Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
22.06.2026
Trending News: فتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
22.06.2026
Trending News: فتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

فتنۂ انکارِ حدیث

  1. Home
  2. فتنۂ انکارِ حدیث

فتنۂ انکارِ حدیث

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • جون 22, 2026
  • 0 Comments

فتنۂ انکارِ حدیث


از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ


سوال: فضیلت مآب ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی صاحب زید مجدہ، السلام علیکم۔
آپ محدثِ کبیر ہیں، آپ کا یکتائے روزگار، یگانۂ روزگار، درۂ یتیمہ کارنامہ بے شمار محدثات کا تحقیقی دستاویزی ڈاکٹریٹ ہے۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اور منکرینِ حدیث کی ناپاک، متعفن، ناکام کوششوں کو علمی، تحقیقی انداز میں بے نقاب فرمائیں۔ اس کا پس منظر، پیش منظر اور مقاصد پر روشنی ڈال کر ہم طلبۂ علمِ حدیث کو ایک ایسا نادر، نایاب تحفہ عطا فرمائیں، جس سے ہم منکرینِ حدیث کو منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے میں کامیاب ہو سکیں۔ حوضِ کوثر پر آپ کے آتے ہی یہ ندا بلند ہونے لگے: ’’میرے کلام کا محافظ و پاسبان آ رہا ہے۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے آپ کو جامِ کوثر پلا رہے ہوں، ملائکہ آپ کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں، حشر والے کہہ رہے ہوں کہ یہ ہے مردِ جیالا، مردِ کارہائے نمایاں، جس نے فتنۂ انکارِ حدیث کا قلع قمع کیا ہے، اس کی اتھلی جڑوں کو اکھاڑ پھینکا ہے، اس کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا۔ امید ہے کہ آپ میرے ان جذبات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محقق، مدلل، مؤثر جواب عنایت فرمائیں گے۔
آپ کا نالائق دوست محمد یوسف یاسین صدیقی ندوی، بھوپال


جواب: وعلیکم السلام۔ آپ نے ازراہِ تواضع اپنے آپ کو ’’نالائق‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنا دوست بھی لکھا ہے۔ اگر فارسی مقولے ’’کند ہم جنس با ہم جنس پرواز‘‘ کو معیار بنایا جائے تو اس نسبت کا کچھ اثر مجھ پر بھی لازم آتا ہے، اس لیے اس دعوے میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاہم اہلِ علم کی مجلسوں میں اس نوع کی خود تنقیصی عموماً حسنِ ظن اور انکسار کا اظہار ہوتی ہے، ورنہ آدمی اپنے عیوب اور اپنی کوتاہیوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتا ہے۔


آپ نے میری بابت جو تعریفی کلمات تحریر فرمائے ہیں، میں نے ابتدا ہی میں عرض کیا تھا کہ انہیں حذف کر دیا جائے، کیونکہ انسان اپنی حقیقت اور اپنی علمی کم مائیگی سے دوسروں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے اصرار کے پیشِ نظر میں نے یہ سوچ کر سکوت اختیار کر لیا کہ شاید کسی مخلص دوست کی زبان سے نکلے ہوئے یہ کلمات دعا کا درجہ اختیار کر لیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان توقعات اور حسنِ ظن کو کسی درجے میں قبول فرما لے۔ اسی امید پر انہیں جوں کا توں باقی رہنے دیا گیا ہے۔ بہر حال، اصل موضوع میری ذات نہیں بلکہ وہ علمی مسئلہ ہے جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے، اور جس پر گفتگو کرتے وقت شخصیات سے زیادہ اصول، جذبات سے زیادہ دلائل، اور دعووں سے زیادہ حقائق کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔


