فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داری
از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔
کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟
جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد مند اہلِ علم و دانش نے متفکر ہو کر ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی، جس کا مقصدِ اعظم تھا فرقہ واریت کو ختم کرنا۔ اس تحریک کو بڑی حد تک کامیابی ملی، اور اس سے وابستہ علماء نے اتحادِ امت اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنا مشن بنایا۔
ان نیک دل اور پاک طینت علماء نے دین و ملت کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے نہ یہ کہ تکفیر و تفسیق کا نجس طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کی اور ہمیشہ اسے کریہ و مبغوض سمجھا۔ اس تنگ و تاریک گلی کو چھوڑ کر انہوں نے دو پاکیزہ شاہراہوں کا انتخاب کیا، جن پر چل کر انہیں حیرت انگیز کامیابی ملی، اور مخالفین نے بھی ان کی شرافتِ نفسی اور بلند ہمتی کا اعتراف کیا۔
یہ دو پاکیزہ شاہراہیں کیا ہیں؟
1- گمراہ کن خیالات کا سنجیدہ علمی تعاقب:
اسکندریہ کے کتب خانے کے جلانے کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا تو علامہ شبلی نے اس موضوع پر ایک نہایت عالمانہ مقالہ لکھ کر اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے جزیہ وغیرہ موضوعات پر علمی انداز سے مستشرقین کے شبہات کا جواب دیا، جرجی زیدان کی کتاب ’’تاریخ التمدن الاسلامی‘‘ کا رد لکھا۔ ان کی کتاب ’’الانتقاد‘‘ کو علامہ رشید رضا نے سراہا اور اسے شائع کیا۔ اسی قبیل سے شیعیت اور قادیانیت کی تردید میں مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتابیں ہیں۔
2- گمراہ کن مصنفین کی کتابوں سے بلند تر معیار کی علمی تحقیقات پیش کرنا:
مستشرقین نے نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو مطعون کیا اور خدشہ بڑھا کہ مسلمانوں کی نئی نسل اس موضوع پر مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہوگی۔ علامہ شبلی نے اس خطرے کو محسوس کیا اور ’’سیرت النبی‘‘ جیسی عظیم کتاب لکھی، جسے ان کے مایۂ ناز شاگرد علامہ سید سلیمان ندوی نے مکمل کیا۔ ’’الفاروق‘‘، ’’النعمان‘‘ وغیرہ بھی اسی قبیل کی کوششیں ہیں۔
میں ان بزرگوں کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دی۔ مغرب کا ایک اہم اعتراض تھا کہ مسلمان عورتوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار خود ان کا مذہب ہے۔ آکسفورڈ کے ایک مستشرق نے لکھا تھا کہ اگر مسلمان اپنی تاریخ سے پانچ پڑھی لکھی عورتوں کے نام پیش کر دیں تو ہم تسلیم کر لیں گے کہ اسلام نے عورتوں پر ظلم نہیں کیا۔ اس موضوع پر میں نے کام کیا۔ ایک دن آکسفورڈ ہی کا ایک مستشرق میرے پاس آ کر کہنے لگا کہ اب یہ اعتراض ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔ اگر آپ پانچ نام پیش کرتے تو پھر بھی لوگ اعتراض کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال لیتے، آپ نے اتنے ہزار نام پیش کر دیے ہیں، اب کوئی اشکال کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ چند سالوں پہلے ایک انسائیکلوپیڈیا نے اعتراف کیا کہ ہم عورتوں کے تئیں جب مذاہب و ادیان کو مطعون ٹھہراتے ہیں تو اسلام اس سے مستثنیٰ ہے۔
