فتنہ انکار حدیث
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں
غلام نبی کشافی
آنچار، صورہ، سرینگر
____________________
تمہیدی کلمات/
بدقسمتی سے ہمارے علمی ماحول میں شخصیات کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے پسندیدہ مفکرین اور قائدین کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جو کسی شخصیت کی ایک لغزش کو بنیاد بنا کر اس کی تمام خدمات کا انکار کر دیتا ہے۔ اہلِ علم کا راستہ ان دونوں انتہاؤں سے الگ ہے۔ وہ نہ اندھی عقیدت کے قائل ہوتے ہیں اور نہ اندھی مخالفت کے۔ ان کے نزدیک ہر شخصیت کا جائزہ دلیل، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
سرسید احمد خان برصغیر کی تاریخ کی ایک بڑی اور مؤثر شخصیت ہیں۔ ان کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی خدمات اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہیں، لیکن ان کے مذہبی افکار و نظریات بھی ایک مستقل علمی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ چنانچہ اگر ان کی بعض فکری لغزشوں یا اجتہادی خطاؤں پر گفتگو کی جائے تو اسے نہ دشمنی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی خدمات کا انکار۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ شخصیات کو میزانِ حق پر پرکھا جائے، نہ کہ حق کو شخصیات کے ترازو میں تولا جائے۔
میرا واسطہ اکثر ایسے افراد سے پڑتا ہے جو مخصوص شخصیات کے بارے میں تنقید کو تو پسند کرتے ہیں، لیکن اگر ان کی کسی محبوب شخصیت کے متعلق دو تنقیدی جملے بھی لکھ دئے جائیں تو وہ طیش میں آ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903ء۔1979ء) کا یہ اقتباس نہایت اہم ہے:
’’انسان آخر انسان ہے، بڑے بڑے نیک اور ذی فہم آدمی سے بھی بسا اوقات لغزش ہو جاتی ہے اور اس کی لغزش عام لوگوں کی لغزش سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، عقیدت میں بے جا غلو رکھنے والے ان بزرگوں کی صحیح باتوں کے ساتھ ان کی غلط باتوں کو بھی آنکھیں بند کرکے ہضم کر جاتے ہیں۔‘‘
( تفہیم القرآن : ج 3 ، ص 244-245)
اس وقت جو مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ، اس کا مقصد کسی شخصیت کی تحقیر نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سلسلے کی نشاندہی کرنا ہے جس کے اثرات آج بھی مختلف صورتوں میں امت کے فکری منظرنامے پر موجود ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے فکری مباحث کا غیر جانب دارانہ مطالعہ نہیں کریں گے تو ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے انہیں نئے عنوانات کے ساتھ دہراتے رہیں گے۔
___________________________ ایک عزیز نے چند روز قبل واٹس ایپ پر ایک کشمیری مولوی صاحب کا مضمون بھیجا۔ مضمون میں سرسید احمد خان (1817ء۔1898ء) کا ذکر تو ایک بہانہ تھا، مگر اصل نشانہ کوئی اور تھا۔ اور مزید برآں حیرانی اس بات پر ہوئی ہے کہ کشمیر میں سرسید احمد خان کے افکار و نظریات پر سنجیدہ علمی گفتگو تو درکنار، بہت کم لوگ ان کے فکری پس منظر سے واقف ہیں۔ بلکہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خود مضمون نگار بھی سرسید احمد خان کے علمی و فکری جہات سے پوری طرح آشنا نہیں ہوگا۔ لیکن اس علمی تہی دامن شخص نے تنقید کا ایک عجیب و غریب اصول وضع کر لیا ہے کہ کسی بڑی شخصیت پر تنقید کرنے کے لئے ناقد کا بھی اسی درجے کا عالم یا مفکر ہونا ضروری ہے۔ پھر اسی غیر علمی تصور کو بنیاد بنا کر بے معنی اور سطحی گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔
کسی شاعر بہت خوب کہا ہے؛
خیالِ سطحی سے منزلِ فکر مل نہیں سکتی
جو بات گہری نہ ہو، دلوں میں ڈھل نہیں سکتی
نظر اگر ہو فقط ظاہری چمک تک محدود
حقیقتوں کی کوئی روشنی نکل نہیں سکتی
فریبِ لفظ میں الجھی ہوئی سوچ آخرکار
خرد کی راہ میں مدت تلک چل نہیں سکتی
گہرائیوں میں اترنا ہی شرطِ فہم ہے دوست !