دینِ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اس کی کتابِ عزیز میں محفوظ ہیں، اور ہدایت سے متعلق ہر بنیادی اور ضروری امر اس کتابِ مبارک میں وضاحت، حکمت اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اپنی وسعتِ معانی اور عمقِ حقائق کے اعتبار سے ایسا بحرِ بے کراں ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک آنے والی انسانی نسلیں بھی اس کے علوم و معارف کے کسی ایک گوشے کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اسی کتابِ الٰہی پر مکمل عمل کرکے قیامت تک کے لیے ایک ایسا عملی نمونہ چھوڑا جو نہ منسوخ ہو سکتا ہے اور نہ تبدیل۔ قرآنِ مجید نے احکام اور اصول عطا کیے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان اصولوں کی عملی تعبیر، تطبیق اور تفسیر اپنی زندگی کے ذریعے پیش فرمائی۔ یہی نمونۂ کامل ’’سنت‘‘ کہلاتا ہے، اور اسی سنت کی پیروی کا نام درحقیقت اطاعتِ رسول ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا منکر ہو، اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور آپؐ کی سنت کی اتباع کا منکر ہو، وہ بھی ایک نہایت سنگین گمراہی اور کفر کا مرتکب ہے، کیونکہ قرآنِ مجید نے بار بار اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔


تاہم اس موضوع پر گفتگو سے پہلے ایک بنیادی نکتے کو واضح کر لینا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ ’’انکارِ حدیث‘‘ اور ’’احادیث پر علمی نقد‘‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ محدثین، فقہاء اور اصولیین کی پوری تاریخ روایتوں کی تحقیق، ان کے فہم میں اختلاف اور ان پر علمی نقد سے بھری ہوئی ہے۔ لہٰذا کسی حدیث کی صحت پر سوال اٹھانا، کسی روایت کی تاویل کرنا، یا کسی خاص استدلال سے اختلاف کرنا بذاتِ خود انکارِ حدیث نہیں ہے۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سنت اور حدیث کی اصولی حجیت ہی کا انکار کر دیا جائے۔


حجیتِ سنت کے دلائل قرآن، سنت، اجماعِ امت، عقلِ سلیم اور فطرتِ صحیحہ، سب سے ثابت ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے، آپؐ کے فیصلوں کو واجب الاتباع قرار دیتا ہے، اور آپؐ کی تشریعی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ سنت خود قرآن کی عملی تفسیر ہے، جبکہ امت کا چودہ سو سالہ اجماع بھی اسی پر قائم رہا ہے۔ مزید برآں، عقل بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب ایک رسول کسی کتاب کے ساتھ مبعوث کیا جائے تو اس کتاب کی عملی تشریح بھی اسی کے ذریعے معلوم کی جائے۔


اس موضوع پر اہلِ علم نے نہایت وقیع اور فیصلہ کن مباحث پیش کیے ہیں۔ امام شافعیؒ کی ’’الرسالہ‘‘، امام شاطبیؒ کی ’’الموافقات‘‘، امام ابن حزمؒ کے ’’المحلی‘‘ کا مقدمہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی تصنیفات، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’حجة الله البالغة‘‘، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی ’’منصبِ نبوت‘‘، مولانا حمید الدین فراہیؒ کی تحریریں، مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے مباحث اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیفات اس باب میں نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان مباحث کا مطالعہ کرنے کے بعد سنت کا حقیقی مقام پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ حقیقت بھی روشن ہو جاتی ہے کہ کسی شخص کا ذاتی ذوق، کشف، الہام یا روحانی تجربہ کبھی سنت کا قائم مقام نہیں بن سکتا۔ اس موضوع پر مصطفیٰ السباعی کی کتاب ’’السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي‘‘ بھی ایک جامع اور معیاری تصنیف ہے۔