ان سب سے زیادہ کامیاب اور بابرکت کام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ انہوں نے اس دین اور قرآنِ کریم پر کیے گئے اعتراضات کا مناظرانہ انداز سے جواب نہیں دیا، بلکہ سنجیدگی کے ساتھ محققانہ علمی متبادل پیش کیے۔ اس وقت صرف ان کا ایک کارنامہ بیان کرتا ہوں۔ یورپ کے مصنفین قرآنِ کریم پر ایک بڑا اعتراض یہ کرتے تھے کہ قرآن میں کوئی ترتیب نہیں، سورتوں کی تقسیم بے معنی ہے، کسی بھی سورت میں کوئی بھی بات کہہ دی گئی ہے۔ مولانا فراہی نے تیس سال لگا کر وہ کتابیں لکھیں جو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کرتی ہیں کہ پورا قرآن مرتب ہے، ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہے، اور اس سورت کی تمام آیات اس مرکزی مضمون سے مربوط ہیں۔ اس وقت یورپ و امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں مولانا فراہی کے نظریے پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ میں نے خود آکسفورڈ میں دیکھا کہ قرآنیات سے اشتغال رکھنے والے مستشرقین مولانا فراہی کی عبقریت کے سامنے انگشت بدنداں ہیں۔
یہ وہ کوششیں ہیں جو ہمارے عہد میں برصغیر میں ہوئیں۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں علمائے عظام نے علمی تحقیق کے ذریعے مخالفین پر اپنی برتری ثابت کی۔ امام غزالی کی ’’تہافت الفلاسفہ‘‘، امام ابن تیمیہ کی ’’الرد علی المنطقیین‘‘، ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘، اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ اسی قبیل کی ہیں۔
آپ جب دیکھیں کہ کسی کی فکر یا تحریر سے کوئی فتنہ رونما ہونے والا ہے تو آپ اس شخص کو برا بھلا کہنے یا اسے گمراہ اور کافر قرار دینے کے بجائے علمی دلائل کی روشنی میں اس کی غلطی واضح کر دیں، وہ فتنہ خود بخود مر جائے گا یا کمزور ہو جائے گا، اور اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ اس موضوع پر اس سے بہتر کتاب تیار کریں۔ لوگ آپ کی کتاب پڑھنے لگیں گے اور وہ ضلال نامہ طاقِ نسیاں کے سپرد ہو جائے گا۔ ’’فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ‘‘۔
اگر آپ خلافت و ملوکیت کے موضوع پر کسی کی تحقیق سے ناخوش ہیں تو اس موضوع پر اس سے بہتر کوئی کتاب تیار کریں۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے لیے نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں تو آپ جدید ترین علمی اسلوب میں یہ ثابت کریں کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اگر کسی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انتقال فرما چکے ہیں تو آپ یہ مبرہن کریں کہ وہ زندہ ہیں اور قربِ قیامت ان کا نزول ہوگا۔
یاد رکھیں کہ دلیل کی طاقت شمشیر و سناں سے بڑھ کر ہے۔ آپ کسی کی جان تو لے سکتے ہیں، لیکن اس کے خیالات و نظریات کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ گوشِ دل سے سن لیجیے کہ سب و شتم سے نہ کوئی مذہب پھیلتا ہے اور نہ کسی فکر کو فروغ ہوتا ہے۔ کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا آپ کی فکری قلاشی اور علمی بے مائیگی کا ثبوت ہے، اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اے غیورانِ ملتِ بیضاء! اے حامیانِ دینِ متین! اے ناصرانِ کتابِ مبین! آپ جس درد سے بیتاب ہیں وہ دلیل ہے آپ کے ایمان کی۔ اس درد کے مقتضا پر عمل کریں، اٹھیں اور عقل و خرد کو مخاطب کریں۔ علم و عقل کی بنیاد پر قائم کوئی فکر کبھی نہیں مرتی۔ علمی دلائل کا جواب تکفیر و تضلیل نہیں، بلکہ علمی دلائل ہیں۔ جس طرح شبلی نے ’’الانتقاد‘‘ لکھ کر جرجی زیدان کی کتاب کی سحر آفرینی ختم کر دی، اسی طرح آپ بھی عصرِ حاضر کے سامریوں اور کاہنوں کو بے وزن کر دیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہماری مدد کرے، آمین۔