سطحی خیال سے دنیا بدل نہیں سکتی
میری اپنی مطالعہ و کتب بینی کی زندگی کے سفر میں بچپن ہی سے سرسید احمد خان کی تصانیف اور ان کے افکار و نظریات سے متعلق لٹریچر زیرِ مطالعہ رہا ہے۔ ان کی نامکمل تفسیر کے علاوہ تقریباً تمام اہم تصانیف دیکھی ہیں۔ اسی طرح مولانا ثناء اللہ امرتسری کی ’’تفسیرِ ثنائی‘‘ اور مولانا عبد الحق حقانی دہلوی کی ’’تفسیرِ حقانی‘‘ کا بھی مطالعہ کیا، جن میں سرسید احمد خان کے نیچری خیالات و نظریات پر شدید تنقید ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ابو القاسم دلاوری کی کتاب ’’ائمہ تلبیس‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان کے افکار و نظریات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، اور مصنف نے سرسید احمد خان کو بھی ’’ائمۂ تلبیس‘‘ میں شمار کیا ہے۔ اور یہ بھی لکھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے افکار و نظریات کے حوالے سے سب سے مطالعہ اور استفادہ سرسید احمد خان ہی کی تحریروں سے کیا ۔ اور ان کے درمیان خط و کتابت تھی ، اور اس کے لئے ثبوت بھی پیش کئے ۔ اور یہاں تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے شاگرد اور لاہوری فرقہ کے بانی محمد علی لاہوری نے بھی اپنی تفسیر بیان القرآن میں سرسید احمد خان ہی کے نقش قدم پر چل کر انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات کا انکار کیا ۔
سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی (1921ء۔2017ء)، جو مولانا عبد الماجد دریابادی (1892ء۔1977ء) کے بھتیجے اور سابق نائب صدر ہند ڈاکٹر محمد حامد انصاری (پیدائش: 1937ء) کے استاد تھے، ان سے ان کی زندگی کے آخری دس برسوں میں میری طویل خط و کتابت رہی۔ وہ سرسید احمد خان کے افکار ونظریات کے شدید ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور اپنی پیرانہ سالی میں وہ مجھ سے بار بار اس خواہش کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ نوجوان نسل کو سرسید کے مذہبی افکار اور ان کے اثرات سے آگاہ کیا جائے۔تاکہ وہ اپنے دین و ایمان کو محفوظ کرسکے ۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مجھے تحریری طور پر کچھ اہم دستاویزات بھی بھیجے تھے ۔ جو حیران کن تھے۔ لیکن میں نے آٹھ دس سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ان کو منظر عام پر نہیں لایا ۔
ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی بنیادی طور پر ماہرِ سیاسیات اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 1948ء میں بطور لیکچرر شعبۂ سیاسیات اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد میں وہ یونیورسٹی میں مختلف اہم تعلیمی اور انتظامی مناصب پر فائز رہے۔ انہوں نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی کتاب ’’ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی کے تبصرے‘‘ کی تقریبِ اجراء کی رونمائی ڈاکٹر محمد حامد انصاری نے کی تھی، جو اس وقت نائب صدرِ جمہوریہ ہند کے منصب پر فائز تھے۔ بعد میں میں نے اس کتاب پر ایک تفصیلی تبصرہ بھی لکھا تھا ، جو انہی دنوں ماہ اردو بک ریویو میں شائع ہوا تھا ۔
ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی جب بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کسی تقریب میں شرکت کے لئے جاتے تو رات تقریباً نو بجے فون کرکے پوری روداد سناتے تھے۔ وہ اکثر اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے تھے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سرسید احمد خان کے تجدد پسندانہ افکار و نظریات کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سرسید احمد خان غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب تقریباً چالیس برس قبل مولانا الطاف حسین حالی کی کتاب "حیات جاوید” پڑھی ، تھی ، اس وقت اس کی قیمت غالب تیس روپے کی تھی ۔ اور پھر ان کی کتاب ” الخطبات الاحمدیہ” ( ایک صدی پرانا 1919ء کا ایڈیشن : پھر آثار الصنادید ، پڑھی ، اور ان کی تفسیرُ ” القرآن و هو الهدى و الفرقان ” پڑھی۔ لیکن یہ نامکمل تفسیر ہے اور نیچری خیالات کی ترجمان اور قرآن کے حوالے سے تفسیر بالرائے پر مبنی ہے ۔ اور اس تفسیر پر علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے ؛