یہاں ایک اور حقیقت سمجھ لینا ضروری ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے سنت براہِ راست سنت تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سنتے تھے، آپؐ کے اعمال دیکھتے تھے اور آپؐ کی زندگی کے عینی شاہد تھے۔ بعد کے ادوار میں یہی سنت روایت اور نقل کے ذریعے آگے منتقل ہوئی۔ اب روایت کرنے والوں میں ثقہ بھی تھے اور غیر ثقہ بھی، فقیہ بھی تھے اور غیر فقیہ بھی، قوی الحفظ بھی تھے اور کمزور حافظے والے بھی، بلکہ بعض مواقع پر خلط و اشتباہ کا شکار افراد بھی موجود تھے۔ اسی مرحلے پر سنت نے ایک مستقل علمی صورت اختیار کی۔ اب ضرورت تھی کہ اصل سنت اور اس کی روایت کے درمیان امتیاز کو محفوظ رکھا جائے۔ چنانچہ سنت کی روایات کی تحقیق کا ایک عظیم علمی عمل شروع ہوا۔ انہی منقول روایات کو اصطلاح میں ’’حدیث‘‘ یا ’’خبر‘‘ کہا جاتا ہے، اور اسی لیے محدثین روایت نقل کرتے وقت ’’حدثنا‘‘، ’’أخبرنا‘‘ اور اس قسم کے دیگر صیغے استعمال کرتے ہیں، جو خبر اور روایت کی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔


بعد ازاں یہی علمی کاوش ’’علمِ حدیث‘‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ اس علم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ روایت کی صحت و ضعف کو جانچا جائے، راویوں کے احوال معلوم کیے جائیں، اسناد کی تحقیق کی جائے، اور متن کے اندر موجود علل و نقائص کو پہچانا جائے۔ اس مقصد کے لیے علم الرجال، جرح و تعدیل، علم العلل اور دیگر علوم وجود میں آئے۔ اگر انسانی تاریخ میں روایت اور خبر کی تنقید کا کوئی سب سے زیادہ منظم اور دقیق نظام تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ محدثینِ اسلام کا قائم کردہ نظام ہے۔


محدثین کی حیرت انگیز محنتوں کے نتیجے میں روایات کے درجات متعین کیے گئے: موضوع، باطل، کذب، منکر، واہی، شاذ، مدرج، مقلوب، معلل، ضعیف، حسن اور صحیح وغیرہ۔ اس تفصیلی درجہ بندی کا مقصد یہی تھا کہ امت صحیح اور غیر صحیح روایتوں میں فرق کر سکے۔ خالص صحیح احادیث کے مجموعوں میں سب سے نمایاں مقام صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو حاصل ہے، اور ایک اعتبار سے موطأ امام مالک کو بھی ان کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔ دیگر مجموعاتِ حدیث میں صحیح اور غیر صحیح دونوں طرح کی روایات موجود ہیں، البتہ سنن ابی داود، سنن نسائی اور سنن ترمذی وغیرہ نسبتاً زیادہ قابلِ اعتماد اور تحقیقی معیار کی حامل ہیں۔


جب کوئی علمی روایت ترقی کرتی ہے تو اس کے اندر اختلافِ رائے کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے درمیان بعض روایات اور بعض راویوں کے بارے میں اختلاف موجود ہے، اور ائمۂ حدیث میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کسی نہ کسی درجے میں اختلاف کیا ہے۔


احادیث پر علمی نقد کے سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متعدد ایسی روایات ہیں جو بعد میں صحیحین کا حصہ بنیں اور اعلیٰ درجۂ صحت کی حامل قرار پائیں، لیکن امام ابو حنیفہؒ نے انہیں قبول نہیں کیا۔ ان کے نزدیک بعض روایات قرآن کے ظاہر کے خلاف تھیں، بعض معروف سنت سے متعارض معلوم ہوتی تھیں، اور بعض مضبوط قیاسِ شرعی کے خلاف تھیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے یہ موقف کسی حدیث دشمنی کی بنیاد پر اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے اجتہادی اصولوں اور علمی مبادیات کی روشنی میں اختیار کیا تھا۔ ان کے نتائج سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے استدلال پر نقد کیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں منکرِ حدیث قرار دینا علمی انصاف کے خلاف ہوگا۔


