلائل کی روشنی میں اس کی غلطی واضح کر دیں، وہ فتنہ خود بخود مر جائے گا یا کمزور ہو جائے گا، اور اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ اس موضوع پر اس سے بہتر کتاب تیار کریں۔ لوگ آپ کی کتاب پڑھنے لگیں گے اور وہ ضلال نامہ طاقِ نسیاں کے سپرد ہو جائے گا۔ ’’فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ‘‘۔
اگر آپ خلافت و ملوکیت کے موضوع پر کسی کی تحقیق سے ناخوش ہیں تو اس موضوع پر اس سے بہتر کوئی کتاب تیار کریں۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے لیے نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں تو آپ جدید ترین علمی اسلوب میں یہ ثابت کریں کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اگر کسی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انتقال فرما چکے ہیں تو آپ یہ مبرہن کریں کہ وہ زندہ ہیں اور قربِ قیامت ان کا نزول ہوگا۔


یاد رکھیں کہ دلیل کی طاقت شمشیر و سناں سے بڑھ کر ہے۔ آپ کسی کی جان تو لے سکتے ہیں، لیکن اس کے خیالات و نظریات کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ گوشِ دل سے سن لیجیے کہ سب و شتم سے نہ کوئی مذہب پھیلتا ہے اور نہ کسی فکر کو فروغ ہوتا ہے۔ کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا آپ کی فکری قلاشی اور علمی بے مائیگی کا ثبوت ہے، اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔


اے غیورانِ ملتِ بیضاء! اے حامیانِ دینِ متین! اے ناصرانِ کتابِ مبین! آپ جس درد سے بیتاب ہیں وہ دلیل ہے آپ کے ایمان کی۔ اس درد کے مقتضا پر عمل کریں، اٹھیں اور عقل و خرد کو مخاطب کریں۔ علم و عقل کی بنیاد پر قائم کوئی فکر کبھی نہیں مرتی۔ علمی دلائل کا جواب تکفیر و تضلیل نہیں، بلکہ علمی دلائل ہیں۔ جس طرح شبلی نے ’’الانتقاد‘‘ لکھ کر جرجی زیدان کی کتاب کی سحر آفرینی ختم کر دی، اسی طرح آپ بھی عصرِ حاضر کے سامریوں اور کاہنوں کو بے وزن کر دیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہماری مدد کرے، آمین۔

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

Related Posts

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

مولانا سید سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے از ڈاکٹر محسن عتیق خان مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند   29 جون 2026 کو جب میں نے صبح صبح فون ہاتھوں میں لیا تو سب سے پہلے جس خبر پر نظر پڑی وہ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ناگہانی موت کی خبر تھی۔ آپ 72 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ كل ابن أنثى وإن طالت سلامته يوماً على آلة حدباء محمول یعنی ہر ماں کا بیٹا، چاہے کتنی ہی لمبی عمر اور صحت پا لے، ایک دن خم دار سواری (یعنی جنازے کی چارپائی) پر اٹھا کر لے جایا جائے گا۔” اور یہی ابدی حقیقت ہے، ہم کسی کو کتنا چاہتے ہوں، کتنا مانتے ہوں، یا کوئی کسی فرد، خاندان، قوم یا ملک کے لیے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کو اس مرحلے سے گزرنا ہے، اور ہر ایک کے گزرنے کے بعد دنیا یونہی حسب معمول اپنے ڈھرے پر چلتی رہتی ہے۔ مولانا مرحوم کی موت کی خبر نے مجھے بے چین کر دیا خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی آپ کے جنازے میں شریک ہو سکتا مگر گاؤں میں ہونے اور آپ کے یہاں سے محض سو یا دو سو کیلو میٹر دور ہونے کے باوجو اس خواہش کی تکمیل ممکن نہ تھی کیونکہ میں خود تقریباً ایک مہینے سے بستر علالت پر پڑا ہوا تھا۔   مولانا کی موت کی خبر نے یادوں کے دریچے کھول دیے اور مجھے 30/35 سال پیچھے دار العلوم ندوۃ العلماء میں طالب علمی کے زمانے میں پہنچا دیا۔ میں نے مولانا مرحوم کو سب سے پہلے لکھنؤ کی سفید بارہ دری میں تقریر کرتے ہوئے سنا تھا۔ یہ 1993 کی ابتدا کی بات ہے، بابری مسجد شہید کی جا چکی تھی, ہندوستان کی تاریخ میں ظلم و بربریت کا ایک نیا اور تاریک باب جوڑا جا چکا تھا، مسلماں ظلم سے نڈھال، امید و بیم کی حالت میں تھا۔ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ…

Read more

Continue reading
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ                                     کلیم الدین ندوی  لوگ خاک میں سونا تلاش کرتے ہیں ہم نے سونا سپرد خاک کیا ہے   اللہ تعالیٰ کی یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں ہر آنے والے کو ایک دن واپس اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ البتہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ علم، فکر، دعوت اور دینی خدمات کے ایک روشن باب کے خاتمے کا احساس دلاتی ہے،ان کے وصال سے صرف ایک خاندان یا ایک ادارہ ہی غم زدہ نہیں ہوتا، بلکہ پوری امت ایک عظیم خسارے کا احساس کرتی ہے اور اپنے آپ کو ایک قیمتی سرمایۂ علم و عمل سے محروم پاتی ہے۔   مولانا سلمان حسینی ندویؒ انہی ممتاز اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علومِ نبوت کی اشاعت، دعوت و اصلاح، تصنیف و تحقیق اور امت کی خیرخواہی میں بسر کی۔ ان کی شخصیت میں علمی رسوخ، فکری وسعت، دعوتی بصیرت اور دینی حمیت نمایاں تھی۔ وہ ایک صاحبِ قلم مصنف، مؤثر خطیب، کامیاب مدرس اور ملت کے درد رکھنے والے عالمِ دین تھے۔ ان کے خطابات اور تحریروں نے برصغیر ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں کو متاثر کیا۔   مولانا کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ امت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور مسلمانوں میں اتحاد، خیرخواہی اور دینی بیداری کے خواہاں تھے۔ انہوں نے اپنی علمی اور دعوتی زندگی میں مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، بعض مواقع پر ان کی آراء سے اختلاف بھی کیا گیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ علمی دنیا میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں۔ اہلِ علم ہمیشہ دلیل اور احترام کے دائرے میں اختلاف کرتے آئے ہیں۔   مولانا سلمان حسینی ندویؒ کی رحلت کے بعد ایک نہایت افسوس ناک صورتِ حال یہ بھی سامنے آئی کہ…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026
  • عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد 10.07.2026
  • مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش 10.07.2026
  • میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل 09.07.2026
  • آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی 09.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
اسلامیات

عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد
مضامین و مقالات

مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش

  • hira-online.com
  • جولائی 10, 2026
مقررین کی مجلس میں علماء کی تلاش
اسلامیات

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل
مضامین و مقالات

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوی

  • hira-online.com
  • جولائی 9, 2026
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از :  شان محمد ندوی

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top