احکام ترے حق ہیں، مگر اپنے مفسّر
تاویل سے قُرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
اسی طرح پاکستان سے ایک مشہور جریدہ نقوش کے نام سے شائع ہوتا تھا ، اس کے بڑے بڑے ضخیم خصوصی نمبرات میرے پاس موجود ہیں ، جن میں تین ضخیم جلدوں پر مشتمل سرسید احمد خان کے خطوط نمبر بھی شامل ہے ، اس کا میرے پاس 1966ء کا پرانا نمبر موجود ہے ۔
سرسید احمد خان کا ایک ماہانہ رسالہ بھی میرے پسندیدہ رسائل میں سے ایک تھا ، تقریباً تین دہائی قبل کی بات ہے کہ میرے کچھ دوستوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی ، چنانچہ انہوں نے وہاں سے ماہ نامہ تہذیب الاخلاق کے لئے میرے نام رجسٹریشن بھی کرائی تھی ، اور پھر میں نے اس رسالہ کے سیکڑوں پرانے شمارے اور اس کے کئی خصوصی نمبرات بھی منگوا دئے تھے ۔
ان تمام چیزوں کے مطالعے کے بعد میری رائے یہ بنی کہ سرسید احمد خان کے مذہبی افکار و نظریات نے مسلمانوں کے دینی فکر پر منفی اثرات مرتب کیے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ انہوں نے فتنۂ انکارِ حدیث کو فروغ دیا، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت، رفعِ سماوی اور آخری زمانے میں ان کے نزول کا انکار کیا، معجزاتِ نبویہ کی تاویل کی، اور وحی و فرشتوں اور خاص کر جبریل امین علیہ السلام کے بارے میں غیر روایتی آراء پیش کیں، اور ان کے وجود کا انکار کیا ، جنہیں علماء کی ایک بڑی جماعت نے اسلام کے مسلمہ عقائد سے متصادم قرار دیا۔
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک کتاب ’’تفسیرِ ثنائی میں سرسید کے بعض غلط افکار و نظریات پر نقد و تبصرہ‘‘ پڑھی تھی ، جس کے آغاز میں ’’عرضِ ناشر‘‘ کے تحت درج ذیل سطور پڑھنے کو ملیں:
” کسی بھی شخصیت کے تسامحات پر گرفت کی جاتی ہے ، تو بعض لوگ اسے مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں ، حالانکہ یہ علماء اسلام کا فریضہ ہے ، جو اس دنیا سے چلا گیا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، اس کے تسامحات گنانے والے کے ہاتھ میں پھانسی کا پھندہ نہیں ہے ، بلکہ پیش نظر یہ بات ہے کہ جتنی بڑی شخصیت ہوتی ہے ، اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے ، سارے متاثرین غلط صحیح کی تمیز نہیں رکھتے اس لئے غلطیوں کی نشاندہی ضروری ہو جاتی ہے تاکہ لوگ ان سے بچ سکیں ، پھر سر سید کے متاثرین میں گمراہوں کا ایک سلسلہ ہے ، جو اج ہمارے زمانے میں جاوید احمد غامدی تک دراز ہے ، یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں راشد شاز جیسے لوگ اب بھی انکار حدیث کی بیج بوتے نظر اتے ہیں ، یونیورسٹی کی عمارت میں کوئی خرابی نہیں ہے ، وہاں پر جاری سرگرمیوں کا انسانی سماج پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے ، یہ اثر اچھا پڑے ، علماء کی فکر مندی اتنی سی ہوتی ہے ، اور اسی لئے حق و باطل کے درمیان علماء لکیر کھینچتے رہے ہیں ۔
تعلیم کا سلسلہ ، تعلیم گاہ ، اساتذہ اور طلبہ یہ سب کسی بھی سماج کی تعمیر و ترقی کے لئے مبارک ہوتے ہیں ، مگر تب جب یہ سرگرمیاں سیدھے راستے پر ہوں ، اللہ کی طرف بلائیں ، اس دین کی طرف بلائیں ،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر ائے تھے ، دین کے مسلمہ عقائد کی تاویل و تردید روشن خیالی نہیں گمراہی ہے ، ان عقائد کا حامل ہونا قدامت پرستی نہیں دینداری ہے ۔