حقیقت یہ ہے کہ ہر امام، ہر فقیہ اور ہر محدث نے بعض روایات کو کسی نہ کسی علمی بنیاد پر رد کیا ہے، یا ان کی ایسی تاویل اختیار کی ہے جو اس کے نزدیک زیادہ راجح تھی۔ یہی علمی روایت کا حسن بھی ہے اور اس کی ناگزیر ضرورت بھی۔ لہٰذا اگر کوئی عالم کسی حدیث کو علمی بنیاد پر قبول نہ کرے، یا اس کی کوئی معقول اور اصولی تاویل پیش کرے، تو ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم اس سے اختلاف کریں اور اس کے استدلال کا علمی جائزہ لیں؛ لیکن ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اسے ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار دیں یا اس کی نیت اور دیانت کو مطعون کریں۔


البتہ وہ شخص جو اصولی طور پر حجیتِ سنت یا حجیتِ حدیث ہی کا قائل نہ ہو، وہ یقیناً قابلِ مواخذہ ہے۔ اس کی غلط فہمیوں کو علمی انداز میں دور کرنا ضروری ہے۔ اگر دلائل کے واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ اپنے موقف پر اصرار کرے تو مسلمانوں کو اس کے فکری فتنے سے آگاہ کرنا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔
اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کی نیت اور اس کے علمی موقف کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ احادیث کے بارے میں جو علمی اعتراضات یا اشکالات پیش کیے جائیں، ان کا جواب بھی علمی اور تحقیقی انداز میں دیا جانا چاہیے۔ محض اعتراض کرنے والے یا اشکال پیش کرنے والے شخص کو مطعون کرنا، اس کی نیتوں پر حملہ کرنا، یا اسے گالی اور تہمت کا نشانہ بنانا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ اسلامی اخلاق کے۔ البتہ جو شخص سرے سے حدیث اور سنت کی حجیت کا انکار کرتا ہو، وہ حقیقتاً اطاعتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کے ایک بنیادی تقاضے سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے۔


ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امتِ مسلمہ کو ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمیں علمائے اسلام کے مقام و مرتبہ کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی لغزشوں پر طعن و تشنیع کے بجائے ان کے لیے خیر، مغفرت اور حسنِ ظن کی دعا کرنے والا بنائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
10/6/2026

فتنہ انکار حدیثفتنہ انکار حدیث اور سر سید احمد خان

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

Related Posts

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
  • hira-online.comhira-online.com
  • جون 22, 2026
  • 0 Comments
*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

قسط نمبر 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ* *مفتی محمد شمیم قاسمی مگہری* مدرسہ عربیہ جامع العلوم گوپلا پور شاہ آنند نگر موبائل نمبر:9721194219* محرم الحرام سے متعلق مشہور تاریخی روایات کا تحقیقی جائزہ* محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں بہت سی باتیں زبان زدِ عام ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دس محرم کو حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری، بعض حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعات بھی اسی دن سے جوڑتے ہیں۔ وعظ و تقریروں، سوشل میڈیا اور عوامی مجالس میں یہ باتیں بڑی کثرت سے بیان کی جاتی ہیں۔لیکن ایک طالبِ علم، ایک داعی، ایک خطیب اور ایک محقق کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ جو کچھ مشہور ہے اسے بیان کر دے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تحقیق کرے کہ آیا یہ روایات واقعی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں یا بعد کے زمانوں میں مشہور ہو گئیں۔اہلِ سنت والجماعت کا مزاج یہ ہے کہ عقائد، فضائل اور دینی اعمال میں صرف وہی بات قبول کی جائے جو معتبر دلیل سے ثابت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ہر روایت کو جانچا، اس کی سند دیکھی، راویوں کی تحقیق کی اور پھر اس پر حکم لگایا۔محرم کے سلسلے میں بھی یہی اصول اپنانا ضروری ہے۔ *حضرت آدم علیہ السلام اور عاشوراء*عوام میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ دس محرم کے دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔یہ روایت مختلف کتابوں میں مذکور ضرور ہے لیکن محدثین کی بڑی جماعت نے اسے قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔ اس سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں ان کی سندیں یا تو ضعیف ہیں یا منقطع ہیں یا پھر ان میں ایسے راوی موجود ہیں جن پر محدثین نے کلام کیا ہے۔امام ابن جوزیؒ، امام ذہبیؒ اور دیگر محققین…

Read more

Continue reading
مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل
  • hira-online.comhira-online.com
  • مدارسِ اسلامیہ کے فضلاء
  • مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل
  • جون 21, 2026
  • 0 Comments
مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل

مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوىآكسفورڈ20/6/2026 سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا ۔کافی عرصے سے آپ کے رابطہ نمبر کی تلاش تھی، الحمد للہ اب یہ سعادت حاصل ہوئی۔ میری فراغت دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ہوئی ہے جبکہ ابتدائی تعلیم المعہد سیکروری میں حاصل کی جہاں آپ کا تعارف اور آپ کا ایک بصیرت افروز خطاب سننے کا بھی موقع ملا تھا۔ اور الحمد للہ گزشتہ تین چار سال سے آپ کے مضامین باقاعدگی سے پڑھ رہا ہوں اور ان سے بھرپور استفادہ کرتا ہوں۔ آپ کا اسلوب اور فکری بصیرت ہمیشہ دل کو متاثر کرتی ہے۔ حضرت پوچھنا یہ تھا کہ ایک عرصہ مدارس میں گزارنے کے بعد جب طالب علم عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے متعدد فکری معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان چیلنجز کی تفصیل آپ پر مخفی نہیں۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ آپ کی نظر میں ان مسائل کا مؤثر حل اور لائحۂ عمل کیا ہو سکتا ہے؟ اسی سلسلے میں آپ کی رہنمائی مطلوب ہے۔جزاکم اللہ سائل !پیر زادہ جنید الاسلام کشمیری جواب:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے ایک نہایت اہم، حساس اور دور رس نتائج کے حامل مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ درحقیقت ہمارے دینی تعلیمی نظام کے حوالے سے یہ ان بنیادی سوالات میں سے ہے جن پر جتنا زیادہ غور کیا جائے کم ہے۔ مدارسِ دینیہ میں ایک طالبِ علم اپنی عمر کا ایک طویل اور قیمتی حصہ صرف کرتا ہے۔ وہ علومِ شرعیہ کے مختلف فنون سے آشنا ہوتا ہے، علمی روایت سے وابستگی حاصل کرتا ہے، ایک مخصوص فکری و اخلاقی ماحول میں تربیت پاتا ہے اور دین کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب وہ فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اکثر ایک ایسی دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے تقاضے، ترجیحات، زبان اور مسائل اس ماحول سے خاصے مختلف ہوتے ہیں جس میں اس نے اپنی شخصیت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • فتنۂ انکارِ حدیث 22.06.2026
  • *محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ* 22.06.2026
  • علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025) 22.06.2026
  • مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل 21.06.2026
  • محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ 20.06.2026
  • محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ 20.06.2026
  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

اسلامیات

فتنۂ انکارِ حدیث

  • hira-online.com
  • جون 22, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث
اسلامیات

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*

  • hira-online.com
  • جون 22, 2026
*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
Blog

علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)

  • hira-online.com
  • جون 22, 2026
علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)
اسلامیات

مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل

  • hira-online.com
  • جون 21, 2026
مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عمل
اسلامیات

محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ

  • hira-online.com
  • جون 20, 2026
محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
اسلامیات

محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ

  • hira-online.com
  • جون 20, 2026
محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ
فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top