دنیا میں ترقی کے لئے جو ظاہری اصول و اسباب ہیں وہ سارے انسانوں کے لئے ہیں ، قیامت کے دن کامیابی کے جو شرائط ہیں کتاب و سنت میں بصراحت بیان کر دئے گئے ہیں ، عقلی انسانی اور اس کے کارنامے سائنسی ایجادات میں غلطی کا امکان ہے ، اللہ کے دین میں نہیں ، اللہ کا دین ہر شے کو جانچنے کا پیمانہ ہے ، عقل اور سائنس دین کو تولنے کا ترازو نہیں یہ غلطی سرسد سے مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہوئی تھی ” ( ص 11-12)
سر سید احمد خان (1817ء – 1898ء) کے بارے میں یہ اقتباس انتہائی فکر انگیز اور چشم کشا ہے ، چونکہ سر سید احمد خان نے دین کی جو تعبیر و تشریح کی ہے ، اور انہوں نے اسلامی عقائد کے حوالے سے جس طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے ، اور ان کو ایک نئی فکر کے طور پر جس انداز میں پیش کیا ہے ، ان کی اس مذہبی فکر کے امت مسلمہ پر کس طرح کے مضر اور نقصان دہ اثرات پڑ گئے ہیں ؟ اس حوالے سے مولانا سید ابوالاعلی مودودی (1903ء-1979ء) کا ایک اقتباس انتہائی قابل غور اور لائق مطالعہ ہے ، چنانچہ اس اقتباس کو مولانا محمد منظور نعمانی ( 1905ء – 1997ء) نے اپنی ایک کتاب میں ” ترجمان القرآن شوال 1359ھ ” کے شمارے کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہاں پر اس کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے ، جو ان الفاظ میں ہے ۔
” سر سید کے کام کو اصلاح اور تنقید عالی سے تعبیر کرنا اور یہ کہنا کہ مسلمانوں میں ان کے بعد جتنی اہم مذہبی ، سیاسی ، اجتماعی ، ادبی ، تعلیمی تحریکیں اٹھی ہیں ، ان سب کا سر رشتہ کسی نہ کسی طرح ان سے ملتا ہے ، در اصل مبالغہ کی حد سے بھی متجاوز ہے ، سچ یہ ہے کہ 1857ھ کے بعد سے اب تک جس قدر گمراہیاں مسلمانوں میں پیدا ہوئیں ان سب کا شجرہُ نسب بالواسطہ یا بلا واسطہ سر سید کی ذات تک پہنچتا ہے ، وہ اس سر زمین میں تجدد کے امام اول تھے ، اور پوری قوم کا مزاج بگاڑ کے دنیا سے رخصت ہوئے "
(مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سر گزشت اور اب میرا موقف : ص 92 / ایڈیشن 1985ء انڈیا)
اسی طرح مولانا سید ابو الاعلی مودودی اپنی ایک اہم کتاب ” سنت کی آئینی حیثیت ” میں ہندوستان میں فتنہ انکار حدیث اور دوسری کئی گمراہیوں کی جڑ سر سید احمد خان کو قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔
” یہ انکار حدیث کا فتنہ کئی صدیوں تک شمشان بھومی میں پڑا رہا ، یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری ( انیسویں صدی عیسوی ) میں وہ پھر جی اٹھا ، اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا ، اب دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا ، اس کی ابتدا کرنے والے سر سید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے ، پھر مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبر دار بنے ، اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا ، پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنھوں نے اس کی ضلالت کی انتہاء تک پہنچا دیا ہے "
( سنت کی آئینی حیثیت : ص 16/ ایڈیشن 1990ء انڈیا )
مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے یہ تمام اقتباسات ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہیں ، جو فتنہ انکار حدیث کی بنیادی تاریخ سے بے خبر ہیں ، اور جو اس طرح کے فتنوں کے معاملے میں بے اعتنائی برتے ہیں ، لیکن اس کے بر عکس جو لوگ ان فتنوں کے رد میں لکھتے یا بولتے ہیں ، ان کو ہدف تنقید و ملامت بناتے ہیں ۔
موجودہ دور میں ایک طرف جاوید احمد غامدی اور راشد شاز جیسے افراد فتنۂ انکارِ حدیث کے نمایاں ترجمان بن کر ابھرے ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے افکار سے متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تو دوسری طرف جماعت اسلامی ہند کے حلقے سے تعلق رکھنے والے مولوی عنایت اللہ سبحانی اپنی متعدد متنازع تصنیفات، مثلاً حقیقتِ رجم، جہاد اور روحِ جہاد اور المیزان وغیرہ کے ذریعے اسی فکر کی ترویج و اشاعت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ گمراہ کن کتابیں ایسے افکار کو تقویت دینے کا سبب بن رہی ہیں جنہیں اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد سنتِ نبویؐ کے مسلمہ مقام کے خلاف تصور کرتی ہے۔
میرا یہ ماننا ہے اور یقین بھی ہے کہ اگر آج مولانا سید ابو الاعلی مودودی بقید حیات ہوتے ، اور جماعت اسلامی ہند سے وابستہ منکر حدیث مولوی عنایت اللہ سبحانی کی شر انگیز تحریریں دیکھتے تو اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ مولوی عنایت اللہ سبحانی کی جماعت اسلامی کی رکنیت سے فارغ اور معطل کر دیتے ، کیونکہ اگر وہ سر سید احمد خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرسکتے تھے ، اور برصغیر میں ان کو فتنہ انکار حدیث کی ابتداء کرنے والے قرار دے سکتے تھے ، تو پھر کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ مولوی عنایت اللہ سبحانی کی بھی خبر لیکر ان کو اس ابلیسی ایوان انکار حدیث کا رکن قرار دیکر ان کے لٹریچر کو دریا برد کرنے کا حکم نہ دے سکے تھے ۔
مولانا سید ابو الاعلی مودودی کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ کیجئے ۔
” منکرین سنت کی اپنی تاویلات ، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سنت رسول اللہ سے جب کتاب اللہ کا تعلق توڑ دیا جائے ، تو دین کا حلیہ کس بری طرح بھی بگڑتا ہے ، خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں ، اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ خیز نمونے سامنے آتے ہیں "
( سنت کی آئینی حیثیت : ص 15)
یہ اقتباس اس پورے فکری مناقشے کی بنیاد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ برصغیر کی دینی و فکری تاریخ میں سرسید احمد خان اور ان کے افکار کے اثرات ایک مستقل موضوعِ بحث رہے ہیں۔ ان کے حامی اور ناقد دونوں اپنے اپنے دلائل رکھتے ہیں، مگر اس بحث کو علمی دیانت، مطالعے کی وسعت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں آگے بڑھانا ہی اہلِ علم کا شیوہ ہونا چاہئے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فتنۂ انکارِ حدیث کوئی نیا فتنہ نہیں، بلکہ یہ برصغیر کی فکری تاریخ کا ایک پرانا باب ہے جس کی مختلف شکلیں ہر دور میں سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی یہ تجدد کے نام پر ظاہر ہوا، کبھی عقل پرستی کے عنوان سے، اور کبھی قرآن فہمی کے دعوے کے ساتھ۔ مگر اس کا مشترک پہلو ہمیشہ یہی رہا کہ اس نے حدیث کی حجیت اور عملی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ امت کے اکابر علماء نے ہر دور میں ایسے افکار کا علمی تعاقب کیا، ان کے شبہات کا ازالہ کیا اور قرآن و سنت کے باہمی تعلق کو واضح کیا۔ آج بھی یہی ذمہ داری اہلِ علم اور اہلِ قلم پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے دلیل، تعصب کے بجائے تحقیق اور شخصیت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو فروغ دیں۔
سرسید احمد خان کے افکار کے بارے میں اختلافات اپنی جگہ موجود رہیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کے مذہبی نظریات اور ان کے اثرات کا علمی و تاریخی جائزہ لینا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے، تاکہ نئی نسل دین کے مسلمہ عقائد، سنتِ نبوی ﷺ کی آئینی و شرعی حیثیت اور امت کے علمی ورثے سے صحیح طور پر واقف ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
و ما علینا الا البلاغ